حالات

کوئی تین سال پہلے، ایک دن اپنے ہاسٹل کے کمرے میں لیٹے لیٹے یہ خیال آیا کہ چائے پی جائے، ویسے یہ خیال دن میں مجھے پیسیوں بار آتا ہے، اور میں ہمیشہ ہی اس کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی تامل نہیں کرتا، بشرطیکہ کوئی ساتھ ہو۔ اب یہ نہ سمجھیے گا کہ ساتھی اس لیے ڈھونڈتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ چائے پی لے اور پھر مروت کا اظہار کرتے ہوئے چائے کا خرچ بھی اٹھائے۔
بہر حال ایک ساتھی جو اس وقت میسر آیا، وہ بھی میرا ہی ہم رنگ ثابت ہوا، یعنی عاطف جعفر۔ عاطف جعفر چارسدہ سے تعلق رکھتا ہے اور پشاور میں رہائش پزیر ہے، کہنے کو ہمارا سینئیر تھا لیکن، محبت میں مہا سینئیر، اس کے بھاری بھر کم جسم کو ہلایا جلایا تو پتہ چلا کہ وہ جاگ رہا ہے، اور چائے پینا چاہتا ہے اور کسی ساتھی کی تلاش میں ہے،،اگلے ہی لمحے ہم ہاسٹل کے عین ساتھ چائے کے کھوکے میں چارپائی پر براجمان تھے۔ میں تو بیٹھا تھا، وہ پھیلا ہوا تھا۔
خیر وہ ہر دلعزیز چائے جس کا نام ہم نے پشتو میں "لڑمون" یعنی بچھو کا ڈنگ ہمارے لبوں اور دل کو جلا رہی تھی، کیونکہ وہ بہت تیز اور گرم چائے ہوتی تھی۔
بات چلتے چلتے حالات پر آ گئی، میں کڑھا کہ "بھیا عاطف، یہ تو بڑے بدتر حالات ہیں، مسلمانوں کو ہر طرف روندا جا رہا ہے، کبھی کبھی تو خیال آتا ہے کہ بم باندھو اور اڑا دو ان کو جنھوں نے مسلمانوں کی حالت خراب کی ہوئی ہے"۔
عاطف کے جسم میں حرکت ہوئی، وہ سمٹنا شروع ہوا اور انداز بے پرواہی سے اچک کر بیٹھ گیا، یہ بھی خیال نہ کیا کہ میرے ہاتھ میں چائے کی پیالی ہے، اور مجھے چارپائی کے اوپر اپنا جسم سنبھالنے میں تکلیف ہو رہی ہے۔ بولا " ارے بھیا، یہ تو کچھ بھی نہیں، حاجی صاحب کے خیال میں تو ابھی ایسے ایسے بدتر حالات آنے ہیں مسلمانوں پر، کہ مسلمان چیخ چیخ کر حضرت امام مہدی کی تلاش شروع کر دیں، بس ہمیں اپنا ایمان سلامت رکھنا ہے، اور انتظار کرنا ہے، ہمیں موقع ضرور ملے گا"۔

حاجی صاحب: بنوں میں تعینات ڈی آئی جی، جن کے ساتھ میرا روحانی، جبکہ عاطف کا روحانی و خونی دونوں رشتے تھے۔

تبصرے

  1. گمنام10/2/09 23:59

    یار بات کچھ یوں ہے کہ گورے لوگوں کا عقیدے کی حد تک پختہ یقین ہوتا تھا کہ "ہمیں بچانے کے لیے ایک شخص آیے گا کیونکہ ہم تو اس قابل ہیں نہیں۔ تو اس کا انتظار کرو۔" وہ شخص کبھی الیگزینڈر ہوتا تھا اور کبھی رابن ہڈ۔ کبھی کویی تو کبھی کویی۔ مسلمانوں کا کبھی ایسا عقیدہ نہیں رہا سوایے آج کے دور کے۔ جب سے انگریزوں کو پتا چلا کہ اپنا آپ خود سنوارنا ہے اور ہم یہ بات بھول گیے تو وہ کامیاب ہو گیے اورحکومت کرنے لگے اور ہم ڈھونڈنے لگے اپنے آنے والے ہیرو کو۔
    تن آسانی کی حد تو یہ ہو گیی کہ میں نے پڑھے لکھے لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ امام مہدی آییں تو مسلمان بھی نشاۃ ثانیہ دیکھیں گے۔ اویے عقلمندو نشاۃ ثانیہ ، ثالثہ تم خود بھی تو دیکھ سکتے ہو۔ امام مہدی پر وہ چھوڑ دو جو ان کے نمبر پر آیے گی۔ تم اپنا فرض تو پورا کرو
    لیکن اگر ہم تن آسان نہیں ہوں گے تو بصیرت لہو کیسے رویے گی؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. گمنام11/2/09 08:54

    دراصل ہم لال بتی کے پیچھے چلنے والے بن چُکے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  3. گمنام11/2/09 09:08

    میرے بھائی یہ ہمارے علماء کرام کی کمزوری ہے اور اس بڑی ہماری اپنی دینی کمزوری۔ جب قرآن پاک کی‌ صورت میں ہمارے پاس پورا فلسفہ حیات موجود ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ہمارے سامنے موجود ہے تو ہم کیوں بھٹکے ہوئے ہیں؟

    ہے کوئی اسکا جواب؟

    جواب دیںحذف کریں
  4. گمنام11/2/09 11:28

    ڈفر جی:::میں آپ سے متفق ہوں، ہماری نوجوان نسل بسمیت میرے، اس شش وپنج میں مبتلا ہے کہ جی، حقیقت کیا ہے، روحانیت سے کچھ اور عمل سے کچھ بنا دیا گیا ہے، جہاد کی کیا شکل ہے، ہمارے روزمرہ کے اعمال کیا رخ اور کس بہاؤ میں بہہ رہے ہیں، فرقہ پرستی اور اپنی مرضی کا دین نا جانے ہمیں کہاں لے جا رہا ہے۔
    عبدالقدوس بھیا:: جی، لیکن کہاں لے جائے گی ہمیں یہ لال بتی، خطرناک ہے ناں
    حسن مغل::: بالکل ہم اور علماء دونوں کی کمزوری ہے، اور ویسے بھی ہم عام لوگوں میں کتنے ہیں جو قران کا مطلب سمجھتے ہیں،اور اگر جو سمجھتے بھی ہیں، کس حد تک قران پاک کا ہماری زندگیوں میں عمل دخل ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. گمنام11/2/09 14:35

    حسن مغل::: معاف کیجیے گا، میں آپ کو اپنے بلاگ میں خوش آمدید نہ کہہ سکا، کچھ موضوع ہی ایسا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب