ماضی کی مار، مستقبل کی پھٹکار
میں ابھی تک باوجود کوشش کے ماضی سے باہر نہیں نکل پایا۔
حال کے کسی واقعے بارے سوچتا ہوں تو ڈانڈے ایک آدھ دہائی پیچھے جا کے ملا دیتا ہوں۔ بھاگ کر کتابوں کی آغوش میں پناہ لیتا ہوں تو بھی ماضی میں جھانکنا شروع کر دیتا ہوں۔ حالانکہ یہ کتابیں بیان تو ماضی کا ہیں لیکن چیخ چیخ کر دہائی دیتی ہیں تمھارا تو نہ ماضی ہے اور نہ ہی مستقبل، تم تو حال کے وارث ہو۔
کروں تو کروں کیا، اور بھاگوں تو بھاگوں کہاں؟ میں عجب عذاب میں مبتلا یہ سوچتا پھر رہا ہوں کہ جس حال کو میری وراثت قرار دیا جاتا ہے، وہ تو عرصہ پہلے لوگ گروی رکھ کے چل بسے۔ ذاتی زندگی سے باہر نکل کر مثال دوں تو حال ہی میں ماضی کا مطالبہ، صوبے کا نام تبدیل کیا گیا، قیمت ہمیں بھگتانی پڑ رہی ہے۔ آئے روز ہڑتالوں میں جب جلتے ٹائروں کا دھواں کھانستے گذرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ شناخت بارے خواب تو "بابا" دیکھ گئے تھے لیکن اس کی قیمت "بابے" کی اولاد نے ہم سے وصول کی ہے، بھرے نصیب میں اندھیرے بھر کے۔
مہینہ دو پہلے، جب سے یہاں تھانوں کے باہر دہشت کے پٹاخے پھوٹے ہیں، بی بی جی کی دعاؤں میں ایک نئی دعا کا اضافہ ہو گیا ہے کہ خدا گھر سے باہر جانے والوں کو خیر و عافیت سے واپس لے آئے۔ اب تو صرف یہ دعائیں ہی ہیں کہ جن سے آپ کو حال کا احساس رہتا ہے ورنہ ماضی نے اب حال اور مستقبل بھی اپنے جیسا ہی دکھانا شروع کر دیا ہے ، ایسا اندھیر مچا دیا ہے کہ بس ایسے لگے ہے کہ جیسے وقت ماضی تھا، حال ماضی ہے اور مستقبل تاریک ماضی کا سایہ۔ دعائیں وقت کے ساتھ، ترجیحات کی چھتری تلے بدلتی رہتی ہیں۔ یہ سدا بہار ہوتی ہیں، اور حالات کے مطابق، گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ہر لمحہ کے لیے نئی دعا تخلیق پاتی رہتی ہے۔ ہاں کبھی ماضی کا خیال دعا کے عین بیچ آ جائے تو بس اتنا کہہ دیتے ہیں کہ، "مولا بخش دینا"۔
۔"مولا بخش" عام فہم میں اس ڈنڈے کو کہا جاتا ہے جو استاد طالبعلموں کو "ہانکنے" کے لیے استعمال کرتے ہیں، میرا ماضی ہی اب تک میرا استاد ہے۔ یہ اب بھی مجھے ہانکے جا رہا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ ماضی مجھے روز ہانک کر حال سے مستقبل میں داخل تو کیے جا تا ہے مگر تب کا کیا ہو گا جب مستقبل کا راستہ بھی مسدود ہو جائے گا؟ یہی ماضی، مولا بخش، سختی سے میرے سر پر ٹوٹے گا اور میں سوچتا ہوں کہ تب صرف یہ کہہ دینا کہ "مولا بخش دینا"، کافی نہیں رہے گا۔ ماضی کی مار سے چُور، اور مسقبل کی پھٹکار منہ پر لیے اس وقت کے میرے حال میں کیا کروں گا بھلا؟
حال کے کسی واقعے بارے سوچتا ہوں تو ڈانڈے ایک آدھ دہائی پیچھے جا کے ملا دیتا ہوں۔ بھاگ کر کتابوں کی آغوش میں پناہ لیتا ہوں تو بھی ماضی میں جھانکنا شروع کر دیتا ہوں۔ حالانکہ یہ کتابیں بیان تو ماضی کا ہیں لیکن چیخ چیخ کر دہائی دیتی ہیں تمھارا تو نہ ماضی ہے اور نہ ہی مستقبل، تم تو حال کے وارث ہو۔
کروں تو کروں کیا، اور بھاگوں تو بھاگوں کہاں؟ میں عجب عذاب میں مبتلا یہ سوچتا پھر رہا ہوں کہ جس حال کو میری وراثت قرار دیا جاتا ہے، وہ تو عرصہ پہلے لوگ گروی رکھ کے چل بسے۔ ذاتی زندگی سے باہر نکل کر مثال دوں تو حال ہی میں ماضی کا مطالبہ، صوبے کا نام تبدیل کیا گیا، قیمت ہمیں بھگتانی پڑ رہی ہے۔ آئے روز ہڑتالوں میں جب جلتے ٹائروں کا دھواں کھانستے گذرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ شناخت بارے خواب تو "بابا" دیکھ گئے تھے لیکن اس کی قیمت "بابے" کی اولاد نے ہم سے وصول کی ہے، بھرے نصیب میں اندھیرے بھر کے۔
مہینہ دو پہلے، جب سے یہاں تھانوں کے باہر دہشت کے پٹاخے پھوٹے ہیں، بی بی جی کی دعاؤں میں ایک نئی دعا کا اضافہ ہو گیا ہے کہ خدا گھر سے باہر جانے والوں کو خیر و عافیت سے واپس لے آئے۔ اب تو صرف یہ دعائیں ہی ہیں کہ جن سے آپ کو حال کا احساس رہتا ہے ورنہ ماضی نے اب حال اور مستقبل بھی اپنے جیسا ہی دکھانا شروع کر دیا ہے ، ایسا اندھیر مچا دیا ہے کہ بس ایسے لگے ہے کہ جیسے وقت ماضی تھا، حال ماضی ہے اور مستقبل تاریک ماضی کا سایہ۔ دعائیں وقت کے ساتھ، ترجیحات کی چھتری تلے بدلتی رہتی ہیں۔ یہ سدا بہار ہوتی ہیں، اور حالات کے مطابق، گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ہر لمحہ کے لیے نئی دعا تخلیق پاتی رہتی ہے۔ ہاں کبھی ماضی کا خیال دعا کے عین بیچ آ جائے تو بس اتنا کہہ دیتے ہیں کہ، "مولا بخش دینا"۔
۔"مولا بخش" عام فہم میں اس ڈنڈے کو کہا جاتا ہے جو استاد طالبعلموں کو "ہانکنے" کے لیے استعمال کرتے ہیں، میرا ماضی ہی اب تک میرا استاد ہے۔ یہ اب بھی مجھے ہانکے جا رہا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ ماضی مجھے روز ہانک کر حال سے مستقبل میں داخل تو کیے جا تا ہے مگر تب کا کیا ہو گا جب مستقبل کا راستہ بھی مسدود ہو جائے گا؟ یہی ماضی، مولا بخش، سختی سے میرے سر پر ٹوٹے گا اور میں سوچتا ہوں کہ تب صرف یہ کہہ دینا کہ "مولا بخش دینا"، کافی نہیں رہے گا۔ ماضی کی مار سے چُور، اور مسقبل کی پھٹکار منہ پر لیے اس وقت کے میرے حال میں کیا کروں گا بھلا؟
اٹھارويں ترميم جو منظور ہو گئی ہے خوشی منانے کے ليے کيا يہ کافی نہيں
جواب دیںحذف کریںیار روح افزا کی بوتل لا کے رکھ گھر میں اور ایک ٹینگ کا ڈبہ
جواب دیںحذف کریںگرمی لگے تو استعمالا کر
اور اگر فیر بھی کبھی دل جلے تو اس کے لیے صمد بانڈ کی دو چار ٹیوبیں لا کے رکھ لے
لگا دم مٹا غم
یا ساری قوم کی طرح چرس پی کے بیگانہ ہو جا غموں سے
بے حس بھی نہیں ہوا جا سکتا۔ لیکن بہت حساس ہونا بھی بہت کربناک ہوتا ہے۔ سوچوں کے دھارے بھی عجب اذیت ہوتے ہیں۔ اور روکے نہیں رکتے۔
جواب دیںحذف کریںبھائی صاحب ۔ ٹينگ نہ پينا ۔ اگر دھويں سے بچ گئے تو ٹينگ سے گلا خراب ہو جائے گا
جواب دیںحذف کریںاسماء بی بی: جی اسی کے ثمرات سے فیض یاب ہو رہے ہیں آجکل۔۔۔۔۔ آج ایبٹ آباد میں سات ہلاکتیں ہوئیں ہیں، کل نا جانے کیا ہو گا۔ :(
جواب دیںحذف کریںڈفر:: لیکن مجھے اب لگتا ہے کہ ان ساری ترکیبوں سے بھی کچھ نی ہونے والا
احمد عرفان شفقت:: بالکل درست فرمایا جناب آپ نے۔۔۔۔۔ اور تحریر کی تہہ تک پہنچے آپ۔ بس یہ ایسے ہی ہے کہ نہ نگلا جائے اور نہ ہی تھوکا۔
افتخار:: جناب ہم غم اور بڑے لوگ ہمارا خون پی ہی رہے ہیں تو ٹینگ کس کو چاہیے؟ ہیں جی۔۔۔
حوصلہ رکھ لالہ صوبے ایوے تے نیں بن دے ۔
جواب دیںحذف کریںیہ سب تو کھانااور سونگھنا پڑتا ہے ۔ ہمیشہ کی طرح صبر اور انتظار کر کیا ہوتا ہے ۔ کامران اصغر کامی
بھائی جان آپ ہولے ہولے علامہ راشد الخیری کا خیبری پخوانخواہی ثم ہزاروی ایڈیشن بنتے جارہے ہیں
جواب دیںحذف کریںچئیر اپ مائی ڈئیر۔۔۔
یہ ہنگامے تو ایک طرف، خبروں کے مطابق ترمیم میں کچھ شقوں کے ذریعے حقِ حکمرانی کو بھی چند مخصوص خاندانوں تک محدود کرنے کے لیے خاموشی کے ساتھ کوشش کی جا رہی ہے۔ اب مجھ سے حوالے نہ مانگنا۔ خود ہی گزشتہ چند دنوں کے کالموں کو دیکھ لیں۔
جواب دیںحذف کریںاور حکمرانوں کا رویہ دیکھیں تو ایسا ہے کہ جیسے ہم پر بہت بڑا احسان کر دیا ہو۔ کاش دوسری جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کیا ہوتا تو کم از کم ایسے اقدامات کے خلاف بات کرنے والا تو کوئی ہوتا۔
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
جواب دیںحذف کریںابھی توصوبےکانام بھی تبدیل کردیاہے۔ اب ان کے کیامطالبات ہیں۔ بس اللہ تعالی ہمارےملک پراپنی نظرکرم کردے۔ آمین ثم آمین تاکہ عام آدمی بھی سکھـ کاسانس لےسکے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
کامی صاحب:: جی وہ تو درست ہے، لیکن یقین جانیے یہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس طرح کے سیاسی قتل اس سے پہلے میں نے جامعہ میں دیکھے تھے... ایسے واقعات آپ کو جنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ اللہ بزرگ و برتر کی حکمت سے بہرحال مجھے کبھی انکار نہیں رہا۔۔ :)
جواب دیںحذف کریںجعفر:: اینڈ آئی ایم پلیزڈ مائی ڈئیر دیٹ یو آر ہئیر۔۔۔۔ ود یور لولی کمنٹ :)
محمد سعد:: او یار ہم سے یہ نہیں نگلا جا رہا تو ہمیں دوسری شقوں میں الجھا رہا ہے۔۔۔۔ اور دوسری جماعتوں کا نام بھی نہ لو۔۔۔۔۔ ایویں موڈ خراب ہوتا ہے۔۔۔۔۔ یہ جماعت اسلامی اگر حصہ لے لیتی تو کم از کم صوبہ سرحد میں دیر، مالاکنڈ اور باجوڑ کی نشستوں سے کم از کم اے این پی کو نتھ ڈال ہی دیتی۔۔۔۔
جاوید اقبال:: جناب خوش آمدید، جی صوبے کا نام تو تبدیل کر دیا ہے لیکن ہزارہ اور ڈیرہ اسماعیل خان کی غیر پشتون آبادیاں اس پر خوش نہیں ہیں۔ ہزارہ میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں پر بھروسہ کیا گیا تھا کہ نام کی تبدیلی میں ان کی شناخت کا خیال رکھا جائے گا، تو نواز لیگ اس میں ناکام رہی اور مسلم لیگ ق اب اس معاملے کو کیش کرنے کی کوشش میں ہے۔۔۔۔۔۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔ امید ہے تشریف لاتے رہیں گے۔
بہتر ہوتا کہ مطالبہ کيا جاتا "قابض انگريزوں نے برطانيہ کے مفاد ميں 1901ء ميں صوبے بنائے تھے ۔ اسلئے 1901ء سے پہلے کی صورت بحال کی جائے"
جواب دیںحذف کریںآج مینے اپنے گھر والوں کو بلک بلک کر روتے اور پھر انہی آنسوؤں کے ساتھ ہنستے دیکھا،ہزارہ کےزاہد عباسی کی موت کی خبر نے ہم سب کے کیلجے نوچ لیئے ایک معصوم بچہ جو اپنا پریکٹیکل دے کر نکلا اور خبیث پولس والوں کے ہتھے چڑھ گیا کیپیٹل ٹالک میں اس کی موت کی خبر نے نہ پوچھیں کہ ہمارے دلوں اور ہمارے گھروں میں کیا قیامت برپا کی یوں لگتا تھا کہ ہمارا اپنا بچہ درندوں کے ہاتھوں موت کی بھینٹ چڑھ گیا مگر شکر ہے اللہ کا کہ یہ اذیت ناک کیفیت جلد ہی ختم ہوگئی جب اس بچے کے زندہ بچ جانے کی خوشخبری ملی،اللہ اسے لمبی زندگی عطا کرے اور جو معصوم لوگ اس درندگی اور ذلیلانہ سیاست کی بھینٹ چڑھے ہیں انکی مغفرت اور بخشش فرمائے،آمین
جواب دیںحذف کریںاور ظالم تباہ وبرباد ہوں،ثم آمین
پتہ نہیں کچھ لوگوں کو صوبوں کا نام سنتے ہی غش کیوں پڑنے لگتے ہیں،عجیب عجیب سے نکات اٹھاتے ہیں،مسئلہ صوبے بننا نہیں اصل مسئلہ اپنی اجاراداری اور حاکمیت کے خاتمے ہوجانے کی تکلیف ہے !
جواب دیںحذف کریںبہتر ہوتا کہ مطالبہ کيا جاتا "قابض انگريزوں نے برطانيہ کے مفاد ميں 1901ء ميں صوبے بنائے تھے ۔ اسلئے 1901ء سے پہلے کی صورت بحال کی جائے"
یہ مشورہ دینے والوں سے ایک سوال کیا ہندوستان اور پاکستان کو ایک کردیا جائے؟؟؟؟
اگر کچھ آپٹمسٹک ہو جاؤں تو میرے خیال میں اچھا ہوا کہ یہ پختونخوا والا معاملہ اٹھا اور اب مزید صوبوں کے قیام کے مطالبے زور پکڑ رہے ہیں جو میرے خیال میں بہت اچھا ہوگا۔ اس سے انتظامی لحاظ سے بہتریاں پیدا ہو سکتی ہیں لیکن یہ خیال رکھا جائے کہ یہ تقسیمیں قومی یا نسلی بنیادوں پر نہ ہوں بلکہ انتظامی لحاظ سے بہتری لانے کے لیے ہوں۔ پاکستان میں مزید صوبوں کا قیام بہت ضروری ہے اس سے مختلف صوبوں میں قوم پرستی کے خاتمے اور وہاں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
جواب دیںحذف کریںتحریر آپ کی ہمیشہ ہی کی طرح لاجواب!۔
کچھ سمجھ نہیں آتا ک ملکی حالات کس سمت جا رہے ہیں۔ ایک مسئلے کا حل نظر آتا ہے تو دوسرا مسئلہ سر اٹھا کے سامنے آ جاتا ہے۔ اس کا حل میری نظر میں تو ایک ہی ہے۔ کہ اس ملک کو ان کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلا دی جائے۔ اس کے لیے ایک کڑا آپریشن کیا جانا چاہیے جس میں کسی کو بھی رعایت نہ دی جائے۔ کوئی نون یا قاف یا پی پی یا کسی بڑے بھائی یا بڑی داڑھی کی پرواہ نہ کی جائے۔ ایک صاف شفاف احتساب کیا جائے اور کرپٹ لوگوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ لیکن اس کام کے لیے ملک میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی ضروری ہے۔ کیوں کہ لٹیرے کبھی بھی اپنا احتساب خود نہیں کریں گے۔ بلک اوور مائی ڈیڈ باڈی کی دھمکیوں سے سبھی قائدے قانون کو نو دو گیارہ کرتے رہیں گے۔
جواب دیںحذف کریں