تیرے من چلے کا سودا
بہت عرصہ ہوا، جب میں چوتھی جماعت میں تھا۔ پی ٹی وی پر اشفاق احمد کا لکھا ڈرامہ نشر ہوا کرتا تھا، "من چلے کا سودا"۔ اب صورتحال یہ ہوتی تھی کہ ہمیں ٹی وی دیکھنے کی روزانہ صرف ایک گھنٹہ اجازت ہوا کرتی تھی، وہ تھی رات آٹھ بجے سے نو بجے تک کا ڈرامہ۔ وقت اچھا تھا، چینل ایک ہوا کرتا تھا سو یہ ٹک ٹک کرتے دوسرے چینلوں پر منہ مارنے کا جنجھٹ نہیں تھا۔ ڈرامے دیکھنے کا شوق بھی ہوا کرتا تھا، لیکن مسئلے صرف دو تھے، ایک یہ جمعرات کو اسی وقت میں "نیلام گھر" نشر ہوا کرتا تھا اور پھردوسرا یہ کہ بدھ کو "من چلے کا سودا" نشر ہونا شروع ہو گیا۔
میرے خیال میں یہ سب سازش تھی، نیلام گھر سے مجھے نفرت، جبکہ من چلے کے سودے کی سمجھ نہ ہوتی، اجی ہم تو پسند کرتے تھے، گھریلو جھگڑوں والے ڈرامے، یا پھر ایسے جو سمجھ بھی تو آئیں، مثلاً ان دنوں کافی مشہور ڈرامے جیسے کسک، آنچ، ہوائیں، لاگ، عروسہ وغیرہ نشر ہوا کرتے تھے۔ اشفاق صاحب میرے خیال میں ایک ایسے شخص تھے جو کہ ہمارے ڈرامے کے وقت کو تباہ کرنے کو تلے تھے، اور طارق عزیز کو گویا ایک کل وقتی کام ملا ہوا تھا ہمیں چڑانے کا۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں تھا، بلکہ ابو جی کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ہم نیلام گھر کا ایک ایک حصہ ایسے دیکھیں، گویا ہمیں اس کی تدوین کرنی ہو، اور من چلے کا سودا تو جیسے جی بنا ہی اس لیے ہے کہ ہمارے سروں پر تھوپ دیا جائے، پورا پاکستان بھاویں اسے نہ دیکھے، ہمیں ضرور دیکھنا ہے۔ نتیجے دو نکلتے، ایک ہم پورا گھنٹہ بیٹھے اونگھتے اور دوسرا یہ کہ ہم ان دو دنوں میںٹی وی پر ہماری دلچسپی کا سامان صرف اشتہار رہ جاتے!۔
کالج یونیورسٹی میں اشفاق صاحب کی اور کتابوں کے ساتھ من چلے کا سودا بھی پڑھا، سمجھ لگی تو بار بار پڑھا، یو ٹیوب پر اقساط دیکھ ڈالیں، ہر بار ایک نیا لطف، کچھ نیا ہی سیکھنے کو ملا، آج پی ٹی وی پر من چلے کا سودا پھر نشر ہو رہا ہے، ہر بدھ رات گیارہ بجے، وقت بدل گیا، ٹی وی ترقی کر گیا، چینلوں کی بھرمار ہے۔ لیکن جو لطف آج آیا، کیا بتاؤں؟
اگر نہیں بدلی تو وہ ہیں، روحانیت، ہمارے احساسات اور یادیں!۔
میرے خیال میں یہ سب سازش تھی، نیلام گھر سے مجھے نفرت، جبکہ من چلے کے سودے کی سمجھ نہ ہوتی، اجی ہم تو پسند کرتے تھے، گھریلو جھگڑوں والے ڈرامے، یا پھر ایسے جو سمجھ بھی تو آئیں، مثلاً ان دنوں کافی مشہور ڈرامے جیسے کسک، آنچ، ہوائیں، لاگ، عروسہ وغیرہ نشر ہوا کرتے تھے۔ اشفاق صاحب میرے خیال میں ایک ایسے شخص تھے جو کہ ہمارے ڈرامے کے وقت کو تباہ کرنے کو تلے تھے، اور طارق عزیز کو گویا ایک کل وقتی کام ملا ہوا تھا ہمیں چڑانے کا۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں تھا، بلکہ ابو جی کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ہم نیلام گھر کا ایک ایک حصہ ایسے دیکھیں، گویا ہمیں اس کی تدوین کرنی ہو، اور من چلے کا سودا تو جیسے جی بنا ہی اس لیے ہے کہ ہمارے سروں پر تھوپ دیا جائے، پورا پاکستان بھاویں اسے نہ دیکھے، ہمیں ضرور دیکھنا ہے۔ نتیجے دو نکلتے، ایک ہم پورا گھنٹہ بیٹھے اونگھتے اور دوسرا یہ کہ ہم ان دو دنوں میںٹی وی پر ہماری دلچسپی کا سامان صرف اشتہار رہ جاتے!۔
کالج یونیورسٹی میں اشفاق صاحب کی اور کتابوں کے ساتھ من چلے کا سودا بھی پڑھا، سمجھ لگی تو بار بار پڑھا، یو ٹیوب پر اقساط دیکھ ڈالیں، ہر بار ایک نیا لطف، کچھ نیا ہی سیکھنے کو ملا، آج پی ٹی وی پر من چلے کا سودا پھر نشر ہو رہا ہے، ہر بدھ رات گیارہ بجے، وقت بدل گیا، ٹی وی ترقی کر گیا، چینلوں کی بھرمار ہے۔ لیکن جو لطف آج آیا، کیا بتاؤں؟
اگر نہیں بدلی تو وہ ہیں، روحانیت، ہمارے احساسات اور یادیں!۔
ایک محبت سو افسانے بھی سب سے ہٹ کر تھا۔ ریڈیو پر تلقین شاہ سننے کا جو مزہ آتا تھا اس کی بات ہی اور تھی۔
جواب دیںحذف کریںلگتا ہے میری کہانی لکھ دی ہے
جواب دیںحذف کریںسوائے نیلام گھر کے
وہ مجھے بہت پسند تھا
طارق عزیز کی وجہ سے نہیں
بلکہ سوال جواب کی وجہ سے
کوئز پروگرامز کا سپر سٹار تھا میں
سکول اور کالج میں!
اشفاق صاحب میرے بھی غائبانہ مرشد ہیں
اللہ انہیں غریق رحمت کرے
مجھے تو نیلام گھر بہت پسند تھا
جواب دیںحذف کریںمیں نے ٓج تک اشفاق احمد کو نہیں پڑھا
نا ہی بانو قدسیہ کو
وجہ نہیں پتا
ایک محبت سو افسانے کا جو نیا ورژن آیا تھا وہ میں نے دیکھا تھا
وہ مجھے اچھا لگا تھا
میں نے بھی دیکھا تھا فردوس جمال والا من چلے کا سودا اس دفعہ
:D
اگر درست یاد پڑ رہا ہے تو من چلے کا سودا نو وارد این ٹی ایم کے چاند گرہن سے ٹکرایا کرتا تھا۔۔ لیکن صاحب کمال ہے۔۔ خیام سرحدی نے تو غضب اداکاری کی ہے۔
جواب دیںحذف کریںمیرا پاکستان::: جی یہ تو اچھا یاد دلایا ایک محبت سو افسانے، پھر وہ حیرت کدہ اور گڈریا بھی تو ہیں جی۔ جہاں تک بات ہے جی تلقین شاہ، تو وہ میں نے سنا تو نہیں لیکن کتا بی شکل ضرور پڑھی ہے۔
جواب دیںحذف کریںجعفر:::اوہ جعفر پا جی، آپ ویسے بھی سپر سٹار ہو جی، اور نیلام گھر مجھے صرف اس لیے برا لگا کرتا تھا کہ وہ رات آٹھ سے نو بجے ہی کیوں لگا کرتا تھا، معلومات اپنی جگہ مگر ڈرامے کے وقت کو تو بہر حال برباد کر ہی رہا تھا ناں, ورنہ آج کل تو میں ہر ہفتے کی رات ۱۱ بجے "طارق عزیز شو" ضرور دیکھتا ہوں :)۔ آمین جی، اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے جی، اشفاق صاحب تو واقعی مرشد ہیں جی، اس بارے پھر کبھی لکھوں گا، کیونکہ وہ تو جی میرے بھی محسن ہیں!!!!۔
جواب دیںحذف کریںڈفر::: سر جی، پسند مجھے اب بھی ہے لیکن کچھ نظریاتی اختلافات تھے اس وقت جو، جعفر جی کے تبصرے میں بیان ہوئے، ہاہاہا۔ اور یہ جی کہ بانو قدسیہ کہ کوئی کتاب آج تک میں نے نہیں پڑھی، لیکن اشفاق احمد صاحب کی شاید کوءی کتاب مجھ سے رہ گئی ہو، سوائے بابا صاحبا کے، کیونکہ یہ ابھی یہاں مانسہرہ میں میسر نہیں ہے۔
جواب دیںحذف کریںجی ایک بار ضرور پڑھیں اشفاق صاحب کو، گرویدہ ہو جائیں گے آپ بھی۔ بڑی سبق آموز باتیں ہیں جی ان کی۔
بالکل وہی والا فردوس جمال والا، اے لے، مطلب جب تک آپ بھی پی ٹی وی نہ دیکھ لو آپ کو بھی چین نہیں آتا، :)۔ اور یہ کوئی کچھ بھی کہے جی، پی ٹی وی کے ڈراموں جیساکوئی عشر عشیر بھی نہیں بنا سکتا :)۔
راشد کامران صاحب::: جناب، آپ بالکل درست فرما رہے ہوں گے، کیونکہ آپ کی تحاریر آپکے حافظے کی آئینہ دار ہیں جناب، ویسے میں اس کی تصدیق کر نہیں سکتا کیونکہ، اس زمانے میں ہمارے یہاں صرف ایک ہی چینل ہوا کرتا تھا وہ تھا پی ٹی وی، جبکہ ڈش وغیرہ تو کفر کے زمرے میں آتا تھا ان وقتوں میں۔
جواب دیںحذف کریںکمال تو ہے نا جناب، دیک لیں، کتنا پیچیدہ موضوع کس خوبصورتی سے فلمبند کر دیا، اور خیام سرحدی، فردوس جمال نے تو انت کیا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ خیام سرحدی آج بھی کہتے ہیں کہ، نہ انھیں اس کردار کی اس وقت سمجھ آئی اور نہ آج۔ یہ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا۔