نئی پرانی کہانی - کن فیکون
بلاگ سیریز: 'نئی پرانی کہانی' کی گزشتہ تمام اقساط اس لنک پر ملاحظہ کریں۔ قسط 3: کن فیکون ٭٭٭ سو، چودہ ارب ستر کروڑ برس پہلے، کائنات کچھ بھی نہیں بس ایک نقطے میں سمائی تھی۔ یہ نقطہ کہاں سے آیا؟ سبھی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نقطہ بھی عدم سے ، یعنی کہ لا موجود سے وارد ہوا۔ عدم سے مراد یہ کہ ایسا مقام ہے جہاں کچھ نہیں ہے۔ سرے سے کچھ بھی نہیں۔ یہیں، ایک نقطے کا ظہور ہوتا ہے۔ جس کے باہر خلا، کسی جگہ کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔ بس گھپ اندھیرا ہے۔ اور، نقطے کے اندر انتہائی گرم، بے انتہاء کثیف، اور لامحدود قوت سے بھرپور توانائی جمع ہے۔ نقطے کے اندر درجہ حرارت کھربوں درجے ہے اور توانائی کی مقدار کا کچھ اندازہ نہیں، تول ناممکن ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ یہ نقطہ اچانک، بھک سے ایک دھماکہ کی صورت میں پھٹ جاتا ہے اور دھمک کی وجہ سے ساری توانائی ہر طرف پھوٹ کر پھیلنے لگتی ہے۔ اثر اتنا شدید ہے کہ توانائی، جو اس نقطے میں سموئی تھی، اپنے ارد گرد کو پھاڑتی ہوئی اور بے انتہا سرعت سے ہر طرف جگہ بناتی، وسعتیں پیدا کرتی ہوئی جیسے پھوٹتی ہی چلی گئی۔ یہ اس قدر عظیم اور تیز ہے کہ الفاظ...