فرض کرو۔۔۔۔۔۔۔۔

فرض کروتم کچھ نہ پاؤ اپنا آپ گنوا کر بھی
فرض کرو کوئی مکر ہی جائے سچی قسم اُٹھا کر بھی
فرض کرو یہ فرض نہ ہو، سچی ایک حقیقت ہو
تیرے عشق کے ہر رستے پرجاناں ایک قیامت ہو
اور سنا ہے یہ قیامت خون جگر کا پیتی ہے
تم تو جاناں فرض کرو گے، مجھ پر یہ سب بیتی ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ساغر صدیقی کی شہرہ آفاق غزل۔۔۔۔۔۔

غالب کی اک غزل