پکوڑے، اخباروں پر
خالد حسن (مرحوم) نے ایک اخباری کالم میں کسی مشہور و معروف شخصیت کا کہا جملہ کسا تھا کہ، "اخبار والوں کی باتوں پر برا نہیں منانا چاہیے، ان کے کالم صبح کو پڑھے جاتے ہیں اور شام میں ان پر پکوڑے کھائے جاتے ہیں۔" درست ہی ہے، کیونکہ ہم نے تو یہی دیکھا۔ اور میری ناقص رائے میں جب سے اخبار والوں نے یہ مقولہ پڑھا ہے، اخباروں میں چھپنے والے مواد پر کچھ توجہ دینا چھوڑ دیا ہے۔
کراچی میں قتل و غارت کا اثر یہاں ہزارہ میں بھی پہنچا ہے، روزانہ دو چار لاشے اٹھتے ہی ہیں۔ صبح کو لاشہ پہنچتا ہے، دوپہر کو جنازہ اٹھتا ہے اور شام میں مقامی اخباروں کے نمائندے مقتولین کی تصویریں اٹھائے انٹرنیٹ کیفوں پر پھرتے نظر آتے ہیں۔
وہ شیراز کی تصویر تھی، اخباری نمائندے نے بتایا کہ کل شام وہ کراچی میں "نامعلوم" افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا۔ تصویر تو میں نےدوست کے نیٹ کیفے پر سکین کر دی، نمائندے کے اصرار پر شیراز کی تصویر کے اردگرد ماحول کے پھول بوٹے کاٹ ڈالے۔ اب ضرورت بھی کیا تھی ان کی۔ خیر، خبر کی تفصیل نمائندے نے وہی لکھوائی جو اکثر پڑھتے رہتے ہیں، مقتول مزدوری کے لیے کراچی میں رہائش پزیر تھا اور گزشتہ شام ایک معروف سیاسی جماعت کے کارکنوں کی دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔ باقی کی تفصیل اس کے پسماندگان کی تھی جو ایک بیوہ اور دو بچے تھے۔ عوام میں غم و غصہ کی لہر کا تذکرہ الگ سے کیا گیا اور مقامی رہنماؤں نے شدید مذمت بھی کی تھی۔
خبر ارسال ہو گئی، تصویر بھی نتھی ہو گئی اور "قارئین" اگلی صبح کا انتظار کرتے ہوئے اس دن کی اخبار پر پکوڑے کھا رہے تھے۔ جنھیں کچھ تشفی نہ ہوئی، شام پڑتے ہی ٹی وی سے جڑ کر بیٹھ گئے اور "گوہر" سمیٹنے میں مصروف رہے۔
سیاستدانوں کا میں تذکرہ ضرور کروں گا، وہ قومی اخبارات میں بیان داغتے ہیں۔ اسمبلی میں تقریریں بھی کرتے ہیں اور اس کے بعد منتیں بھی کرتے ہیں۔ دوسرے اپنی منتیں بھی کرواتے ہیں اور حاصل وصول یہ کہ جو نا تھا مان رہا، اب مان گیا ہے اور دونوں جماعتیں مفاہمت جاری رکھنے پر راضی ہو گئی ہیں۔
ڈرامہ ختم ہوا، پکوڑے بھی ختم۔ مبارک ہو کہ روٹھے مان گئے، آپ کی بے جا بے جا ہو گئی۔ آپ کا مفاہمت کا منصوبہ کامیاب رہا، وزیروں کی بروقت حاضری اور ٹیلی فون کام کر گئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی سیاست کاہے کی!!!۔
لیکن حجور، اب ایک منصوبہ اور پیش کیجیے۔ شیراز اس کے خاندان کو واپس دلا دیجیے۔ شیراز کے خاندان اور اس جیسے کئی دوسرے خاندانوں کی بحالی کے لیے کچھ منصوبہ پیش کیجیے۔ غربت کا خاتمہ کریں، غریبوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔
اخباری پکوڑوں پر بھی غور کیجیے، نہ صرف ان پکوڑوں پر جو آپ کھا رہے ہیں بلکہ ان پر بھی جو پکوڑے آپ کو ہر روز اخبارات لفظوں کی صورت کھلاتے ہیں۔
کراچی میں قتل و غارت کا اثر یہاں ہزارہ میں بھی پہنچا ہے، روزانہ دو چار لاشے اٹھتے ہی ہیں۔ صبح کو لاشہ پہنچتا ہے، دوپہر کو جنازہ اٹھتا ہے اور شام میں مقامی اخباروں کے نمائندے مقتولین کی تصویریں اٹھائے انٹرنیٹ کیفوں پر پھرتے نظر آتے ہیں۔
وہ شیراز کی تصویر تھی، اخباری نمائندے نے بتایا کہ کل شام وہ کراچی میں "نامعلوم" افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا۔ تصویر تو میں نےدوست کے نیٹ کیفے پر سکین کر دی، نمائندے کے اصرار پر شیراز کی تصویر کے اردگرد ماحول کے پھول بوٹے کاٹ ڈالے۔ اب ضرورت بھی کیا تھی ان کی۔ خیر، خبر کی تفصیل نمائندے نے وہی لکھوائی جو اکثر پڑھتے رہتے ہیں، مقتول مزدوری کے لیے کراچی میں رہائش پزیر تھا اور گزشتہ شام ایک معروف سیاسی جماعت کے کارکنوں کی دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔ باقی کی تفصیل اس کے پسماندگان کی تھی جو ایک بیوہ اور دو بچے تھے۔ عوام میں غم و غصہ کی لہر کا تذکرہ الگ سے کیا گیا اور مقامی رہنماؤں نے شدید مذمت بھی کی تھی۔
خبر ارسال ہو گئی، تصویر بھی نتھی ہو گئی اور "قارئین" اگلی صبح کا انتظار کرتے ہوئے اس دن کی اخبار پر پکوڑے کھا رہے تھے۔ جنھیں کچھ تشفی نہ ہوئی، شام پڑتے ہی ٹی وی سے جڑ کر بیٹھ گئے اور "گوہر" سمیٹنے میں مصروف رہے۔
سیاستدانوں کا میں تذکرہ ضرور کروں گا، وہ قومی اخبارات میں بیان داغتے ہیں۔ اسمبلی میں تقریریں بھی کرتے ہیں اور اس کے بعد منتیں بھی کرتے ہیں۔ دوسرے اپنی منتیں بھی کرواتے ہیں اور حاصل وصول یہ کہ جو نا تھا مان رہا، اب مان گیا ہے اور دونوں جماعتیں مفاہمت جاری رکھنے پر راضی ہو گئی ہیں۔
ڈرامہ ختم ہوا، پکوڑے بھی ختم۔ مبارک ہو کہ روٹھے مان گئے، آپ کی بے جا بے جا ہو گئی۔ آپ کا مفاہمت کا منصوبہ کامیاب رہا، وزیروں کی بروقت حاضری اور ٹیلی فون کام کر گئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی سیاست کاہے کی!!!۔
لیکن حجور، اب ایک منصوبہ اور پیش کیجیے۔ شیراز اس کے خاندان کو واپس دلا دیجیے۔ شیراز کے خاندان اور اس جیسے کئی دوسرے خاندانوں کی بحالی کے لیے کچھ منصوبہ پیش کیجیے۔ غربت کا خاتمہ کریں، غریبوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔
اخباری پکوڑوں پر بھی غور کیجیے، نہ صرف ان پکوڑوں پر جو آپ کھا رہے ہیں بلکہ ان پر بھی جو پکوڑے آپ کو ہر روز اخبارات لفظوں کی صورت کھلاتے ہیں۔
بلکل ٹھیک کہا عمر بھائی معاشی سیاسی سماجی نقصان صرف ہم شہریوں کا ہے سیاستدان تو اس کو کیش کرتے ہیں ۔۔ کامران اصغر کامی
جواب دیںحذف کریںاب اس تحریر پر دیکھتے ہیں کہ تعصب کا الزام کب لگتا ہے۔۔۔
جواب دیںحذف کریںبس جی ہی سیاست ہے.. اخبار کے پکوڑے، اس کے چٹخارے اور ہم بلے بلے کرتے عوام ... عام بندے کی موت کا کیا ہے.. کولیٹرل ڈیمیج ...
جواب دیںحذف کریںہاں لیکن میرا خیال ہے کہ جب باتیں اس طرح مفاہمت پہ ختم ہوتی ہیں تو معاملہ کا دراصل وقتی حل نکالا گیا ہوتا ہے۔ جو مختلف اقسام کے دباءو کو مد نظر رکھ کر نکالا جاتا ہے۔ چیزوں کو حتمی نتیجے پہ پہنچنا چاہئیے۔ اس طرح کے مفاہمتی روءیے کسی رد عمل میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں کیونکہ یہ وجوہات کو ختم نہیں کرتے۔ پین کلرز لینے سے کینسر کے پھوڑے کا درد کم محسوس ہوگا مگر وہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ وجوہات اپنی جگہ موجود ہیں کچھ دن گذریں گے اور پھر کئ مختلف النسل شیراز اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ آخر عوام اس بات پہ زور کیوں نہیں دیتے کہ مسائل کی صحیح وجوہات کو دیکھا جائے تاکہ بالکل صحیح حل نکالے جائیں۔
جواب دیںحذف کریںبھائی یہ مفاہمت والا ڈرامہ عام ہوگیا ہے اور عوام اس کے عادی ہو گئے ہیں۔۔ ۔
جواب دیںحذف کریںکوئی کان نہیں دھرتا ادھر اب۔۔ ۔
mere watan ki siasat ka haal mat poocho
جواب دیںحذف کریںghiri huee hai tawaif tamash beeno men
"Aur ziada tar siasatdan isi tawaif ki aulad hen"
اچھی پوسٹ ہے۔ زیادہ تر مرنے والے جوان ہی تھے چاہے وہ مزدور ہوں یا دفتری مزدور۔ ہزارہ کے ہوں یا کراچی کے دہشت گردی سے سب ہی متاثر ہوتے ہیں وہ بھی جو پکوڑے بیچتے ہیں، وہ بھی جو کھاتے ہیں اور وہ بھی جو اس اخبار کی ردی چنتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںجعفر جہاں تعصب ہوتا ہے وہیں الزام لگتا ہے۔ جہاں حقیقی فکر و تشویش ہوتی ہے وہ الفاظ سے نمایاں ہوجاتی ہے۔
کامی::: جی تلخ حقیقت، لیکن کوئی مداوا بھی تو ہونا چاہیے۔ کیا اس کا ہمیں فہم نہیں ہے؟
جواب دیںحذف کریںجعفر::: :) میں نے تین بار پڑھی تھی پوسٹنے سے پہلے، اور چار دن پڑی رہی ڈرافٹ کی صورت میں۔
راشد کامران:::کو لیٹرل ڈیمج کا کیا ہے جناب، ہوتا ہی رہے گا، اگر یہ نہ ہو تو چٹنی کا مزہ کہاں سے آئے۔
عنیقہ ناز::: دیکھیے مجھے اعتراض اسی بات پر ہے کہ وقتی حل سیاستدان اپنے مقصد کے لیے نکالتے ہیں، عوام کے لیے ہمیشہ لانگ ٹرم حل چاہیے ہوتا ہے، کوئی ایک بھی تو ایسا معاملہ نہیں ہے ناں جس میں ہمارے سیاستدانوں نے لانگ ٹرم منصوبہ بندی کر رکھی ہو۔
عوام زور نہیں دے سکتے یہاں، یہاں کی عوام صرف زور برداشت کرنا جانتی ہے، چاہے وہ شیرازوں کی موت کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
اسید::: ہاں کان کوئی نہیں دھرتا، صرف جان دیتے ہیں
نامعلوم::: لگتا ہے آپ کافی غصے میں ہیں۔
نعمان::: لیکن افسوس کہ سب پھر مرنے کو تیار رہتے ہیں، ہمیں یہ روش چھوڑنی ہو گی۔
معاشرے کی بے حسی کو آپ نے الفاظ میں ڈھالا ہے اور ہم بھی اسی بے حسی میں مبتلا ہیں۔ چہلم کے روز دھماکہ ہوا، تھوڑی دیر افسوس پھر ۔۔۔۔ پھر ہلاک شدگان کی تعداد اس طرح پوچھنا جیسے کہ ہاکی میں گول پوچھے جا رہے ہیں "کتنے ہوئے؟"۔
جواب دیںحذف کریںکسی چیز کا بہت زیادہ ہو جانا اس کی اہمیت کو کھو دینا ہے بالکل اسی طرح بہت زیادہ خبروں نے بھی ان کی اہمیت ختم کر دی ہے۔
نئے ریٹ پر حصہ طے کرنے کے لئے پکوڑے تلنا ضروری ہوتے ہیں۔ اس کے بغیر بات نہیں بنتی۔ دیکھ لیجئے ایک روز جاتا ہے تو علیحدگی کی دھمکیاں دی جارہی ہوتی ہیں، صلواتیں سُنائی جارہی ہوتی ہیں اور اگلا دن آتا ہے تو مٹھائیاں بٹ رہی ہوتی ہیں، بغل گیریاں فرمائی جارہی ہوتی ہیں۔ کیا مجرم پکڑے گئے؟ اگر نہیں تو پھر امن و امان کے اور صلح گیری کے دعوے کس طرف اشارے کرتے ہیں؟ اب تو جلنا کڑھنا بھی بے فضول ہی لگتا ہے ان باتوں پر کبھی کبھی۔
جواب دیںحذف کریںابوشامل::: وہ ہی تو، افسوسناک بات یہی ہے کہ ہم انسانوں کو اب خبروں اور اطلاعات میں تولتے ہیں، ہیٹی میں زلزلہ ہوا تو اکثر لوگ پہلے پوچھنے لگے، "کیا کہتے ہیں، کتنے مر گئے؟" افسوس صد افسوس، میں تھوڑا سا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ انسانی جانوں کی اب اتنی اہمیت نہیں جتنی انسانی جانوں بارے خبروں یا اطلاعات کی ہے، اور سیاستدانوں کے لیے یہ جانیں صرف خبریں بنانے اور سیاست و حکومت چلانے کا زریعہ، تف ہے ایسی انسانیت پر، بلکہ یہ انسانیت تو ہے نہیں۔
جواب دیںحذف کریں۔۔۔۔
خرم::: درست فرما رہے ہیں جناب، پکوڑے وہ بھی انسانی تیل یعنی خون میں۔ حضور اب کڑھنے تو دیجیے کم از کم!!!!۔