اسلام وعلیکم،اردو بلاگنگ میں اپنے آپ کو میں خوش آمدید کہوں گا، فی الوقت میں اکیلا ہی اسکو لکھ بھی رہا ہوں اور پڑھ رہا ہوں۔ بہرحال اس گوشہ میں یر ساتھی کو خوش آمدید کہوں گا
یہ داستان کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ محمدؐ کے انتقال کا وقت تھا ۔ اس قصے کی واقعی ابتداء اسی دن ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام انسان، حتی کہ پیغمبر بھی فانی ہوتے ہیں۔ اس بات سے ہر کوئی واقف تھا، یہاں تک کہ خود محمدؐ کو بھی اچھی طرح اندازہ تھا لیکن اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب نے ہی حقیقت سے آنکھیں چرا لی ہوں۔ لوگ آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ شاید، وائے شاید۔۔۔ اچھا، کیا محمدؐ خود بھی جانتے تھے کہ وہ بالآخر مر ہی جائیں گے؟ یقیناً، وہ جانتے تھے اور اس کا تذکرہ بارہا ملتا ہے۔ اسی طرح، ان کے ارد گرد لوگ بھی اچھی طرح واقف تھے لیکن پھر بھی، کوئی اس خیال کو تصور میں لانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا، انہیں کبھی اس حقیقت کی تلخی سوجھی ہی نہیں۔ یہی بات عجیب تر ہے۔ محمدؐ کی عمر تریسٹھ برس ہو چکی تھی اور اس زمانے میں، یہ اچھی خاصی طویل عمر شمار ہوا کرتی تھی۔ وہ جنگوں اور لڑائیوں میں کئی بار زخمی ہوئے، بالخصوص احد کی لڑائی میں تو انہیں کاری چوٹ آئی تھی۔ اسی طرح، ان کی زندگی پر کم از کم تین ایسے قاتلانہ حملے ہوئے، جن کی تفصیلات تواریخ میں عام مل جاتی ہیں۔ ...
عائشہ یا علی، ان میں سے جس نے بھی آخری وقت پر محمدؐ کو تھام رکھا تھا، اسے اب ان کے گزر جانے کی خبر باہر پہنچانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کمرے میں بین شروع ہو گئے۔ پہلے عائشہ اور پھر دوسری بیویاں ہسٹریائی انداز میں چیخنے لگیں۔ یہ اس قدر تیز، دل خراش اور کانوں کو چیرنے والا شور تھا کہ سننے والے کہتے ہیں کہ اچانک شروع ہونے والے رواس پٹاس میں اس قدر کرب اور درد بھرا تھا کہ بس، بیان سے باہر ہے۔ دور سے سننے پر لگ رہا تھا جیسے کوئی زخمی جانور تکلیف سے بے حال، درد کی شدت سے کراہتے ہوئے جان دے رہا ہو۔ اس رونے میں انتہا کا دکھ چھپا ہوا تھا۔ اتنا کہ اس کا کوئی حساب ہی نہیں۔ جلد ہی، یہ چیخیں مسجد کے احاطے سے نکل کر پورے نخلستان میں پھیل گئیں۔ جو سنتا وہی چیخنے لگتا۔۔۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہی سمجھ گئے کہ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ مرد اور عورتیں، جوان اور بوڑھے ہر شخص غم سے نڈھال تھا،گریہ و بکا کر رہا تھا۔ جس کو دیکھو، وہی غم سے بے حال تھا۔ جیسے ہر شخص اس خبر کے سامنے سر نگوں ہو گیا، ہار چکا ہو۔ لوگ دونوں ہاتھوں سے چہرے یوں پیٹ رہے تھے جیسے کوئی چپت...
گذشتہ اقساط یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں: زمرہ: برقی کتب ، اقساط: قسط نمبر ۱ ، قسط نمبر ۲ ، قسط نمبر ۳ ۔۔۔ خدا کی راہ کے حجاب خداوند تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کرنے میں انسان کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں ان کو تصوف کی زبان میں ۔حجاب۔ کہتے ہیں اور ان کی دو قسمیں ہیں ایک حجاب رینی اور دوسرا حجاب غینی۔ رینی حجاب:۔ رینی حجاب ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ یہ کبھی نہیں اُٹھے گا۔ کیونکہ اس کے لاحق ہوجانے کے بعد آدمی کے دل پر مہر ہو جاتی ہے۔ اس پر ٹھپہ لگ جاتا ہے۔ رین (زنگ چڑھ جانا)، خَتَم (مہر لگ جانا) اور طبع (ٹھپہ لگ جانا) تینوں الفاظ کو قران مجید نے اس بارے میں ایک ہی معنی میں استعمال کیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے؛ اِزَا تُتلٰی عَلَیہِ اٰیتُنَا قَالَ اَسَاطِیرُ الاَوَّلِینَ۔ کَلاَّبَل رَانَ عَلٰی قُلُوبِھِمِ مّاَ کَانُو یَکسِبُونَ۔ (۸۳۔۱۳۔۱۴) یعنی جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے، چھوڑو جی، پرانے قصے کہانیاں ہیں۔ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی بدکرداریاں زنگ بن کر ان کے دلوں پر جم گئی ہیں“۔ دوسرہ جگہ فرمایا؛ ۔۔۔اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُواسَوَآءٌعَلیھِمءَاَنذَرت...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں