لپے کا نیا نام، خیبر پختونخوا

اگر آپ پاکستان میں1990ء سے 2002ء کے درمیانی زمانے میں سکول و کالج میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں تو میں آپ کو جانتا ہوں!۔ اسی زمانے میں، میں بھی سکول اور کالج میں رہا اور مجھے پتہ ہے کہ آپ کے سکول و کالج میں بھی ایک بد عادت عام رہی ہو گی، جسے "نام بگاڑنا" کہا جاتا ہے۔ اس زمانے کے علاوہ کسی زمانے میں کسی نے بھی تعلیم حاصل کی ہے تو وہ اگر یہ کہے کہ وہ "شرافت"، "ادب" اور "تمیز" کا زمانہ تھا تو میں اس بارے کچھ نہ کہوں گا۔

خیر، یہ نام بگاڑنے کا قضیہ بھی دلچسپ ہوتا تھا۔ دلچسپ ایسے کہ کسی سے آپ کی خار ہے، آپ کسی کو ناپسند کرتے ہیں یا پھر کسی بھی شکل میں اگلے کو تھلے لگانا چاہتے ہیں، اس کا نام بگاڑ دیجیے۔ متعلقہ شخص کی جسمانی یا پھر ذہنی کمزوری اس میں نہایت مددگار ہوسکتے ہیں۔ کسی کو اس حوالے سے مجروح کرنے کا یہ سب سے آسان زریعہ ہیں ورنہ اگر آپ کچھ "زیادہ ہوشیار" ہیں تو اس کی زات، مذہب، عادت یا پھر والدین میں سے کسی کے حوالے سے نفسیاتی مات دے دیں۔
یہ نام بگڑ جائے تو متعلقہ بندے کی شناخت بن جاتا ہے، جیسے اسی زمانے کے ایک مجروح کو میں اچھی طرح جانتا ہوں، نام تو اس کا شہاب تھا، اس کے ڈومیسائل، شناختی کارڈ وغیرہ پر نام اب بھی شہاب ہی ہے لیکن وہ "لپے" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لپے کو لپا کیوں کہا جاتا تھا؟ اس بارے میری معلومات ندارد ہیں لیکن اگر وہ اس کو لپا کہنے والوں کی مٹی کیوں پلید کرتا ہے تو اس بارے سمجھنے کے لیے ماہر ہونا ضروری نہیں ہے۔
لپے کو نہ صرف اس کے ہم عمر بلکہ اس کے اساتذہ بھی لپا ہی کہتے تھے۔ اس کا اثر اس کی شخصیت پر واضع طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ وہ اپنے ہم عمروں کو تو صلواتیں سناتا ہی تھا، اساتذہ کی بھی مٹی پلید کرتے پیچھے نہیں ہٹتا تھا۔ اب بھلے اساتذہ اسے بدتمیز اور بد تہذیب گردانیں، یہ کبھی نہیں مانیں گے کہ اسے یہاں تک پہنچانے والے وہ خود ہی ہیں!!۔
لپے سے ایک بار میں نے پوچھا کہ یہ لوگ تجھے لپا کیوں کہتے ہیں؟ جواب میں لپے نے برا سا منہ بنایا اور خلوص دل سے ایسا کہنے والوں کو ناقابل بیاں گالی سے نوازا اور غصے سے میرا منہ تکنے لگا۔
آج سالوں بعد یہ معمہ بھی حل ہو گیا۔ لپے کے والدین اسے سکول میں تمیزسیکھنے اور تعلیم حاصل کرنے کو بجھواتے تھے لیکن سکول والوں نے اسے لپا بنا دیا۔ اب اگر لپے کا سکول جانے کا مقصد ہی پورا نہ ہوا ہو، تو لپے نے لوگوں کی ماں بہن کو گالی دے کر غصہ تو ٹھنڈا کرنا ہی ہے۔
"صوبہ سرحد" کی بھوکی، ان پڑھ، غریب، دہشت زدہ اور ننگی عوام اگر کسی کو ووٹ دے کر کسی اور مقصد کے لیے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچائے اور پہنچنے والا "نام " پر سودے میں مصروف ہو جائے تو عوام تو آخر ایک دن لپا بنے گی ہی۔۔۔۔! اس میں اچنبھے کی کیا بات؟ غصہ تو کرے گی اور منہ تو تکے گی ایک دوسرے کا!۔
لیکن، فکر کی چنداں ضرورت نہیں۔ جب لپے کو لپا کہلانے میں کوئی پرواہ نہیں تو آپ کو گالیاں وصول کرنے میں کاہے کا غم؟ یوں یا توں۔۔۔۔۔ یہ لپے تو گالیاں بکتے ہی رہیں گے۔

تبصرے

  1. اس سے بہتر اس بات کا تجزیہ شاید ممکن نہیں تھا. غیر ضروری عوامی خواہشات یا بیان کی گئی عوامی خواہشات پر ہمارے ارباب اختیار کی پھرتیاں قابل دید ہیں.. اور وہ بھی اس امید پر کہ اگلے آنے والے یا والا اس کر روند کر سب کچھ بدل نہیں دے گا :)

    جواب دیںحذف کریں
  2. اچھا تجزیہ کیا. نام بدلنے کی وجوہات کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو “سیاست” ہوگا. اور یہی کچھ ہمیں دیکھنے کو ملا.

    جواب دیںحذف کریں
  3. جعفر4/4/10 09:28

    بس جی آج کل پاکستانی سیاست میں وصیتیں پوری کی جارہی ہیں
    یہ باچا خان کی وصیت یا خواہش تھی
    بھٹو کی وصیتیں ابھی تک پوری نہیں ہوئیں تھیں کہ ساتھ میں بے نظیر کی بھی شامل ہوگئیں۔۔
    پر ایک بڑی حیران کن بات ہے کہ ان ساری وصیتوں میں ہمارا یعنی عوام کا کوئی ذکر نہیں۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. ؀جعفر: کس ۔۔۔ کے لیے یہ حیران کن بات ہے؟

    جواب دیںحذف کریں
  5. جعفر، آپ نے ابھی تک وصیت جاری نہیں فرمائ۔ ایک وصیت نامہ لکھ دیں۔

    عمر، اچھا لکھا، ہمارے محلے میں ایک لڑکی تھی اور اسے لپی کہتے تھے۔ میں اس وقت بحی سوچتی تھی کہ اسے لپی کیوں کہتے ہیں۔ ناموں کو بگاڑنا پچھلے پچاس سالوں کی تو روایت رہا ہے بلکہ اس سے پلہے بھی وجود رکحتا تھا۔ تبھی تو کلاچی بگڑ کر کراچی ہوگیا۔ اور یہ نعرہ تو کانوں میں پڑا ہی ہوگا کہ گنجے کے سر پہ ہل چلے گا، آج نہیں تو کل چلے گا۔ اب ذرا اس میں گنجے کو پہچانیں۔ یا پھر پاکستانی سیاست میں کانا کس کو کہا جاتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. مجھے کوئی لپے يا لپی کر ٹرانسليشن ہی بتا دے چليں کچھ تو نام ہونا ہی تھا صوبے کا تو اب ہو گيا ميں خيبر پر خوش اور پٹھان پختون خواہ پر آپ لوگ خواہ مخواہ پر خوش ہو ليں

    جواب دیںحذف کریں
  7. گمنام5/4/10 03:45

    مباکر ہو جی ۔۔۔۔ نیا صوبہ خیبر پختون خواہ مخواہ کامران اصغر کامی

    جواب دیںحذف کریں
  8. گمنام5/4/10 03:46

    مباکر ہو جی ۔۔۔۔ نیا صوبہ خیبر پختون خواہ مخواہ کامران اصغر کامی

    جواب دیںحذف کریں
  9. راشد کامران:: عوامی خواہشات بھی دلچسپ ہیں کہ پیٹ خالی ہیں لیکن بھاؤلوں کی طرح نام تبدیل کرنے کی خوشی اور کہیں مخالفت میں نعرے لگا رہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیسے کر لیتے ہیں لوگ۔۔۔۔ اب اگر کوئی کہے کہ میاں ایسا کیوں؟ تو کہتے ہیں شناخت تو ہونی چاہیے۔۔۔۔۔ شناخت تو تب بھی نہ ہو گی جب نسلیں تباہ ہو جائیں گی جہالت سے۔۔۔۔۔۔
    محمد اسد:: خوش آمدید جناب، گو میں سیاست کا طالبعلم نہیں رہا لیکن جناب سیاست کی تعریف شاید کچھ اور ہی رہی ہو گی۔۔۔۔ بہتر ہے کہ اب ہم کچھ ایسے کہیں کہ یہ گندی سیاست کی روشن مثال ہے۔
    محمد ریاض شاہد:: بہت نوازش جناب
    جعفر:: وصیتیں پوری کرتے اور گند صاف کرتے اس نسل نے گذر جانا ہے بھیا۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرا میرا ذکر کہاں سے آئے گا؟ ابھی تو اگلوں کا گند ہی نہیں صاف ہو رہا
    عنیقہ ناز:: ہاں سو تو ہے، گلی محلے میں بگڑتے نام کہاں سیاستدانوں میں بھی عام ہیں۔ اپنے شیخ رشید صاحب کی ایک تقریر 97 کے انتخابات کے دوران یہاں ایک جلسے میں سننے کو ملی تھی، شیخ صاحب بہت لائق اور مخلص ہوں گے پنڈی کے لیے، لیکن اخلاقی طور پر کتنے پست ہیں یہ مجھے اس دن پتہ چلا تھا۔۔۔۔۔۔
    اسماء:: ٹرانسلیشن تو مجھے بھی نہیں پتہ جی۔۔۔۔۔۔ چلیں ہم خواہ مخواہ ہی خوش ہو لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
    کامران اصغر:: آپ کو بھی مبارک ہو۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. گمنام1/11/13 20:57

    کیوں جناب نام کی تبدیلی آپ کو پسند نہیں آہی تھی ۔ بھائی جب نام وہی ہوتا تو کو نسی ترقی ہونی تھی ۔ ترقی توبعد میں بھی نہہں ہویی اور اب تبدیلی کا نعرہ لگانے والے
    ابھی فیل دکھایی دیکھتے ہہں۔ نام بدلنا بہت ضروری تھا۔ پنجابیوں کے لیے پنجاب، توپختونوں کے لیے پختون خواہ اور خیبرلگنے سے مزید اچھا ہوگیا۔ خیبرتو ہی پختونوں کی پچان۔ اب کسی کو تکیف تھی یا ہیے۔ تو جی اب بھی برنال ملتا ہے :D

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب