گل نواز کا پُوت
گل نواز عرصہ بارہ سال سے گومل یونیورسٹی کی ایک کینٹین چلا رہا ہے۔ آپ حضرات اسے "چھوٹا" سمجھ لیں کیونکہ اس کا "کئیریر" ادھر ہی سے شروع ہوا تھا، لیکن وہ اس کینٹین کا صحیح معنوں میں "ایم۔ڈی" تھا، اپنی محنت کے بل بوتے اس نے یہ عہدہ پایا تھا۔ حساب کتاب میں ایسا ماہر کہ مجھے شک پڑتا کہ شاید یونیورسٹی کے میتھیمیٹکس ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد ان صاحب کے ہاتھوں رکھوائی گئی ہو۔ سالہاسال اسے حساب یاد رہتا۔ حساب نہ صرف وہ درست رکھتا بلکہ اس کا کمال تو یہ بھی تھا کہ وہ دوستانہ رویے کا حامل تھا۔ یونیورسٹی کالجوں کے لڑکے اکثر بے صبرے، اکھڑ اور نسبتاً غصیلے ہوتے ہیں، ان بھانت بھانت ذہنیتوں کو اس کمال سے خوش رکھتا کہ میں اکثر سوچتا کہ اس شخص کو ہماری یونیورسٹی کے نفسیات کے شعبے میں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے، لیکن افسوس اس بات کا تھا کہ گومل یونیورسٹی میں نفسیات کا شعبہ نہ تھا، ورنہ میں اپنا علاج تو کروا ہی لیتا!۔
تیسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ چائے بڑی مذیدار بناتا، مذیدار ایسے کہ جیسی آپ چاہیں، نہ کم نہ ذیادہ!۔ اس خصوصیت کا اثر یہ ہوا کہ اس کی کینٹین دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔
اس کی یہ عادات مجھے بڑا چڑاتی بھی تھیں، میرا خیال یہ ہوتا تھا کہ جی گل نواز کو "تعلیم بالغاں" حاصل کرنی چاہیے، اسے کچھ ایسا کرنا چاہیے جس کا وہ اہل ہے۔ اکثر میں اس خواہش کا اظہار کرتا تو وہ ایک ادا بےنیازی سے ٹال دیتا، اور ہمیشہ میں سوچتا رہ جاتا!۔
ایک اور خوبی جو ان صاحب میں کُوٹ کُوٹ کر بھری تھی، اور میں بھی اس کا دلدادہ تھا، وہ تھی خودّاری، کبھی بھی ایسا نہ ہوتا کہ یہ شخص کسی سے بخشش وصول کرتا، جو اکثر کینٹین والوں، بیروں کی عادت ہوتی ہے۔ ان صاحب کا ایک پانچ سالہ فرزند بھی تھا، جو سکول نہیں جاتا تھا۔ سارا دن باپ کے پلو سے بندھا ادھر ادھر مٹر گشت کرتا، باپ ہاسٹل کے کمروں میں چائے پہنچاتا، پیالیاں اٹھاتا اور کینٹین پر چائے بناتا، اور یہ "سٹپڑیں" کے طور پر ایسے اس کے پیچھے چلتا جیسے بندھا ہوا ہو۔
اب یہ بات مجھے اور چڑاتی، کہ بھلے گل نواز نہیں پڑھتا، نہ پڑھے اس مسکین کو تو پڑھائے؟ بھلے وہ سارا دن پیالیوں کا حساب لگائے، اس معصوم کو کیوں اس گرمی میں لتاڑتا ہے؟
تیسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ چائے بڑی مذیدار بناتا، مذیدار ایسے کہ جیسی آپ چاہیں، نہ کم نہ ذیادہ!۔ اس خصوصیت کا اثر یہ ہوا کہ اس کی کینٹین دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔
اس کی یہ عادات مجھے بڑا چڑاتی بھی تھیں، میرا خیال یہ ہوتا تھا کہ جی گل نواز کو "تعلیم بالغاں" حاصل کرنی چاہیے، اسے کچھ ایسا کرنا چاہیے جس کا وہ اہل ہے۔ اکثر میں اس خواہش کا اظہار کرتا تو وہ ایک ادا بےنیازی سے ٹال دیتا، اور ہمیشہ میں سوچتا رہ جاتا!۔
ایک اور خوبی جو ان صاحب میں کُوٹ کُوٹ کر بھری تھی، اور میں بھی اس کا دلدادہ تھا، وہ تھی خودّاری، کبھی بھی ایسا نہ ہوتا کہ یہ شخص کسی سے بخشش وصول کرتا، جو اکثر کینٹین والوں، بیروں کی عادت ہوتی ہے۔ ان صاحب کا ایک پانچ سالہ فرزند بھی تھا، جو سکول نہیں جاتا تھا۔ سارا دن باپ کے پلو سے بندھا ادھر ادھر مٹر گشت کرتا، باپ ہاسٹل کے کمروں میں چائے پہنچاتا، پیالیاں اٹھاتا اور کینٹین پر چائے بناتا، اور یہ "سٹپڑیں" کے طور پر ایسے اس کے پیچھے چلتا جیسے بندھا ہوا ہو۔
اب یہ بات مجھے اور چڑاتی، کہ بھلے گل نواز نہیں پڑھتا، نہ پڑھے اس مسکین کو تو پڑھائے؟ بھلے وہ سارا دن پیالیوں کا حساب لگائے، اس معصوم کو کیوں اس گرمی میں لتاڑتا ہے؟
اس بچے کا کمال یہ تھا کہ یہ باپ کی دوسری تصویر تھا، صبر کسی بچے میں دیکھا تو اس میں، بھاویں آپ اسے کروڑوں کی لالچ دے دیں لیکن کرنی اس نے وہ ہوتی جو اس کا باپ آنکھ کے اشارے سے کہتا۔ میں اکثر اس بات پر شکر ادا کرتا کہ میرے والدین کو اس بچے سے آشنائی نہیں، ورنہ انھوں نے مجھے طعنے دے دے کر مار دینا تھا!۔
اکثر جب ہم یار دوست شام کو چائے کیک سے دل بہلاتے تو گل نواز کی میٹھی گپ شپ اور اس بچے کی معصومیت انوکھا رنگ ڈال دیتی۔ میں نے دو ایک بار ایسی کوشش کی کہ بچے کو فرط محبت و شفقت بسکٹ یا پانچ روپے دے دوں، تو مجھے محسوس ہوا کہ گل نواز نے کچھ ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہو، اور بچہ اپنے باپ کی آنکھ کا اشارہ بھانپتے ہوئے یکسر ہاتھ کھینچ لیتا!۔
اکثر جب ہم یار دوست شام کو چائے کیک سے دل بہلاتے تو گل نواز کی میٹھی گپ شپ اور اس بچے کی معصومیت انوکھا رنگ ڈال دیتی۔ میں نے دو ایک بار ایسی کوشش کی کہ بچے کو فرط محبت و شفقت بسکٹ یا پانچ روپے دے دوں، تو مجھے محسوس ہوا کہ گل نواز نے کچھ ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہو، اور بچہ اپنے باپ کی آنکھ کا اشارہ بھانپتے ہوئے یکسر ہاتھ کھینچ لیتا!۔
مجھے کچھ حیرانگی ہوئی، کہ بھیا تو خودار ہو گا، تو کمال بھی ہے، تیرا بیٹا ہے، تیرے جیسا! ست بسم اللہ مگرایسی کیا افتاد کہ تو اس فرشتے سے ایسا برتاؤ کرے، ایک بار تو میں نے گل نواز سے ان جذبات کا اظہار بھی کر دیا، میرے نتھنے پھُول گئے، سانس پھونکنی کی طرح چلی اور تیوری پر بل چڑھا لیے۔ گل نواز نے مجھے جذبات کے دریا میں بہتے ہوئے، کندھوں سے پکڑ کر باہر نکالا، اور بڑی متانت سے سرائیکی میں بولا "ڈاکٹر جی! اگر آپ آج اسے بسکٹ، کیک اور پانچ رپوں کا عادی بنا لو گے، توکل کویہ گل نواز نہیں بن پائے گا!"۔
یوم مئی مناتے ہوئے لکھی گئی۔
یوم مئی مناتے ہوئے لکھی گئی۔
واقعی اس طرح کے لوگ اب خال خال ہی رہ گئے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںیار باقاعدہ حسد ہونے لگا ہے تم سے
جواب دیںحذف کریںکیا زبردست خاکہ لکھا ہے
مزدور ابن مزدور
اور
دیوث ابن دیوث
کے نظام کا پوسٹ مارٹم کر دیا ہے۔۔۔
کتنے گل نوازوں کی نسلیں اس زہریلے نظام نے ڈس لی ہیں۔۔۔
اور ابھی نجانے کتنی اور ڈسے گا۔۔۔۔
فکر انگیز تحریر ہے اور خوب بھی۔
جواب دیںحذف کریںیہ پرانے وقتوں کی باتیں ہیں اب تو گاہکوں ڈانٹا بھی جاتا ہے
جواب دیںحذف کریںتحریر کی تعریف تو روٹیناً کرنی ہی ہوتی ہے
جواب دیںحذف کریںمزید یہ کہ تبصرہ کرنے کے لئے کچھ نہیں.
پچھلے سال ہی بلے کی ایک تحریر پڑھی تھی جس میں اس نے کچھ اس طرح لکھا تھا کہ اس دنیا کا دستور ہے کہ جو جتنا سخت کام کرتا ہے اسکو اتنی ہی کم بیگار ملتی ہے اور اتنے ہی کم ترقی کے مواقع بھی
منظر نگاری کی داد نہ دینا تو بہت بڑا بخل ہوجائے گا۔ ساتھ ساتھ حقیقی کرداروں کو جس طرح آپ نے الفاظ میں ڈھالا ہے جواب نہیں۔
جواب دیںحذف کریںقصہ کے حوالے سے انسان یہی کہہ سکتا ہے گل نواز جیسے لوگوں نے اس زمین کو بیلنس کیا ہوا ہے ورنہ کبھی کی برباد ہوگئی ہوتی۔
میرا پاکستان::: خال خال، کہہ سکتے ہیں، اگر آپ ڈھونڈیں تو جناب مل ہی جاتے ہیں ایسے لوگ۔ اور بڑے جی دار ہوتے ہیں جی ایسے لوگ۔
جواب دیںحذف کریںجعفر:: حاسد آدمی، مجھے تم سے یہ امید نہ تھی :)))۔
جواب دیںحذف کریںویسے یہ دیوث اابن دیوث کی تشریح فرما دیں، یہ کیا بلا ہے۔ اور یہ اگر تو یہ حسد مثبت ہے تو سو بسم اللہ جی۔
محمد وارث::: جی بہت شکریہ، آمد کا اور پسند کرنے کا بھی، واقعی حوصلہ افزائی ہوئی۔ امید ہے رونق بخشتے رہیں گے۔
جواب دیںحذف کریںافتخار اجمل صاحب::جناب اتنی بھی پرانی بات نہیں ہے یہ، کوئی سال دو پہلے کی بات ہے۔ گلہ بہرحال جائز ہے آپکا۔
ڈفر::: جی شکریہ۔ اور یہ تو ستم ظریفی ہے ناں کہ "اس کو چھٹی نہ ملی، جس نے سبق یاد کیا" اگر تو مزدوروں، کسانوں، دہقانوں اور دوسرے عام لوگوں کی قدر ہونا شروع ہو جائے تو مسئلے تو حل ہو ہی گئے ناں، کیونکہ ملک لیڈروں سے نہیں بلکہ مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں سے ترقی کیا کرتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںڈفر::: جی شکریہ۔ اور یہ تو ستم ظریفی ہے ناں کہ "اس کو چھٹی نہ ملی، جس نے سبق یاد کیا" اگر تو مزدوروں، کسانوں، دہقانوں اور دوسرے عام لوگوں کی قدر ہونا شروع ہو جائے تو مسئلے تو حل ہو ہی گئے ناں، کیونکہ ملک لیڈروں سے نہیں بلکہ مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں سے ترقی کیا کرتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںآپ کا اندازِ تحریر بہت جاندار ہے اچھا لگا پڑھ کر ۔
جواب دیںحذف کریںراشد کامران::: جی بہت بہت شکریہ جناب
جواب دیںحذف کریںشکاری::: جی بہت شکریہ جناب۔ امید ہے رونق بخشتے رہیں گے۔
جواب دیںحذف کریںلیکن مجھے خود سے یہی امید تھی اور ہے۔۔۔۔ :mrgreen:
جواب دیںحذف کریںدیوث ابن دیوث میں ساری اشرافیہ آجاتی ہے کم وبیش
جو خون پسینہ بہا کر اناج پیدا کرے
وہ کمی ہے
اور جو اس کی کمائی پر عیش کرے
وہ نجیب الطرفین اور معزز ہے ؟؟؟
چہ خوب!!
ماشااللہ تحریر میں کافی روانی ہے، ڈان کو پسندآئی۔۔
جواب دیںحذف کریںمنیر عباسی صاحب::: جناب، بہت مہربانی۔ آمد کی اور تحریر پسند کرنے کی۔ صاحب امید ہے، رونق بخشتے رہیں گے جی آپ۔
جواب دیںحذف کریںڈان کو اگر پسند آئی تو اسی خوشی میں ڈان بریڈ کے ستر کارٹن آپکے ہوئے :)۔۔
جعفر::: شکریہ بھیے۔ علم میں اضافہ ہوا۔
جواب دیںحذف کریںخوب ۔۔
جواب دیںحذف کریںہیومن:: جی آپکی اتنے عرصے بعد آمد بھی خوب :)۔۔
جواب دیںحذف کریںmai to Dar hi gya tha k meray barey ma kya likha ja raha hay
جواب دیںحذف کریںیہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںگل نواز: جی بہت شکریہ آمد کا، مگر آپکے بلاگ کی چند تحاریر نے دل کھٹا کر دیا، امید ہے برا نہیں منائیں گے معیاری تجویز کا۔
جواب دیںحذف کریں