سوگ بنا روگ

 گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔ سوگ
یہ غالباً زلزلے کا نواں روز تھا، جب میں نے پہلی بار غور سے دنیا کو دیکھا۔ میرامطلب یہ ہے کہ نو روز میں جنازے دفنا چکنے اور مریضوں کو ہسپتال اور عزیزوں کو خیموں میں گھسیڑ دینے کے بعد میں نے غور کیا کہ میرے ہموطن کتنا درد رکھتے ہیں۔ کتنی دور سے کتنی امداد پہنچی، لوگ کدالیں اٹھائے جوق در جوق شہر میں داخل ہوتے اور شام کو پیدل واپس چل دیتے، یہ  سارا دن مقامی لوگوں کے ہمراہ جنازے دفناتے،  زخمیوں کو دوا اور غمزدوں کو سینے سے لگائے  رہتے۔  کیسے میرے وطن کے عام لوگوں نے میرے زخموں پر کو مندمل ہونے میں مدد کی،  یقین کیجیے،  میں زندگی بھر یہ قرض نہ اتار پاؤں گا۔
یہ سوگ جاری ہے، اس نسل کے لیے یہ سوگ جاری رہے گا، قبر میں بھی شاید پیچھا نہ چھوڑے۔ میں بالاکوٹ میں اپنے گھر کے ملبے پر آج چار سال ہوئے ، آخری لاش دفنا چکنے کے بعد نہیں گیا، مجھ پر وحشت طاری ہو جاتی ہے۔
خیر، جب سارے جنازے دفن ہو چکے تو میں اپنے بھائی اور دوسرے  زخمی عزیزوں کی خبر لینے ہسپتال پہنچا۔ یہاں بھی وہی حال، لوگ کیسے خدمت میں مشغول، کوئی دوا بانٹ رہا، کسی نے زخمیوں اور ان کے تیمارداروں واسطے کھانے کا بندوبست کیا تو کوئی کمبل کپڑے لا رہا ہے تا کہ بڑھتی سردی سے تمام متاثرین کو بچایا جا سکے۔ میں حیرت زدہ تھا۔
پھرایک جمعتہ المبارک آیا اور میں مسجد پہنچ گیا۔ وہاں خطیب صاحب کوس رہے تھے کہ زلزلہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ سود خوروں کو سزا ہے، یہ زناکاروں کو عذاب ہے۔ یہ جھوٹوں کو خدا کا چانٹا، جبکہ زلزلے سے تین دن پہلے ہوئے الیکشن میں جھوٹی گواہیاں دینے والوں کو خدا کی لاٹھی کی پہلی ضرب۔ میں نماز پڑھے بغیر چلا آیا۔ مجھے بالکل سمجھ نہ آئی کہ میرے قصبے کے مرنے والے ڈھائی ہزار لوگوں میں کون کون سود خور، شرابی، زناکار اور کتنے ان میں جھوٹے گواہ تھے۔ میں سوچنے لگا کہ کیا تہتر ہزار جو فوت ہوئے، کیا شہید تھے یا ہلاک؟
وقت گذرا تو مجھے حیرت ہوتی، کئی تو ایسے تھے کہ افسوس کا اظہار کر چکنے کے بعد کہتے، "دیکھیے ناراض مت ہوئیے گا، میں نے سنا ہے کہ بالاکوٹ میں برائی حد سے بڑھ چکی تھی؟"  یا پھر، "شہید ہیں جی، لیکن میں نے سنا کہ مارگلہ ٹاور میں کئی طرح کی خرافات، جیسے شراب نوشی  عام تھی اور اسلام آباد کے ٹاپ رشوت خور وہاں رہائش پذیر تھے؟"
میں نے کبھی بھی ایسے سوال کا جواب نہیں دیا اور پوچھنے والا خاموشی کو نیم نہیں بلکہ پوری رضامندی سمجھ کر حسب توفیق بات آگے پھیلا دیتا۔ مجھے افسوس نہیں ہوا، نہ ہو گا۔  اب بھی میں بالاکوٹ جاتا ہوں تو  اپنے سمیت ہر چہرے میں زناکار، سود خور، رشوت خور، جھوٹے گواہ اور شراب نوش ڈھونڈتا ہوں تاکہ اس سے پوچھ سکوں کہ تم نے آخر ایسا کیوں کیا کہ میرے پورے شہر کو تم نے "مرحوم" کر دیا۔ یہ سوگ نہیں ہے دوستو! اب  یہ روگ ہے!
زخم مندمل ہو گئے، جو مر گئے تھے آج بھی فاتحہ پڑھ لوں تو سکون مل جاتا ہے، مگر خطیب صاحب اور ان ہمدردوں کی اس بات پر کیسے صبر کر لوں کہ دنیا کی ساری برائیاں بالاکوٹ میں تھیں اور اس کی سزا  اتنی بھیانک تھی؟
ختم شد

تبصرے

  1. خطیب صاحب اور ان کے حواریین وہ لوگ ہیں جن کا اپنا کوئی ایسے حوادث میں نہیں مرتا وگرنہ ایسا کبھی نہ کہتے۔ ان کی لاف و گزاف کی حقیقت کو یہی بات کافی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. ‘دنیا میں ان بتوں نے مجھے جلایا ہے اس قدر
    کہ دوزخ بھی اب میرے واسطے جنت سے کم نہی

    جواب دیںحذف کریں
  3. ‘دنیا میں ان بتوں نے مجھے جلایا ہے اس قدر
    کہ دوزخ بھی اب میرے واسطے جنت سے کم نہی

    جواب دیںحذف کریں
  4. اللہ مرحومین کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے
    جس کا جتنا ظرف ہے اس کے مطابق بات کرتا ہے ۔
    کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک کی مساجد کے اماموں میں ستر اسی فیصد کسی دینی مدرسہ سے تعلیم یافتہ نہیں ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  5. مولوی صاحب سے عرض گذارنی تھی کہ اتنی شدت کے زلزلے جاپان میں معمول ہیں۔۔۔ وہاں کے لوگ سارے ولی اللہ ہیں کہ مرتے نہیں؟؟؟
    جہالت ہے میرے پیارے ۔۔۔ جہالت۔۔۔
    تحریر کی سادگی اور پرکاری کی تعریف، لفظوں کی محتاج نہیں!

    جواب دیںحذف کریں
  6. خرم: جی بالکل، وہ جعفر پاجی کہا کرتا ہے ناں کہ "جس تن لاگے وہی تن جانے"۔
    شاہ بھائی:: کیا کہنے
    افتخار اجمل بھوپال صاحب: آمین، اور یہ وصف والی بات بہت خوب کہی۔ سر جی حیرت اسی بات پر ہے کہ سات سالہ عالم کا کورس کرنے کے بعد بھی اکثر خطیب ایسا کیوں کرتے ہیں۔ بات وہی آپ والی کہ علم نہیں ہے بس ڈگریاں اور اسناد اکٹھی کرنے کی دوڑ ہے۔
    جعفر: حضور کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں عرض گذار کے دائرہ اسلام سے خارج ہو جاؤں۔ اب جہالت کا علاج کہاں سے ڈھونڈ لاؤں۔ جاپان والی بات بھی خوب ہے، کافی عرصہ پہلے ہنزہ میں لکڑی کے مکان میں شدید زلزلہ سے میں خوفزدہ ہوا تو میزبان نے بڑی معصومیت سے پوچھا تھا، "کیا آپکے ہاں زلزلے نہیں آتے!!!"۔
    پسندنے کا شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  7. عمر، آپ کا انداز تحریر بہت اعلیٰ ہوتا ہے۔ پھر اس پر زلزلے جیسے دل گزیدہ واقعے کا احوال؟ دل پر چھریاں چلا جاتا ہے۔
    اللہ آپ کو صبر و ہمت دے۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. بہت شکریہ جناب، بلاشبہ آپ جو حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو ہم جیسے نووارد لکھاریوں کا سیر ڈیڑھ سیر خون تو بڑھ ہی جاتا ہے۔ پسند کرنے کا شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  9. جعفر پاجی ہے
    آپ کو کیسے پتہ چلا بھائی جان۔۔۔
    میں نے تو یہ بات آج تک کسی کو نہیں بتائی
    بلکہ خود سے بھی چھپائی ہے۔۔
    :mrgreen:

    جواب دیںحذف کریں
  10. اوہ، لگتا ہے مشٹیک ہو گیا۔ ہندکو میں تو پاجی بڑے بھائی کو کہتے ہیں، پنجابی میں کسے کہتے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں
  11. پاجی تو اردو کا لفظ نہیں‌ہے؟
    پنجابی میں‌تو پاءجی کہتے ہیں
    اسی رعائت لفظی کا فائدہ اٹھا کر آپ کی ٹانگ شریف کھینچنے کی جسارت کی تھی
    :mrgreen:

    جواب دیںحذف کریں
  12. عمر بھائی!
    کئی دفعہ آپ کی دلگیر اور دردناک تحریر پڑہی مگر کچھ لکھنے کو یارا نہ ہوا، الفاظ جواب دے جاتے رہے۔
    اللہ سبحان و تعالٰی آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب