پرچے کا پرچہ

جی تو ایک معرکہ تھا جو سر کر کے آ رہا ہوں، میں نے کامیابی سے مڈ ٹرم کا پرچہ دے ڈالا، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اس پرچے نے تو ہمیں ہی مار ڈالا۔ کمال یہ نہیں کہ ہم نے پرچہ دے ڈالا، کمال تو یہ ہے کہ ایک ایسا پرچہ دے ڈالا کہ جس کا نہ سر تھا نہ پیر۔۔۔ یوں کہیے کہ جی ایک شیطان کی آنت تھی جسے لپیٹنے کے ساتھ ساتھ سمیٹنا بھی تھا۔
مضمون کا زرا نام تو ملاحظہ ہو "جینومکس اینڈ پروٹیومکس"، یہ بھی بھلا کوئی نام ہوا، جیسے نام ویسے اعمال، ایک رویا نہیں ہوں، باقی کوئی کسر رہ نہیں گئی۔ خیر نام کو ماریں گولی، میں نے تو کئی اوپر نیچے گولیاں ماری سر درد کی، کیوں کہ ایسا مضمون نہ دیکھا نہ سنا۔ اجی دلچسپ ہے لیکن، جینیات کو سمجھنا کیسے ممکن ہے کہ جب ہم نے اس کا کوئی عملی مظاہرہ نہ دیکھا ہو۔ کتابیں تو خوب پڑھیں، انٹر نیٹ سے کتابیں اور متعلقہ مضامین ڈاون لوڈ کر کر کے چومیں، یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری سے ملحق کینٹین میں بیٹھ کر اس بارے خوب سوچا، لیکن کچھ سمجھ نہ آیا۔ پروفیسر جی کے درشن کیے تو، کاغذوں کا ایک اور پلندہ تھما دیا، اپنا سا منہ لیے، لوکل اربن ٹرانسپورٹ کے زریعے واپس گھر پہنچا تو، کچھ نہ ہوا تو لحاف میں منہ لپیٹ کر لیٹ گیا کہ شاید شدت نالائقی سے رو پڑیں، لیکن حیرت اس وقت ہوئی، جب چار گھنٹے بعد آنکھ کھلی۔
ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھا، کچھ سمجھ نہ آیا تو چائے پینے چلے گئے، چائے کا اثر تھا کہ ہوش آنے کے ساتھ ساتھ ٹھکانے بھی آ گیا، خوب کتابیں الٹیں، پلٹیں، اور چند گھنٹوں کی محنت سے ہی ایک نقشہ تیار ہو گیا، جو کہ جینیاتی مادے کی طرح طویل، نہ سمجھ میں آئے، نہ جان چھوڑے۔ رات کے اس پچھلے پہر کاغذوں کے پلندے پر نظر پڑتے ہی تسکین ہوئی کہ جی چلو، کچھ نہ کچھ تو ہو ہی جائے گا۔
صبح سویرے اٹھتے ہی پہلی نظر کاغذوں کے اس پلندے پر ڈالی، دل کڑا کر کے چائے کی پیالی حلق سے نیچے انڈیلی اور چل دیے، لوکل ٹرانسپورٹ کے دھکے مکے کے زیر سایہ جامعہ پہنچے تو ایک نرالا ہی منظر نظر آیا، ہر طالبعلم کے پاس الگ ہی داستان تھی، بہتر ہو گا کہ میں مختلف طالبعلموں کی درجہ بندی، ان کے پاس موجود مواد کے حوالے سے کر دوں:۔
۱۔ وہ بھائی جو کتابی کیڑے مشہور ہوتے ہیں، سب سے زیادہ خراب تھے، کیوں کہ پروفیسر جی نے نہ صرف انھیں کاغذوں میں ڈبویا تھا، بلکہ ساتھ ساتھ، مختلف لیکچروں میں صوتی اثرات بھی انڈیلے تھے۔
۲۔ وہ طالبعلم جو کبھی کبھار ہی یونیورسٹی جاتے ہیں، پڑھتے ہیں لیکن زیادہ وقت کینٹین اور دوستوں سے خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ طبقہ نسبتاً مطمئن تھے، اور اکثر ایسے طالبعلم کافی کامیابی بھی حاصل کرتے ہیں۔
۳۔ ہم جیسے ملازم پیشہ طالبعلم، جو کہ کلاسوں پر بھروسہ نہیں کرتے، بلکہ جامعہ کی کسی بھی چیز پر بھروسہ نہیں کرتے، سوائے اپنی نوکری اور یکم تاریخ کے۔ آخری دنوں میں کاغذوں کا ایک پلندہ لیے پھرتے ہیں اور امتحان ختم ہوتے ہی، ان کاغذوں کے جہاز بنا بنا کر اڑاتے ہیں۔
تو جی، پرچہ دینے بیٹھے توہر درجے کا ہر طالبعلم منہ کھولے بیٹھا تھا، کیوں کہ پرچے میں ایسے موضوعات تھے، جنھیں ہم سب نے نہ آسمانوں میں دیکھا، نہ زمینوں میں ٹٹولا۔۔۔۔۔۔۔۔ وجہ یہ تھی کہ مضمون نیا اور باتیں زیادہ، ہر شخص جو اس مضمون میں دلچسپی رکھتا ہے، اپنی آراء رکھتا ہے، چنانچہ پروفیسر جی کی آراء نزلہ بن کر گری، اور ہم کسی نہ کسی طرح صفحے کالے کر کے شرمندہ نظروں سے، جوابی شیٹ کے مضمون کو چھپاتے ہوئے، لرزتے ہاتھوں پرچہ پروفیسر جی کو تھمایا، اور باہر کو دوڑ لگائی۔ تھوڑی دیر کو رنجیدہ ہوئے، پھر جہاز بنائے، ہر دلعزیز کینٹین کی لاجواب چائے پی، گنگناتے ہوئے پھر سے بقول میرے ایک دوست کے پھر سے "دیہاڑی" لگانے نکل کھڑے ہوئے۔

تبصرے

  1. گمنام4/2/09 08:55

    اللہ شاندار کامیابی عطا فرمائے ۔ آمین

    جواب دیںحذف کریں
  2. گمنام4/2/09 09:29

    ایسی ہی ہماری بھی ایک کتاب تھی جس کا مواد تو انتہائی آسان تھا لیکن کتاب کا نام انتہائی مشکل

    سوشو اکنامک ڈائمیشنز آف کلچر ایجوکیشن

    جواب دیںحذف کریں
  3. گمنام4/2/09 12:20

    ہاہاہا
    بڑی مزیے کی داستان لکھ ہے پرچہ دینے کی
    ایک دفعہ ہم بھی ایسے ہی اایک مضمون میں پھنس گءے تھے جس کا کچھ نہیں پتا تھا، سب نے پرعگرام بنایا کہ ہوسٹل میں ٹھہرتے ہیں ٓج رات سارے۔ مل کر پڑھاءی کریں گے۔ سب نے مل کر کی تو صحیح پر پڑھایی نہیں پونڈی۔ رات ۱۱ بجے جو ہاسٹل سے نکلے تو ۴ بجے واپسی ہویی، آ کر سو گیے اور صبح اٹھ کر پرچہ دے دیا۔ سارے پاس ہو ہی گیے تھے۔
    کہنے کا مطلب ہے جی، چھولے ٹیچر کا بھی بہت فایدہ ہوتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  4. گمنام4/2/09 12:21

    سر جی یہ ورڈ ویریفکیشن سسٹم تو ختم کرو کمنٹس کے لیے جو لگایا ہوا ہے۔ اس سے کافی سارے میرے جیسے سست بلاگرز بھاگ جاتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  5. گمنام4/2/09 19:32

    بھوپالی صاحب:: ثم آمین اور دعاوں میں یاد رکھیں۔
    عبدالقدوس بھائی:: جی، یہ کتابیں تو ہوتی ہی ایسی ہیں
    ڈفر:: ہی ہی ہی، یونیورسٹی میں ہمارا بھی یہی حال تھا، گھر میں ایسا رویہ ہمیں لوفر کا لقب دلوا سکتا ہے، سو محتاط رہتے ہیں۔
    ڈفر:: اچھا اب سمجھا، میں ویریفیکیشن کو ریریفیکیشن سمجھا تھا، ہٹا دی جائے گی!!۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. ڈفر جی:: ویریفیکیشن کا قلع قمع ہو گیا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  7. گمنام5/2/09 22:56

    بھائی گوگل اشتہارات کی آئی فریم میں استعمال ممنوع ہے آپ اس کو بھی ٹھیک کرلیں ورنہ آپ کی پکڑ ہوجائے گی

    جواب دیںحذف کریں
  8. عبدالقدوس بھائی سمجھ نہیں آئی، تھوڑی تفصیل سے آگاہ کر دیں مہربانی ہو گی

    جواب دیںحذف کریں
  9. گمنام6/2/09 14:47

    اب نہیں آرہے بھائی پہلے آرہے تھے

    جواب دیںحذف کریں
  10. گمنام9/2/09 17:02

    قلع قمع کرنے کی مہربانی جناب

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب