چوٹی پرت
بڑا عرصہ پہلے ہمارے یہاں جب لوگ اپنے علاقے سے باہر جانا پسند نہیں کیا کرتے تھے یا شاید باہر نکلنا اتنا آسان نہیں ہوا کرتا تھا۔ چونکہ یہ پہاڑی علاقہ تھا اور پہاڑوں کو سر کر کے دوسری جانب کا حال معلوم کرنا تھوڑا نہیں کافی مشکل تھا۔ ایسے کام دو ہی لوگ کیا کرتے، ایک تو وہ جو مقدمہ بازی کرتے اور پھر پیدل یا کسی جانور پر سواری کر کے پشاور عدالت میں حاضر ہوتے یا پھر مفرور جو قتل، ڈکیتی یا کوئی اور جرم کر کے بھاگنے میں عافیت جانتے۔ کہنے کو دونوں ہی کام بس شر کے تھے۔ مانسہرہ میں لوگ جو علاقے سےاس طرح باہر جاتے انھیں کہتے تھے "چوٹی پرت"۔
جیسا کہ بیان کیا گیا کہ ایسا کام کوئی راضی رضا کرتا نہیں تھا، یا تو مقدمہ بازی کا شر یا پھر مفروری تو یہ ایک بدنام زمانہ "ٹرم" بن گئی ہندکو زبان میں!۔
اب کہ جب بھی کوئی جھوٹ بولے، کوئی واردات کرے یا پھر چوری چکاری، کسی کو دھوکہ دے یا شر پھیلائے، بڑے بوڑھے جھٹ سے کہتے، "چوٹی پرت ہے یہ تو!!"۔
پھر زمانہ بدلا اور چوٹی پرت صرف چور چکاروں کو نہیں بلکہ ان کو بھی کہا جانے لگا جو لوگوں کو بدی پر اکساتے، حق تلفی کرتے یا پھر کچھ بھی برا، اب تو یہ بالکل ہی عام سی بات ہے کہ آپ کسی کو چوٹی پرت کہہ دیں۔ بعض دفعہ تو تعریفی کلمات کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں یہ الفاظ۔
اس سے مجھے کچھ خاص حیرت نہیں ہوئی۔ دراصل ہمارے ہاں اب رواج سا بن گیا ہے کہ برائی کر کے اس پر اتراتے بھی ہیں لوگ، اور پھر لائق تحسین بھی سمجھتے ہیں اپنے آپ کو، چوٹی پرت کہیں کے!!!۔
بس صاحبان، چوٹی پرتوں کی تو عید ہے اب، میرا تو نیک مشورہ ہے تمام دوستوں کو، بچوں کو تعلیم دیں، اور ساتھ میں چوٹی پرتنے کی تھوڑی آگاہی بھی ورنہ ساری محنت ضائع جانی ہے، ابھی سے بتائے دیتا ہوں۔
نمونے کے طور پر یہ ملاحظہ کریں:۔
یہاں یونیورسٹی میں ایک ڈیپارٹمنٹ میں بی ایس سی لڑکے کو اٹھارہ گریڈ میں لیکچرر بھرتی کیا گیا، بھرتی تو کافی سارے ہوئے ہیں، یہ ایک نمونہ ہے۔
میں نے پوچھا کہ صاحب، جب آپ بھرتی ہوئے تو کمیشن میں کون کون لوگ تھے بھلا، اور نہ جانے آپ کہاں تھے ورنہ تو فائنل انٹرویو میں میرے سمیت کل ملا کر تین بندے تھے، جنھیں میں اس واسطے بھی پہچانتا ہوں کہ دو تین بار ایسا ہوا کہ ہم فائنل انٹرویو دینے ساتھ پہنچے ہیں۔ کبھی ایک، کبھی دو اور کبھی ہم تینوں۔
صاحب بہادر نے کندھے مٹکائے اور بولے، "پتہ نہیں، میں نے تو انٹرویو نہیں دیا، مجھے تو بس کال آئی کہ یکم سے آکر کام شروع کرو!"۔
میں نے اشتیاق سے پوچھا کہ "بھائی ایسا کیا گُر ہے تیرے پاس!"۔
توشان سے بولے، "جناب میرے انکل اس یونیورسٹی کے پرووسٹ ہیں"۔
میں بے ساختہ بولا" چوٹی پرت"۔ جناب کے گھورنے پر تھوڑی ترمیم کر دی کہ، "چوٹی پرت لوگ ہیں یار اس یونیورسٹی میں!"۔
جیسا کہ بیان کیا گیا کہ ایسا کام کوئی راضی رضا کرتا نہیں تھا، یا تو مقدمہ بازی کا شر یا پھر مفروری تو یہ ایک بدنام زمانہ "ٹرم" بن گئی ہندکو زبان میں!۔
اب کہ جب بھی کوئی جھوٹ بولے، کوئی واردات کرے یا پھر چوری چکاری، کسی کو دھوکہ دے یا شر پھیلائے، بڑے بوڑھے جھٹ سے کہتے، "چوٹی پرت ہے یہ تو!!"۔
پھر زمانہ بدلا اور چوٹی پرت صرف چور چکاروں کو نہیں بلکہ ان کو بھی کہا جانے لگا جو لوگوں کو بدی پر اکساتے، حق تلفی کرتے یا پھر کچھ بھی برا، اب تو یہ بالکل ہی عام سی بات ہے کہ آپ کسی کو چوٹی پرت کہہ دیں۔ بعض دفعہ تو تعریفی کلمات کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں یہ الفاظ۔
اس سے مجھے کچھ خاص حیرت نہیں ہوئی۔ دراصل ہمارے ہاں اب رواج سا بن گیا ہے کہ برائی کر کے اس پر اتراتے بھی ہیں لوگ، اور پھر لائق تحسین بھی سمجھتے ہیں اپنے آپ کو، چوٹی پرت کہیں کے!!!۔
بس صاحبان، چوٹی پرتوں کی تو عید ہے اب، میرا تو نیک مشورہ ہے تمام دوستوں کو، بچوں کو تعلیم دیں، اور ساتھ میں چوٹی پرتنے کی تھوڑی آگاہی بھی ورنہ ساری محنت ضائع جانی ہے، ابھی سے بتائے دیتا ہوں۔
نمونے کے طور پر یہ ملاحظہ کریں:۔
یہاں یونیورسٹی میں ایک ڈیپارٹمنٹ میں بی ایس سی لڑکے کو اٹھارہ گریڈ میں لیکچرر بھرتی کیا گیا، بھرتی تو کافی سارے ہوئے ہیں، یہ ایک نمونہ ہے۔
میں نے پوچھا کہ صاحب، جب آپ بھرتی ہوئے تو کمیشن میں کون کون لوگ تھے بھلا، اور نہ جانے آپ کہاں تھے ورنہ تو فائنل انٹرویو میں میرے سمیت کل ملا کر تین بندے تھے، جنھیں میں اس واسطے بھی پہچانتا ہوں کہ دو تین بار ایسا ہوا کہ ہم فائنل انٹرویو دینے ساتھ پہنچے ہیں۔ کبھی ایک، کبھی دو اور کبھی ہم تینوں۔
صاحب بہادر نے کندھے مٹکائے اور بولے، "پتہ نہیں، میں نے تو انٹرویو نہیں دیا، مجھے تو بس کال آئی کہ یکم سے آکر کام شروع کرو!"۔
میں نے اشتیاق سے پوچھا کہ "بھائی ایسا کیا گُر ہے تیرے پاس!"۔
توشان سے بولے، "جناب میرے انکل اس یونیورسٹی کے پرووسٹ ہیں"۔
میں بے ساختہ بولا" چوٹی پرت"۔ جناب کے گھورنے پر تھوڑی ترمیم کر دی کہ، "چوٹی پرت لوگ ہیں یار اس یونیورسٹی میں!"۔
ہمارے ایک رشتہ دار ہیں۔ رہتے تو کراچی میں ہیں لیکن خالص دیہاتی پس منظر کے حامل ہیں اور ماشآ اللہ سے پڑھے لکھے بھی نہیں :) ان کے ہاں بیٹا ہوا، بڑی محبت کرتے تھے اس سے۔ کسی نے پوچھا کہ بیٹے کو بڑا ہو کر کیا بناؤ گے؟ انہوں نے ایسا شاندار جواب دیا کہ آج تک کسی نے ان سے دوبارہ یہ سوال نہیں کیا۔ جھٹ سے بولے ڈاکو بنے گا اور کیا؟ بہادروں کا بچہ ہے۔
جواب دیںحذف کریںباقی رہی اقرباء پروری اور سفارش والی بات تو کبھی ہم نے بھی اس پر کچھ لکھا تھا۔ فرصت ہو تو ملاحظہ کیجیے گا:
http://www.abushamil.com/cm-statement/
میرے پرانے زخم ہرے کردئیے ہیں یار تونے۔۔۔
جواب دیںحذف کریںخاور کھوکھر کی طرح میرا بھی ان کی ۔۔۔۔۔ ایک کرنے کو دل کررہا ہے۔۔۔
لیکن میں ذرا بزدل سا بندہ ہوں ۔۔۔
چودہ سال اندر نہیں گزار سکتا۔۔۔
اور ہاں لالے۔۔۔ یہ جو تیرے بلاگ پر تبصرے کے آغاز میں لکھا ہوتا ہے نا کہ
”جعفر فرماتے ہیں“
مزا آجاتا ہے پڑھ کے ۔۔۔ ورنہ تو آج تک سب یہی کہتے رہے ہیں کہ
”بکواس بند کر اوئے“
اسکا مطلب ہے آج کل تو بہت اعلیٰ درجے کے چوٹی پرت بھی ہیں
جواب دیںحذف کریںیہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںیار یہ ہمارے اٹامک انرجی کے خودمختار پبلک ادارے بھی بندے شندے رکھتے ہیں
جواب دیںحذف کریںمیں نے یہاں ایک دفعہ ٹیسٹ دیا اور میری پہلی پوزیشن تھی
انٹرویو کی کال آئی تو میں کراچی جا چکا تھا۔
اپنی آدھی تنخواہ خرچ کر کے آیا تو سالے ۔۔۔ نے انٹرویو کیا لینا تھا شائد اپنی دھی کے واسطے خصم ڈھونڈ رہے تھے
میری تو شکل دیکھ کر ہی واپس کر دیا
ورنہ میں اس پوزیشن کے لئے فلی کوالیفائد تھا
اس کے بعد تو سرکاری نوکریوں کو جوتے کی نوک پہ رکھتا ہوں
سرکار اور مولویوں سے میری نفرت کی وجہ اس پینل میں شامل فٹ فٹ داڑھیوں والے نیک و پارسا لوگوں کی اکثریت ہی تھی
ابو شامل:::ہر طرف یہی واویلا ہے صاحب، میں تو اتنا تنگ آگیا ہو کہ بس، کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ میرا وہ دوست جس نے دسویں کے بعد کاروبار شروع کیا تھا، اب پیٹھ پیچھے ہنستا ہے۔
جواب دیںحذف کریںاور آپ کی تحریر میں جس شخص کا ذکر ہے، قسم چکا لیں یہ رحمٰن ملک بھی ویسا ہی دکھتا ہے۔ ہاہاہاہا
جعفر::: بس بھائی جی، آپ تو نکل کھڑے ہوئے عربوں کے دیس، ہم کیا کریں جو یہاں کڑھتے رہتے ہیں؟
جواب دیںحذف کریںتفصیل سے بتائیں مجھے زرا۔۔۔۔۔۔ سچ میں بہت تنگ آگیا ہوں۔
یہ تو آپ نے وہ جاوید چودھری والی بات کر دی کہ ، مجھے شرم سے آشنائی اس وقت ہوئی، جب میں ایک قمیص اور بغیر شلوار کے گھومتا تھا اور پھر جب ناک صاف کرنے کو قمیص اٹھاتا تو آس پاس والے کہتے، شرم کر او بے غیرتا۔
کامی:: دیکھ لیں، اچھی خاصی منڈی لگی ہوئی ہے۔
ڈفر:::: کیا واقعی، کیا بنے گا، مجھے تو سمجھ ہی نہیں آتی، اتنی حساس جگہ پر بھی، اف میرے خدا۔
جواب دیںحذف کریںیونیورسٹی میں ایک بار آئے تھے، فیڈرل کمیشن کے سربراہ، اچھی خاصی داڑھی تھی، یقین کریں یونیورسٹی کے لونڈوں نے وہ درگت بنائی تھی، سوال وجواب کے سیشن میں کہ نہ پوچھیں۔
شاید میرے عربوں کے دیس میں آنے کا احوال پوچھنا چاہتے ہیں ۔۔۔
جواب دیںحذف کریںتو احوال یہ ہے میرے بھائی ۔۔ دو رستے تھے میرے سامنے، ایک آسان، ایک مشکل
آسان والا یہ تھا کہ چار پانچ بندے مار دیتا اور پھر پھانسی چڑھا جاتا اور اپنے پیچھے سب کو برباد کرجاتا، مشکل یہ والا تھا کہ نیواں نیواں ہوکے کہیں نکل جاتا اور وقت کا انتظار کرتا
اللہ جی کی بڑی رحمت اور مہربانی تھی مجھ پر کہ دوسرا رستہ چنوا دیا مجھ کو۔۔۔
اب عمر قید ضرور ہے لیکن یہ بھی اطمینان ہے کہ باقی سارے مطمئن اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں
میرا مفت مشورہ ہے سب کو۔۔۔ اگر آپ کے پاس اپنا گھر ہے، روکھی سوکھی روٹی کا آسرا بھی ہے، تو خداکے لئے اپنا گھر نہ چھوڑو، پنجابی میں کہتے ہیں کہ ”راہ پیا جانے یا وا پیا جانے“۔ زندگی کرنا ویسے ہی آسان نہیں ہے لیکن جلاوطن ہوکر اپنوں سے دور زندگی کرنا اتنا مشکل ہے کہ میرے جیسا کم علم انہیں الفاظ میں بھی بیان نہیں کرسکتا۔۔۔۔
جعفر::: شکریہ جناب، لیکن کیا واقعی ایسا ہے، مطلب یہ دیکھیں کہ میرے کافی دوست ایسے ہیں جنھوں نے باہر ملک جانے کو ترجیح دی، کیا انھیں اس کا اندازہ نہ ہو گا؟ اور کئی ایک تو واپس آکر باقاعدہ پچھتا بھی رہے ہیں، اس کا کیا؟
جواب دیںحذف کریںبات مجبوریوںسے شروع ہوتی ہے
جواب دیںحذف کریںاور ترجیحات پر آجاتی ہے
فرض کریں آپ بیرون ملک چلے جاتے ہیں، آپ کو کوئی مجبوری نہیں، صرف اپنا مستقبل بنانے کی دھن ہے، پیسا آپ نے خوب کما لیا، شادی کرلی، بچے پیدا ہوئے، جوان ہونے کی عمر آئی تو پھر آپ کیا سوچیں گے؟؟؟؟
یقینا واپس جانے کے بارے میں۔۔۔
یہ صرف مغربی ممالک کی بات ہے، خلیج میں تو لوگ چالیس چالیس سال سے کام کرکے بھی غیر ملکی ہی رہتے ہیں۔ کسی بھی وقت انہیں ڈی پورٹ کیا جاسکتاہے۔
دھوبی کے کتے کی مثال ہم پر مطلب خلیجی ممالک میں کام کرنے والوںپر، بالکل ٹھیک بیٹھتی ہے۔ پھر آپ جن چیزوں سے محروم ہوں گے وہ ابھی تو آپ کو بالکل معمولی محسوس ہوتی ہوںگی۔ لیکن آخری تجزئیے میں پچھتاوا ہی ہاتھ آئے گا۔
مختلف نفسیاتی بیماریاں الگ۔ جیسے کتے کو باندھے رکھیںتو وہ “کوڑا“ ہوجاتا ہے ناں، وہی حال ہوتا ہے بندے کا یہاں۔ خود غرضی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور اس سب کے باوجود وہ واپس جانے کو تیار نہیں ہوتا
میرا خیال ہے بھیجا فرائی ہوگیا ہوگا !!!
یہ بات تو سولہ آنے ٹھیک ہے کہ خلیجی ممالک میں بڑا ہی برا حال ہے، اور وجوہات ے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ مجھے عرب کچھ اتنے پسند نہیں ہیں، ان کے ساتھ میرا وا یونیورسٹی میں پڑ چکا ہے۔ خیر یہ تو علیحدہ بات ہے، حال ہی میرے ایک جاننے والے بیالیس سال سعودیہ میں لگا کر آئے ہیں۔ ممکن ہوتے ہوئے بھی انھوں نے میرے دوست کو جو ان کا بیٹا ہے، وہاں بھیجنے سے انکار کر دیا، بس وہ کہتے ہیں کہ یہ ظلم ہو گا۔
جواب دیںحذف کریںجہاں تک میرا تعلق ہے تو میں اور میرے جیسے کئی دوست صرف راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔ مثلا میرا تجربہ جو مغربی لوگوں سے رہاہے وہ بہت مثبت رہا ہے، اور ہمارے پاکستانی بھائیوں نے مجھے بڑا مایوس کیا، اور شاید میں بھی انھیں مایوس کر رہا ہوں - میری پچھلی کچھ تحریریں اس کا ثبوت ہیں۔ ایک چیز جس پر مجھے اندھا یقین ہے اور اسی وجہ سے میں ایک جگہ ٹک جاتا ہوں وہ ہے خدا پر یقین، بس جو وہ چاہے، جیسا وہ چاہے۔