اسلام وعلیکم،اردو بلاگنگ میں اپنے آپ کو میں خوش آمدید کہوں گا، فی الوقت میں اکیلا ہی اسکو لکھ بھی رہا ہوں اور پڑھ رہا ہوں۔ بہرحال اس گوشہ میں یر ساتھی کو خوش آمدید کہوں گا
صلہ عمر پر نئی تھیم نصب کی گئی ہے، تمام قارئین سے گذارش ہے کہ اس بارے اپنی رائے کا اظہار کریں، نیز اگر کوئی مسئلہ دیکھیے تو وہ بھی بتائیں، اگر ساتھ ہی ممکنہ حل بھی تجویز کر دیں تو نوازش، کیونکہ اردوانے کے عمل میں جتنا میں سمجھ سکا ہوں اتنا کر دیا۔ یہ تھیم انگریزی سے اردو میں ڈھالی گئی ہے، جس کے لیے اردو محفل، جہانزیب صاحب کا شکر گذار ہوں۔ اس کے علاوہ بھی جناب یہ کارستانی ڈفر پاء کی بھی ہے کہ انھوں نے مہاجر خان کو میری جانب "موڑ" دیا اور ان کی تھیم اردوائی تو سوچا کیوں ناں بیک اپ میں پڑی ایک انگریزی تھیم اپنے لیے کیوں ناں اردواؤں، تو ان دو صاحبان کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ چند معلوم مسائل تھیم بارے:۔ ۔ یہ تھیم ابھی تک صرف فائر فاکس میں تجربہ کی گئی ہے، انٹرنیٹ ایکسپلورر یا کسی دوسرے براؤزر کا پتہ نہیں، جلد ہی ان میں بھی تجربہ کیا جائے گا۔ ۔ تبصرہ کرنے میں شاید دشواری درپیش ہو کیونکہ وہ پہلے والا کلیدی تختہ اب میسر نہیں ہے، موقع ملتے ہی اسے بھی نصب کرتا ہوں۔ ۔ اس تھیم کے رابطوں میں ابھی ربط فراہم کرنا باقی ہے۔ دل کھول کر اپنی رائے کا اظہار کریں، ایک بار یہ مکمل طور...
گل نواز عرصہ بارہ سال سے گومل یونیورسٹی کی ایک کینٹین چلا رہا ہے۔ آپ حضرات اسے "چھوٹا" سمجھ لیں کیونکہ اس کا "کئیریر" ادھر ہی سے شروع ہوا تھا، لیکن وہ اس کینٹین کا صحیح معنوں میں "ایم۔ڈی" تھا، اپنی محنت کے بل بوتے اس نے یہ عہدہ پایا تھا۔ حساب کتاب میں ایسا ماہر کہ مجھے شک پڑتا کہ شاید یونیورسٹی کے میتھیمیٹکس ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد ان صاحب کے ہاتھوں رکھوائی گئی ہو۔ سالہاسال اسے حساب یاد رہتا۔ حساب نہ صرف وہ درست رکھتا بلکہ اس کا کمال تو یہ بھی تھا کہ وہ دوستانہ رویے کا حامل تھا۔ یونیورسٹی کالجوں کے لڑکے اکثر بے صبرے، اکھڑ اور نسبتاً غصیلے ہوتے ہیں، ان بھانت بھانت ذہنیتوں کو اس کمال سے خوش رکھتا کہ میں اکثر سوچتا کہ اس شخص کو ہماری یونیورسٹی کے نفسیات کے شعبے میں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے، لیکن افسوس اس بات کا تھا کہ گومل یونیورسٹی میں نفسیات کا شعبہ نہ تھا، ورنہ میں اپنا علاج تو کروا ہی لیتا!۔ تیسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ چائے بڑی مذیدار بناتا، مذیدار ایسے کہ جیسی آپ چاہیں، نہ کم نہ ذیادہ!۔ اس خصوصیت کا اثر یہ ہوا کہ اس کی کینٹین دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ اس...
میں کراچی کبھی نہیں گیا۔ جو گئے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ آپ وہاں بیزار نہیں ہوتے۔ یہ سن کر ہی میرے ہول اٹھنے لگتے ہیں کہ مولا ایسی جگہ پر کوئی کیسے بسر کرے جہاں فراغت سے بیزار ہونے کا موقع ہی میسر نہ آئے؟۔ کراچی سے میری بچپن سے واقفیت ہے، کیوں نہ ہوتی کہ ملک کا کہتے ہیں سب سے بڑا شہر ہے۔ کراچی میرے آبائی قصبے سے بہت دور ہے اور بچپن میں جب گھر کے باہر کچے کوٹھوں کی منڈیروں پر کھلونا ٹرک دوڑایا کرتے تھے تو گھر کے دروازے کے عین دائیں طرف جو گھیردار ٹرکوں کا ٹرمینل بنایا ہوا تھا وہاں سے روانہ ہوتے ہوئے دوسرے کو بتایا کرتے تھے کہ، "جی کراچی جا رہے ہیں، مال پہنچانے۔۔۔ ہنگ ہنگ، چھوٹے ٹئیر دے نٹ بولٹ چیک کر لے کہ نئیں؟"۔ تب، کراچی منڈیروں پر کم از کم چار پھیروں کے بعد گھر کے دروازے سے دور، تیسرے کوٹھے کی منڈیر پر بالکل کونے پر ایک ویسا ہی اڈہ ہوا کرتا تھا جیسا گھر کے دروازے کے پاس بنایا گیا تھا، اپنے تئیں ہم نے دور تعمیر کیا تھا کہ کراچی کا گماں رہے۔ وہاں کسی کا کوئی راج نہیں تھا، جو چاہے چلا جاتا تھا اور جتنی دیر چاہے وہاں بیٹھا رہتا، مال پہنچاتا اور پھر سے واپس اپنے گھر کے درو...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں