یہ داستان کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ محمدؐ کے انتقال کا وقت تھا ۔ اس قصے کی واقعی ابتداء اسی دن ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام انسان، حتی کہ پیغمبر بھی فانی ہوتے ہیں۔ اس بات سے ہر کوئی واقف تھا، یہاں تک کہ خود محمدؐ کو بھی اچھی طرح اندازہ تھا لیکن اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب نے ہی حقیقت سے آنکھیں چرا لی ہوں۔ لوگ آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ شاید، وائے شاید۔۔۔ اچھا، کیا محمدؐ خود بھی جانتے تھے کہ وہ بالآخر مر ہی جائیں گے؟ یقیناً، وہ جانتے تھے اور اس کا تذکرہ بارہا ملتا ہے۔ اسی طرح، ان کے ارد گرد لوگ بھی اچھی طرح واقف تھے لیکن پھر بھی، کوئی اس خیال کو تصور میں لانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا، انہیں کبھی اس حقیقت کی تلخی سوجھی ہی نہیں۔ یہی بات عجیب تر ہے۔ محمدؐ کی عمر تریسٹھ برس ہو چکی تھی اور اس زمانے میں، یہ اچھی خاصی طویل عمر شمار ہوا کرتی تھی۔ وہ جنگوں اور لڑائیوں میں کئی بار زخمی ہوئے، بالخصوص احد کی لڑائی میں تو انہیں کاری چوٹ آئی تھی۔ اسی طرح، ان کی زندگی پر کم از کم تین ایسے قاتلانہ حملے ہوئے، جن کی تفصیلات تواریخ میں عام مل جاتی ہیں۔ ...
صفین سے شکستہ دل فوج علی کے پیچھے پیچھے طویل سفر طے کر کے واپس کوفہ پہنچ گئی۔ کئی لوگ صفین کے میدان میں جنگ کو یوں قرآن کے صدقے اور خدا کے نام پر ثالثی کی صلاح پر منتج ہونے پر اب پہلی بار پشیمان نظر آ رہے تھے ۔ اس میں چھپی مکاری اور چال پر قیاس سے کام لے رہے تھے۔ آہستہ آہستہ ادراک ہو گیا کہ واقعی دغا دیا گیا ہے اور ممکنہ طور پر ان کا ایمان، انہی پر بیچ کر، انہی کے خلاف استعمال کیا گیا۔ وہ لوگ جو میدان جنگ میں قرانی نسخے کے چرمی پارچے نیزوں کی نوک میں پرویا دیکھ کر ایک دم فرط ایمان سے جوش میں آ کر ہتھیار پھینک کر لڑائی سے منکر ہو گئے تھے، تب تو مصالحت پر زور دینے لگے تھے، اب وہی سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر اس ضمن میں تلخی دکھا رہے تھے۔ یہ لوگ کوفہ اور معاویہ اپنے لشکر سمیت واپس دمشق پہنچ چکے تھے۔ چونکہ وہ تو یہاں موجود نہیں تھے جن پر اپنا غصہ اتارتے۔ ان لوگوں نے اپنی تلخی کا سارا ملبہ اس شخص پر گرا دیا جو انہیں صفین کے میدان میں جنگ کرنے لے گیا تھا۔ یہ لوگ علی کو کوسنے لگے کہ انہوں نے عراقیوں کو آخر یہ کس مشکل میں ڈال دیا ہے؟ کہنے لگے کہ ...
یہ وہ دن تھا جس کا علی اور ان کے حمایتیوں کو کافی عرصے سے انتظار تھا۔ طلوع ہونے والا سورج صحیح معنوں میں ان کے نام تھا۔ جنگ جمل میں حیران کن فتح کے بعد پہلی بار ایسا لگ رہا تھا کہ علی کے پیر واقعی جم چکے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ اسی تابناک دن میں ان کی فتح کا سورج ہزاروں نیکو کار مسلمانوں کے خون سے گہنایا ہوا بھی تھا۔ علی کو یہ احساس بھی ضرور ہی کچوکے لگاتا ہو گا کہ وہ چیز جس کی ایک طویل عرصے تک تمنا کیے رکھی، ہاتھ آتے ہی اب کھسکنا شروع ہو چکی تھی۔ انہیں خلافت سنبھالے بمشکل چار ماہ ہی گزرے تھے اور اس دوران کیا سے کیا ہو گیا؟ اب وہ صرف ساڑھے چار برس ہی مزید اس منصب پر ٹک پائیں گے۔ اوائل دور کے اسلامی مورخین نے جس طرح علی کے اس مختصر دور خلافت کا حال بیان کیا ہے، اس پر ہر لحاظ سے کلاسیکی المیہ کا گماں ہوتا ہے۔ کلاسیکی المیہ ایک ادبی اصطلاح ہے جس سے مراد کسی تاریخی شخصیت کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ایسا تسلسل ہے جو ارسطو کے بقول پڑھنے سے ' دلوں میں خوف اور رحم کے جذبات' پیدا کر دیتا ہے۔ تاریخ میں جس شخص کی یہ کہانی ہے، وہ انتہائی پارسا اور راس...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں