پاکستان میں برادری اور قرابت داری پر نوٹ
پاکستانی معاشرے میں برادری انتہائی اہم عنصر ہے۔ یہاں قرابت داری اور برادریوں کی اہمیت اس قدر بڑھ کر ہے کہ اس کے بغیر سماجی پہلوؤں پر کسی بھی قسم کی سنجیدہ علمی بحث ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ پہلو اس لحاظ سے بہتر ہے کہ محققین اسی بنیاد پر پاکستانی معاشرے کے بارے کسی ایک سرے پر متفق ہو جاتے ہیں اور کبھی بھٹکتے نہیں ہیں۔ مجھ سے پوچھیں تو اس بارے آج سے سو سال قبل برطانوی دور میں ایک انگریز سول سروس سے منسلک نژاد نامہ نگار، سر ڈینزل ایبیسٹن نے پنجاب میں کئی برسوں کی پیشہ ورانہ خدمات کے بعد لکھا تھا، 'ایک عمر رسیدہ لاادری نے اپنے تمام تر فلسفے کا نچوڑ کچھ یوں بیان کیا تھا کہ، 'میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا اور مجھے یہ بھی یقین نہیں ہے کہ میں یہ بھی جانتا ہوں؟'۔ اس لاادری کی کہی یہ بات پنجاب میں ذات اور پات کے نظام سے متعلق میرے احساسات کی بھی کچھ اسی طرح ترجمانی کرتی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق اس خطے میں پائی جانے والی ذات، پات اور برادریوں سے متعلق، الغرض کسی سے بھی ہمارا پالا پڑ رہے۔۔۔ کوئی بھی بات مطلق یقین سے کہنا ممکن نہیں ہے۔ ایک بات مثلاً سماجی طرحیں، اطوار، ثقا...