ڈھونڈو گے اگر ملکوںمیں تم

ڈھونڈو گے اگر ملکوں میں تم
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت وغم
اے ہم نفسو! وہ خواب ہیں ہم
اے درد بتا کچھ تو ہی بتا
اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں
یا آ یا دل بے داغ ہیں ہم
میں حیرت وحسرت کا مارا
خاموش کھڑا ہوں ساحل پر، ۔
دریا محبت کہتا یے
آ کچھ بھی نہیں پایہ آب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں
منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہل زمانہ قدر کرو
نایاب نہ ہوں ، کمیاب ہیں ہم

شاعر: نامعلوم

نظم خواں: عابدہ پروین

بنام: ٹی ۔ ٹی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب