لاحاصل
بالاخر آج میرے ایم فل پہلے سمسٹر کے پرچے دل پر سے پتھر اتارنے کے مصداق ختم ہو گئے۔ پتھر ہی تو تھا کہ جو اتر گیا، ورنہ اب کوئی اتنا زوق و شوق جو کبھی پڑھائی کا ہوتا تھا، رہا نہیں!۔
وجہ بالکل یہی ہے کہ اب ہمت ہی نہیں پڑتی۔ کیونکہ تعلیمی نظام میں جو سر پر تھوپنے والی بات کہ جو کہا جائے، حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے، کم از کم میرے لیے کافی کوفت کا باعث بنتا ہے۔
آئن سٹائن نے اک بار کہا تھا کہ، " ایک خاص مرحلے کے بعد صرف مطالعہ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو گہنا دیتا ہے"۔
ہمارے ہاں جو نظام تعلیم ہے وہ اسی ڈگر پر رواں دواں ہے کہ مطالعہ کرتے رہو، مشاہدے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ تعلیمی اداروں میں ہونے والی لمبی اور لاحاصل بحثوں میں حصہ لینا واقعی دل گردے کا کام ہے، جہاں کرنے کو اور کچھ نہیں صرف بولنا اور بولنا، تجربات سے عاری یہ علم کس کام کا؟ وجہ کچھ بھی ہو: سہولیات کی کمی، طریقہ کار کا فقدان یا پھر ازلی ہڈ حرامی۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمیں یہ مشاہدے کی کمی ڈبو دے گی۔
صرف اسی پر اکتفا نہیں ہوتا، بلکہ یوں بھی ہوا کہ علمی مباحثوں میں کچھ عزیز اس حد تک زاتیات پر اتر آتے ہیں کہ بندے کا دل کھٹا ہو جاتا ہے، دو ایک بار تو میں نے سوچاکہ یہ سلسلہ ہی موقوف کر دوں، مگر کیا کیا جائے کہ یہ نشہ اب اترنے والا نہیں۔
مزے دار بات یہ ہے کہ گزشتہ برس پہلے گزر چکنے والے افراد میں سے ۹۰ فیصدی لوگوں نے باقاعدہ کوءی تعلیمی ادارہ کی شمولیت اختیار نا کی تھی اور آج کہ جبکہ بچہ ۳ برس میں ہی سکول کی زینت بن جاتا ہے خواہ ۲۵ برس مسلسل پڑھتا رہے اُن گزر چُکنے والوں سے بہتر نہیں ہوپاتا
جواب دیںحذف کریں:P
یار۔۔۔ بحثوں میں پڑنے کی بجائے اس وقت کو انجوائے کرو
جواب دیںحذف کریںاچھے اچھے چہروں سے پیاری پیاری باتیں کرو
دوبارہ نہیں آئے گا یہ وقت
پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔۔۔
:mrgreen: :mrgreen:
عبدالقدوس::: یہ تو ہے، ہمارا حالیہ علم واقعی میں اس علم کا عشر عشیر بھی نہیں، جس سے ہمارے بزرگ بہرہ مند ہوئے۔ اور ویسے بھی آجکل علم کہاں صاحب، اعلٰی نبمرات کی دوڑ اور بس۔
جواب دیںحذف کریںجعفر::: انجوائے ہی تو کر رہا ہوں، :(۔ اور اچھے اچھے چہروں سے پیاری پیاری باتیں، مجھے تو شرم آ رہی ہے، اس لیے کہ ان میں تو شرم ہے نہیں :)، قسم چکا لو!!!۔
میرا ایک دوست سات سال تک صرف اس لیے لگاتار اپنے ہاتھوں فیل ہوا، کہ اس کا بھی یہی خیال تھا کہ یہ وقت پھر نی آنا، اور یونیورسٹی کے چونچلے تو صاحب، بیچلر ڈگری میں مزہ کرتے ہیں، اب تو بس مادہ پرستی کے سوا کچھ بھی نہیں باقی!!!۔