داڑھی کس نے تاڑی

ٹھیک ہے میں نے چہرے پر داڑھی سجا لی، مستحسن بات ہے، مجھے مولوی کیوں کہتے ہو؟ میں قاری کیوں کہلاتا ہوں؟ اور راہ چلتے مجھ سے وقت پوچھنے کے بہانے مجھے "صوفی صاحب" کہہ کر کیوں چھیڑتے ہو؟ اساتذہ کرام مجھے کلاس میں متوجہ کرنے کو طنزاً "حاجی صاحب" کیوں پکارتے ہیں؟ اجی میں کچھ ایسا بھی نیک پرہیزگار نہیں ہوں کہ مجھے "مولانا" کہا جائے، لیکن صرف مجھے ہی دوست ایسا کیوں کہتے ہیں؟ جب میں ان "داڑھی منڈھوں" کو نصیحت کرتا ہوں۔ ہاں مجھے پینٹ شرٹ پہننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، میں شلوار قمیص میں پرسکون محسوس کرتا ہوں، تو مجھے لوگ فیشن سے پرے ایک عجوبہ کیوں سمجھتے ہیں؟ میں اسلام آباد کے ٹھنڈے میٹنگ ہالوں میں کیوں ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہوں؟
چلیں مان لیا کہ میرا چلنے کا انداز خالصتاً پینڈو ہے، تو اس سے ایسی کون سی قیامت گر پڑتی ہے کہ مجھے چلتے ہوئے صاحبان گردنیں توڑتوڑ کر دیکھیں؟ چمچ کانٹے سے کھانے کا مجھے تجربہ کم ہے تو کیا میں محفلوں میں بھوکا بیٹھا رہوں یا اپنے ہم نفسوں کی طرح ٹشو پیپر اور کانٹے سنبھالنے کے چکر میں تکہ بوٹی سے محروم ہو جاؤں؟ کھانا کھایے صاحب، آپ کو کیا پڑی ہے کہ کوئی ہری مرچ کیوں کرچ کرچ کر کے کھا رہا ہے؟
صاحبان، میں بڑی سبکی محسوس کرتا ہوں، محفلوں میں صرف اس لیے اظہار خیال نہیں کر پاتا کہ میری رائے سننے سے پہلے ہی مجھ پر "خبطی روحانیت پسند" کا ٹھپا لگ جاتا ہے۔ مجھے بتائیں حضور کہ اگر مجھے ٹائی کی سنگل اور ڈبل ناٹ سے آشنائی نہیں تو اس میں کیا قباحت ہے، امریکے کے جارج، ٹونی، جان کو بھی تو لنگ باندھنے کا سلیقہ نہیں!۔
مجھے پاپے ڈبو ڈبو کر کھانا اچھا لگتا ہے، تو کوئی ایسا ماما کیوں بنتا ہے کہ مجھے تہذیب سکھائے کہ بچے ایسے نہیں ایسے۔
سمجھائیے مجھے، نہ سمجھ سکوں تو پیٹ لیں، جن اساتذہ نے مجھے پیٹا تھا، دل کے اخلاص سے پیٹا ہے اور اچھے وقتوں میں ترس کھانے بغیر میرے "گِٹے سیک" دیے تھے، میرے لیے بڑے قابل احترام ہیں، دل کی اخلاص سے قدر کرتا ہوں۔
نہ صاحب نہ، مجھے ہمدردی نہیں چاہیے، میں نہیں چاہتا کہ یونیورسٹی کے چم چمکتے کمرے کی نرم کرسیوں پر بیٹھ کر اگر کسی کو یہ کہوں کہ "فلانی" (اپنی مرضی کی کوئی بھی ٹھیٹھ گالی لاگو کریں) قسم کا وائرس اپنی سمجھ نہیں آیا، تو مجھے ہمدردی سے نہ دیکھا جائے، نظریں یہ نہ کہیں "ہائے بیچارہ، نالائق، خبطی، اسے تو یہ بھی نہیں معلوم!"۔ بلکہ میں تو چاہتا ہوں کہ سکول کی طرح، ٹاٹ، سخت بینچ پر لاتوں کے بیچ میں سر پھنسا کر میرے سامنے تارے نچوا دیجیے یا انگلیوں میں "سونٹی" پھنسا کر میری روح قبض کر دیں مگر خدارا مجھے سمجھائیں کہ ایسا کیوں ہے؟

تبصرے

  1. احساس کمتری ہے ہمارا۔۔۔
    باؤ ٹائپ لوگ ہی ذہین اور شائستہ لگتے ہیں ہمیں ۔۔۔
    شلوار قمیص والا صوفی اڑ کے بھی دکھا دے تو ہم اسے نہیں مانتے
    اور لالے تو دل چھوٹا نہ کر۔۔۔
    تیری شکل بہت ملتی ہے
    میرے ایک کولیگ عراقی سے۔۔۔
    کسی دن اس کا فوٹو لگاؤں گا۔۔۔
    لگتا ہے بچھڑے ہوئے بھائی ہو۔۔۔
    لاکٹ تو نہیں‌ہے تمہارے پاس جس کو کھولیں تو تصویر لگی ہوتی ہے؟
    اور یاد کرو بچپن میں کوئی کورس گانا تو نہیں گاتے تھے؟؟؟؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. اس دنیا میں جینے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ صرف عقلمند کی بات غور سے سُنیں باقی کسی کی پرواہ نہ کریں ۔ آپ کے لباس یا شکل پر کوئی بات کرے تو اُسے کہیں " میں نے آپ کو اپنی طرف دیکھنے پر مجبور نہیں کیا"۔ ویسے ہماری قوم کی اکثریت احساسِ کمتری میں بُری طرح جکڑی ہوئی ہے اور بظاہر برتری دکھانے کی ناکام کوشش کرتی ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا تو میرے ایک ہم جماعت کو مولوی کہا گیا تو ہم چار پانچ لڑکوں نے شلوار قمیض پہن کر کالج جانا شروع کر دیا تھا اور کچھ ہفتوں بعد واپس پتلون قمیض پر آ گئے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. ارے آپ ان باتوں پر احساس کمتری محسوس کرتے ہیں؟
    ہم تو دل کی بات ماننے والے ہیں۔ فائیو اسٹار میں بھی جائیں تو ویسے ہی کھاتے ہیں جیسا ہمارا دل چاہتا ہے۔ نائٹ سوٹ میں ہی بس میں سوار ہو کر تین کلومیٹر دور دوست سے مل کر آ جاتے ہیں۔ ٹی شرٹ اور شلوار میں ہی بازار سے سودا لے آتے ہیں۔

    احساس برتری احساس کمتری کی بدترین شکل ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. میں لکھنا بھول گیا کہ میں نے داڑھی نہیں رکھی ہوئی تھی اس کے باوجود مجھے کئی ساتھی مولوی اجمل یا مولوی صاحب کہہ کر بُلاتے تھے ۔ میں نے 2004ء کے رمضان میں داڑھی رکھ لی اور اب مجھے کوئی مولوی نہیں کہتا ۔ ہے نا دلچسپ بات

    جواب دیںحذف کریں
  5. اب تو عادت سی ہے مجھ کو ۔۔

    صوفی کہلوانے کی۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. اس کا مطلب ہے کہ آپ کو پتہ ہے کہ آپ میں کیا کیا خرابیاں ہیں مگر آپ پھر بھی ان کی طرف دھیان نہیں دے رہے۔ یہ اچھے آدمیوں کا شیوہ نہیں ہے۔
    ہمارے خیال میں اگر ان سب قباحتوں سے بچنا ہے تو خود کو بدلیے۔ کھانا چھری کانٹے سے کھانا سیکھیے، پینٹ شرٹ ضرور پہنیے اور داڑھی کو بھِی سنوار کر رکھیے۔ کہتے ہیں کھاو من بھاتا اور پہنو جگ بھاتا۔ ویسے بھی اپنے آپ کو وقت کیساتھ ساتھ پرانی وضح قطع بدلنی چاہیے۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ موبائل اسلیے استعمال نہ کریں کہ یہ پہلے نہیں ہوتا تھا۔ اسی طرح اپنی چال کو بھی درست کرنے کی پریکٹس کیجیے۔ لباس بدلنے یا رہن سہن بدلنے سے آدمی کافر نہیں ہو جاتا۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. جعفر:: باقیوں کا تو مجھے نہیں پتہ، دراصل ہم نے اکثر جو "انڈیکیٹر" رکھے ہوئے ہیں ناں جانچنے کے، بڑے غلط ہیں۔ عراقی بھائیوں کو سلام، ہم چھوٹے ہوتے تھے تو دوران جنگ جماعت اسلامی والے ہم سے صدام کے حق میں نعرے لگوایا کرتے تھے۔ ہی ہی ہی شاید اسی وجہ سے عراقیوں سے کوئی مماثلت ہو۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. افتخار اجمل صاحب:: سر، بہت ہی عمدہ کلیہ بتا دیا آپ نے۔ انشاءاللہ ضرور عمل کروں گا۔
    احساس کمتری کو میں نے دیکھا ہے کہ اکثر مذہب سے "نتھی" کیا جاتا ہے، جو انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔
    اور صاحب، مولوی اب گالی بنا دی گئی ہے، حالانکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ مولوی کی وساطت سے ہمیں قران مجید، نماز اور جنازے نکاح کا بھی پتہ ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ مولویوں کو خوب استعمال بھی کیا ہے، لیکن وہ بھی تو ہمارے معاشرے کی ہی کمزوریاں ہیں ناں، نہ کہ غیروں کی خاصیت۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. ابوشامل::: نہ جی نہ، احساس کمتری نہیں ہے، اللہ نہ کرے کہ مجھے کبھی ایسا ہو، صرف افسوس ہوتا ہے۔
    اور افسوس بھی پڑھے لکھوں پر، کیونکہ اس قسم کے احساسات ان میں نہ جانے کیسے ابھرتے ہیں۔
    اب دیکھ لیں، کہ ایسے تعلیمی ادارے جہاں دولت کی فراوانی ہو، مطلب جہاں ڈگریاں خریدی بیچی جاتی ہوں، مطلب سیلف فنانس والے مشٹنڈے، ہم داڑھی والوں سے ایسا سلوک کریں تو افسوس لازمی امر ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. منیر عباسی::: عادت تو مجھے بھی ہے، مگر اتنا لہک لہک کر نہیں ہوئی ابھی :)۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  11. جناب یہ ہے انتہا پسندی کی ایک شکل!! مگر اسے کہتے کیا ہے یہ نہیں معلوم! شاید ماڈرن یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سمجھے!!!!۔

    جواب دیںحذف کریں
  12. میرا پاکستان::: کچھ باتیں کسی حد تک درست ہیں آپ کی۔ بالکل میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ زمانے کے ساتھ چلنا چاہیے، مگر یہ کہاں کا انصاف ہوا کہ آپ کسی کے نقطہ نظر کو صرف اس لیے حقیر جانیں کہ اس نے پینٹ شرٹ نہیں بلکہ شلوار قمیص پہنی ہے۔ یہ تحریر ایک استاد محترم کی وجہ سے میں نے لکھی کہ ان صاحب نے جب بھی میرے نقطہ نظر کو سنا، حقارت سے مولوی کہہ کر ٹکا دیا، حالانکہ اسی نقطہ نظر کو وہ لیکچر میں کئی کئی بار انگریزی تروڑ مروڑ کر بیان کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
    چمچ کانٹے، لباس، کھانا، وغیرہ میں نے عمومی رویوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مثلاً میں ایک مثال دیتا ہوں، کہ مجھے کھڑے ہو کر کھانا کھانے سے سخت کوفت ہوتی ہے، دوسرا جہاں تک میرا مطالعہ ہے ہمارے مذہب اور ہمارے نبی ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا ہے، تو کیا میں صرف اس لیے کھڑے ہو کر کھانا کھاتا رہوں کہ جی زمانے کے ساتھ چلو، نبی کا فرمان،مذہب کا حکم اور میری سہولت سب بھاڑ میں جائے؟، نہ صاحب نہ، ایسا ہم سے نہ ہو گا۔ بھلے میں دنیا کا سب سے باکمال شخص بن جاوں، حضور ﷺ کی پسند کو میں رد نہیں کر سکتا۔
    لباس پر میں نے ڈفر جی کی ایک تحریر کے جواب میں لکھا تھا کہ کیسے میرے لاشعور میں ایک بات بیٹھ گئی کہ لباس کوئی اتنی اہم جز نہیں، سو اس بات سے میں آپکی بالکل متفق ہوں کہ لباس پر توجہ بہرحال دینی ہو گی۔
    اسلام آباد کے میٹنگ ہالوں کی بات میں نے اس واسطے کہی، کہ مجھے ایسا تجربہ ہوا کہ ہائی فائی، اور افسر ٹائپ لوگوں کا رویہ اس وقت دیکھنے والا ہوتا ہے، جب ہم جیسے لوگ ان کو کچھ ایسا مشورہ اور رائے دیں، کہ وہ ایسا برتاؤ کرتے ہیں کہ، "اوئے تجھے کیسے معلوم!" تو یقین جانیں بڑا افسوس ہوتا ہے، کیا سارا علم داڑھی منڈھوانے اور پینٹ شرٹ میں پنہاں ہے۔
    آخری بات، میں کوشش کرتا ہوں کہ سادہ مگر مناسب انداز سے زندگی بسر کی جائے، اگر اسے یہ لوگ اور وقت "آوٹ آف ڈیٹیڈ" سمجھتے ہیں تو سو بسم اللہ۔
    میری کچھ باتوں سے آپکو کچھ اختلاف ضرور ہو گا، لیکن یہ عمومی رویے ہیں ہمارے معاشرے کے۔ جو کسی صورت بھی مثبت نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اگر میں ان باتوں پر چڑتا ہوں تو غلط کرتا ہوں، بےحس (یا ڈھیٹ کہہ لیں) ہو جاؤں، کیا خیال ہے آپکا؟

    جواب دیںحذف کریں
  13. وکیل صاحب::: ماڈرن یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ گیا :)۔

    جواب دیںحذف کریں
  14. ایک مرتبہ ایسے ہی شلوار قمیص میں ہی لیپ ٹاپ لینے پہنچ گئے۔ دکان والے نے زیادہ لفٹ ہی نہ کرائی، ایک دو لیپ ٹاپ کی صرف قیمت بتا دی۔ لیکن اگلی مرتبہ کسی پروگرام سے واپسی پر سوٹڈ بوٹڈ اسی دکان پر پہنچ گئے۔ جناب بڑی آؤ بھگت ہوئی، اس نے بٹھایا۔ شیلف سے لیپ ٹاپ نکال نکال بلکہ چلا چلا کر دکھائے۔ خصوصیات گنوائیں۔
    یعنی کہ یہ ساری آؤ بھگت ہماری نہیں بلکہ ہمارے کپڑوں کی تھی۔
    سندھی ادب کا ایک افسانوی کردار ہے "وتایو فقیر" کا۔ وہ ایک دعوت میں گئے تو لوگوں نے باہر ہی سے دھکے دے کر نکال دیا کیونکہ ان کا حلیہ عام سا تھا۔ وہ واپس گھر گئے اور اچھے سے کپڑے پہن کر دوبارہ اسی دعوت میں آئے۔ خوب آؤ بھگت ہوئی۔ کھانا لگا تو وہ کھانا کھانے کے بجائے لقمے لے لے کر کپڑوں پر لگاتے رہے۔ لوگوں نے کہا حضرت یہ کیا کپڑے خراب کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ "دعوت میری تھوڑی ہے ان کپڑوں کی ہے۔ اس لیے کھانا بھی انہی کو کھانا چاہیے"۔
    ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہو ں کہ بلاشبہ لباس اور وضع قطع کا اثر ضرور ہوتا ہے لیکن صرف لباس کی بنیاد پر کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ذہنی بچکانہ پن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  15. ابوشامل::: دیکھ لیں، کیسے کیسے لوگ ہیں، اب جو لیپ ٹاپ بیچنے والا تھا، وہ یقیناً کم از کم بیچلر ڈگری کا حامل تو ضرور ہو گا، اور اس کا رویہ اینٹ ڈھونڈنے پر مجبور کرتا ہے، اپنا یا اس کا سر پھوڑنے پر۔
    وتایو فقیر، یقیناً فقیر تھا، اور اچھا سمجھایا اس نے زمانے کو۔
    صرف لباس ہی نہیں، یہاں رنگت، نسل، زبان اور اکثر جیسا کہ میں نے کہا داڑھی معیار ہیں جانچنے کے۔ افسوس صد افسوس۔

    جواب دیںحذف کریں
  16. اچھا لکھا ہے
    گاڑی میں مسئلہ ہو گیا ایک دفعہ تو شارٹ، بنیان میں ہی ٹویوٹا کیپیٹل چلا گیا لیکن کسی ۔۔۔ کے ۔۔۔ نے لفٹ نہیں کروائی
    مکینک نہیں ہے ، چیک اپ نہیں ہوتا ہفتہ کو ۔۔۔
    اگلے سے اگلے دن تیار ہو کر دفتر جانے سے پہلے سیدھا وہاں گیا تو شائد چار پانچ گورے کسٹمرز کی موجودگی کی وجہ سے وہی ڈرامہ کرنے کی کوشش کی
    میں نے بھی کھڑے کھڑے ایسی ماں بھین ایک کی کہ منیجر صاحب نے آ کر گٹوں کو ہاتھ لگا دیا میرے
    لیکن میں نے بھی دل کی کھولن نکالی آفٹر سیل سروس کی اتنی تعریف کی کہ گورے ان کے ریپریزینٹیٹو کو چھوڑ مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیسی سروس ہے
    اور گوروں کو میں نے جھنڈی کروا دی
    یہ کچھ میٹرو پر ہوا
    میں نے بیلٹ پر سامان رکھا اور کاونٹر پرکھڑے صاحب نے میرے پیچھے کھڑے گورے کو بلانے کی غلطی کر لی
    اس ۔۔۔ کے ۔۔۔ کی تو وہ کلاس لی میں نے کہ کسی گورے کو پروٹوکول دینے کی آئندہ کوشش نہیں کرے گا
    باہر کہیں جاو تو وہ لوگ اپنے شہیوں کو سبقت دیتے ہیں اور ایک ہم کتی قوم کے باشندے اپنوں کو ۔۔۔ لگا کر رکھتے ہیں لیکن گوروں کو سر چڑھائے رکھتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  17. جاوید گوندل صاحب::: سمجھ تو نہیں تبصرے کی بہرحال، شکریہ۔
    ڈفر::: کچھ عرصہ پہلے ایک آپ بیتی پڑھی تھی، ایک برطانوی شہری تھا، جو مسلمان ہو گیا تھا، اس نے اپنی آپبیتی تحریر کی تھی، جس میں اس نے وہ عوامل بیان کیے تھے کہ جنھوں نے اسے مسلمان ہونے پر مجبور کیا، اور پھر اس کے مشاہدات تھے۔
    اس آپ بیتی میں ان صاحب نے بغیر کسی لگی لپٹی کے لکھا تھا، مجھے افریقی لوگ جو مسلمان ہوئے ہیں میرے ساتھ، یا جن کی رنگت کالی ہے، پر فوقیت دی جاتی ہے، یا اس لیے فوقیت دی جاتی ہے کہ میں ایک برطانوی شہری ہوں، مجھے بڑا افسوس ہے کہ مسلمانوں میں یہ عادات بڑی ہی بری ہیں۔ حقیقت بیان کی تھی، اسی لیے بڑی کڑوی ہے۔
    میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی ہے کہ ایسے موقعے پر میں کھری کھری سنانے کی اہلیت نہیں رکھتا :(۔

    جواب دیںحذف کریں
  18. جاوید گوندل صاحب::: سمجھ تو نہیں تبصرے کی بہرحال، شکریہ۔


    میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ بالآخر سیاست میں جائینگے۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب