ساغر صدیقی کی شہرہ آفاق غزل۔۔۔۔۔۔

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں، سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں
میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ مجھے پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں
دور تلک کوئی ستارہ ہے، نہ جگنو
مرگ امید کے اب آثار نظر آتے ہیں
حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تیرے ہی طرفدار نظر آتے ہیں

شاعر: ساغر صدیقی
کاتب: عمر بنگش
بنام: ٹی۔ٹی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب