کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارہ کرتے ہیں۔

کب میرا نشیمن اہل چمن، گلشن میں گوارہ کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکار ا کرتے ہیں
پونچھو نہ عرق رخساروں سے، رنگینی حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے، پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی، اللہ وہ اٹھ کر آنہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر، تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہےتو، بوجھ اتارا کرتے ہیں
شاعر: نامعلوم
بنام: نامعلوم

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب