چھتر اور چھترول

عدالت کچہری کا معاملہ تھوڑا ٹیڑھا ہوتا ہے۔ ہم تو یہ سوچ کر دہل جاتے تھے کہ ہمیں بھی کبھی اس معاملہ سے گذرنا پڑے، پہلی بار باقاعدہ عدالت کچہری کا منہ ہم نے ڈومیسائل بنواتے ہوئے دیکھا تھا، دن بھر پھرتے رہے اور پٹواری سے لے کر تحصیلدار اور پھر ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک ہم کئی روپے اور اپنی جان جلا چکے تو ایک کاغذ کا ٹکڑا ہمیں تھما دیا جس کو آج بھی سینے سے لگائے پھرتے ہیں۔


عدالت سے دوسرا واسطہ ہمارا تھوڑی دیر سے جامعہ میں پڑا۔ سوسائٹی یا فیڈریشن کا صدر سیکرٹری پولیس نے گرفتار نہیں کیا اور ہم حوالات سے جڑے کھڑے ہو گئے۔ ان سے ملاقات کرتے اور پھر شام گئے ہاسٹل واپس لوٹتے اور دوسری صبح وکیل صاحب کی میز پر ان سے ضمانت بارے گفتگو میں مشغول رہتے۔ پہلی بار ہمیں درخواست اور وکیل صاحب کا مختیار نامہ بھرنے سے لے کر صدر صاحب کے باہر آنے تک کی تفصیلات سمجھنے میں کچھ مشکل پیش آئی، ورنہ اس کے بعد تو ہمیں جب بھی ضرورت پیش آتی تھی وکیل صاحب کے دفتر میں بغیر درخواست اور مختیار نامہ کے داخل نہ ہوئے۔

سب سے کٹھن کام اس تمام عمل میں جو مجھے محسوس ہوتا ہے وہ گھنٹوں انتظار ہوتا ہے، وکیل، منشی، جج، باری اور تاریخ کا انتظار کافی تھکا دینے والا عمل ہے۔ بعض دفعہ تو ہم ایسے چڑ جاتے کہ عرائض نویس کو اس بات کا بھی طعنہ دے مارتے کہ عمر بڑھ جانے کے سبب اب اس کا قلم بھی کچھ ایسا رواں نہیں رہا۔ جب خود دو چار اس جگہ تھے تو یقین جانیے بہت سکون سے پڑے رہے اور باہر یار دوستوں نے سارے معاملات سنبھالے۔ ہمیں خبر بھی نہ ہوئی اور ہم باہر نکل آئے۔

سب کے لیے ایسا نہیں ہوتا۔ ہم نے تو کبھی پولیس کی مار کھائی نہیں، ہاں ایک تھپڑ ضرور کھایا تھا جو کہ احتجاج کے بعد بھاگتے ہوئے ایک مستعد پولیس اہلکار نے پہلے تو ہمیں دبوچا اور پھر ہمارے کان کے عین نیچے تڑاخ سے ایک تھپڑ رسید کیا تھا اور ہمارے کان گھنٹوں سائیں سائیں کرتے رہے تھے۔ پولیس کی باقاعدہ مار علی وزیر نے ہی کھائی تھی، جس کے سبب عدالت نے پولیس اہلکاروں اور تھانیدار کو معطل کر دیا تھا۔
پولیس بڑی ظالم ہے، اس کا اندازہ ہمیں اسی ایک تھپڑ سے ہو گیا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ دریا کنہار میں گڑھی حبیب اللہ کے پاس صبح ازانوں کے بعد سردیوں میں اکثر پولیس والے موبائل بھر کر مختلف ریمانڈ زدہ قیدیوں کر لاتے، پہلے تو نیم برہنہ کر کے دریا کے یخ پانی میں ڈوبے دیتے اور پھر وہیں پتھر پر چھترول کا عمل شروع کردیتے۔ یہ عمل میں نے ایک ہی بار چوتھی جماعت میں دیکھا تھا اور کئی راتوں تک سو نہیں پایا۔ فرعونیت ملاحظہ کرنی ہو تشدد کرتے ہوئے پولیس اہلکار کے چہرے کو دیکھ لینا کافی ہے۔
زمانہ ترقی کر گیا ہے، آپ کو جنوری کے مہینے میں صبح سویرے، سردی میں پل پر چھپ کر کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں، یو ٹیوب پر سرچ کریں اور چنیوٹ میں پیش آئے واقعہ کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھیں۔ گو اس میں وہ "سرور" نہیں ہو گا لیکن رونگھٹے کھڑے ہونے کی گارنٹی دی جا سکتی ہے۔
واقعہ کا نوٹس لے لیا گیا ہے، اچھی بات ہے لیکن کیا یہ طریقہ درست ہے؟ کیا اس طرح تشدد، اس طرح کے ریمانڈ، اس طرح کی تضحیک چاہے وہ ریمانڈ روم میں ہو یا کھلی فضا میں، جائز ہے؟
وہ ایک دفعہ جامعہ کی تدریسی ویٹرنری ہسپتال میں ایک جج صاحب اپنے کتے کو روٹین چیک اپ کروانے لائے۔ وقت کوئی صبح دس بجے کا تھا، ان کو بتایا گیا کہ آپ کو تھوڑا انتظار کرنا ہو گا کہ یہاں پہلے کیس پر طالب علموں کو تھوڑی بریفننگ دی جائے گی۔ صاحب راضی ہو گئے، فرمانے لگے کہ کوئی بات نہیں۔۔۔ یہاں تو یہ بچے کچھ سیکھ لیں گے۔ وہاں کچہریوں میں میرا انتظار تو قتل کے مجرم کر رہے ہیں، ان سے تو اچھا میرا کتا ہے جو کسی کو جان سے تو نہیں مارتا۔
کیا ایسا رویہ ٹھیک ہے؟

علی وزیر: پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن کا صدر

تبصرے

  1. گمنام4/3/10 03:08

    پاکستانی پولیس کے آگے یو اے ای کی پولیس بلبل ہی لگتی ہے کافی عرصہ پہلے میں اپنے دوست کی دوکام میں بیٹھا تھا کہ وہاں پر لڑائی ہو گئی بعد میں پتا چلا کہ پھینٹی کھانے والا کوئی عام نہیں ایک مجسٹریٹ ہے بس پھر کیا تھا پھڑکانے والا تو نکل گیا ہم بیٹھے تھے تھانے میں ۔ ۔کامران اصغر کامی

    جواب دیںحذف کریں
  2. ویسے مجھے آج تک پتہ نہیں چلا اس ڈومیسائل کا کیا فائدہ ہوتا ہے مجھے بھی اس کی خاطر کافی کھجل خوار ہونا پڑا
    باقی ریمانڈ کی کیا بات کروں یار میرا اپنا چھوٹا بھائی پولیس میں ہے اگر پولیس والوں کو غلط کہوں گا تو میری جان اس سے کون چھوڑواے گا :)

    جواب دیںحذف کریں
  3. ماہرین کا خیال ہے کہ جو بات چھترول سے اگلوائی جاسکتی ہے وہی بات بنا چھترول کے بھی اگلوائی جاسکتی ہے شرط یہ کہ طریقہ درست ہو اور چھترول سے دریافت کی گئی معلومات غیر یقینی بھی ہوتی ہے۔۔ اب ذرا زمین پر آئیں۔۔ نو گھنٹے گرمی میں وی آئی پی ڈیوٹی لگانے والوں سے کیا توقع کریں کہ وہ بڑے پیار سے بڑی چاہ سے ملزموں کو رکھیں گے۔ باقی جی کورٹ کچہری کا مسءلہ کو آپ یوں کریں کہ عدالتی آزادی کا معاملہ بنا دیں۔۔ راتوں رات عدالت لگا کر آپ کے مقدمے کا فیصلہ ہوجائے گا۔۔ یہ لٹکے مقدمے تو پرانی باتیں ہیں۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. محترمی
    بہت عمدہ تحریر ہے
    انداز بیان بھی لاجواب ہے
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    جواب دیںحذف کریں
  5. پولیس سے بڑا حرامی واقعی کوئی نہیں
    ایک ٹرین میں دو بندے سفر کر رہے تھے
    ایک نے پوچھا کیا کرتے ہو
    دوسرے نے کہا فوج میں ہوں
    چھٹی جا رہے ہو؟
    ہاں، میرا بیٹا ہوا ہے
    کتنے عرصے بعد جا رہے ہو
    سال بعد
    پھر تو بچہ حرام کا ہوا
    تو؟پولیس میں بھرتی کروا دوں گا
    --------
    ایک اس سے بھی واہیات ہے
    کہو تو لکھ دوں؟

    جواب دیںحذف کریں
  6. عمر بھائی کیا آپ نے نہیں لکھی؟ خیر، جس نے بھی لکھی ہے، بہت ہی عمدہ ہے۔۔ ۔
    @ڈفر: لکھ دیں جناب، آزادی تحریر ہے یہاں پر بس آزادی عزت کی کوئی گارنٹی نہیں.. .

    جواب دیںحذف کریں
  7. کسی زمانہ میں ميں بھی پوليس والوں کو بہت بُرا کہا کرتا تھا اور اخبار رات ميں اُن کے خلاف لکھا کرتا تھا مگر ۔ ۔ ۔
    پہلا سبق مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے زمانہ ميں ملا ۔ ميں بس ميں بيٹھا واہ چھاؤنی سے راولپنڈی جا رہا تھا ۔ راستے ميں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر پوليس ميں کھڑے تھے ۔ ہم سنگ جانی اور ترنول کے درميان تھے مغرب کا وقت ہو گيا تھا کہ بارش شروع ہو گئی ۔ اب جو اگلا سپاہی نظر آيا تو ميرے ساتھ بيٹھے ايک بزرگ نے ڈرائيور سے کہا "اُستاد جی ۔ اس بيچارے کو بٹھا ليں نمعلوم کب سے کھڑا ہے"۔ بس کھڑی ہوئی اور اُسے بُلا ليا گيا ۔ بيٹھنے کو جگہ نہ تھی ۔ وہ کھڑا ہو گيا اور سب کا شکريہ ادا کيا ۔ اسی طرح وقفے وقفے سے دس پويس والے بس پر چڑھا لئے ۔ اُن سے پوچھا "کب سے يہاں کھڑے ہو؟" تو بتايا کہ "صبح سے بھوکے پياسے کھڑے ہيں کہتے تھے بھٹو صاحب نے گذرنا ہے ۔ ابھی تک تو آئے نہيں"

    دوسرا واقعہ 1990ء کی دہائی کا ہے ۔ ميرے گھر چوری ہو گئی ۔ پوليس کا اے ايس آئی ميرے گھر آ کر ميرا بيان لے کر چلا گيا ۔ کہہ گيا کہ دوسرے دن ايف آئی آر کی نقل لے لوں ۔ دوسرے دن ميں تھانے گيا تو وہاں عجيب سماں تھا ۔ تھانيدار اور اس کے ماتحت افسر آپ ميں جملے کس رہے تھے ۔ جب معاملہ سرد ہوا تو ميں نے وجہ پوچھی ۔ تھانے دار کہنے لگا کہ تين سال بعد پہلی بار مجھے عيد پر چھٹی ملی تھی ۔ ابھی ٹيليفون آيا ہے کہ چھٹی کينسل کر دی گئی ہے اور مجھے فلاں ضلع ميں پہنچنے کا حکم ہوا ہے ساتھ ہی حکم ملا ہے کہ آدھا عملہ عيد پر تھانے پر موجود رہے تو ميں نے ان کی چھٹياں کينسل کر دی ہيں ۔ دو دن بعد عيدالاضحٰے تھی ۔ تھانيدار اپنی ڈيوٹی کو روانہ ہوا تو ميرے پاس انسپيکٹر آ بيٹھا ۔ اُسے ميں نے کہا "آپ لوگوں کی تو نوکری ہی ايسی ہے تو چھٹی کينسل ہونے پر ہنگامہ کيسا ؟" وہ بولا "جناب ہميں معلوم ہوتا کہ چھٹی نہيں ملے گی تو ہم عيد پر اپنے کھانے پينے کا تو کچھ بندوبست کر ليتے ۔ اس تھانے ميں گيارہ پوليس کے اور سات حوالاتی عيد پر ہوں گے ۔ خرچہ ہميں فی حوالاتی دس آنے ملے گا جس ميں اٹھارہ آدمی بھنے چنے بھی نہيں کھا سکتے"۔ ميں نے پوچھا "آپ ميں سے کوئی پکانا جانتا ہے ؟" بولا "ہم سب پکانا جانتے ہيں" ۔ ميں نے کہا "جو پيسے آپ کو مليں گے اُن ميں آٹے کا بندوبست کر ليں ۔ ميں آپ کو گوشت پہنچا دوں گا" عيد والے دس گيارہ بجے ميں جا کر اُسے سات آٹھ کلو گوشت دے آيا ۔ اُس دن کے بعد جو پوليس والا مجھے ملتا بڑے تپاک سے سلام کرتا

    جواب دیںحذف کریں
  8. اچھے برے لوگ تو تمام محکموں میں ہوتے ہیں. سب کو برا کہنا مناسب نہیں

    جواب دیںحذف کریں
  9. ایک کرپٹ معاشرے کی پولس بھی تو ان ہی میں سے ہے!جس طرح عوام کے نام پر آیا پیسہ اوپر والے کھا جاتے ہیں اسی طرح پولس کے نام پر جو تھوڑا بہت ملتا ہے وہ ان کے اوپر والوں کے پیٹ میں چلا جاتا ہے،پھر جاگیرداروں اور وڈیروں نے بھی ان کو اپنا زر خرید غلام بنایا ہوا ہے رہی سہی کثر ان کے سیاست داں پوری کر دیتے ہیں!
    بس ہو کچھ یوں رہا ہے کہ ایک مظلوم دوسرے مظلوم کو نوچ رہا ہے اور کسی کی توجہ اصل ظالموں کی طرف نہیں!

    جواب دیںحذف کریں
  10. میرا خیال ہے کہ اگر میرے ساتھ یہ سلوک ہو تو مجحھے خود کش بمبار بننے کے لئے کسی موٹیوشن کی ضرورت نہیں ۔
    ربا سچیا تُوں تے آکھیا سی
    جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ایں توں
    ساہڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں
    ساہڈا نیب تے عالی جاہ ایں توں

    ایس لارے تے ٹور کد پُچھیا ای
    کیہہ ایس نمانے تے بیتیاں نیں
    کدی سار وی لئی اُو رب سائیاں
    تیرے شاہ نال جگ کیہہ کیتیاں نیں
    کِتے دھونس دھتکار سرکار دی اے
    کِتے دھاندلی مال پٹوار دی اے
    اینویں وِچہ ہڈاں کلپے جان میری
    جیویں پھاہی وِچہ کُونج کُرلاوندی اے
    چنگا شاہ بنایا ای رب سائیاں
    پولے کھاندیاں وار نئیں آؤندی اے

    مینوں شاہی نئیں چاہی دی رب میرے
    میں تےعزتاں دا ٹکّر منگناں واں
    مینوں تاہنگ نئیں محلاں ماڑیاں دی
    میں تے جیونے دی نُکّر منگناں واں

    میریاں منّیں تے تیریاں میں منّاں
    تیری سونہہ جے اِک وی گل موڑاں
    جے ایہہ منگ نئیں پُجدی تَیں ربّا
    فیر میں جاواں تے رب کوئی ہور لوڑاں


    ------فیض احمد فیض

    جواب دیںحذف کریں
  11. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/03/100305_cj_directs_police.shtml
    اچھے کی امید رکھیں!
    اینڈ پٹ اوور فنگرز کراس!

    جواب دیںحذف کریں
  12. تبصرہ نگار غائب ہو گئے ہیں ۔میرے خیال میں میں نادانسگی میں ایک پنجابی نظم پیسٹ کر کے بلاگی دہشت گردی کا مرتکب ہو چکا ہوں یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی میرے بلاگ پر تبصرے کے دوران کسی نامانوس زبان کی شاعری پیسٹ کر دے ۔ میں معذرت خواہ ہوں

    جواب دیںحذف کریں
  13. http://ejang.jang.com.pk/3-5-2010/pic.asp?picname=07_04.gif

    جواب دیںحذف کریں
  14. کامران اصغر کامی::: جی ایسا ہی ہوتا ہے ہر جگہ۔۔۔۔ پیچھے بچ رہنے والا چھوٹتا نہیں آسانی سے۔
    خرم ابن شبیر::: کیا واقعی ایسا ہے کہ آپ کو ڈومیسائل کی افادیت کا نہیں پتہ؟ اور جناب یہ تحریر پولیس والوں پر نہیں بلکہ پولیس کے محکمے پر لکھی گئی ہے۔
    راشد کامران::: جی میں متفق ہوں کہ واقعی ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو پولیس والے خود ہی ایسے الجھے ہوئے رہتے ہوں وہ کیا رحم کریں گے، اشفاق احمد صاحب، اللہ مغفرت کرے کا ایک پروگرام دیکھا تھا، اس میں انھوں نے بتایا کہ ایک ٹرائی ماری تھی انھوں نے کہ وہ یورپ کے "بوبی" جیسا کنسیپٹ یہاں لایا جائے، مگر وہ بھی اپنے ارباب اختیار اور صحافیوں اور حاضرین محفل کی وجہ سے غارت ہو گیا تھا۔
    جعفر::: نہ کر یار۔۔۔۔۔
    ڈفر::: نہیں جناب ایک ہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ کافی غصے میں لکھا گیا ہے یہ تبصرہ۔۔
    اسید::: بھیا یہ میں نے ہی لکھی ہے، اور کوئی حامی جو نہیں بھرتا یہاں لکھنے کو۔۔۔ علی وزیر کا نام آخر میں اس لیے لکھا ہے کہ تحریر میں ایک شخص ہے اس نام کا، اس کا تعارف کروایا ہے۔ اور باقی بھیا تو کافی سیانا ہو گیا ہے، کیا بات ہے کہ آزادی تحریر ضرور ہے مگر آزادی عزت نہیں۔۔۔۔۔ جیتا رہ
    افتخار اجمل بھوپال::: نہیں جناب میں مجموعی طور پر پولیس کو برا نہیں سمجھتا، ایسا ہر گز نہیں ہے۔ ان کی بھی کئی مجبوریا ں ہیں مگر حضور یہ بھی تو بتائیے کہ پولیس کے ہاتھ جو چڑھ جائے تو وہ خدا کیوں بن بیٹھتے ہیں؟ پچھلے دنوں پاکستانیت بلاگ نے ایک سلسلہ شروع کیا تھا، جس میں پولیس مین کو پاکستان کا پرسن آف ایئر قرار دیا تھا، اس مہم کے تحت میں نے بھی اپنے ارد گرد پولیس والوں کا شکریہ ادا کیا، یہ نہایت دلچسپ تھا۔۔۔۔ مجھے اعتراض تو یہ ہے کہ تھانے میں گھسنے کے بعد اگر آپ کا کوئی حوالہ یہ شناخت نہیں ہے تو آپ کے ساتھ برا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ تھانے نہیں ہر جگہ پر ہوتا ہے۔۔۔
    فرحان دانش::: خوش آمدید جناب، بالکل درست فرمایا، سب برے نہیں ہوتے۔
    عبداللہ:: اور غور کریں تو تمام مظلوموں کو مصروف بھی ظالموں نے کر رکھا ہے۔ لنکس شئیر کرنے کا شکریہ
    محمد ریاض شاہد::: ہاں جی شاید ایسا ہی ہے، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مذہبی تقریریں موٹیویٹ کرتی ہیں لیکن زیادہ تر ایسے واقعات ہی وجہ ہوتے ہیں۔ فیض صاحب کی نظم شئیر کرنے کا بہت شکریہ
    ارے جناب یہ کیا کہہ رہے ہیں، یقین جانیے عرصہ بعد یہ نظم پڑھی، بہت شکریہ شئیر کرنے کا۔۔۔۔ امید ہے ایسے ہی رونق بخشتے رہیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  15. جی ہاں مجھے اس کے فائدے کا کچھ پتہ نہیں کیوں کہ پانچ سال ایک دوکان پر شاگردی کی اور فوٹو کاپیر مکینک کہلایا
    اس کے بعد پانچ سال نیم سرکاری ادارے میں فوٹو کاپی میشن آپریٹر رہا
    اور اب کمپیوٹر کا کام ابوظہبی میں کر رہا ہوں مجھے کبھی ضرورت نہین پڑی حالانکہ بنالیا تھا میں نے بھی

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب