تین کہانیاں
پہلی کہانی: خدا کے بارے یہ کہانی سنیں۔ یہ بیٹھے بیٹھے دماغ میں جھماکے کی صورت وارد ہوئی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ میں کسی روز اس کہانی کو کام میں لا سکوں یا شاید ایسا نہ ہو؟ بلکہ اس کے مصرف کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ جب آپ یہ کہانی سنیں گے تو آپ بھی مجھ سے اتفاق کریں گے۔ امید ہے، آپ سمجھ پائیں گے کہ آخر اس کہانی کا کوئی مصرف کیوں نہیں ہے؟ میں تو ہر وقت نت نئی کہانیاں سوچتا رہتا ہوں لیکن انھیں کبھی لکھتا نہیں ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی سبھی کہانیاں عجیب و غریب معلوم ہوتی ہیں۔ یہ کہانی ایک چھوٹی سی فیملی کے بارے ہے جو موٹر کار میں سوار کسی ملک میں، کہو۔۔۔ یوگوسلاویہ کے شہری علاقوں سے دور دیہی علاقے کی جانب سفر کر رہی ہے۔ آپ اپنی سہولت کے لیے اس فیملی کو جس طرف چاہیں، روانہ سمجھ لیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ یوگوسلاویہ سے یورستے کا سفر کر رہے ہیں۔ یورستے آسٹریا کی سرحد کی جانب ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ فیملی آبیلا کی جانب جانے والی ایک چھوٹی سڑک پر محو سفر ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ یہ دونوں علاقے ایک جیسے ہی ہیں اور اس کہانی میں فیملی کے سفری ارادوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔...

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں