عشق کی داستان ہے پیارے

عشق کی داستان ہے پیارے
اپنی اپنی زبان ہے پیارے
ہم زمانے سے انتقام تو لیں
اک حسیں درمیان ہے پیارے
تونہیںمیں ہوں،میںنہیںتو ہے
اب کچھ ایسا گمان ہے پیارے
رکھ قدم پھونک پھونک کرناداں
زرےزرے میں جان ہے پیارے

شاعر : نامعلوم
کاتب: عمر احمد
غزل خواں: جگجیت سنگھ


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مقدمہ نسوار

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین - یتیم - 5