بھایا، تجھے کیا بھایا؟۔

بھایا پر مجھے بڑا ترس آتا ہے، بلکہ ترس اور رشک بھی۔ وہ بڑی آسامی ہے، مطلب اس کا بڑا ڈپو ہے جہاں کریانے کی ہر چیز ملتی ہے۔ بھایا، شاید اس دکان کے مالک کا نام ہو، اکثر میں سامان خریدتا ہوں مگر کبھی اس سے یہ بات نہیں پوچھی، لیکن میں اور تمام لوگ اسے بھایا اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی دکان کا نام یہی ہے، یعنی "بھایا جنرل سٹور"۔
بھایا خود پکی عمر کا تبلیغی آدمی ہے، یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن اب مشکل یہ ہے کہ اس کے تین بیٹے بھی ہیں جو بالکل اسی کی طرح کے ہیں اور اکثر ان میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بھایا بہرحال سفید کالی داڑھی سے پہچانا جا سکتا ہے۔
اس کے ڈپو کی خاصیت سرسوں کا تیل ہے، جو پہلے تو وہ خود اپنی "گھانڑی" جسے اردو میں پتہ نہیں کیا کہتے ہیں، میں دو بیلوں کی مدد سے حاصل کرتا تھا، اب مانگ بڑھ جانے کی وجہ سے اور بیلوں کے "آؤٹ ڈیٹڈ" ہونے کی وجہ سے مشینوں کی مدد سے لیتا ہے، بھایا کی دکان کا تیل اتنا مشہور ہوا کہ اس گلی کا نام ہی "تیلی گلی" پڑگیا۔
آج شام کو جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ افطاری سے عین پہلے روایتی مٹرگشت پر نکلا تو اس کی دکان کے سامنے سے گذر ہوا۔ تیلی گلی انتہائی گنجان آباد جگہ ہے، اور سورج کی روشنی کی وہاں تک رسائی ناممکن ہے کیونکہ ایک تو وہ بڑی تنگ گلی ہے اور دوسرا عمارتوں نے اسے ڈھک دیا ہے۔ شام کا وقت تھا، دن کو بھی گذرو تو لگتا ہے کہ شام ہے، شام کو گذرے تو لگا رات ہے۔
بھایا اپنی نگرانی میں اپنی دکان، گوداموں اور "گھانڑی" کو تالے لگوا رہا تھا، جبکہ اس کے بیٹے اس کے ساتھ کھڑے جلدی سے گھر پہنچنے کی سوچ میں تھے تو مجھے بھایا پر بڑا ترس اور ساتھ میں رشک آیا۔ رشک تو یہ کہ بندہ نوٹوں میں کھیل رہا ہے اور اپنی محنت پر کتنا نازاں ہوگا، مگر ترس یوں آیا کہ کیسے اس نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ اس اندھیر گلی میں گذار دیا، صبح منہ اندھیرے یہاں آتا ہے اور شام اندھیرے میں گھر لوٹ جاتا ہے۔ ایس زندگی کا کیا فائدہ؟۔
اس نے کبھی ناغہ تو کیا نہیں،ہاں صرف جمعہ کی نماز، عید کے دن کے یا پھر فوتگی کی صورت میں، اس کی دکان اس کے علاوہ تو میں نے کھلی ہی دیکھی ہے۔ شادی بیاہ پر شاید چھٹی نہیں کرتا، کبھی دکان کے شٹر پر نوٹس نہیں لگا دیکھا شادی کا!۔

تبصرے

  1. میں نے اسے فیرز اللغات میں چیک کیا ہے. صحیح لفظ ہے کولھو. محض ریکارڈ درست رکھنے کے لئے لکھا ہے.

    جواب دیںحذف کریں
  2. حضرت کیا عمدہ تمثیل ہے.. اس نو سے پانچ کے چکر میں اپنا آپ صاف نظر آتا ہے.. لیکن "معلوم" وجوہات کی بنا پر اندھیری گلی سے نکلنا بھی اتنا آسان نہیں.. وہ جو روشن گلی والے لوگ ہیں.. قلندر کہتی ہے دنیا انہیں... نا بابا اپنا بھایا جنرل اسٹور ہی ٹھیک ہے.

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت اچھے جناب تحریر چھوٹی مگر مطلب جامع ہے ۔ انیقہ کی درستگی جائز ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. میرا پاکستان:: کوہلو تو غالباً بلوچستان کا ایک شہر ہے.
    عنیقہ ناز صاحبہ:: سب سے پہلے تو صلہ عمر پر خوش آمدید، امید ہے تشریف لاتی رہیں گی اور ہماری درستگیاں فرماتی رہیں گی. بالکل صحیح، بس میرے زہن میں بھی لکھتے وقت املاء کی الجھن تھی، بہت شکریہ.
    راشد کامران:: حضور بس حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے، ورنہ کچھ ایسی بات نہیں ہم میں. بات کی تہہ تک پہنچے ہیں آپ. لکھنے کے بعد خیال آیا شاید بھایا کو ہم پر بھی ترس آتا ہوگا.
    جعفر:: شکریہ بھیے، لیکن ایسے کام نہیں چلے گا. تفصیل سے تبصرہ کرو ورنہ واپس تم پر لاگو ہو جائے گا آرٹیکل 6 تم پر، مجھے سمجھاؤ.
    ڈاکٹر صاحب:: شکریہ جناب، ویسے ہم سب ہی کولھو کے بیل ہیں.
    کنفیوز کامی:: یہ آرٹیکل 6 سے ڈر کے لکھی گئی تحریر ہے تاکہ گردن محفوظ رہے.

    جواب دیںحذف کریں
  5. میرے کزن نے بھی ایک دفعہ کہا تھا یار یہ کیا زندگی ہے جہاں پیدا ہوئے وہیں پڑھے وہیں کام وہیں تمام
    بچپن کی یہ بات ایسی ذہن میں بیٹھی کہ بڑی بڑی باتیں خود بخود سمجھ آگئیں

    جواب دیںحذف کریں
  6. ہم تو اسی لئے الحمد للہ کہیں ایک جگہ ٹِک کر نہیں بیٹھتے۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. عمر بھائی بہت عارفانہ تحریر ہے۔

    مگر اپنی گلی چھوڑنی بہت مشکل ہوتی ہے، جب بلاوہ آجائے تو اپنے نفع و نقصان کا احساس ہوتا ہے۔ مگر پھر بُلانے والے بھلا کہاں ٹلتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. ڈفر:: بالکل درست فرمایا جی آپ کے کزن نے، اور اگر سمجھ لگ بھی جائے تو کیا فائدہ، اپنی مرضی تو کم ہی لوگ کر سکتے ہیں.
    خرم:: خوش قسمتی گردانیے اسے، ورنہ کئی لوگوں کو چاہتے ہوئے بھی یہ نعمت میسر نہیں
    جاوید گوندل:: پسند کرنے کا شکریہ جناب، آخری بات تو یہی ہے ناں جناب، پھر ساکن کیا اور محرک کیا سب کو ہی "اگے لگ اوے" کا آرڈر مل جائے تو بس........

    جواب دیںحذف کریں
  9. گمنام13/9/09 15:41

    آپ ایک پہلو نظر انداز کر گئے۔
    یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے تنگ ہو اور دکان ہی اس کی آخری پناہ گاہ ہو۔
    کبھی وقت نکال کر بھایا سے گپ شپ لگائیں

    جواب دیںحذف کریں
  10. سعد:: اس کے تین ہٹے کٹے بیٹے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ گھر والوں سے تنگ نہیں ہے p:گپ شپ کا وقت ہی نہیں ہوتا اس کے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  11. بہت ہی عمدہ تحریر، ماشااللہ، جب سے میں نے آ پ کو پڑھنا شروع کیا ہے شائد یہ سب سے بہترین تحریر ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  12. اسید:: شکریہ جناب، پسندنے کا بھی اور میری ہا ہو برداشت کرنے کا بھی ۔

    جواب دیںحذف کریں
  13. -- PAYPAL IN PAKISTAN NOW AVAILABLE--

    We can set up a PayPal account from Pakistan for you. An official account With your own personal data. 100% legal, 100% safe, 100% secure and 100% rentable.
    You will make business with ease, you will win the trust of your customers so that the money will naturally flow.
    contact us to eyokfla@yahoo.fr to get more informations about our service. Or check the group "My PayPal account in Pakistan" in facebook.

    Sincerely

    جواب دیںحذف کریں
  14. شگفتہ آداب بے حد آداب
    پھولوں کی مہک آبشاروں کا ترنم
    شباب کا امنگ کلیوں کا تبسم
    فضاوں میں رچی خوشبو جیسی
    سحر انگیز شگوفوں دل آویز نغموں جیسی
    بھر پور گنگناتے خیال میں
    خوش کن اداوں جیسی
    خوش ادا مچلتی گنگناتی ریشمی لہروں جیسی
    حسین یادوں کے جل تھل جیسی
    پر کشش عید آئی ہے
    اس دھنک رنگ موقع پر میری جانب سے
    عید مبارک

    جواب دیںحذف کریں
  15. اگر کل تک نئی پوسٹ نہ آئی تو
    آپ گوانتاموبے جانے کے لئے اپنا سامان باندھ لیں

    جواب دیںحذف کریں
  16. گمنام23/7/13 05:38

    kia yaad dila dia .... agarchy taili galli my jana bht kam hua par us ahaaty k andar bandhy bailon se anjana sa khouf aata tha .... magar ab yaad ata hy k vo to mehz aik dairy my ghumty rhny py majbur thy....or kam unka tail nikalna tha jo khud bailo k kam nhi ata tha..shayd vo khouf istiaara tha mustakbil ki zindgi k bail ka jo aik dairy my ghum rahi hy or tail shayd vo amal hain jo hum kiye jaty hain jo hamary ksi kam k nahi balky bki un sy mustafed hoty hain

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب