کہانی جھیل سیف الملوک کی
ناران کا نام تو سنا ہو گا، یہ اسلام آباد سے کوئی ۳۰۰(تین سو) کلو میٹر کے فاصلے پر واقع، ضلع مانسہرہ میں ایک تفریحی مقام ہے۔ یہاں کی ایک خاصیت جس سے ہم سب واقف ہیں، وہ جھیل سیف الملوک ہے۔ اگر کبھی جانے کا اتفاق ہو تو، یہ ناران سے اونچائی پر واقع، ایک پیالہ نما جھیل ہے۔
چند برس پہلے، جب اس وادی کا حسن ۲۰۰۵ (دو ہزار پانچ) کے زلزلے سے گہنایا نہیں تھا، میں اور میرے چند دوستوں کا وہاں ایک رات بسیرا ہوا۔ سیاحتی دورہ کیا تھا، ایک طوفان بدتمیزی تھا، ہر ایک منہ کھولے ہانکتا جا رہا تھا، اور جب کئی ایک نے یہ ہانکی کہ بھیا کیوں ناں ناران سے جھیل تک کا سفر پیدل کیا جائے، تو لطف رہے گا۔ ہانکنے کو تو سب نے ہانک دی، لیکن اصل لطف اس وقت شروع ہوا جب تھوڑی دور چلنے کے بعد ہی ہم میں سے تقریباً ساتھی ہانپنے لگے۔ اور ستم ظریفی یہ کہ ایک دوسرے سے آگے پہنچنے کی دھن میں نہ صرف تیز چلنے پر مصر تھے، بلکہ ایسا ہوا کہ ہم نے روڈ کی بجائے چڑھائی کو ترجیح دی۔ یہ بڑی بے وقوفی ہوتی ہے، کیونکہ پہاڑوں پر چلنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں، جو کہ ہم مقامی لوگوں میں وضع ہیں، جیسے پہاڑ پر چڑھتے ہوئے کبھی بھی سیدھا اوپر نہیں، بلکہ زگ زیگ چلنا چاہیے۔ چڑھائی چڑھتے ہوئے اگر اپنے ہاتھوں سے کولہوں کی ہڈیوں کو سہارا دیا جائے تو نسبتاً آسانی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح چڑھائی میں لمبی سانسیں لیتے ہوئے چڑھنا چائیے، اور اگر زیادہ اونچائی میں پیدل سفر کر رہے ہوں تو اپنے ساتھ خشک خوبانی رکھنا نہ بھولیں، کیونکہ آکسیجن کی کمی سے جلد تھکن طاری ہو جاتی ہے، جبکہ خشک خوبانی اس کا بہترین علاج ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جی ہماری سنتا کون ہے؟
خدا خدا کر کے جب جھیل کے درشن ہوئے تو، جھیل کنارے کھانا کھانے کے بعد تھوڑا سستائے، خدا کی قدرت کے گن گائے، اور اگر آپ کو کبھی جھیل سیف الملوک پر جانے کا اتفاق ہوا ہو، تو آپ ان مقامی لوگوں سے ضرور واقف ہوں گے، جو پیسے لے کر جھیل سے منسلک شہزادے اور پریوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں، جو ظاہر ہے افسانوی ہوتی ہیں۔
خیر ایسے میں ہی کہ جب ہم سب دوست ایک دوسرے کے پیٹوں پر سر رکھے سستا رہے تھے، ایک بڑی عمر کے کاکا جی تشریف لائے۔ اور کہنے لگے، "بیٹا اگر تم مجھےاجازت دو تو میں تمھیں شہزادے سیف الملوک اور پریوں کا قصہ سناتا ہوں"، میرا ایک دوست جو کہ مانسہرہ کا رہائشی ہے، حس مزاح بھی خوب رکھتا ہے، اس نے پیسوں کے متعلق استفسار کیا، تو جواب آیا، "صرف سو(۱۰۰) روپے"، میرا دوست نے فٹ جواب دیا، "بابا جی، آپ مجھے صرف پچاس(۵۰) روپے عنایت کریں، انشااللہ، آپ کی کہانی سے لمبی کہانی سناؤں گا"۔
بہت اچھی تحریر ہے، میں ایصد پچانوے میں گیا تھا اور اب بھی اس سفر کو نہیں بھول سکا، ہم نے پیدل جانے کا انٹتخاب بثٹ کے کمزور ہونے کی وجہ سے کیا گھا۔ مگر اس سے زیادہ پیسے اوپر کھانے کے دے دئے تھے۔
جواب دیںحذف کریںہمارے ساتھ کیونکہ مطالعاتی دورے کا پورا لشکر جرار تھا اس لیے ناران سے پیدل سیف الملوک جانے کی ہمت تو نہ کر سکے لیکن وقت کی تنگی کے باوجود جھیل کا ایک طواف ضرور کیا۔ زندگی کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک تھا وہ دن۔
جواب دیںحذف کریںآپ نے درست کہا پہاڑ پر چڑھنے کے اصول ہوتے ہیں ۔ میں نمعلوم بچپن میں کتنی عمر سے 55 سال کی عمر تک پہاڑوں پر چڑھتا رہا ہوں لیکن سڑک کے راستے نہیں ۔ جب سب علاقہ برف پوش ہو تو خاران سے سیف الملوک تک پیدل جانے میں جو مزہ ہے وہ کوئی کوئی جانتا ہے لیکن عام آدمی کیلئے یہ بہت خطرناک ہے میرے بچوں نے بھی یہ معرکہ آرائی کی ہوئی ہے
جواب دیںحذف کریںڈاکٹر افتخار راجہ:: میرے بلاگ پر آمد اور تبصرے کا شکریہ، اور تحریر کو پسند کرنے کا بھی۔
جواب دیںحذف کریںاس وقت اور ابھی میں بڑا فرق ہے، کیونکہ ابھی ماحولیاتی آلودگی اور زلزلے کے بعد کافی فرق آ گیا ہے وادی میں، اور ہاں اگر فرق نہیں آیا، تو وہ ہے گرانفروشی، جیسا کہ آپ نے بتایا، تب بھی تھی، اب بھی ہے۔
ابوشامل:: جی، اس قسم کے دوروں سے میں خوب واقف ہوں، واقعی بڑی مشکل ہوتی ہے، دوستوں کی ہا ہو ضرور مزہ کرتی ہے، لیکن اگر ابن بطوطہ کی مانند اکیلے نکل جائے، یا زیادہ سے یادہ دو یا تین بندے، تو قدرت کی رعنائیوں سے خوب لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔
افٹخار اجمل بھوپال صاحب::: سر جی، یہ اصول کچھ مجھے میرے ماموں نے سکھائے اور کچھ پہاڑوں نے، اور مزہ تو کٹھن سفر میں آتا ہے، اور برف میں ناران سے جھیل، واہ جی واہ، جائیں، اور خاص کر کے، ہمارے ہاں مشہور ہے کہ اگر شکر بھی آپ کے پاس ہو تو ایسے سفر کا لطف بڑھ جاتا ہے، اور احتیاط تو واقعی لازمی ہے، خوش قسمت ہیں آپ کے بچے جو قدرت کے اتنے قریب رہے، ورنہ آجکل کے بچوں کو تو کمپیوٹر اور ویڈیو گیمز سے ہی فرصت نہیں ملتی۔۔۔۔
او یار میرا تبصرہ کہاں گیا؟
جواب دیںحذف کریںمیں تو اسکا واب دیکھنے آیا تھا یہاں
ڈفر::: ہائیں، ڈفر بھیا آپ کا تو تبصرہ موصول نہیں ہوا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریں