ہفتہ بلاگستان ۔ بلاگنگ اور مرغبانی
ہمارے خیال میں بلاگنگ اور مرغبانی میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے، کوئی یہ پوچھے کہ کیسے تو اسے اس پوسٹ کو آخر تک برداشت کرنا پڑے گا، امکان غالب ہے کہ آپ ہماری منطق بارے جاننے کے بعد حیرت سے اپنی انگلیاں چبا ڈالیں، بہتر یہ ہے کہ پہلے اپنی انگلیاں محفوظ کر لیں!۔
ہمیں کمپیوٹر استعمال کرتے اب کچھ ایک دہائی سے زیادہ ہو گیا، اور انٹرنیٹ سے واسطہ تقریباً پانچ، سات سال سے کچھ اوپر کا قصہ، لیکن پھر بھی بلاگنگ کی اصطلاح سے ہماری آشنائی ایک اردو روزنامے کے تواسط سے ہوئی۔ یہ وہ خبر تھی، جس سے اخبار والے صرف جگہ پُر کرتے ہیں۔ وجہ بڑی سادہ ہے کہ بچپن سے ہی ہمیں یہ سکھایا گیا کہ سیدھے سکول، مدرسے اورپھر گھر۔ بس اسی طور انٹرنیٹ پر بھی دو چار مطلب کی جگہوں کے علاوہ ادھر ادھر ہم کچھ نہ دیکھتے۔ خیر اس خبر سے بھی ہمارے کان پر جُوں تک نہ رینگی، بلکہ ہم تو کافی عرصہ تک انٹرنیٹ پر بھانت بھانت کے فورمز اور گروپس کو یا پھر وہ مہنگی قسم کی ویب سائٹ خرید کر ہڑبونگ مچانے کو ہی اظہار خیالات کے میسر زرائع سمجھتے رہے!۔
بھلے آپ یقین نہ کیجیے لیکن پانچ سالہ یونیورسٹی دور میں ہم نے سوائے ناولوں، سفرناموں اور شاعری کی دو ایک کتابوں کے علاوہ کسی کتاب کو لائبریری میں چھوا تک نہیں۔ ایسا نہیں کہ ہم کچھ ایسے خاص بقراط واقع ہوئے ہیں، بلکہ ہمارے ہاتھ میں تب اوراب بھی ایک عدد موبائل گردش کرتا ہے جو ہر جگہ ہمیں دنیا سے رابطے میں رکھتا ہے۔ ویکیپیڈیا، اوپیرا منی اور ہمارے امور حیوانات کی بائبل کےموجدوں کو خداسُکھ بخشے کہ ہمیں لائبریری جانے کی حاجت ہی محسوس نہ ہوئی۔
اسی دوران ایک بار ہم نے یونیورسٹی میں تجرباتی پولٹری فارم چلایا، جس میں دو ڈھائی سو چوزہ پال کر کچھ تجربے کیے۔ اگر کسی کو مرغبانی کا تجربہ ہوتو یقیناً وہ یہ بھی جانتا ہو گا کہ مرغبانی میں چوزے پالنے سے بھی اہم کام "روزنامچہ" لکھنا ہوتا ہے۔ کاغذوں پر تو لکھتے ہی تھے، سوچا کیوں ناں کمپیوٹر پر لکھا جائے، اور اگر کمپیوٹر پر ہی لکھنا ہے تو کیوں ناں یو ایس بی کے جھنجھٹ سے آزاد اور دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ، انٹرنیٹ پر لکھو، سوال یہ کہ کیسے لکھو!!!۔
صاحبان، جب ہم نے اصطلاح "پولٹری فارم لاگ" کو گوگل کے سپرد کیا تو احساس ہوا کہ یہ کام تو دنیا پہلے سے کر رہی ہے، بس ایسے سمجھیے کہ جیسے ریڈ انڈینز تو پہلے ہی امریکہ میں بس رہے تھے، کولمبس نے کون سا تیرمارا وہاں اپنے قبیلے کو بسا کر!۔
مُلا کی دوڑ مسجد تک کے مصداق ہم کافی عرصہ تک بلاگنگ میں مرغیوں کے علاوہ دوسرے جانور بھی تلتے رہے، جس میں ہم خود بھی شامل تھے۔ خیراردو بلاگنگ سے آشنائی بھی ایسے ہی تھی، ہم دو ایک مہینے اردو میں لکھتے رہے اور خود ہی پڑھ کر خوش ہوتے رہے، مجال کہ کوئی بندہ بشر پڑھنے آئے، اسی کشمکش میں اردو سیارہ سے آشائی ہوئی۔ ڈفر نامی شخص ایک دن نا جانے کہاں سے وارد ہوا اور بولا، "شرم کر اوئے، فانٹ تو سدھا کر، اردو لکھ لیکن، ترتیب تے سدھی کر لے!۔
بس پھر گاڑی چل پڑی اور ہم یہاں ہیں دن رات شور مچاتے ہیں، لیکن شکر ہے اس شور سے پڑوسی تنگ نہیں ہوتے۔
مدعا یہ ہے کہ تب بھی ہمیں علم نہیں تھا کہ بلاگنگ کیا ہے، اب بھی ہم بے بہرہ ہیں، بس جو منہ میں آیا بک دیتے ہیں اور جو سمجھ نہ آئے بھائی لوگوں کی سن لیتے ہیں، ہمارے لیے تو یہی ہے اردو بلاگنگ، اس کے علاوہ کوئی کہے کہ اردو بلاگنگ کیا ہے؟ تو
ہم بتائے دیتے ہیں کہ یہ ہمارے واسطے تو وہ جذباتی کیفیت ہے جو بیاں نہیں ہو سکتی، جیسے محبت بیاں نہیں ہوتی، کی جاتی ہے۔
بس جی جو آپ سمجھے ہیں اور جو آپ کررہے ہیں ۔۔ بس یہی بلاگنگ ہے اور آپ نے اسی طرح لکھنا ہے اور لکھتے رہنا ہے کہ مرغلاگنگ زیادہ دلچسپ معلوم ہوتی ہے۔
جواب دیںحذف کریںمجے تو شک تھا مگر اس تیسری پوسٹ کے بعد یقین ہو چلا ہے کہ اب آپ ڈاکٹریٹ کی تیسری ڈگری یعنی ڈاکٹر ٹنکنا بھی لے چکے ہیں ۔ عمر لگتا ہے اپنے فارم کی مرغیاں کھا کھا کر نشہ اے مرغ چڑھا ہوا ہے ۔
جواب دیںحذف کریںبتانا پسیند کریں گے کہ مرغ بانی ہی کیوں کہتے ہیں مرغی بانی کیوں نہیں ۔۔؟
راشد کامران:: جناب میرا مطلب بس اتنا ہے کہ جدھر کی ہوا ہو، بس ہم وہیں چل پڑتے ہیں۔ دراصل ابھی تک سنجیدگی سے کوئی کام نہیں کیا ہم میں سے اکثریت نے اور یہی شیوہ ہے جی ہماری قوم کا۔
جواب دیںحذف کریںکامران اصغر:: ہاہاہا ڈاکٹر ٹنکنا، خوب کہی میاں تم نے تو۔ نشہِ مُرغ تو بنتا ہے لیکن یہ نشہ "اے" مرغ کیا ہوتا ہے، واضع کیا جائے، یہ تو آپ مجھے نہیں مرغے کو مخاطب کر رہے ہیں۔
آخری سوال واقعی کنفیوژن کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک این جی او کا حصہ ہونے کے ناطے میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کا سوال کا متن ہمارے معاشرے میں موجود صنفی فرق
پر روشنی ڈالتا ہے۔ ہی ہی ہی
بلاگنگ، مرغے، ایک محبت سو افسانے کے ڈائلاگ
جواب دیںحذف کریں!!چاہتا کیا ہے تو بھائی
راشد صاحب کی اصطلاح کا جواب نہیں۔۔۔
مرغلاگنگ
:lol:
جعفر:: ایک نوی نکور گاڑی چاہتا ہوں کہ مل جائے، p:۔
جواب دیںحذف کریںآپ کی تحریر کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ جو آپ کے منہ میں آتا ہے اسے لکھ دیتے ہیں۔۔
جواب دیںحذف کریںاسید:: شکریہ، مطلب آپ اس سے متفق ہیں
جواب دیںحذف کریں