گھوم چرخیا گھوم
سوموار پھر منہ چڑا رہا ہے۔ اٹھو اور کولہو کے بیل بن جاؤ۔ ایسے جُٹ جاؤ مادہ سمیٹنے میں کہ جیسے تمھارے اور مادے کی بھوک میں دوڑ ہو۔ دیکھو مادے کی بھوک جیتنے نہ پائے، مادہ ہاتھ سے نکل گیا تو صاحبو، ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔
نہ جی نہ، یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ مجھے ۷۰ فیصد سے زیادہ نمبر لینے ہوں گے، ورنہ ملٹی نیشنل کمپنیاں تو منہ بھی نہیں لگاتی کسی کو!۔
ارے چھوڑو بھی، کیا رکھا ہے نمبروں میں؟ اتنے نمبر گویا گدھے پر لادا بوجھ، اور پھر وہ کمپنیوں کی نوکریاں، جیسے خرید لیا ہو، ہونہہ!۔ کوشش کروں گا کہ دو ایک دن میں چچا کے ہمراہ منسٹر صاحب سے مل لوں، کیا رکھا ہے پڑھائی میں ، بس اس پھٹیچر یونیورسٹی سے چھوٹنے تو دے پیارے! بس دعا کر سال ڈیرھ یہ حکومت اور چل جائے۔ نوکری تو سفارش پر ہی ملنی ہے ناں!۔
دفع کریں صاحب، نہ ہمیں کچھ سفارش سے لینا دینا، نہ ہی ۷۰ فیصدوں سے، بس کسی طرح وہ ایمبیسی والوں کو بیس بائیس لاکھ کا بیلنس دکھانا ہے اور کیا، کینیڈا میں ڈالر کماؤ، کیا رکھا ہے یہاں؟ زندگیاں پندرہ بیس ہزار کی نوکریوں پر تھوڑی بسر ہوتی ہیں؟
شاباش بھائیو! اٹھو اور جُٹ جاؤ، کہیں کچھ ہاتھ سے جانے نہ پائے!۔
وہ سی اینڈ ڈبلیو میں میرا واقف ہے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، بس ایسا ہو گا کہ چھ پرسنٹ اس کو اور تقریباً ساڑھے چار فیصد یہ کلرکوں اور آڈت والوں کو دینا ہے، ٹھیکہ کیا ہے؟ روزی روٹی کا بندوبست ہو جائے گا اور کیا؟
بہت ہی اعلٰی دوستو، کوشش کرو کہ کہیں سے وہ پچھلے ٹھیکے کا منافع تو برابر ہو، جو اضافی رشوت دینے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا تھا!۔
غریبوں نے روزے رکھے تو دن ہی لمبے ہو گئے، چھوڑو جی، کیا رکھا ہے۔ ہماری باری آئی تو سرکاری نوکریوں پر ہی پابندی لگ گئی۔
اوہ بے وقوف آدمی سرکاری نوکریوں میں کیا رکھا ہے؟
یہ ہی تو میں بھی کہہ رہا ہوں ناں! سرکاری نوکریوں میں تو کچھ بھی نہیں، سارا کمال تو یہ ہے کہ کچھ بھی مت کرو، کاروبار کرو اپنا ساتھ میں، وہ "سائیڈ بزنس"!۔
کسی نے روکا تھوڑے ہی ہے تمھیں۔ حاضری ہی تو لگانی ہوتی ہے صبح صبح، دس بجے کے آس پاس!۔
رینگنے والے کیڑے نما انسانوں کی فکر بالکل بھی مت کرو بھائیو، یہ تو ہیں ہی ۔۔۔۔، ہر وقت کا چخ چخ کرتے رہتے ہیں!۔
چرخا گھوم رہا ہے دوستو! اٹھاؤ اپنا بوریا بستر اور لیٹ جاؤ اس گھومتے چرخے کے عین نیچے۔ تمھاری ہوس، لالچ، فریب اور انا کو تسکین دینے کے لیے لازم ہے کہ یہ گھومتا چرخا تمھیں کچل دے!۔
نہ جی نہ، یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ مجھے ۷۰ فیصد سے زیادہ نمبر لینے ہوں گے، ورنہ ملٹی نیشنل کمپنیاں تو منہ بھی نہیں لگاتی کسی کو!۔
ارے چھوڑو بھی، کیا رکھا ہے نمبروں میں؟ اتنے نمبر گویا گدھے پر لادا بوجھ، اور پھر وہ کمپنیوں کی نوکریاں، جیسے خرید لیا ہو، ہونہہ!۔ کوشش کروں گا کہ دو ایک دن میں چچا کے ہمراہ منسٹر صاحب سے مل لوں، کیا رکھا ہے پڑھائی میں ، بس اس پھٹیچر یونیورسٹی سے چھوٹنے تو دے پیارے! بس دعا کر سال ڈیرھ یہ حکومت اور چل جائے۔ نوکری تو سفارش پر ہی ملنی ہے ناں!۔
دفع کریں صاحب، نہ ہمیں کچھ سفارش سے لینا دینا، نہ ہی ۷۰ فیصدوں سے، بس کسی طرح وہ ایمبیسی والوں کو بیس بائیس لاکھ کا بیلنس دکھانا ہے اور کیا، کینیڈا میں ڈالر کماؤ، کیا رکھا ہے یہاں؟ زندگیاں پندرہ بیس ہزار کی نوکریوں پر تھوڑی بسر ہوتی ہیں؟
شاباش بھائیو! اٹھو اور جُٹ جاؤ، کہیں کچھ ہاتھ سے جانے نہ پائے!۔
وہ سی اینڈ ڈبلیو میں میرا واقف ہے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، بس ایسا ہو گا کہ چھ پرسنٹ اس کو اور تقریباً ساڑھے چار فیصد یہ کلرکوں اور آڈت والوں کو دینا ہے، ٹھیکہ کیا ہے؟ روزی روٹی کا بندوبست ہو جائے گا اور کیا؟
بہت ہی اعلٰی دوستو، کوشش کرو کہ کہیں سے وہ پچھلے ٹھیکے کا منافع تو برابر ہو، جو اضافی رشوت دینے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا تھا!۔
غریبوں نے روزے رکھے تو دن ہی لمبے ہو گئے، چھوڑو جی، کیا رکھا ہے۔ ہماری باری آئی تو سرکاری نوکریوں پر ہی پابندی لگ گئی۔
اوہ بے وقوف آدمی سرکاری نوکریوں میں کیا رکھا ہے؟
یہ ہی تو میں بھی کہہ رہا ہوں ناں! سرکاری نوکریوں میں تو کچھ بھی نہیں، سارا کمال تو یہ ہے کہ کچھ بھی مت کرو، کاروبار کرو اپنا ساتھ میں، وہ "سائیڈ بزنس"!۔
کسی نے روکا تھوڑے ہی ہے تمھیں۔ حاضری ہی تو لگانی ہوتی ہے صبح صبح، دس بجے کے آس پاس!۔
رینگنے والے کیڑے نما انسانوں کی فکر بالکل بھی مت کرو بھائیو، یہ تو ہیں ہی ۔۔۔۔، ہر وقت کا چخ چخ کرتے رہتے ہیں!۔
چرخا گھوم رہا ہے دوستو! اٹھاؤ اپنا بوریا بستر اور لیٹ جاؤ اس گھومتے چرخے کے عین نیچے۔ تمھاری ہوس، لالچ، فریب اور انا کو تسکین دینے کے لیے لازم ہے کہ یہ گھومتا چرخا تمھیں کچل دے!۔
آپ نے جو کہا سب ٹھیک ہے مگر یاد رکھیں جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے اسے نمبروں یا گریڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ بس لگے رہیں اور اچھے گریڈز کیساتھ گریجوایٹ ہوں کامیابی آپ کے پاوں چومے گی۔
جواب دیںحذف کریںحضور پڑھائی اور عمل میں نمبر تو اولہی ہونا چاہیئے ۔ اس کے ساتھ اخلاق بھی اول درجہ ہونا چاہیئے ۔ پھر اللہ پر یقین کریں کوشش خود کریں اور مانگیں اللہ سے ۔ سب کچھ ملے گا ۔ اچھی ملازمت ۔ اچھی بیوی ۔ اچھے دوست ۔ یعنی اچھی زندگی ۔ زندگی میں جو بھی مشکل آئے گی آپ کے تجربہ میں اچھا اضافہ کرے گی
جواب دیںحذف کریںنا یار
جواب دیںحذف کریںہوتا بے شک یہی ہے لیکن
میرا تجربہ کہتا ہے
یہ باتیں کرنے والے باتیں کرتے ہی رہ جاتے ہیں
اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی کسی کام کا نہیں چھوڑتے
اور ہمارے جیسوں کو کولہو کا بیل بننا ہی پڑتا ہے
بننا چاہئے بھی
سکون و اطمنان چاہئے کہ نہیں؟
میں ڈفر کی بات سے اختلاف کرتا ہوں،
جواب دیںحذف کریںشائد محنت میں کچھ ہو، مگر محنت کو بھی ٓج کل ان سب چیزوں کا تڑکا چاہئے۔
یہ سب نہیں تو پھر بی اے بی ایس سی کر کے ٹیوژن پڑھانا ہی رہ جاتا ہے۔۔
کچھ عرصہ قبل ایک زبردست قسم کی تقریر دیکھی تھی۔ آپ کی تحریر پڑھ کر وہ یاد آ گئی۔
جواب دیںحذف کریںhttp://jingoist.pk/blog/2009/04/12/just-another-inspirational-speech/
اگر کوئی ویڈیو میں دکھائے جانے والے اس شخص کو نہ جانتا ہو تو وہ اس کا تعارف یہاں پر پڑھ سکتا ہے:
http://en.wikipedia.org/wiki/Steve_Jobs
میری بات فقط میرا تجربہ ہے یا آپ بیتی
جواب دیںحذف کریںاس سے کوئی بھی اختلاف کر سکتا ہے لیکن میں نہیں
میرے لئے یہ کسی بھی سنی سنائی بات سے زیادہ معتبر ہے
سفارشی ، رشوتی وقتی طور پر تو حق مار سکتے ہیں
جواب دیںحذف کریںکسی کا ٹیلنٹ نہیںمارسکتے
شرط صرف یہ ہے کہ بندہ اپنی ہمت کو گولی نہ ماردے
بندہ محنت کرنے کو اپنا مقصد بنالے تو پیسہ تو ملے گا ہی کہ محنت کا الٹی میٹ رزلٹ ہے
عزت بھی ملے گی۔۔۔۔
جو حق مارنے والوں کو کبھی نہیں ملتی
میرا پاکستان::: حضور میں گریجویٹ ہو چکا ہوں۔ یہ باتیں یونیورسٹی کے بعد اب عملی ذندگی میں بھی سننی پڑ رہی ہیں۔ یقین جانیں نہ چاہتے ہوئے بھی سننی پڑتی ہیں، اب میں کسی کو کیسے سمجھاؤں کہ بھیا، جو کرنا ہے کرو، ہمیں سنانے کی کیا ضرورت ہے۔
جواب دیںحذف کریںافتخار اجمل بھوپال صاحب::: ہمیشہ کی طرح بہت ہی خوب، نہایت بہترین اور معتدل بات کہہ دی آپ صاحب نے۔
جواب دیںحذف کریںسب ہی لاجواب، مگر آخری بات تو واقعی بہت معنی خیز ہے۔
ڈفر جی اور ڈاکٹر منیر عباسی صاب::: سر جی، ابھی تک میں لوگوں کی باتیں سن رہا ہوں، ابھی مجھے تجربہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا کیا ہوتا ہے اور اگر کوئی انتہائی محنتی ہو، اس کا کیا ہوتا ہے۔ ہاں میرا یہ یقین ضرور ہے کہ محنت بلاشبہ انسان کو عظمت بخشتی ہے، اسی کلیے پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔ لیکن انسان ہے، کبھی کبھی سوچ آدمی کو بہکا بھی دیتی ہے۔
جواب دیںحذف کریںعباسی صاحب، آپ کی بات درست بھی ہے کسی حد تک، لیکن میری ذاتی رائے میں، یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں کہ اگر ساری دنیا غلط کر رہی ہو تو آپ کو بھی غلط کرنے کا حق مل جاتا ہے، جی یہ تو اپنی اپنی سوچ کی بات ہے۔ صرف یہ ضرور ہوا ہے کہ انتہائی افسوس ہے کہ ہمارے ہاں ان باتوں کو اہمیت بھی حاصل ہے، اور روز بروز ایسا لگتا ہے کہ بڑھ رہی ہے۔
باقی نام اللہ کا
محمد سعد::: بلاگ پر خوش آمدید جناب، امید ہے تشریف لاتے رہیں گے۔ ویکیپیڈیا والاآرٹیکل تو پڑھ لیا، بڑا ہی دلچسپ شخص معلوم ہوتا ہے یہ جناب، ہاں وہ تقریر جیسے ہی مجھے کوئی تیز انٹرنیٹ کنیکشن میسر آتا ہے، دیکھتا ہوں۔
جواب دیںحذف کریںجعفر::: بات سولہ آنے ٹھیک ہے بھیے تیری، میں بالکل متفق ہوں، لیکن مجھے یہ تو بتاؤ کہ ایک مزدور جو بہت ہی زیادہ محنت کرتا ہے، پتھر کوٹتا ہے اور وہ سٹیل مل والا مزدور تو یار اپنی جوانی تباہ کر دیتا ہے بھٹیوں کے سامنے، ان کو کیا ملتا ہے ایسی محنت کا۔
اچھا چھوڑو انھیں، یہ بتاؤ کہ میرے کئی دوست ہیں، سترہ سالہ تعلیم مکمل کر کے پنڈی کی سیٹھ کی دوائیوں کی کمپنیوں میں سات ہزار کی نوکریاں کس کھاتے میں کر رہے ہیں وہ۔
گولی مارو یار اسے بھی کہ یہ تو بات ہی کچھ اور ہے کہ تازے تازے فارغ ہوئے ہیں یونیورسٹیوں سے۔
ہمت کو گولی مارنا تو واقعی بڑا ظلم ہے، لیکن جی میں تو کہتا ہوں کہ ایک سیٹھ جس کی اپنی تعلیم چاہے پرائمری بھی نہ ہو، جب یہ طے کرے کہ ماسٹر لیول کا پروفیشنل جس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہے، اس یونیورسٹی کا سٹینڈرڈ کیا ہے، تو جناب بھائی جعفر صاحب، یہ قطعاً ظلم نہ ہو گا کہ اس شخص کو گولی مار دی جائے۔ (حیران نہ ہونا، تقریر کرنے کا مجھے بھی شوق ہے)۔ ہاہاہاہا
میری رائے میں تو یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ بندہ تعلیم کے بعد لازماً کسی کی نوکری ہی کرے۔
جواب دیںحذف کریںرزق کمانے کے اور بھی کئی حلال طریقے ہیں جن میں سے بہت سے روایتی طریقوں سے کافی بہتر ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ تھوڑی محنت لگتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ "آم لوگ" اے سی والے دفتر میں بیٹھ کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں چاہے اس کے لیے اپنی آزادی اور خود مختاری پر ہی سمجھوتہ کرنا پڑے۔
گل ود گئی اے۔۔
جواب دیںحذف کریںجان برادر۔۔۔ ایک اصول کی بات کی تھی میں نے ۔۔۔ جیسے ہر مشین کو چلانے کے چند اصول ہیں، ویسے ہی دنیا کو چلانے کے بھی ہیں۔
جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو ہم اسی لئے ذلیل و خوار ہورہے ہیں کہ ہم نے دنیا اور دین دونوں کے اصولوں کو اپنی سہولت کے لئے توڑ مروڑ دیا ہے۔
اگر کوئی مزدور جاپان میں سٹیل مل میں کام کرتا ہے تو وہ ہمارے چھوٹے موٹے سیٹھ جتنا کمالیتا ہے۔ یہی حال یورپ اور امریکہ کا بھی ہے۔
جب بھی مشین طریقہ استعمال کے برخلاف استعمال کی جائے گی،
محمد سعد: بالکل متفق ہوں، اے سی والے کمروں میں اگر انصاف ہو رہا ہوتا تو شاید یہ نوبت ہی نہ آتی۔
جواب دیںحذف کریںجعفر:: بھائی جی گل ود نی گئی، گل مک گئی آ۔
مجھے انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ پڑھائی کر کے کیا پا لیا ہم نے۔ میرے خیال میں تو یہ سوچ کا قصور ہے۔ ہمارے ہاں ڈاکٹر کوئی مسیحا کا تصور نہیں بلکہ نوٹ چھاپنے کی مشین۔ بس یہیں سے تباہی ہے، بچے کو پڑھایا اس لیے جاتا ہے کہ دنیا کمائے نہ کہ دنیا میں بہتری لائے۔
عُمر بھائ سب سے پہلے تو يہ کہ آپ کے بلاگ پر کيسے لِکھيں اور دُوسری بات جو سب سے اہم ہے ميرے بھائ کہ دُنيا کا کام ہے باتيں کرنا کہ يہ سب سے آسان کام ہے مشورے دينا اُس سے بھی آسان ہے(ويسے اِس وقت کر تو ميں بھی يہی رہی ہُوں)ہِمّت مضبُوط رکھو اور يقين رکھو مِحنت کبھی رائيگاں نہيں جاتی کبھی کبھار دير تو ہو جاتی ہے ليکِن ياد رکھيں ہم تقدير کو تدبير سے بدل سکتے ہيں فِکر نا کريں اِنشاء اللہ سب اچھا ہوگا
جواب دیںحذف کریں(اور ہاں يہ جو آپ کے بلاگ پر سب کی نئ پوسٹس کا پتہ چل جاتا ہے يہ مُجھے کيسے مِل سکتا ہے)کِتنی مُختلِف النوع باتيں پُوچھ ليں نا ايک ہی دفعہ ميں
شاہدہ آپی، بہت خوشی ہوئی کافی عرصہ بعد اپنے بلاگ پر آپ کو دیکھ کر۔
جواب دیںحذف کریںبلاگ پر لکھنے کی بات سمجھ نہیں آئی، کیا آپ کی مراد تبصرہ کرنے سے ہے یا کیا؟
دوسری بات پر آمین، اور صرف دل کا بوجھ ہلکا کرنے کو لکھ دی تھی کہ میں لوگوں کی بڑی بڑی باتیں سن کر بہت تنگ آگیا تھا، مغرور رویوں سے سخت نالاں ہو گیا تھا۔
جی، یہ تو بلاگ سپاٹ پر نہایت آسانی سے نصب ہو جاتا ہے، چونکہ آپکا بلاگ ورڈ پریس پر ہے تو شاید کوئی پلگ ان ہو گا، ورڈ پریس والے عبدالقدوس بھائی بھی کافی عرصہ سے غائب ہیں۔ دیکھیں تلاش کرتا ہوں کچھ