کہتے ہیں کہ اگر کسی کے بولنے کے انداز میں کسی اور زبان کا تلفظ شامل ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے وہ زبان بولنی نہیں آتی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص آپ کی نسبت ایک زبان زیادہ جانتا ہے!۔
گذشتہ اقساط یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں: زمرہ: برقی کتب ، اقساط: قسط نمبر ۱ ، قسط نمبر ۲ ، قسط نمبر ۳ ۔۔۔ خدا کی راہ کے حجاب خداوند تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کرنے میں انسان کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں ان کو تصوف کی زبان میں ۔حجاب۔ کہتے ہیں اور ان کی دو قسمیں ہیں ایک حجاب رینی اور دوسرا حجاب غینی۔ رینی حجاب:۔ رینی حجاب ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ یہ کبھی نہیں اُٹھے گا۔ کیونکہ اس کے لاحق ہوجانے کے بعد آدمی کے دل پر مہر ہو جاتی ہے۔ اس پر ٹھپہ لگ جاتا ہے۔ رین (زنگ چڑھ جانا)، خَتَم (مہر لگ جانا) اور طبع (ٹھپہ لگ جانا) تینوں الفاظ کو قران مجید نے اس بارے میں ایک ہی معنی میں استعمال کیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے؛ اِزَا تُتلٰی عَلَیہِ اٰیتُنَا قَالَ اَسَاطِیرُ الاَوَّلِینَ۔ کَلاَّبَل رَانَ عَلٰی قُلُوبِھِمِ مّاَ کَانُو یَکسِبُونَ۔ (۸۳۔۱۳۔۱۴) یعنی جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے، چھوڑو جی، پرانے قصے کہانیاں ہیں۔ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی بدکرداریاں زنگ بن کر ان کے دلوں پر جم گئی ہیں“۔ دوسرہ جگہ فرمایا؛ ۔۔۔اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُواسَوَآءٌعَلیھِمءَاَنذَرت...
۔"سیانا آدمی وہ ہے جو اپنی زندگی ایک ایک لمحہ گزارتا ہے!"۔ یہ جملہ میں نے بہت پہلے ایک بچوں کے ڈائجسٹ میں پڑھا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے، کافی عرصہ اس کا مفہوم مجھے سمجھ نہ آیا، لیکن ایک چیز جو مجھے سمجھ آئی وہ یہ کہ یہ واقعی حقیقت ہے۔ مثلاً ہم میں سے اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کل جب میں آؤں گا تو یہ کام کر لوں گا، یا نبٹا لوں گا۔ لیکن ہر صبح دوسری کل میں منتقل ہوتی رہتی ہے، اسی طرح ہمارے ہاں ایسی باتیں بھی مشہور ہیں، کہ خطا لمحوں نے کی، جبکہ سزا صدیوں نے پائی وغیرہ۔ تو کوئی بھی بھی کام، فیصلہ یا امر ایک لمحے کا محتاج ہوتا ہے۔ جیسے قتل کو ہی دیکھ لیں، جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک لمحے میں آدمی کیا کر بیٹھتا ہے۔مجھے ایک بار ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں جانے کا اتفاق ہوا، جہاں میرے کئی ساتھی یونیورسٹی میں ہنگامے کی پاداش میں قید تھے، وہاں ایک بیرک جو کہ قاتلوں کے لیے مخصوص تھی، کے ماتھے پر ایک جملہ کندہ تھا کہ "ایک لمحے کے غیرت مند بھائی، تجھے ساری عمر کی بے غیرتی مبارک ہو!"۔ تو یہ ہمارے رویے ہیں کہ ہم ایک لمحے میں اپنی ساری زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ہم اکثر ایسے جملے سنتے ہ...
گذشتہ اقساط یہاں ملاحظہ کریں: ذمرہ: برقی کتب ، اقساط: قسط نمبر ۱ ، قسط نمبر ۲ ، قسط نمبر ۳ ، قسط نمبر ۴ ، قسط نمبر ۵ ، قسط نمبر ۶ ، قسط نمبر۷ ۔۔۔ صوفی کے لباس کے بارے میں گودڑی (مخصوص لباس) پہننے کے حق میں صوفیاء کا استدلال صوفیاء کا عام طریق لباس گودڑی پہننا ہے اور ان کے نزدیک ایسا کرنا سنت ہے، اس لیے کہ روایتوں میں آیا ہے کہ نبی ﷺ صوف (پشم کا بنا ہوا لباس) پہنتے تھے اور گدھے کی سواری فرماتے تھے۔ اور حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛ صوف (اون کا لباس) اختیار کرو، اس سے تم اپنے دلوں میں ایمان کی مٹھاس پاؤ گے“۔ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا؛ اے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا، کپڑے کو ضائع نہ کیا کرو جب تک پیوند لگا کر اسے خوب چلا نہ لو“۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کپڑوں میں تیس تیس پیوند لگے ہوتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے کہ اچھا کپڑا وہ ہے جس کی قیمت کم ہو۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ بدر میں شریک ہونے والے ستر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو صوف کے کپڑے پہنے دیکھا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی صوف کے کپڑے پہنا کرتے تھ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں