اسلام وعلیکم،اردو بلاگنگ میں اپنے آپ کو میں خوش آمدید کہوں گا، فی الوقت میں اکیلا ہی اسکو لکھ بھی رہا ہوں اور پڑھ رہا ہوں۔ بہرحال اس گوشہ میں یر ساتھی کو خوش آمدید کہوں گا
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں، سو جاتے ہیں ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں آپ مجھے پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں دور تلک کوئی ستارہ ہے، نہ جگنو مرگ امید کے اب آثار نظر آتے ہیں حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر سب تیرے ہی طرفدار نظر آتے ہیں شاعر: ساغر صدیقی کاتب: عمر بنگش بنام: ٹی۔ٹی
بازیچہِ اطفال ہے دنیا میرے آگے! ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے ہوتا ہے نہاں گرد میں، صحرا میرے ہوتے گِھستا ہے جبیں خاک پہ، دریا میرے آگے! مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا، تیرے پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا، میرے آگے!! ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ میرے پیچھے ہے تو، کلیسا میرے آگے!!!! گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں ے تو دم ہے رہنے دو ساغر و مینا میرے آگے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں