جیے بھی تو کیا جیے
پچیس پورے ہوئے تھے تو ہم سوچتے تھے کہ ہمیں ایک موقع ملنا چاہیے، ہم کچھ پچیسیا یا ڈاکو قسم کی چیز بننا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ حسرت بھی دوسری کئی خواہشوں میں دب کر رہ گئی۔ اکثر گلی میں لوگ تبصرہ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ "مہنگائی اور قلت اس لیے ہے کہ حکومت دہشت گردی سے عوام کا دھیان ہٹانا چاہتی ہے۔" بس کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے۔
یہ سال بھی کچھ ایسے گذرا جیسے کوئی جان سے گذر جائے۔ ذاتی زندگی میں ایسے مصروف رہے کہ جیسے کوئی چیونٹی مصروف رہے اور سوچوں میں ایسے غرقاب جیسے کوئی جہاز عین سمندر میں ڈوبے تو کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ ملکی حالات کا رونا نہیں روؤں گا کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، ہم جنگل میں میں گھاس خور جانوروں کی طرح ہیں، جو دوسرے ساتھی کو مرتے دیکھتے ہیں، قسمت کا لکھا سمجھ کر پھر گھاس چرنے میں ایسے مصروف ہو جاتا ہے جیسے شیر کے لیے جسم پر گوشت نہ بڑھایا تو ناجانے کیسی ہزیمت اٹھانی پڑ جائے۔
چٹھہ کھولوں تو کچھ ملے گا نہیں، یہ صفحہ سفید چھوڑ دوں تو سو نہ پاؤں۔ سو برداشت کیجیے، جیسے پچھلے چھبیس سال سے یہ دھرتی ہمارا بوجھ برداشت کیے جا رہی ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ ہم گذرے سالوں کو کیسے تولیں، کوئی معیار بھی تو مقرر نہیں ہے۔ اگر نیکی و بدی کا ترازو لگاؤں تو شاید اپنے آپ کو بھی منہ نہ دکھا پاؤں، سو رہنے دیجیے کچھ ایسا معیار مقرر کیجیے کہ چت بھی اپنی ہو اور پٹ بھی، بس ہار نہ ہو۔
ہارنے سے یاد آیا، پچھلے سال میں اس کوشش میں بھی تو لگا رہا کہ ہارنے نہ پاؤں۔ جیت کی دوڑ میں ایسا پیچھے رہ گیا کہ ابھی تک سانس واپس نہ آسکی۔ طرز زندگی میں بہتری کی دوڑ کچھ ایسی ظالم شے ہے کہ بندے کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑتی۔ زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کا چکر ہمارے چھبیس سال برباد کر گیا۔ اولین چھ سال چھوڑ کر اگر باقی کا حساب رکھوں تو سترہ تعلیم کے اور تین نوکری کے بچ رہتے ہیں۔ بیس سال لگاتار بھاگنے کے بعد اب محسوس ہوتا ہے کہ اب دم نکلا کہ تب۔ وہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں ہر وقت مایوسی پھیلاتا رہتا ہوں، سو رہنے دیجیے اب یہ قصہ، کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بہترین آدمی ہیں، ایک جملہ کہہ دیا اور خلاصی پا لی، ہمیں بھی تو بتائیے ہم کیا کریں؟
یقین کیجیے میں مایوس نہیں ہوں۔ پچھلے ایک سال میں سب برا نہیں ہوا، بس یاد صرف برا رہ گیا۔ میں اخبار کھولتا ہوں تو سب برا ہی لکھا ہوتا ہے، کہیں دھماکہ، کہیں ڈاکہ تو کہیں لوٹ مار۔ اخبار والے بھی بس برا ہی یاد رکھتے ہیں، برے کو اچھالو، برا سنو، بولو برا، برے کو جیو اور برے کو مرو۔ ہم کیا برے کے لیے یہاں وارد ہوئے ہیں؟ کتنی برائیاں ہیں جو اتنی اچھالیں کہ اب ہر طرف عام ہیں۔ اجی، ہم احمقوں کو بھی تو سمجھایے کہ کوئی چیز اچھالنے یا ابھارنے سے بھی ٹلی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ نئی نسل ہی خراب ہے، ساری برائیاں تو اسی میں پنہاں تھیں، ہونہہ!!۔
اچھا رہنے بھی دیجیے، اب اگر میں یہ کہوں کہ "مایوسی گناہ ہے!!" تو آپ کا خیال آپ کو بھگا کر اس کوچے میں لے جائے گا جہاں سلاجیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں۔ ہمیں سنیاسی بابا مت سمجھیں، ہم تو صرف یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہم مایوس بالکل بھی نہیں ہیں۔دیکھیے کیسے خوش باش، ہمیں کوئی ایسا روگ نہیں ہے بلکہ ہم ہٹے کٹے اور تگڑے ہیں اور جیسے پچھلے چھبیس کا سامنا کیا ہے آگے کو بھی تیا ر ہیں۔ پچھلے ایک سال میں جیسا کہ ہم نے بتایا سب برا نہیں ہوا، کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ اچھا بھی ہوا ہے۔ کئی اچھے، جن کو ہم یاد نہیں رکھتے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جیو، خوب جیو لیکن ویسے مت جیو جیسے تم اب تک جیتے آئے ہو۔ کچھ ایسا کرو کہ تمھیں تمھاری ستائیسویں بہار، بہار ہی لگے ناں کہ جاڑا۔
یہ سال بھی کچھ ایسے گذرا جیسے کوئی جان سے گذر جائے۔ ذاتی زندگی میں ایسے مصروف رہے کہ جیسے کوئی چیونٹی مصروف رہے اور سوچوں میں ایسے غرقاب جیسے کوئی جہاز عین سمندر میں ڈوبے تو کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ ملکی حالات کا رونا نہیں روؤں گا کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، ہم جنگل میں میں گھاس خور جانوروں کی طرح ہیں، جو دوسرے ساتھی کو مرتے دیکھتے ہیں، قسمت کا لکھا سمجھ کر پھر گھاس چرنے میں ایسے مصروف ہو جاتا ہے جیسے شیر کے لیے جسم پر گوشت نہ بڑھایا تو ناجانے کیسی ہزیمت اٹھانی پڑ جائے۔
چٹھہ کھولوں تو کچھ ملے گا نہیں، یہ صفحہ سفید چھوڑ دوں تو سو نہ پاؤں۔ سو برداشت کیجیے، جیسے پچھلے چھبیس سال سے یہ دھرتی ہمارا بوجھ برداشت کیے جا رہی ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ ہم گذرے سالوں کو کیسے تولیں، کوئی معیار بھی تو مقرر نہیں ہے۔ اگر نیکی و بدی کا ترازو لگاؤں تو شاید اپنے آپ کو بھی منہ نہ دکھا پاؤں، سو رہنے دیجیے کچھ ایسا معیار مقرر کیجیے کہ چت بھی اپنی ہو اور پٹ بھی، بس ہار نہ ہو۔
ہارنے سے یاد آیا، پچھلے سال میں اس کوشش میں بھی تو لگا رہا کہ ہارنے نہ پاؤں۔ جیت کی دوڑ میں ایسا پیچھے رہ گیا کہ ابھی تک سانس واپس نہ آسکی۔ طرز زندگی میں بہتری کی دوڑ کچھ ایسی ظالم شے ہے کہ بندے کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑتی۔ زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کا چکر ہمارے چھبیس سال برباد کر گیا۔ اولین چھ سال چھوڑ کر اگر باقی کا حساب رکھوں تو سترہ تعلیم کے اور تین نوکری کے بچ رہتے ہیں۔ بیس سال لگاتار بھاگنے کے بعد اب محسوس ہوتا ہے کہ اب دم نکلا کہ تب۔ وہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں ہر وقت مایوسی پھیلاتا رہتا ہوں، سو رہنے دیجیے اب یہ قصہ، کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بہترین آدمی ہیں، ایک جملہ کہہ دیا اور خلاصی پا لی، ہمیں بھی تو بتائیے ہم کیا کریں؟
یقین کیجیے میں مایوس نہیں ہوں۔ پچھلے ایک سال میں سب برا نہیں ہوا، بس یاد صرف برا رہ گیا۔ میں اخبار کھولتا ہوں تو سب برا ہی لکھا ہوتا ہے، کہیں دھماکہ، کہیں ڈاکہ تو کہیں لوٹ مار۔ اخبار والے بھی بس برا ہی یاد رکھتے ہیں، برے کو اچھالو، برا سنو، بولو برا، برے کو جیو اور برے کو مرو۔ ہم کیا برے کے لیے یہاں وارد ہوئے ہیں؟ کتنی برائیاں ہیں جو اتنی اچھالیں کہ اب ہر طرف عام ہیں۔ اجی، ہم احمقوں کو بھی تو سمجھایے کہ کوئی چیز اچھالنے یا ابھارنے سے بھی ٹلی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ نئی نسل ہی خراب ہے، ساری برائیاں تو اسی میں پنہاں تھیں، ہونہہ!!۔
اچھا رہنے بھی دیجیے، اب اگر میں یہ کہوں کہ "مایوسی گناہ ہے!!" تو آپ کا خیال آپ کو بھگا کر اس کوچے میں لے جائے گا جہاں سلاجیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں۔ ہمیں سنیاسی بابا مت سمجھیں، ہم تو صرف یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہم مایوس بالکل بھی نہیں ہیں۔دیکھیے کیسے خوش باش، ہمیں کوئی ایسا روگ نہیں ہے بلکہ ہم ہٹے کٹے اور تگڑے ہیں اور جیسے پچھلے چھبیس کا سامنا کیا ہے آگے کو بھی تیا ر ہیں۔ پچھلے ایک سال میں جیسا کہ ہم نے بتایا سب برا نہیں ہوا، کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ اچھا بھی ہوا ہے۔ کئی اچھے، جن کو ہم یاد نہیں رکھتے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جیو، خوب جیو لیکن ویسے مت جیو جیسے تم اب تک جیتے آئے ہو۔ کچھ ایسا کرو کہ تمھیں تمھاری ستائیسویں بہار، بہار ہی لگے ناں کہ جاڑا۔
جب تک ہم اس کوئی حل ڈھونڈیں ، آپ سلاجیت والی بات کی تصدیق کر کے آئیں
جواب دیںحذف کریںاب اگر تعریف کی تو لوگ ویسے ہی میرے اوپر بہت گرم ہیں آج کل، فٹ الزام لگادیں گے کہ یہ تو تیرا دوست ہے، اس لئے تعریف پہ تعریف ٹھوک رہا ہے
جواب دیںحذف کریںیار اتنی بالی سی عمریا میں ایسی اعلی سوچ اور باتیں۔۔۔
تو زیادہ جینے والا نہیں۔۔۔۔
جیو، خوب جیو لیکن ویسے مت جیو جیسے تم اب تک جیتے آئے ہو
جواب دیںحذف کریںیار کیا کمال کی بات لکھی ہے۔ ہماری طرف سے بھی جیتے رہو اور یونہی اعلی خیالات سے ہمیں بھی فیضیاب کرتے رہو۔
ارے یہ کیا، بالی عمریا میں ایک بالی عمریا کے ڈاکٹر صاحب کی بات دل سے لگالی۔ انہیں تو یاد بھی نہ رہا ہوگا۔ اب بیچارے دیکھیں گے کہ آپ تو انکے مریض بن گئے تو نمعلوم خوش ہونگے یا پریشان کہ تشخیص کے لئیے کتابیں چھاننے پھٹکنے کا کام بھی کرنا پڑیگا۔ اس طرح مشکل دینے والے کی مشکلات نہیں بڑھاتے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اسے کسی اور کو دیدیں۔ یہی رائج الوقت ہے۔ آپکو بانسری بجانی آتی ہے۔ نہیں آتی تو سیکھ لیں۔ اسکے بڑے فائدے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںچھوڑیں جی سب.. آپ کو سالگرہ مبارک ہو.. کھل کے جیو اور جیو سے بچو..
جواب دیںحذف کریںارے میاں جی آپ کے غم آپ کو مبارک. ہم تو بس یہ جانے ہیں کہ لکھا خوب ہے، ....
جواب دیںحذف کریںویسے میرا خیال ہے کہ اگر یہ طے کر لیا جایے کہ آپ نے اپنی زندگی کے ساتھ کرنا کیا ہے ' تو شاید مایوسی کچھ کم ہو جائے. روز کا دوری جدول نہیں ، بس ایک نشان منزل کافی ہے. کیونکہ جب ایک راستہ آپ نے اپنے لیے طے کر لیا تو پھر 2 ہی صورتیں ہیں، یا آپ اس پر چلیں گے یا اس پر نہیں چلیں گے. اگر آپ پلان کے مطابق چلتے ہیں تو اصولا آپ کو خوش ہونا چاہیے، اور اگر آپ نہیں چلتے ، تو یہ صرف اور صرف آپ کی کم ہمتی ہوئی، آپ کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے، ایسے عالم میں افسوس اور حسرت تو محسوس کر سکتے ہیں مگر مایوسی بہرحال نہیں ہو گی ..... ہی ہی ....
محمد ریاض شاہد::: بلاگ پر خوش آمدید جناب، تصدیق ہو گئی ہے، حل بیان کیا جائے. امیدہے بلاگ کو رونق بخشتے رہیں گے.
جواب دیںحذف کریںجعفر::: اے بھائی، تو کیوں غم کھاتا ہے. تو میری اور میں تیری تعریفیں کرتے ہی رہیں گے، فکر ناٹ. اچھا یہ آخری بات کچھ ڈرانے والی ہے لیکن ہے حقیقت
ابوشامل::: بہت شکریہ جناب.
عنیقہ ناز::: ہمم اچھی تجویز ہے. لیکن یہ بانسری بجانے کا طریقہ اور فوائد پر اگر آپ کچھ تحریر کریں تو ہم بھی فیضیاب ہوں.
راشد کامران::: بہت شکریہ جناب اور آپ کے دونوں مشوروں پر عمل کر رہا ہوں. عرصہ ہوا جیو کا منہ بھی نہیں دیکھا اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ نہ ہی دیکھوں. بلکہ اب تو نیوز چینل دیکھنے ہی چھوڑ دیے ہیں تقریباً
غفران قریش:::شکریہ جناب. ہاں منزل کا تعین کافی حد تک بندے کو سیٹل کر دیتا ہے. یہ آخر میں ہنسے کیوں؟
بھائی جی سالگرہ مبارک دین آیا ساں پر اگے تے دریاں والا ماحول بنیا ہویا سی
جواب دیںحذف کریںنہ بھائی نا تو جئیے گا اور زمانے میں نام بھی کمائے گا سب مجھے مایوس کہتے تھے جب میں ایسی باتیں لکھتا تھا میں نے چھوڑ دیا مجھے جینا سکھا کر اب خود اس راہ پر کیسے واپس آجا یارا گناہ کے راستے سے واپس آجا زندگی نال لڑ کے جیو۔۔۔۔۔۔۔کامران اصغر کامی
عمر بہت اچھا لکھا لیکن جو بات چھوڑ دی کہ چھوڑین جی باقی آیندہ وہ تھوڑی پریچان کر گئی ۔ باقی ڈاکٹر کاکام اپنے پیسے بنانا ہے ۔ ابھی تو آپ نے بہت کچھ دیکھنا ہے ۔ ابھی تو آپ نے زندگی شروع کی ہے ۔ اور جہاں تک پریشانی کی بات ہے تو یہ دکھ سکھ تو ساتھ ساتھ ہیں ۔ بس صحت ہو سب چلتا ہے۔۔۔
جواب دیںحذف کریںعمر بھائی!
جواب دیںحذف کریںواہ عمر کی چھبیس بہاریں دیکھ لیں۔ اور بھائیا یہ بتاؤ شادی وادی کی ؟ اگر نہیں کی تو کیوں؟؟ اگر کر لی(شادی)، تو ایسی باتیں کیوں؟؟؟۔زندگی تو زنگی ہے بس کٹے جاتی ہے، یہ الگ بات ہے ہر کسی کے دل میں کچھ یوں ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں آیا ہے ، بس اسے بدل کر رکھ دے گا مگر نتیجہ آتا ہے تو دنیا سے بدل چکی ہوتی ہے۔
یہ واردات صرف آپ کے ساتھ نہیں بہت سوں کے ساتھ بیت چکی ہے اور جب چھبیس بہاریں ہو تو ہر طرف ہرہ ہرہ سجھتا ہے۔
بھائیا جی! شادی کر لو شادی!! دوچار ¨نیانے¨ ہو جائیں گے نا تو خود بخود ہی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا اور ہر دم کسی “ایڈونچر“ پہ ابھارتے “پھکنُو“ خود ہی تیتر ہوجائیں گے۔ کہ وہ علامہ مرحوم فرما گئے ہیں ۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“۔
کیا خیال ہے۔
سالگرہ ایک بار پھر مبارک میرے بھائی۔ اگر سچ پوچھو تو زندگی شروع ہی پچیس کے بعد ہوتی ہے۔ پختگی اس سے پہلے آجائے تو عذاب ہوجائے۔ سو فکر ناٹ۔ یہ تمام بُری باتیں دیکھتے رہوگے تو ایک دن نشان منزل بھی کھوجنے لگ پڑوگے اور جب وہ مل جائے تو پھر سکون ہوجاتاہے جیسے غفران صاحب نے کہا۔ جب تک کرب کی آگ سے نہ گزرے اندر کاسونا کندن نہیں ہوتا۔ اس کلیہ کو دیکھیں تو گزرا برس بہت اچھا رہا آپ کے لئے۔ آنکھ، کان اور دل کو کھُلا رکھیں گے تو انشاء اللہ سب آسان ہوتا جائے گا۔
جواب دیںحذف کریںمحترم عمر احمد بنگش صاحب
جواب دیںحذف کریںاسلام علیکم
سب سے پہلے تو میں اپنے پہلے والے عامیانہ سے تبصرے پر معذرت کروں گا کیونکہ میں بھی باقی آنے والے تبصرہ نگاروں کی طرح زندگی کا روشن پہلو واضح کرنے کے لئے بات کو ہنسی میں اڑانا چاہتا تھا . مگر آپ کی بات سے واضح ہوا کہ آپ اپنی رائے میں سنجیدہ ہیں .
جو سوال آپ نے اٹھایا ہے وہ آج کے تقریبا ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں کبھی نہ کبھی دستک دیتا ہے . دفتر سے شام کو گھر واپس آتے ہوئے اور کسی ٹریفک سگنل کے کھلنے کا انتظار کرتے ہوئے ، رات کو کھانے کے بعد لان میں ٹہلتے ہوئے ، بیوی بچوں سے دلچسپ گفتگو کے دوران وقفے کے ایک عارضی لمحے میں اچانک ذہن کی کھڑکی سے ایک سوال منہ نکال کر آپ سے سوال کرتا ہے . کیا زندگی کا منتہا یہی ہے کہ حیوانی سطح پر جیا جائے اور اپنی جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے میں معاشرے کی اس چوہا دوڑ کا حصہ بنے رہا جائے . کیا زندگی کا یہی منتہا ہے . اگر ایسا ہے تو مجھ جیسے تعلیم پافتہ شخص اور گلی کی نکڑ پر بنی ہوئی دکان کے کے اس ناخواندہ شخص میں کیا فرق ہے جو دن رات پیسے کے سود و زیاں میں مگن رہتا ہے . کیا ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب میں زندگی کی ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر وہ فیصلے کروں جن کی تلقین میرا ضمیر اور انسانی اعلی اقدار کرتی ہیں . یہ سوال میرے بھی ذہن میں گاہے بگاہے دستک دیتا ہے .
اس کا موجودہ زمانے کے لئے کوئی شافی جواب جدید انسانی علم تو بہت تھوڑا دے پایا ہے مگر صوفیا کا کہنا ہے کہ "زندگی کا مقصد توازن کا حصول ہے" . حلال رزق کی تلاش اسی طرح اہم ہے جس طرح سے باقی ارکان اسلام اہم ہیں . آپ کو اور آپ کے قریبی رشتہ داروں کو آپ کے ہمدردی کے الفاظ کے ساتھ ساتھ مالی مدد کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے . انسان کی روحانی بھوک اس وقت تک بیدار نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی جسمانی بھوک کو نہ مٹایا جائے . ہر انسان کا دائرہ عمل محدود ہے جس کے اندر رہ کر وہ فیصلے کر سکتا ہے . اگر انسانی زندگی کو کسی اعلی و ارفع مقصد سے روشناس کرانا ہے سب سے پہلے اس آدرش کو زندگی کا پہلا مقصد قرار دینا ہوگا . یعنی خدا کی رضا کو زندگی کے ہر شعبے میں اپنی ترجیح اول قرار دینا ہوگا . اور پھر اس کا اظہار آپ کی زندگی کے بہت چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں ہونا چاہیے . بہت سے لوگ چھوٹے چھوٹے اچھے کام بڑے کاموں کے کرنے کے انتظار میں نہیں کرتے . اگر آپ مستقبل میں مفاد عامہ کے لئے یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں تو س کا آغاز آج آپ اپنے اور پڑوسیوں کے بچے کو پڑھا کر کر سکتے ہیں . ضروری نہیں ہے کہ آپ کوئی ایسا کام ہی کریں جس میں پیسے خرچ کریں . اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کسی کو اپنی مسکراہٹ سے تو نواز سکتے ہیں . ایک طالب علم یہ ارادہ کر کے محنت کر سکتا ہے کہ میں آخرت میں اس علم کو اللہ اور نبی اکرم کی خدمت میں یہ کہ کر پیش کروں گا کہ اس سے اس کے بندوں کا بھلا ہوا . اگر یہ سب کچھ مشکل محسوس ہو تو والدین کی خدمت کا بیڑا اٹھا لیں کیونکہ ان کی خدمت پر جنت کا وعدہ ہے . میرے خیال میں ایک اعلی زندگی کی تعمیر بڑی اینٹ سے نہیں بلکہ چھوٹی اینٹ سے ہوتی ہے . اگر یہ سب بھی مشکل لگے تو زندگی کو اللہ کے ایک انعام کے طور پر گذار دیں اور اللہ کا شکر کریں کہ اس نے ہمیں اتنی نعمتوں سے نوازا یقینا وہ آخرت میں بھی ہماری چھوٹی چھوٹی خطاوں کو معاف کرے گا اگر ہم آج اپنے زیر اثر لوگوں کی خطاوں کو درگذر کریں گے
سبحان اللہ ریاض شاہد صاحب،
جواب دیںحذف کریںامید ہے کہ اب عمر کی مایوسی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہوگی:)
تو پھر عمر اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے:)
ویسے آپس کی بات ہے میں آپکو کم سے کم تیس پینتس کا سمجھتا تھا،آپکی سوچ ماشاءاللہ اتنی میچیور ہے
السلام علیکم۔
جواب دیںحذف کریںسوچتا ہوں کہ آپ کی سال گرہ ہر ہفتے ہوا کرتی تو ہر ہفتے اتنی زبردست تحریر پڑھنے کو ملتی۔
:D
کامی:: ہی ہی ہی، دریاں والا ماحول، کیا کہنے۔ اور بھیا یقین رکھو کہ میں مایوس نہیں ہو صرف تھوڑا پریشان ہوں۔ کچھ زندگی بے ڈھنگ ہو گئی ہے نا اس لیے۔
جواب دیںحذف کریںتانیہ رحمان::بلاگ پر خوش آمدید، امید ہے رونق بخشتی رہیں گی۔ ڈاکٹر سے مراد وہ ڈاکٹر منیر عباسی صاحب ہیں، وہ جی بڑے جی دار آدمی ہیں جی، انھوں نے درست ہی کہا تھا۔ جی اللہ ہم سب کو صحت بخشے اور سب سے بڑھ کر یہ زندگی گذارنے کا ڈھنگ سکھا دے، اب مجھے لگتا ہے کہ شاید ڈھنگ کے بغیر یہ زندگی نہ چل سکے گی۔
جاوید صاحب:: جی شادی تو نہیں کی، وہ ہماری طرف لیٹ شادیوں کا رواج ہے اس لیے، اور ابھی کچھ ایسا ارادہ بھی نہیں ہے۔ دنیا تو جی میرے خیال میں انسان کے ساتھ ہوتی ہے، یعنی اگر انسان خود کو بدل دے تو دنیا بھی بدل جاتی ہے، تو بس میں اسی نظریہ پر قائم اپنے آپ کو بدلنے کا سوچ رہا ہوں، افسوس بدلاؤ مجھے سخت ناپسند ہے۔ دیکھتے ہیں کیا حل نکلتا ہے۔
دراصل شادی پر میری رائے محفوظ ہے :) اور آخری بات تو بالکل سولہ آنے درست کہی جی آپ نے۔
خرم صاحب:: خیر مبارک جی، اچھا کیا واقعی ایسا ہے، مجھے بتائیں کہ پچیس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ اور دوسری باتوں سے میں سو فیصد متفق ہوں۔
محمد ریاض شاہد:: بہت بہت شکریہ جناب، یہ کافی مددگار مواد ثابت ہو سکتا ہے۔ ماشاء اللہ کافی بہتر تجزیہ پیش کیا ہے۔
اور پہلے پیراگراف بارے میں کہوں گا، "فکر ناٹ" حضور شرمندہ مت کیجیے۔
عبداللہ:: جی مایوس تو اللہ کی مہربانی سے نہیں ہوں، اللہ جی کا بہت بہت بہت کرم ہے مجھ پر۔ بس پریشان ہو جاتا ہوں جی، ڈرنے والی بات درست ہے آپکی، ڈرتا بہت ہوں میں۔
آخری بات:: ایسا کیوں سمجھتے ہیں لوگ؟ میرے ساتھ اکثر ایسا ہی ہوا ہے، کیوں؟ کچھ وجوہات تو مجھے معلوم ہیں مگر وہ اتنی ٹھوس نہیں ہیں۔
محمد سعد:: والسلام، ارے جناب بہت شکریہ لیکن تھوڑا خیال کریں، یہ کافی مشکل ہو سکتا ہے۔ مطلب میرے لیے لکھنا اور اس سے زیادہ آپ کے لیے پڑھنا۔ خدا خوش رکھے جعفر بھرا کو، ٹوہکے لگا لگا کر لکھواتا ہے مجھ سے، ورنہ سستی واحد شے ہے جس میں میں خود کفیل ہوں۔
اس بات کا تو مجھے اندازہ ہی نیں تھا کہ عمر بھائی اتنے سنجیدہ ہیں بھائی صبر کو انشاءاللہ اللہ سب بہتر کرے گا
جواب دیںحذف کریں