تیری یاد آئی، تیرے جانے کے بعد

ہماری قوم میں اکثریت اب آمریت کی اتنی عادی ہو چکی ہے، جتنی کہ ایک زمانے میں چینی قوم افہیمی کے طور پر مشہور تھی، فرق صرف یہ ہے کہ چینی اغیار کے ہاتھوں "ٹُن" ہو ئے، جبکہ ہمیں اپنی ہی عادات لے ڈوبیں۔ اب یہ صورتحال ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے اندر ایک تگڑا تازہ آمر لیے گھوم رہا ہے۔
آمریت اور نشے میں فرق کم ہی ہے، یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ آپ اس کے نقصانات سے واقف ہوتے ہیں اور پھر علاج بھی کروا لیا جائے، لیکن کچھ عرصے بعد یہ نشہ پھر سے سر اٹھائے اور آپ اپنے آپ کو بے بسی سے اس کے حوالے کر دیں۔ یہ بھی درست ہے کہ یہ نشہ عوام کے سر سے تو جلد اتر جاتا ہے، جبکہ یہ آمر کے سر پر قلیل عرصہ میں سر چڑھ کر بولتاہے۔
اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں اگلی چند سطروں میں تمام آمروں، جیسے مشرف، ضیاء، ایوب خان اور سکندر مرزا کی مٹی پلید کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، تو جیسے ماضی قریب میں ہمارے ایک "محسن" فرعون کے لہجے میں کہا کرتے تھے کہ "آپ سبھوں کو پتہ ہونا چاہیے!"،ویسے ہی میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ میں اپنے آپ کو گالیاں دینا شروع کر دوں، اللہ نہ کرے، کہنے والے کے منہ میں خاک!، یا پھر اس مولوی کی طرح کہ جو کہتا تھا، "ایک خاص انداز میں ڈھول بجانا حلال ہے، جبکہ باقی ڈھول بجانے کے انداز، خواہ کسی بھی شکل میں ہوں، حرام ہیں!"۔
مثالوں سے واضع کرنے سے چیز نمایاں اور قابل قبول ہو جاتی ہے، اب یہ نہ سمجھیں کہ یہ مثالیں کوئی ایسی ویسی مثالیں ہیں، بالکل ایسے جیسے کہ ہمارے بزرگ آمر قائم کرتے آئے ہیں۔ ایسی مثالیں کہ جمہوریت پر بھی آمریت کا گماں گذرے!۔
میرے ایک دوست کو سگریٹ نوشی کی عادت تھی، دوائیوں کی ایک فیکٹری میں مطالعاتی دورے کے دوران ایک دیوار پر واضع الفاظ میں درج تھا کہ "سگریٹ نوشی منع ہے" لیکن آمریت کا کیا کریں، جو کوٹ کوٹ کر بھر گئی ہے، صاحب مصر تھے کہ انھوں نے سگریٹ پینی ہے، تو پھر لگائے جی بھر کے سُوٹے، ہدایات کی ایسی کی تیسی!۔
ایسے ہی بیسیوں رویوں سے ہماری زندگیاں بھری پڑی ہیں، ہمارے تعلیمی اداروں کی حالت دیکھ لیں، ہر شخص اپنے ہی طریقہ تعلیم کو تھامے ورد کر رہا ہے، حلال اور حرام کے فتوےٰ، ٹی وی ریڈیو کے تبصرے، اخبارات وشماروں کے مضامین اور ہر شخص کی رائے دہی، سب آمریت کی چادر میں لپیٹ کر ہر گذرتے لمحے کے ساتھ ہم میں سے ہر شخص ماضی میں دفن کرتا رہتا ہے۔ فیصلوں کے مقبرے تعمیر ہوتے رہتے ہیں اور ایک مستقل قبرستان کا منظر پیش کرنے لگتا ہے میرا دیس!۔
اب ایسے ہی تو مشہور نہیں ہو جاتا ناں "تیری یاد آئی، تیرے جانے کے بعد۔۔۔۔!"۔

تبصرے

  1. گمنام25/3/09 11:28

    مولوی (طاہر القادری) کا نام بھی لکھ دیتے کچھ تو ہماری ناقص معلومات میں اضافہ ہوتا۔۔۔
    :mrgreen:
    بس لگتا ہے کہ آپ بھی گئے کام سے۔۔۔ جاوید چوہدری اور حامد میر وغیرہ کی چھٹی کروادیں گے جلد ہی۔۔۔ پھر آپ کا پروگرام بھی چلا کرے گا۔۔۔
    Bangash with Bang
    :lol: :lol:
    زبردست تحریر ہے۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. گمنام25/3/09 12:15

    bangash with bang nai
    bang with bangash
    lolz
    ہمارے ہاں تو بچہ پپیدا ہونے کے بعد ہی آمریت کی چادر میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ کبھی دادا کی آمریت یا کسی بڑے بزرگ کی اسکے نعد اماں ابا پھر کویی بھی بڑا
    ہو کویی آمروں کی طرح اپنے فیصلے تھوپتا رہتا ہے
    اور نام دیا جاتا ہےحق اور فرمانبرداری کا
    بچے کو لتر پہ لتر مارتے رہو اور اف تک کرنے کی اجازت نا دو یہی تقاضا ہے اسکی فرمانبرداری اور آپکی آمریت کا
    تو میرے بھایی اگر ہم آمریت کے نشیی ہیں توہمارا کیا قصور؟

    جواب دیںحذف کریں
  3. گمنام25/3/09 12:16

    یہ آمریت ہی تو ہمیں پال پوس کر بڑا کرتی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  4. گمنام25/3/09 16:23

    زبردست تحریر ہے، لیکن اگر آمروں کے حوالے سے تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد کی طرح غور کریں کہ ملک میں موجود حکومت ہی نیک نیت اور مخلص ہوتی ہے، اس سے پہلے والے سب چور، خاص کر قریب ترین پہلے والے سب سے بڑے چور۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. خوب حقیقت گوئی کی ہے آپ نے!

    جواب دیںحذف کریں
  6. جعفر::صرف طاہر القادری ، کئی اور مثالیں بھی تو ہیں۔
    ڈفر:: رعب، مار اور بلاوجہ کی مداخلت بعض اوقات تو فرض عین سمجھی جاتی ہے۔
    جعفرو ڈفر:: Bang in Ash نام ہونا چاہیے پروگرام کا:)۔
    جہانزیب::یہ تو ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس
    شعیب صفدر::: کافی عرصہ بعد تبصرے کا شکریہ، اور پسند کرنے کا بھی شکریہ

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مقدمہ نسوار

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین - یتیم - 5