ادب کا ادب، میلے کا میلہ - قسط:2
ادب کا ادب، میلے کا میلہ - قسط:1 ادب میلے میں شرکت کا جو بھوت میلے کے دوسرے روز، سویر تک میرے سر پر سوار تھا، وہ اب شام میں بھٹی کے ساتھ چمٹ رہا۔ بھٹی اس بابت خاصا جذباتی واقع ہوا ہے، بھوت سے یاری بنا لی اور خمیازہ مجھے بھگتنا پڑا۔ اب بھلا اتوار کی سہانی صبحوں میں بھی کوئی نو سوا نو بجے جاگا کرتا ہے؟ سو، بھٹی کی خواہش کے آگے اپنا سا منہ دھو کر بیٹھ گیا مگر موصوف خود ساڑھے گیارہ بج جانے پر بھی ظاہر نہیں ہوئے۔ دنیا کے بدلے، دنیا میں ہی چکا کرتے ہیں۔ بھٹی سویر کا گھر سے نکلا، دیر تک کسی وی آئی پی کے لیے لگائے گئے روٹ میں مجھ نیمانے کی ہائے بھگتتا رہا۔ خیر، اس سے قبل کہ ہوٹل مارگلہ پہنچیں، بتائے دوں کہ یہ میلہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے منعقد کیا تھا جس میں انھیں ایک نجی بینک اور غالباً اٹلی کی حکومت کا تعاون حاصل تھا۔ ان کی محنت کا اثر تھا کہ آج تیسرے روز میلے میں خوب کھوے سے کھوا اچھل رہا ہے۔ ہم پہنچے تو پہلے پہل تو شیڈول کا جائزہ لیا کہ بھلا سویر کی کوفت میں کس قدر نقصان ہوا ہے۔ پھر ایک خاصے چھوٹی عمر کے والنٹئیر، جو کسی سکول کا طفل تھا، اس کی رہنمائی میں سینٹرل لان کی طرف چل دیے...

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں