اشاعتیں

نئی پرانی کہانی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نئی پرانی کہانی - کن فیکون

بلاگ سیریز: 'نئی پرانی کہانی' کی گزشتہ تمام اقساط  اس لنک پر ملاحظہ کریں۔ قسط 3: کن فیکون ٭٭٭ سو، چودہ ارب ستر کروڑ برس پہلے، کائنات کچھ بھی نہیں بس ایک نقطے میں سمائی تھی۔ یہ نقطہ کہاں سے آیا؟ سبھی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نقطہ بھی عدم سے ، یعنی کہ لا موجود سے وارد ہوا۔ عدم سے مراد یہ کہ ایسا مقام ہے جہاں کچھ نہیں ہے۔ سرے سے کچھ بھی نہیں۔ یہیں، ایک نقطے کا ظہور ہوتا ہے۔ جس کے باہر خلا، کسی جگہ کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔ بس گھپ اندھیرا ہے۔ اور، نقطے کے اندر انتہائی گرم، بے انتہاء کثیف، اور لامحدود قوت سے بھرپور توانائی جمع ہے۔ نقطے کے اندر درجہ حرارت کھربوں درجے ہے اور توانائی کی مقدار کا کچھ اندازہ نہیں، تول ناممکن ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ یہ نقطہ اچانک، بھک سے ایک دھماکہ کی صورت میں پھٹ جاتا ہے اور دھمک کی وجہ سے ساری توانائی ہر طرف پھوٹ کر پھیلنے لگتی ہے۔ اثر اتنا شدید ہے کہ توانائی، جو اس نقطے میں سموئی تھی، اپنے ارد گرد کو پھاڑتی ہوئی اور بے انتہا سرعت سے ہر طرف جگہ بناتی، وسعتیں پیدا کرتی ہوئی جیسے پھوٹتی ہی چلی گئی۔ یہ اس قدر عظیم اور تیز ہے کہ الفاظ...

نئی پرانی کہانی - نقطہ

بلاگ سیریز: 'نئی پرانی کہانی' کی گزشتہ تمام اقساط  اس لنک پر ملاحظہ کریں۔ قسط 2: نقطہ ٭٭٭ میری ایک خواہش ہے۔ میں یہ جاننے کو بے چین رہتا ہوں کہ آخر یہ اتنی بڑی کائنات جس میں اربوں کہکشائیں اور ان میں کھربوں ستارے ہیں ، آخر اتنی بڑی کائنات کی کہانی کا آغاز کہاں سے ہوا تھا؟ مجھ سے خبطی کو کیا کہیے گا، جو ہر دم ان سوالوں میں کھویا رہتا ہے اور خود ہی جواب تراشتا رہتا ہے۔ مگر میرے لیے، یہ صرف دیوانے کا خواب نہیں ہے۔ میں ہوش و حواس میں ان سوالوں پر غور کرتا ہوں اور جواب تلاشنے کو نشانیوں کا سہارا لیتا ہوں۔ یہ نشانیاں ہر جا، ہر طرف بکھری پڑی ہیں اور ان کا کوئی شمار بھی نہیں۔ اس بابت، سب سے بڑی نشانی ہمارے سر پر تان رکھا یہ وسیع آسمان ہے۔ کوئی ایسی رات، جب چہار سو اندھیرا پھیل رہا ہو اور ایسے میں ہلکی ہوا چلتی ہو۔ کبھی باہر کھلے میں نکل کر بیٹھیں تو ٹم ٹم کرتے تاروں سے بھرے آسمان میں جھانکنے سے زیادہ پُر لطف منظر کوئی نہیں ہے۔ ایسا منظر جسے دیکھ کر کوئی بھی بے خود ہو جائے۔ اس منظر کو دیکھ کر آنکھوں پر یقین نہیں آتا کہ وہ کیسا انوکھا منظر دیکھ رہی ہیں۔ لاکھوں، بلکہ...

نئی پرانی کہانی - آغاز

بلاگ سیریز: 'نئی پرانی کہانی' کی تمام اقساط  اس لنک پر ملاحظہ کریں۔ قسط 1: آغاز ٭٭٭ میرا نام سٹیفن ہاکنگ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مجھے اپنے تخیل سے فرصت نہیں ہے۔ میں ایک ایسا خوابیدہ شخص ہوں جس کو کہانیاں بُننے کا شوق ہے۔ سچ کہوں تو ایسی حالت میں، جبکہ اس کرسی پر سارا دن بیٹھے ہوئے میرے پاس سوچنے کے سوا کوئی کام نہیں اور خیال بُننے کے علاوہ کوئی مشغلہ نہیں۔ خواب دیکھنا ہی میرا حال ہے تو یوں، میں ہر وقت کائنات کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ کائنات کے خواب دیکھتے، میں کبھی بوریت کا شکار نہیں ہوا۔ ویسے بھی، یہ جہان اور کل عالم کائنات سوچنے اور دیکھنے کے لیے اچھی خاصی دلچسپ جگہ ہے۔ اب آپ ہی بتائیے، جب رات کو تاروں سے بھرا آسمان جگمگاتا ہے تو ان تاروں کو دیر تک دور تلک تاڑتے رہنے میں کون ہو گا، جسے لطف نہیں ملتا؟ اس سارے سماں سے ، جس کی کوئی انتہا بھی نظر نہیں آتی، اس سےکبھی کسی کا دل بھر پایا ہے؟ میرے لیے خوابوں کا بسیرا آسمان میں ہے۔ سر کے اوپر تانے ہوئے، تاروں سے بھرے آسمان میں جھانکوں تو ایسا لگتا ہے جیسے بہت سارے دیے ٹمٹماتے ہوں مگر یہ صرف ٹم ٹم کرتے دیے تو نہیں ہیں۔ ...