مشورہ مفت ہے!!!۔

تو صاحبان ایسا ہوا کہ محلے میں ایک جنگ شروع ہوگئی۔ جنگ سے زیادہ خانہ جنگی زیادہ موزوں رہے گا، کیونکہ مسئلہ اندرونی ہی تھا۔ گلی کی پختگی میں کئی فارغ حضرات منہ اندھیرے ہی تسبیح گھماتے پہنچ جاتے اور مزدوروں کی تعداد سے زیادہ مشورے عنایت کرنا شروع کردیتے۔ ہر شخص کا خیال تھا کہ وہ جو مشورہ عنایت کر رہا ہے، اسے ہی لاگو کیا جائے، کیونکہ وہ اپنی قیمتی آراء مفت ریوڑیوں کی طرح بانٹ رہے ہیں، تو کوئی بات ہی ہے، دوسرا اگر کوئی یہ جانتے ہوئے کہ ان میں سے ہر شخص کسی نہ کسی باہر ملک سے واپس آیا ہوا ہے تو بس پھر تو انت ہی ہے۔ اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا۔
نتیجہ وہی دو ملاؤں والا برآمد ہوا، گلی کی نکڑ سے لے کر حاجی صاحب کے گھر تک اور پھر دوسرے حصے تک بالکل ایسے معلوم ہوا کہ جیسے کئی طرح کی انجئنیرنگ کی گئی ہو، ہر گھر کے سامنے اپنی مرضی کی تکنیک۔ مجھے کامل یقین ہے کہ انجنئیرنگ کے اصول ساری دنیا میں ایک سے ہی ہوں گے، لیکن یہاں متحدہ عرب امارات، سعودیہ، اومان، سویڈن اور دو چار ایسے اور ملکوں کی انجنئیرنگ نصب ہوئی، جو شاید کسی یونیورسٹی کالج میں نہ پڑھائی گئی ہو گی۔
پہلے تو ہم خوش ہوئے کہ لو بھیا، اب تو بس ملک کرے نہ کرے ہماری گلی کم از کم ترقی کے زینے ایسے طے کرے گی کہ جیسے کتے لگے ہوں اس کے پیچھے۔ نتائج برآمد ہوئے تو ہم میں سے اکثر معمول کے مطابق پاکستانیوں کی طرح ہونق بنے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس عجب کارخانہ قدرت کا نظارہ کر رہے تھے، جسے ہر کوئی گلی کہہ رہا تھا۔
گلی کی تو مٹی پلید ہوئی ہی، دو چار دن پہلے ہونے والی بارش نےان بیرون ملک پلٹ نمازیوں کو گھروں اور ہم بے نمازیوں کو گلی میں محصور کر دیا۔ مشورے دینے والے حضرات اب گھروں میں بیٹھے نمازیں ادا کرتے ہیں، کیونکہ انھیں اپنے کپڑے بے نماز ہونے کا ڈر ہے۔ جبکہ ہم جیسے بے نمازی، شلواریں ٹخنوں سے اوپر کیے باہر گلی صاف کرواتے رہتے ہیں۔ محلے کی تبلیغی جماعت کے امیر صاحب اب مطمئن ہیں کہ محلے کے لونڈے اس بہانے کم از کم سنت تو پوری کر ہی رہے ہیں۔
مشوروں کے بعد اب الزام تراشیاں تو بس معمول ہیں، کہ جی پاکستان کا تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ٹھیکیدار ہڈ حرام نے کیا کر دیا، دیکھو تو سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صحافی حضرات، جنھیں جرنلزم کی تعریف بھی پتہ نہ ہو گی، مقامی اخباروں میں ٹھیکیدار کو کوستے نظر آتے ہیں۔
ٹھیکیدار بے چارہ، محلے والوں کے ہاتھوں رسوا ہونے کے بعد اب سی اینڈ ڈبلیو والوں کے ہاتھوں دن" کوڑے"کروا رہا ہے۔
کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ٹھیکیدار سے خواہ مخواہ کی ہمدردی ہے، دراصل بات یہ ہے کہ ٹھیکیدار صاحب محلے کے ہی ہیں، بینک میں کیشئیر ہیں، پچھلے پندرہ سال سے یہاں مقیم ہیں اور کچھ دے دلا کر ٹھیکہ اس لیے لیا تھا، اپنے ہاتھوں محلے کا کام کروائیں تا کہ کچھ بدعنوانی اور کمی بیشی کا اندیشہ جاتا رہے۔ لیکن یہی خدمت خلق کا جذبہ ان کے لیے وبال جیب اور ہمارے لیے وبال جان ثابت ہوا۔
ہر جگہہ یہی کچھ ہے، دیکھ لیں کیسے امپورٹ شدہ پالیسیاں ہمارا تیاپانچہ کر رہی ہیں۔ مفت کے مشورے ڈبو رہے ہیں، جیسے رحمان ملک کو ہی دیکھ لیں، فرانس میں آجکل دہشت گردی سے نبٹنے کے طریقوں پر غور فرما رہے ہیں، وزیر خارجہ تھائی لینڈ میں ہیلری کلنٹن کو بہلا رہے ہیں، جبکہ اپنے مولانا عطاءالرحمٰن سننے میں آیا ہے کہ کسی مغربی ملک کے بیچ پر پاکستان کی سیاحت کی بہتری کے حوالے سے کچھ کِیا چاہتے ہیں۔
خدا خیر کرے۔ صاحبان تیار ہو جائیں، شلواروں کو ٹخنوں سے بلند کر لیں، عنقریب اس گلی میں گند بننے والا ہے۔ مفت کے مشورے سمیٹ کر ماہرین آیا چاہتےہیں۔

تبصرے

  1. ٍٍبس یار ۔۔۔ جب ہم لوگوں کی جیب گرم ہوتی ہے تو دماغ کو بھی پہیے لگ جاتے ہیں۔۔ دوڑتا ہے پھر روشنی کی رفتار سے ۔۔۔ پھر ہم سے اچھا ڈاکٹر، انجنیئر، سائنسدان، تماشبین، پرہیزگار کوئی نہیں ہوتا۔۔۔
    پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ”جہدے گھر دانے، اوہدے کملے وی سیانے“
    مطلب اس کا یہ کہ جس خاندان میں رزق کی افراط ہو تو اس کے پاگل بھی عقلمند تصور کئے جاتے ہیں۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. کیا بات ہے۔ جس خوبصورتی سے آپ نے گلی کی تصویر کشی کی ہے اپنی گلی یاد آگئی جس کی حالت بھی کچھ ایسی ہی گلوبل ولیج کی سی تھی بشرطیکہ زیر آب نا ہو۔ مجھے یقین ہے منیر نیازی آپ کی گلی کے جائزے کے بعد ایک اور دریا والے شعر پر نظر ثانی کریں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. او یار ایسے لوگ ہر جگہ ہی موجود ہوتے ہیں
    جن کے منہ کو مشوروں کی بواسیر ہوتی ہے
    گھر میں بیوی کی ٹانگیں دبا رہے ہوتے ہیں
    اور باہر ارسطو کی واحد اولاد بنے پھرتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. بیوی کی ٹانگیں بوجہ خدمت گزاری نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے دباتے ہوں گے!!!!

    جواب دیںحذف کریں
  5. واہ بھئی بڑی خوبصورتی سے آپنے گلی کو ملک سے جوڑا ہے..

    جواب دیںحذف کریں
  6. جعفر:::بالکل، یہ تو ہے، جو نہیں وہی کامل عالم بنا پھرتا ہے یہاں......... ہر فن مولا.
    راشد کامران::: چلیں کسی کام تو آئی یہ تحریر، کچھ یادیں سمیٹ لائی آپ کے لیے. منیر نیازی کو میں بتا دوں یا آپ.......... ہی ہی ہی
    ڈفر:::: ہاہاہاہاہا مشوروں کی بواسیر بہت خوب.
    جعفر::::: وہ وجہ فورا بیان کرو.......... یہ تمھیں بڑی گندی عادت پڑ گئی ہے بات پوری نہ بتانے والی، ہی ہی ہی ہی
    اسید:::: پسند کرنے کا شکریہ جناب

    جواب دیںحذف کریں
  7. عمر بھائی !

    یہ گلی ہے یا مرزا کی بائیسکل ؟ جسکی کوئی کل سیدھی نہیں تھی اور گلی۔۔ جسکی کوئی اینٹ سیدھی نہیں۔ رہ گئی بات پاکستان والی تو ۔۔اسکے ساتھ یہ بڑی لگن سے لگے ہوئے ہیں ۔ اللہ اسے نظر بد سے بچائے اور آپ کی گلی کو پانی بد سے بچائے۔ اور پاکستان کو سیاست بد سے۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. وہ وجہ آپ کو شادی کے بعد اچھی طرح پتہ لگ جائے گی
    بلکہ لگ پتہ جائے گا۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. تو جعفر کیا آپ کی شادی ہو چکی ہے؟
    اگر نہیں تو آپکا کردار مشکوک ہو سکتا ہے
    :D

    جواب دیںحذف کریں
  10. میرا ماضی، حال، مستقبل سب مشکوک ہے
    کردار کس کھیت کی گوبھی ہے
    شادی والے سوال پر میری رائے محفوظ ہے۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  11. بہت خوبصورت تحریر ہے عمر واقعی مزا آ گیا۔
    گلی کی منظر کشی اور وہاں پیدا شدہ صورتحال کو جس طرح آپ نے ملکی صورتحال پر منطبق کیا ہے، وہ آپ ہی کا خاصہ ہے۔
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    جواب دیںحذف کریں
  12. جاوید گوندل صاحب::: خوب فرمایا، بالکل یہ مرزا کی سائیکل کی مانند، جسے دیکھ کر بچے ڈر گئے تھے اور اس گلی کو دیکھ کر ہم دم بخود ہیں. انشاءاللہ پاکستان کی رکھوالی اللہ کرے گا، مجھے یقین ہے.
    جعفر:::پہلی بات، اچھا تو وہ والی بات تو ایسے کہو ناں. دوسری بات ڈفر بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں. تیسری بات اصل معاملہ تو میاں تم پھر گول کر گئے ہو، بتایا تو ہے نہیں.
    ڈفر:::جعفر کو تاؤ نہ دلائیں ورنہ ساری بات بتا دے گا، کیوں جی جعفر جی!!!!.
    ابوشامل::: پسند کرنے کا شکریہ، خوشی ہوئی جی واقعی میں. دعا کے لیے شکریہ.... امید ہے حوصلہ بڑھاتے رہیں گے، غلطیوں کی نشاندہی کر کے. مجھے بڑی خوشی ہو گی جی.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب