فیض کا کلام

تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی، تیرے جانثار چلے گئے
تیری راہ میں کرتے تھے سر طلب، سر رہگزار چلے گئے
تیری کج ادائی سے ہار کے شب انتظا ر چلی گئی!!!۔
میرے ضبط حال سے روٹھ کے میرے غمگسار چلے گئے
نہ سوال وصل، نہ عرض غم، نہ حکایتیں، نہ شکایتیں!!!۔
تیرے عہد میں دل ذار کے سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہم ہی تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم، سر بزم یار چلے گئے
نہ رہا جنوں رخ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنھیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار تو چلے گئے
شاعر: فیض احمد فیض
کاتب: عمر احمد بنگش

تبصرے

  1. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. Sung by shaukat ali for Radio Pakistan :
    http://www.youtube.com/watch?v=wPyBdtQvDBk

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب