جھنگ کا رانجھا
ویلنٹائن کا حال مجھ تک بھی بس کچھ سال پہلے ہی پہنچا ہے ورنہ وہ کافی عرصہ پہلے مر چکا تھا۔ مرنے کو تو ہر کوئی مر جاتا ہے۔ مرزا بھی مر گیا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے صاحباں بھی لیکن ویلنٹائن انوکھا ہے ، انوکھا ایسے کہ مرنے کو تو مر گیا مگر ہمارے ایمان داؤ پر لگا گیا۔ اب اصل قصہ نا جانے کیا رہا ہوگا ، لیکن ہم غریبوں سے نا جانے کیوں دشمنی اتارنے پر تلا ہوا تھا۔
ہمارے ایک دوست کا تعلق ہیر رانجھا کے آبائی علاقے سے تھا جو کہ جھنگ میں واقع ہے ۔ جیسے میں نے تعارف کروایا، ان صاحب کا معروف تعارف تھا بھی یہی۔ شام ہوئی نہیں اور ہاسٹل کی چھت پر وہ جھوم جھوم کر اپنے قصبے کا حدود اربعہ اور وارث شاہ کی بیان کردہ لازوال داستان اس نیت سے سنا تے تھےکہ لوگوں کا محبت پر بھرم قائم رہے اور ہم تھے کہ سوچتے وہ نیمانا بھی کوئی محبت کا مارا ہے۔ آواز لاجواب، سر باکمال، ہم ایسے ڈوب جاتے جیسے شیرینی میں جلیبی تر رہتی ہو۔ اچھا بندہ تھا، محبت کی قدر کرتا تھا، شاعری بھی اسے پسند تھی اور گاہے بگاہے پنجابی ادب میں ہیر رانجھا کی داستان کی موجودگی کو اس کے لیے آب حیات بھی گردانتا تھا ۔ لیکن، نا جانے کیوں فروری شروع ہوتے ہی اس کی بھنویں چڑھ جاتی تھیں۔ ویلنٹائن کا نام لیا نہیں اور صاحب آپے سے باہر، اکثر فرماتے کہ ناجانے لوگ ایسے بھاؤلے کیوں ہو گئے ہیں کہ مغرب کی تقلید میں اپنا آپ بھول گئے۔ ہم گھنٹوں کڑھتے کہ ناجانے لوگ کیوں بھاؤلے ہو گئے۔ پھر مشہور زمانہ لڑمون مارکہ چائے پیتے اورصاحب کو اکیلا کڑھتا چھوڑ کر اگلی شام ہیر رانجھا کی داستان سنتے ۔
ایک بار تازہ تازہ چودہ فروری گذر کر شام کو ہیر رانجھا سنتے ہوئے بھائی صاحب سے سوال کیا، کیوں بھئی تمھیں ویلنٹائن ایک آنکھ نہیں بھاتا؟ سوال پوچھنے والے کا مقصد حسب معمول اسے تپا کر لطف حاصل کرنا تھا۔
اب صاحب نے موندھی آنکھیں کھولیں، حلق سے ہیر رانجھا کی داستان کے چلتے مصرعے کو ایک طرف رکھا اور تڑک کر بولے، "ابے بھوتنی کے! کیا یہ اسلام سے متصادم نظریات نہیں ہیں؟" بس اتنا کہا اور داستانِ ہیر رانجھا پر توجہ مرکوز کر دی۔
ہمارے ایک دوست کا تعلق ہیر رانجھا کے آبائی علاقے سے تھا جو کہ جھنگ میں واقع ہے ۔ جیسے میں نے تعارف کروایا، ان صاحب کا معروف تعارف تھا بھی یہی۔ شام ہوئی نہیں اور ہاسٹل کی چھت پر وہ جھوم جھوم کر اپنے قصبے کا حدود اربعہ اور وارث شاہ کی بیان کردہ لازوال داستان اس نیت سے سنا تے تھےکہ لوگوں کا محبت پر بھرم قائم رہے اور ہم تھے کہ سوچتے وہ نیمانا بھی کوئی محبت کا مارا ہے۔ آواز لاجواب، سر باکمال، ہم ایسے ڈوب جاتے جیسے شیرینی میں جلیبی تر رہتی ہو۔ اچھا بندہ تھا، محبت کی قدر کرتا تھا، شاعری بھی اسے پسند تھی اور گاہے بگاہے پنجابی ادب میں ہیر رانجھا کی داستان کی موجودگی کو اس کے لیے آب حیات بھی گردانتا تھا ۔ لیکن، نا جانے کیوں فروری شروع ہوتے ہی اس کی بھنویں چڑھ جاتی تھیں۔ ویلنٹائن کا نام لیا نہیں اور صاحب آپے سے باہر، اکثر فرماتے کہ ناجانے لوگ ایسے بھاؤلے کیوں ہو گئے ہیں کہ مغرب کی تقلید میں اپنا آپ بھول گئے۔ ہم گھنٹوں کڑھتے کہ ناجانے لوگ کیوں بھاؤلے ہو گئے۔ پھر مشہور زمانہ لڑمون مارکہ چائے پیتے اورصاحب کو اکیلا کڑھتا چھوڑ کر اگلی شام ہیر رانجھا کی داستان سنتے ۔
ایک بار تازہ تازہ چودہ فروری گذر کر شام کو ہیر رانجھا سنتے ہوئے بھائی صاحب سے سوال کیا، کیوں بھئی تمھیں ویلنٹائن ایک آنکھ نہیں بھاتا؟ سوال پوچھنے والے کا مقصد حسب معمول اسے تپا کر لطف حاصل کرنا تھا۔
اب صاحب نے موندھی آنکھیں کھولیں، حلق سے ہیر رانجھا کی داستان کے چلتے مصرعے کو ایک طرف رکھا اور تڑک کر بولے، "ابے بھوتنی کے! کیا یہ اسلام سے متصادم نظریات نہیں ہیں؟" بس اتنا کہا اور داستانِ ہیر رانجھا پر توجہ مرکوز کر دی۔
سوچن والی گل اے ہم عقل کے اندھے کیوں بنے ہوئے ہیں ہمیں سمجھ کیوں نہیں آتی ہمیں کب شعور آئے کا اچھائی اور برائی کا بہت فٹے منہ وائی ویلے ٹائم ڈے کااور منانے الوں کا۔۔ کامران اصغر کامی
جواب دیںحذف کریںکامی بھرا:::اس بات سے قطع نظر کہ ویلنٹائن ڈے کا کیا ہونا چاہیے، میں یہ سوچتا ہوں کہ ہم دہرے معیار میں کب تک گھرے رہیں گے، کیا ویلنٹائن اور ہیر رانجھا، سسی پنوں، مرزا صاحباں وغیرہ وغیرہ داستانیں ایک سی نہیں ہیں۔ ہمیں اپنی تو روحانی لگیں اور مغرب سے ہمیں چڑ ہو جائے۔
جواب دیںحذف کریںجانے دو جی، اس کو کرید کر کیا لینا، ویسے ہی من جلانا ہے!!!۔ جب وہ جھنگ والا بھائی تھوڑا جذباتی ہو جاتا تھا ناں تو ہم سمجھ جاتے تھے کہ اب بحث لاحاصل ہے۔
عمر اتنا سچ بولیں گے تو مشکل ہو جائے گی!
جواب دیںحذف کریںعمر صاحب.. لکھ تو سبھی رہے ہیں.. مگر ایسا لکھنا.. یار کمال کردیا ہے.. بھیا ہم پیئیں تو ثواب اور تم پیو تو شراب کے چکر نے ہی اس قوم کا بیڑا غرق کیا ہے..
جواب دیںحذف کریںمیں تو بھیا اگلے سال سے یوم مرزا منایا کروں گا پھر
جواب دیںحذف کریںاگر پینی ہی ہے تو پیسے گوروں کے کھیسے میں کیوں جائیں
اپنی دیسی ہی کیوں نہ پئے بندہ۔۔۔
ویسے یہ ہیر بھی بہت بدمعاش عورت تھی ۔ اپنے قصے میں معاشرے کے ہر کردار مثلا ، مولوی ، جاگیردار ، عوام کی بے حسی اور دوہرے معیار کا کچا چٹھا کھولتی چلی جاتی ہے ۔ ایسی عورتوں سے معاشرے کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے ۔ فحش قصہ ہے اس پر بھی پابندی ہونی چاہیے
جواب دیںحذف کریںایک بات میں لکھنی بھول گیا.. نومی والے فقرے کو آج آپ نے بہت عمدگی سے ری سائیکل کیا ہے جواب نہیں.
جواب دیںحذف کریںیہاں تو بات بہت لمبی نکل سکتی ہے۔ عشق و محبت تو انسانی جذبہ ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا کے ہر خطہ میں اس کی داستانیں نہ ہوتیں۔ ویلنٹائن ڈے کا کھڑاگ ہماری تہذیبی مجبوری نہیں اور نہ ہی معاشرتی مجبوری ہے لیکن کیا اس کی مخالفت محبت کی مخالفت سمجھی جائے گی اور کیا ایسا سمجھنا مناسب ہے؟ صاف بات ہے کہ میرے اپنے ذہن میں بھی اس معاملہ میں کوئی سیدھا صاف جواب موجود نہیں لیکن یہ بہرحال ایک ایسی بات ضرور ہے جس پر سوچنا چاہئے۔ آخر وہ کونسے تہذیبی رویے ہیں جنہیں اپنانے میں حرج نہیں اور کن تہذیبی رویوں کو آپ نے رد کرنا ہے؟ ویلنٹائن ڈے کا ہمارے تہذیبی پس منظر سے کیا اختلاف ہے؟ آخر کیوں ہم داستان ہیر رانجھا سےتو بے خبر ہوں لیکن سینٹ ویلنٹائن ڈے کو دھوم دھڑکے سے منائیں؟ اس ترتیب میں کیا غلط ہے اور کیوں ہے اور اسے درست کیسے کیا جائے؟ ماسوائے ہیر رانجھا، سسی پنوں، مرزاصاحباں، سوہنی مہینوال، نوری جام تماچی وغیرہا کے بیک جنبش قلم و لب غیر اسلامی قرار دینے کے کیا ہم کسی ایک منطقی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ بات زیادہ تہذیبی ورثے کی ہے۔ سینٹ ویلنٹائن ڈے جن لوگوں کا ورثہ ہے وہ اسے منائیں جیسے مرضی لیکن یہ کیا کہ ہم محبت کا دن بھی اب غیروں کی نقالی میں منائیں؟ کیا ہماری محبتوں کی چاشنیاں بھی اب سمندر پار کی محتاج ہیں؟ کیا بات صرف اتنی سی ہے؟
جواب دیںحذف کریںsalam umar
جواب دیںحذف کریںkamal ka likhte ho... bohat hi zabardast zabardast -----urdu mai comments nahi likh sakti kia hua
جعفر کی بات ٹھیک ہے
جواب دیںحذف کریںاب دیسی پہ گزارا کریں گے
اور ہمارے ہاں تو اتنی داستانیں ہیں کہ سال میں چوبیس دن محبت کے نام کیے جا سکتے ہیں
لیکن فیر ایک مسئلہ ہو جائے گا
شعیب صفدر نے جو بچوں کے عالمی دن کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی اس کا حساب کچھ زیادہ ہی گڑ بڑ ہو جائے گا۔ آبادی تو ہماری پہلے ہی گڑ بڑ ہے ;) ۔
محترم عمر بنگش صاحب
جواب دیںحذف کریںاسلام علیکم
تاریخ میں ہمیشہ عسکری اور اخلاقی طور پر بلند اقوام کے طور طریقے حتی کہ مذہب بھی ، مفتوح اقوام کا ایک خاص طبقہ یا پس ماندہ طبقات اپناتے رہے ہیں .
مسلم سپین میں عیسائیوں کا ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو گیا تھا جو عرب مسلمانوں کی تہذیب سے اس قدر متاثر تھا کہ ان جیسا لباس پہنتا ، عربی بولتا ، سر پہ عمامہ رکھتا تھا اور سوائے شمالی دشوار گذار پہاڑیوں میں بسنے والے عیسائیوں کے علاوہ ، باقی سب اس عرب رنگ میں رنگے گئے. عربوں کے طریق ایک فیشن بن گئے تھے . بلکہ ایک طبقہ عیسائیوں کا ایسا بھی وجود میں آ گیا تھا جو تاریخ میں مستعرب (یعنی عربوں کے طریق کا حامل) کے نام سے جانا جاتا ہے . بلکہ بعض اسپنی ریاستوں کے عیسائی حکمران تو ان چادروں میں دفنائے گئے جن پر قرآنی آیات کاڑھی گئی ہوتیں . یہ بات نہین تھی کہ عیسائی ریاستوں کے بیوروکریٹ عربی سے نابلد تھے . عیسائی مذہبی طبقہ اس رحجان سے بہت پریشان تھا مگر وہ اس رحجان کو روکنے میں کچھ نہیں کر سکتا تھا سوائے اس کے کہ اپنی عوام کو بے راہ رو اور گناہ گار قرار دے .
ایک عیسائی راہب الوارو اپنے ایک مکتوب میں لکھتا ہے کہ "میرے عیسائی بھائی عرب کلچر کے دیوانے بن چکے ہیں . وہ عربی شاعری ، کتابیں نہ صرف پڑھتے ہین بلکہ پیسے خرچ کر کے اپنے گھروں میں رکھتے ہیں اور علی اعلان عرب کلچر کے گن گاتے ہیں اور اپنے کلچر کی کھلے عام تحقیر کرتے ہیں اور شاید ہی کوئی اپنی اسپینی یا لاطینی زبان پڑھنا اور بولنا پسند کرتا ہے" .
آج اس جدید زمانے میں ساری عیسائی دنیا میں ایسے تہورواں کی کثرت ہے جو اگرچہ عیسائی بزرگوں کے نام پر منائے جاتے ہیں مگر ان کا مذہب سے رشتہ منقطع ہو چکا ہے اور وہ محض ایک معاشرتی کمی اور ضرورت کو پورا کرتے ہیں .
نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کے ممالک کو اس قدر قریب کر دیا ہے کہ دنیا میں ایک گاوں کا نظام نافذ ہو چکا ہے اور ہم جتنا چاہے دامن چھڑائیں کوئی ایسی دیوار کھڑی نہیں کر سکتے جو ہمیں باقی دنیا سے علیحدہ کر دے .
ہم ابھی تک اس بات کا احساس نہیں کر سکے کہ نئی ٹیکنالوجی جب آتی ہے تو نہ صرف ایک تکنیکی علم ساتھ لے کر آتی بلکہ اپنا کلچر بھی ساتھ لے کر آتی ہے . آج ہم فیس بک کی طاقت کا مقابلہ مصر کے ایک مفتی کے محض اس کے حرام ہونے کے فتوے سے نہیں دے سکتے .
اگر ہماری نوجوان نسل اس تہوار کو ذوق و شوق سے مناتی ہے تو کوئی فتوی ان کی راہ نہیں روک سکے گا . ہمیں اس بات کا احساس کرنا پڑے گا کہ ہمارا معاشرہ ایک نوجوان لڑکی اور لڑکے کو شادی سے پہلے ایک دوسرے کو پرکھنے کے جائز اور مناسب مواقع فراہم نہیں کرتا اور آج بھی شادیاں محض اسی طرح ہوتیں ہیں جس طرح تربوز خریدا جاتا ہے یعنی محض رنگ و روپ دیکھ کر اور زیادہ تر والدین کی مرضی سے . اور اس کے بعد "اگے تیرے بھاگ لچھیے
آپ پاکستان میں شادی کرنے میں حائل مشکلات کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو ذرا اپنا سی وی مارکیٹ میں فلوٹ کر کے دیکھیں آپ کو مرد اور برسرروزگار ہوتے ہوئے ذلت کے ان مراحل سے گذرنا پڑے گا کہ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے لڑکیوں کی حالت زار کئی گنا بد تر ہوتی ہے . ذات پات ، برادری ، شرح آمدنی ، شکل صورت اور جہیز وغیرہ کے مسائل اس معاملے کو مزید تلخ بنا دیتے ہیں . مجھے یقین ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان سے عزیز بیٹی کی شادی حضرت علی سے کرتے ہوئے ان کی سالانہ آمدنی کا گوشوارہ سامنے نہیں رکھا ہوگا حالانکہ ہم اس مذہب کے ماننے والے ہیں جو انسان کی جبلی ضروریات کے نکاس کا جائز راستہ فراہم کرتا ہے اور سن بلوغت پر شادی کو ترجیح دیتا ہے .
جواب دیںحذف کریںاسپین میں پادریوں نے عرب کلچر کی یلغار روکنے کے لئے اپنے جوشیلے مذہبی جانثاروں کو تیار کیا کہ وہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر کے اپنے مذہب اور کلچر کو نمایاں کریں چناچہ فلورا اور یولوگوس کا مشہور واقعہ ہوا جس میں فلوارا نے مرنے کے بعد عیسائی شہید کا رتبہ حاصل کیا اور اس کی شہادت کے بعد اس کی روحانی طاقت کے بارے میں غیر معمولی کہانیاں مشہور کی گئیں . مگر یہ تحریک عرب کلچر کے بڑھتے ہوئے سمندر کے سامنے محض ایک تنکوں کی دیوار ثابت ہوئی .
کیا آج ہم اسی طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کر رہے کہ ہمارا رد عمل پچھلی تقریبا کئی دہائیوں میں (proactive) ہونے کی بجائے ری ا یکٹو ہے اور اس طرح ہم اپنے دشمنوں کو موقع دیتے ہیں کہ وہ ہم پر رفلیکسو کنٹرول کا مظاہرہ کرے جس طرح وہ کر کے ہم سی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کراتا ہے .
ہم نے آج بھی سائنس اور ٹیکنالوجی سے منہ موڑ رکھا ہے اور اپنے شاندار ماضی میں گم ہیں اور اس بات کا احساس نہیں کرتے کہ مسلمانوں کی جو فتوحات نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم اور حضرت خالد کی وفات کے بعد ہوئیں ان میں مسلمانوں کی ٹکنالوجی میں دشمن پر فوقیت ایک فیصلہ کن عنصر تھا . آج سوال ہاورڈ کا ایک پروفیسر کرتا ہے مگر اس کا جواب جدید علم و حکمت سے نابلد مذہبی رہنما دیتا ہے . اگر ہم اپنی سوچ اسی طرح رکھنا چاہتے ہیں تو تاریخ بہت سفاک استاد ہے .
ميرا تبصرہ کہاں گيا ؟
جواب دیںحذف کریںصرف اتنا بتا ديجئے کہ اس میں کيا خرابی تھی تاکہ میں اس بلاگ پر آنا چھوڑ دوں
عبداللہ:: جی یہ تحریر اسی لیے چھوٹی سی رہ گئی ہے کہ واقعہ کے علاوہ تقریباً نقص امن کے شبہ پر حذف کر دیا تھا میں نے۔
جواب دیںحذف کریںراشد کامران:: حضور کمال تو آپ نے کیا ہے، بس ایک ہی جملے میں ساری بات کہہ ڈالی، استاد تو جناب آپ ہیں!!!۔
جعفر:: وہی تو یار، میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ یوم مرزا منانا ہی چاہیے۔ بلکہ آج ہی منانا چاہیے، کیونکہ مرزا اسداللہ خاں غالب کی آج یوم پیدائش ہے، ہے کسی کو خبر۔۔۔۔ ؟چھوڑو بھی یار۔۔۔ ویلنٹائن ڈے پر ہم تنقیدی تحریریں تو ضرور لکھ دیتے ہیں مگرمجال ہے کہ آج کچھ مرزا بارے کچھ پڑھنے کو ملا ہو؟
کہیں تم سہراب مرزا کی بات تو نہیں تھے کر رہے؟ ھاھاھاھا
محمد ریاض شاہد:: کافی گہری نظر ہے آپکی۔۔۔۔۔ اب کیا کہوں کہ کس کس پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔ خوش رہیے :)
راشد کامران:: پسندنے کا شکریہ جناب،
خرم:: بھئی مجھے تو آپ کا تجزیہ کافی پسند آیا۔ آپ نے جتنے بھی سوالات اٹھائیں ہیں وہ کافی بھاری بھر کم ہیں۔ مطلب میرے خیال میں ہمیں سب سے پہلے تو یہ جاننا ہو گا کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ مغربی تہذیب سے جو ہم اتنے متاثر ہیں، یہ فیصلہ کر پائیں کہ ہمیں کیا اپنانا ہے اور کیا رد کرنا ہے؟ یعنی یہ کہ کیا جو چیزیں ہم رد کرنے جا رہے ہیں اس کا متبادل ہمارے پاس موجود ہے؟ اور اگر ہے تو اس کو اپنانے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟ کیا ہم ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے بھی قابل ہیں؟ شاید یہ سوالات آپ والے سوالات سے بھی زیادہ تلخ ہیں، حقیقت شاید بہت تلخ ہے جس کا سامنا کرنے کی جسارت شاید ہی ہم کر پائیں۔
جواب دیںحذف کریںسعدیہ سحر:: بلاگ پر خوش آمدید، بہت شکریہ جی کہ آپ کو تحریر پسند آئی۔ کیا مشکل پیش آ رہی ہے اردو میں تبصرہ کرنے میں؟ شاید آپ وہ ایڈیٹر کا استعمال کرتی ہیں جو بعض اوقات جواب دے جاتا ہے۔ یہ بلاگ سپاٹ کے چونچلے ہیں جی، اب دیکھیں افتخار صاحب الگ سے خفا ہیں، حالانکہ میرا کوئی دوش نہیں اس میں۔
ڈفر:: ھاھاھا، یہ بھی ٹھیک ہے :)
ریاض شاہد صاحب:: جناب بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے کافی تفصیل کے ساتھ بہت اعلٰی باتیں پیش کیں ہیں۔ سوال وہی ہے جو خرم صاحب کے تبصرے میں بھی ہیں اور جواباً میں نے بھی عرض کیے کہ ہم کتنی حد تک تیار ہیں اس بارے؟ اور یہ بھی کہ کبھی ہم نے ان خامیوں یا برائیوں پر بھی غور کیا ہے جن کا سامنا ہم نہیں کر سکتے؟ ری ایکشن تو ہماری گھٹی میں پڑا ہے جناب، بات نا بات پر شور مچا دینا ہمارا وطیرہ ہے ہی اور اگر ایسا نہ کریں تو اور کیا کریں؟ ظاہر ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ آخری پیرا ساری بات کہہ جاتا ہے کہ ہم جب تک سائنسی و تکنیکی تعلیم سے منہ موڑے کھڑے رہیں گے، تو ہمارے لیے ایسے تلخ سوالات ابھرتے ہی رہیں گے۔
یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںافتخار اجمل صاحب:: اوہ۔۔۔۔ انکل ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ میں آپ کا تبصرہ حذف کروں۔ جناب اب یہ کہہ کر کیوں زمین میں گاڑ رہے ہیں کہ میں آپ کو خرابی بتاؤں اور پھر یہ کہ آپ میرے اس بلاگ پر آنا ہی چھوڑ دیں۔ یقین کیجیے، آپ کے الفاظ سے بہت دکھ ہوا، آپ حکم کریں صاحب،بزرگ اگر ایسی باتیں کہیں گے تو اس سے تو اچھا ہے کہ ڈوب مریں ہم۔
جواب دیںحذف کریںبلاگ سپاٹ تو آپ نے بھی استعمال کیا ہی ہے اور میرے خیال میں ابھی بھی آپ کا انگریزی بلاگ بھی بلاگ سپاٹ پر ہی ہے تو یہاں تبصرہ داخل ہونے میں کچھ قباحتیں ضرور ہیں، بعض اوقات یہ مسئلہ کر جاتا ہے۔جیسے وہ سعدیہ سحر صاحبہ کو ابھی مسئلہ ہے شاید اردو ایڈیٹر استعمال کرنے میں۔
اب میں نے اس تبصرے سے پہلے ایک تجرباتی تبصرہ کر کے اسے ایڈمن ڈیش بورڈ سے ڈیلیٹ بھی کر دیا ہے، دیکھیں وہ نشان چھوڑ گیا ہے کہ یہ تبصرہ ایڈمنسٹریٹر نے ڈیلیٹ کر دیا، تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ میں تبصرے حذف کروں، اور خاص کر آپ کا۔ آج تک کوئی تبصرہ ڈیلیٹ نہیں کیا میں نے، ماسوائے ایک دو اشتہاروں پر مبنی تبصروں کے، وہ کوئی چھوڑ گیا تھا۔
مجھے نہایت افسوس ہے کہ بلاگ سپاٹ کی وجہ سے آپ کا تبصرہ ضائع ہو گیا، اگر وہ محفوظ ہے آپکے پاس تو مجھے ای میل پر ارسال کر دیں، ابھی شائع کر دیتا ہوں میں۔ یقین کیجیے اس میں میرا کچھ دوش نہیں ہے۔
امید ہے بلاگ سپاٹ کی کوتاہی پر درگذر فرمائیں گے اور مستقبل میں اگر تبصرہ کرنے میں دشواری محسوس کریں تو وہ تبصرہ مجھے ای میل پر ارسال کر دیا کریں، میں خود پوسٹ کر دیا کروں گا۔
ہم نے جو کہنا تھا وہ اپنے بلاگ پر کہہ چکے ہیں
جواب دیںحذف کریںیوم مرزا، مرزا جٹ والے مرزے کے نام پر منایا جائے گا۔۔۔
جواب دیںحذف کریںعمر احمد بنگش صاحب ۔ السلام عليکم
جواب دیںحذف کریںمیری وجہ سے آپ کو کوفت ہوئی اس کيلئے ميں معافی کا خواستگار ہوں " گر قبول اُفتد زہے عِز و شرف "۔
ميرا تبصرہ کچھ يوں تھا
خرابی نام میں نہيں بلکہ کام ميں ہوتی ہے ۔ ويلنٹائن ۔ ہير ۔ رانجھا ۔ سہتی ۔ مراد ۔ سسی ۔ پنوں ۔ سوہنی ۔ مہينوال ۔ صاحباں ۔ مرزا ۔ ليلٰی ۔ مجنوں ۔ شيريں ۔ فرہاد ۔ وغيرہ کی کہانياں کہاں تک حقيقت ہيں اس میں بہت اختلاف پايا جاتا ہے ۔ اگر اِن کہانيوں میں کوئی حقيقت ہے بھی تو جو کچھ اُن لوگوں نے کيا اُس کا انعام یا سزا وہ پائيں گے مگر اُن کا نام لے کر جو خرافات عصرِ حاضر میں کی جاتی ہيں اس کی جزا کرنے والوں ہی نے پانا ہے
ہير وارث شاہ کے نام سے جو شاعری ہے وہ شاعر کے ذہن کی تخلیق ہے اس کا حقيقت سے کم ہی تعلق ہو گا ۔ ويسے ميں عرض کر دوں کہ ہير کو جھنگ کے علاقہ میں ايک ايسی عورت سمجھا جاتا تھا جو شادی کے بعد کسی مرد کے ساتھ بھاگ گئی تھی
میں نے بلاگسپاٹ اس وقت چھوڑ ديا تھا جب يہ گوگل بنا تھا۔ کيونکہ پہلے میں اس کی ہر چيز اپنی مرضی کے مطابق ڈھال ليتا تھا جس کی وجہ سے قارئين و مبصرين کو بھی بہت سہولت تھی جو ختم ہو گئی ۔ چنانچہ ميں نے اپنا بلاگ ورڈپريس پر منتقل کر ديا تھا ۔ پھر اسے ورڈ پريس پر انگریزی کيلئے مختص کر ديا اور اُردو کا عليحدہ بلاگ بنايا جو اب ميری اپنی ڈومين پر ہے
خرم ابن شبیر:: جی جناب وہ دیکھا تھا میں نے آپ کے بلاگ پر۔ اس کا ربط اس تحریر سے قائم کرنے کے لیے لنک بھی فراہم کیے دیتا ہوں۔
جواب دیںحذف کریںhttp://nawaiadab.com/khurram/?p=682
جعفر:: ارے یار تو تو سیریس ہی ہو گیا ہے :)
افتخار اجمل صاحب:: شکریہ جناب کہ آپ تشریف لے آئے۔
جی بالکل ایسا ہی ہے کہ کام یا کسی بندے کا فعل ہی اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔
یہ تو بات درست ہے کہ شاعر کچھ ناں کچھ تو واقع پر اثر انداز ضرور رہا ہو گا، لیکن جناب پھر تو یہ بھی درست ہے کہ ہم تاریخ سے نابلد ہیں۔ پہلے جو سوال اٹھائے گئے تھے ان میں ایک بھی تھا کہ ہم حقیقت کا سامنا کہاں تک کر سکتے ہیں؟ اور کیا حقیقت لکھی جاتی ہے، اب تاریخ جو ہمیں میسر ہے پڑھنے واسطے تو یقیناً اس میں بھی کافی حد تک فرق ہو گا۔ یعنی ہم مخلص نہیں ہیں، آپ بھی سائنس کے طالبعلم رہے ہیں تو یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اخلاص اولین شرط رہی ہے کسی بھی کامیابی کے لیے۔
۔۔۔ بلاگ سپاٹ پر مسئلے پیش آ رہے ہیں، شاید اس کی وجہ یہ نئی تھیم نہ ہو؟