دماغی فتور

ہماری حالت کچھ اچھی نہیں ہے۔گمان غالب ہے کہ اگر کوئی اس جملے کو سن کر یہاں تک پہنچا ہے تو وہ یقیناً باوضو ہو کر آیا ہی ہو گا، سن رکھیے ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہم خوش باش ہیں بس تھوڑے سٹھیا گئے ہیں۔

سٹھیانے سے یاد آیا کہ اک بار اپنے ساجد اقبال صاحب نے بھی ہم سے خوب دشمنی نبھائی تھی۔ ہم نے پوچھا کہ صاحب اگر کسی کو مغرور پائیں تو کیا کریں بھلا؟ فرمانے لگے کہ جیسے ہی مغرور کو دیکھو تو گانا گاؤ، "یوں زندگی کی راہ میں، سٹھیا گیا کوئی!"
تب سے ہم ایک دو نہیں بار بار گا چکے ہیں اور نتیجہ یہ کہ آدھے سے زیادہ شہر ہم پر خار کھائے بیٹھا ہے۔ ایسے کہ جیسے لوگ اس ملک میں ادھار کھائے بیٹھے ہیں، جب لوگوں کو ادھار کی نہیں، تو ہمیں خار کی کاہے کو ہو۔
لیجیے، بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں پہنچ گئی۔ اب تو کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، وہ گلی کی نکڑ پر بیٹھے کوئی بحث کرے تو بات شروع محلے کی گلی سے ہوتی ہے پر تان امریکہ پہنچ کر ہی ٹوٹتی ہے۔ ہم تو اب تک حیرت سے اپنی آدھی انگلیاں چبا چکے ہیں کہ ناجانے لوگ اتنی چست اور لچکدار "تان" لاتے کہاں سے ہیں؟
اگر ہم حیرت سے انگلیاں چباتے ہیں تو یہ مت سمجھیں کہ ہمیں کھانے کو کچھ میسر نہیں ہے۔ ہم دن بھر غم کھاتے ہیں اور رات گئے غصہ پی کر سو لیتے ہیں۔ جس حساب سے ہم غم کھاتے ہیں، ایک اندازہ ہے کہ کچھ ہی سالوں میں دنیا غموں سے پاک ہو جائے گی، یہاں صرف غصہ باقی رہ جائے گا۔ وہ کیا ہے کہ رات گئے پینے پلانے سے ہم تھوڑا اجتناب کرتے ہیں۔ رات کو جو غصہ پینے سے بچ رہتا ہے صبح کو ہمارا خون جلاتا ہے۔ غصہ لاجواب ہے، پی جاؤ تو غم جلاتا ہے اور بچ رہے تو خون۔
خون کی بھی سنیے، یہ ہمارے دل میں رہتا ہے اور کافی پہلے جل بھن کر انگارہ ہو چکا۔ اب دل سلگتا ہے اور جو رگوں میں دوڑ رہا ہے وہ غصہ ہے جو ہم عرصہ سے پیتے آئے ہیں ۔ بس یہی دوڑتا غصہ ہے جو ہمارے دماغ کو بھانبھڑ کی طرح جلائے جاتا ہے۔ کتنے بھولے ہیں ناصح، کہتے ہیں کہ غصہ پی جائیے تا کہ یہ دنیا پر امن ہو مگر نہیں جانتے کہ جو غصہ ہم پی چکے وہ عین سر کے اوپر آتش فشاں بن کر پھوٹنے کے انتہائی نزدیک پکتا لاوہ ہے۔
یہ دنیا ہمیں غصہ پلاتی ہے اور پھر اس کی چنداں پرواہ نہیں کرتی کہ یہ جب لاوہ بن کر پھوٹے گا تو کیا ہو گا؟ اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ پھوٹے گا ، ایک دن ضرور پھوٹے گا مگر کسی اور کا نہیں ہمارا ہی مقدر پھوٹے گا۔

(اس تحریر کا کوئی مطلب نہیں ہے، یہ میرے ذہن کی اختراع ہے، جس کا مقصد تسلی دلاسہ دینا ہے اور کچھ نہیں)

تبصرے

  1. گمنام18/2/10 03:48

    تحریر لکھنے والے کی دماغی حالت کی عکاسی کرتی ہے مگر چند لوگ اسے بھی ادبی تاریخ کی ایک اعلی تحریر گردان کر مصنٍف کے جزبات سے کھیل جائیں گے مطلب مجھے لالے سے پوری ہمدردی ہے اللہ کریم اسے سکون اور چین عطا فرمائے ۔ میں نے مصنٍف کے لیے کچھ سوچا ہے مشورے کے بعد بتاوں گا کہ کیا۔ کامران اصغر کامی

    جواب دیںحذف کریں
  2. جی اس وقت پاکستان کے سمجھدار لوگوں کی اکثریت جن کی تعداد خاصی کم ہے کچھ ایسی ہی ہیجانی کیفیت کا شکار ہے،
    مگر مجھ جیسے رجائیت پسند اب بھی کچھ اچھا کی امید لگائے بیٹھے ہیں حالانکہ خبریں اچھی نہیں

    جواب دیںحذف کریں
  3. اب یہ پوسٹ پڑھ کر مجھے یہ الجھن لاحق ہوگئی ہے کہ فتور دماغ کی درآمداد میں شمار ہوگا یا برآمداد میں؟

    جواب دیںحذف کریں
  4. اس تحریر میں سے کم از کم تین فقرے ایسے ہیں جو اقوال زریں کے زمرے میں آتے ہیں
    یار بہت ہی عمدہ۔۔۔ یقین کرو، میری آجکل کی حالت کی بھی عکاسی کردی ہے کم و بیش۔۔۔
    اور میں بہت خوش ہوں کہ تو باقاعدگی سے لکھ رہا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  5. asma paris18/2/10 12:32

    اللہ جانے آپ لوگ اتنی مشکل اردو ياد کيسے رکھتے ہيں مجھے تو ککھ سمجھ نہيں آيا

    جواب دیںحذف کریں
  6. سب کچھ سيکھا ہم نے
    نہ سيکھی ہوشياری
    سچ ہے دنيا والو
    کہ ہم ہيں اناڑی

    میں نے سنسکرت نہيں پڑي اسلئے ميرے پلے کچھ نہيں پڑا
    اصل بات يہ ہے کہ ميں نہ کبھی گلی کے نکڑ پر بيٹھا اور نہ وہاں کھڑا ہوا

    جواب دیںحذف کریں
  7. کامی بھرا:: شکریہ جناب لیکن یہ شاید بہت گھمبیر تھا۔ یہ کچھ دورہ ٹائپ شے تھی، اب خیریت ہے۔ اور مشورہ کہاں لینا ہو گا، یہاں یا کہیں باہر۔۔۔۔۔۔ کسی میسنجر پر؟
    عبداللہ:: نہیں بہتری کی امید تو سب کو ہی رکھنی چاہیے، یہ بات درست ہے کہ خبریں اچھی نہیں ہیں لیکن دلاسہ دینے میں حرج ہی کیا ہے۔ مر تو ویسے ہی رہے ہیں، تھوڑا سکون سے مر جائیں تو کیا برا!!!۔
    راشد کامران:: جی یہ تو خام مال پر منحصر ہے کہ کہاں میسر ہے۔
    جعفر:: :) شکریہ لیکن بھیا شاید تو نے باقی کے تبصرے نہیں پڑھے۔ اور لکھنے کے حوالے سے یہ کہ ویلا بندہ ہور کرے وی کے؟
    اسماء پیرس:: سب سے پہلے تو جی میرے اس بلاگ پر خوش آمدید، بس ایسا سمجھیں میں گلہ کرنے ہی لگا تھا تھوڑے دنوں میں آپ سے۔ چلیں جیسے بھی، پر آپ نے رونق بخشی تو۔۔۔۔ امید ہے چکر لگاتی رہیں گی۔
    افتخار اجمل صاحب:: ارے واہ، آپ تو شاعر بھی ہیں سر جی۔
    پہلے دو جماعت کا ورد اور اب یہ، کیا بات ہے۔
    ھاھاھاھا، واقعی، پوسٹ کرنے کے بعد مجھے بھی ایسا ہی لگا تھا کہ یہ سنسکرت ہے۔ جی آخری والی تو عادت نہیں ہے میری مگر بعض اوقات مجبوراً ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. گمنام19/2/10 03:25

    مشورہ ہو چکا جعفر نے بتا دیا ہو گا اب دعا کر اپنے لیے

    جواب دیںحذف کریں
  9. اس لچک سے متعلق تو میرے پاس بڑی اعلٰی مثال ہے جو بتائے بغیر ہی سمجھی جا سکتی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  10. کاہےکو ٹینشن لیتا ہے میرے بھائی؟ ابھی یہ کوئی دوسرا پوسٹ ہے تمہارا اسی لفڑے کا گرد۔ ٹینشن نہیں لینے کا نا دوست۔ ابی کیا اے۔ جب بندے کے کھوپڑ میں بات آنے لگتا اے نا تو فیر ہر غلط چیز نظر آتا اے۔ ٹینشن ہوتا ایہہ کہ اتنا سارا گڑبڑ گھوٹالا کاہے کو ہے؟؟؟ اس کی فکر نکو کرونا میرے بھائی۔ اب کیا ہے کہ جب بیمار ہوئے گا تو ڈاکٹر کا ضرورت ہوئے گا نا۔ تم بیمار کو اور اس کا بیماری کو دیکھ کر فکر کاہے کو کرتا ہے؟ بس کوشش کرو کہ بیماری کا حصہ نہ بنو۔ پھر جب بات اور تھوڑا سمجھ میں آئے گا تو علاج بھی نظر آنے لگے گا اور پھر تم اصل والا ڈاکٹر بن جائے گا۔ بڑا والا۔
    کیا سمجھے؟

    جواب دیںحذف کریں
  11. عمر بھائی لگتا ہے نیا نیا سوچنا شروع کیا ہے آپ نے ابھی تو بہت کچھ ہے جو نظر نہیں آیا یا نظر تو آگیا ہے لیکن سمجھ نہیں آیا

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب