ہفتہ بلاگستان ۔ بچپن میں پچپن
میں بڑا معصوم تھا، سبھی ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ نہیں بھی ہوتے، جیسے نومی نہیں تھا۔
نومی میرا دوست، پڑوسی اور سکول کا تخریب کار تھا۔ بچوں کو لتاڑنے، ٹیچروں کی دم باندھنے اور بغیر ہاتھ لگائے بلب فیوز کرنے میں اسے ملکہ حاصل تھی۔ آپ بجا طور پر اسے چوٹی پرت کہہ سکتے ہیں۔
یہی وہ چیزیں تھیں جس کی وجہ سے ہم دوست بن گئے، مجھے کچھ "سیکھنا" تھا اور ہم نے مل کر اساتذہ کی مار کا بدلہ تخریب کاری سے چکانا شروع کر دیا۔ تخریب کاری سے مراد لیسی بچوں کو پٹخنا، بلب فیوز کرنا، واش روم میں لگے شیشوں کا مسالہ صابن کی مدد سے اتار دینا وغیرہ۔ ایسی ایک مار کچھ ایسی بڑھی کہ تین گھنٹے تک ہم میں سے کوئی بھی بیٹھنے تو چھوڑیے کھڑے ہونے کے قابل بھی نہ رہے۔ "ٹھنڈ" پڑتے ہی سوچا کہ اب کے تو کچھ "بڑا" ہی ہونا چاہیے۔ تو سوچا لیکن ہمارا دماغ کچھ ایسا چست تھا نہیں، نومی نے ہی حق لیڈری ادا کیا اور تجویز کیا کہ کیوں ناں ایک عدد بینچ جو وزنی ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگا بھی ہے، تیسری چھت سے نیچے پھینک دو، پرنسپل کو بھی لگ پتہ جائے گا کہ کیا انجام ہوتا ہے، "معصوموں" کو پیٹنے کا!!!۔
خیر جی، چھٹی کے فوراً بعد احتیاط سے بنچ اٹھایا اور سکول کی چھت پر سے نیچے لڑھکا دیا، بنچ سکول سے باہر جا گرا اور دو حصوں میں تقسیم، شومئی قسمت لیسی بچے نے دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا، اگلے دن اسمبلی میں ہم چار دوست لین حاضر!!!۔
بید کی چھڑی سے عزت افزائی کرنے سے پہلے "مناسب" تفتیش ضروری سمجھی گئی۔ باری باری پوچھنے پر بھی نومی ٹس سے مس نہ ہوا، جبکہ دوسرے دوست نےمعصوم صورت بنائے جواب دیا، "سر جی وہ کیل سے میری پینٹ پھٹ گئی تھی، تو۔۔۔۔۔" ساتھ ہی بہتیری کوشش شروع کر دی کہ پیچھے سے پھٹی اپنی پینٹ واضع طور پر دکھا سکے۔
پرنسپل صاحب میری طرف مڑے اور گرجدار آواز میں پوچھا، "کیوں بے!!!"۔ ڈرتے ہوئے میرے منہ سے نکل گیا، ۔ "سر جی میں نے کچھ نہیں کیا۔ ان دونوں نے کہا تھا کہ پھینکتے ہیں، میں نے بھی کہا بسم اللہ!!!"۔
یہ سنتے ہی پرنسپل صاحب نے ایک زوردار قہقہہ لگایا، لیکن یہ مت سمجھیے کہ ہمیں چھوڑ دیاگیا۔۔۔۔ توبہ کرنے کو وہ دو گھنٹے کی مار بہت کافی تھی۔
پہلا ہی جملہ پوری تحریر کی جان ہے
جواب دیںحذف کریںمیرا تو دل ہی نہیں کررہا تھا باقی تحریر پڑھنے کو۔۔۔
یار اتنے اچھے فقرے کیسے لکھ لیتا ہے تو۔۔۔
میں جعفر سے پوری طرح متفق ہوں۔۔ ڈیسک تو سبھی پھینک دیتے ہیں لیکن یہ لکھنا کہ
جواب دیںحذف کریں"میں بڑا معصوم تھا، سبھی ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ نہیں بھی ہوتے ہیں ، جیسے نومی نہیں تھا"
واہ واہ۔
مجھے تو یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ اس غداری کے بعد ساتھیوں کے ہاتھ عمر کی کیا گت بنی؟
جواب دیںحذف کریںجعفر::: شکریہ بھائی جی، لیکن پھر آگے پڑھا بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ خیال آپکا بالکل غلط ہے کہ میں کیسے لکھتا ہوں، لالے کی جان ہم تو بس وہ کھال پہنے ہوئے ہیں اور کچھ نہیں۔
جواب دیںحذف کریںراشد کامران::: شکریہ جناب، لیکن یہ بھی تو ہے کہ ہم میں سے اکثر بلاگر بس آپ صاحبان کی نقل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
خرم::: بھائی جان، شاید کچھ سمجھانے میں ناکام رہا، یہ تو کھلی کتاب جیسا مقدمہ تھا، جس میں یہ تو پتہ تھا کہ کس کس نے واردات کی ہے، واقع کا چشم دید گواہ موجود تھا، اصل سوال تو یہ تھا کہ کیوں کی ہے!!!!۔ آپکو تو یہ پوچھنا چاہیے کہ چھوٹتے ہی اس لیسے کے ساتھ کیا کیا؟
بو ت اعلیٰ وائی بوت اعلیٰ کیتراں لکھ دا اے دس سانو وی بابا اشفاق احمد جدید
جواب دیںحذف کریںیار مجھے پہلے ہی شک تھا کہ تو بہت میسنا اور غدار ہے
جواب دیںحذف کریںشریف بچہ تو نومی نکلا جو تیرے جیسے غدار کو یار بنا لیا
واقعی جعفر کی بات سولہ آنے سچی ہے
وہی ضمیر جعفری جیسی بات
کہ بعض جملے بڑے حاملہ لکھتا ہے اپنا عمر
تو ایک دن بڑا لکھاری بنے گا بچو
اگر صرف ڈنگروں کے باڑے میں نا گھسا رہا تو
اب تک کی ساری بچپنی تحریروں میں سب سے مزیدار ہے بھءی تیرا واقعہ
واہ جی واہ .... میں بھی ایسا ہی معصوم تھا جیسے آپ تھے.
جواب دیںحذف کریںاچھی اور مزے دارتحریر ہے بھیا
جواب دیںحذف کریںجاری رکھیے
کامران اصغر::: شکریہ جناب پسندیدگی کا
جواب دیںحذف کریںڈفر پاء:::: پاء جی، سچ کہوں اب اگر مجھے کوئی اس تحریر کے بعد غدار کہتا ہے تو ایک دم سے میرے دماغ میں وہ "زور کتنا بازو قاتل" میں ہے والا شعر آجاتا ہے۔ ہی ہی ہی
پسندنے کا شکریہ اور یہ بھی کہ حاملہ جملہ خوب کہا۔
دوست::: صاحب شکریہ ، پھر تو بقول بھائی لوگوں کے آپ بھی غدار ہی ہوئے
یاسر عمران مرزا::: بلاگ پر خوش آمدید جناب، اور پسند کرنے کا شکریہ، امید ہے تشریف لاتے رہیں گے۔
عُمر يا تو آپ واقعی معصُوم ہو يا ايسا کيُوں لگ رہا ہے کہ بہُت ڈُھونڈ کے واقعہ نِکالا ہے ،ہيں کيا ايسا ہی ہے يا مُجھے محسُوں ہُوا ايسا
جواب دیںحذف کریںشاہدہ آپی::: دونوں باتیں ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میں معصوم ہوں p; لیکن یہ بھی ٹھیک ہے کہ "پھلور" کے واقعہ لکھا ہے، اور یہ میری معصومیت نہیں۔ اب کوئی کیا کرے جب ہوا ہی ایسا ہو۔۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریں