اے وطن کے سجیلے جوانو
میں جب بھی فوج بارے سنتا، پڑھتا، لکھتا یا بولتا ہوں تو دو چار لطیفے ہیں جو زہن میں گھوم جاتے ہیں۔تو یہ تحریر پڑھنے سے پہلے آپ بھی ان میں سے ایک آدھ لطیفہ سن لیجیے، مجھے افاقہ ہو جائے گا۔
بھلے لوگ کہتے ہیں کہ اصل لطیفہ کچھ ایسے ہے کہ"فوجیوں کے دو ہی اصول ہیں: پہلا یہ کہ جو شے ساکن ہو اس پر چونا پھیر دو جبکہ جو متحرک دکھے اسے سیلوٹ ٹھوک دو۔"
اہل زبان سے معافی چاہوں گا کہ یہ الفاظ کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں، جیسے چونا "پھیر" دینا اور سیلوٹ "ٹھوک" دینا، لیکن کیا کیجیے لطیفے کا اصل لطف یہی ہیں۔
اہل زبان سے معافی چاہوں گا کہ یہ الفاظ کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں، جیسے چونا "پھیر" دینا اور سیلوٹ "ٹھوک" دینا، لیکن کیا کیجیے لطیفے کا اصل لطف یہی ہیں۔
نچلی رینک کے سپاہیوں کو ملاحظہ کیجیے، وہ سویرے تڑکے کے بیچ اٹھتے ہیں اور "ڈرل" کے لیے بھاگم بھاگ شروع کر دیتے ہیں۔ ناشتے میں نہ جانے کیا کھاتے ہوں گے لیکن بعد میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ منہ کی ایسے کہ ڈرل سے چھوٹے تو پریڈ اور پھر ایسی دوسری مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی ان کا "اصل" کام شروع ہوتا ہے۔ حکم ملتا ہے، آپ گڑھے کھودیے، گڑھے کی تہہ پر چونا ڈال کر پھر بھر دیجیے۔ گملوں پر چونا پھیریے۔ ٹرکوں، جیپوں وغیرہ کے ٹائروں کو چمکا کر ایک بار پھر چونا پھیر دیں۔ درختوں کے تنوں کو ناپ کے حساب سے ٹھیک تین فٹ اونچائی تک گولائی میں چونا پھیرتے جائیے۔ سڑکوں، راستوں اور پگڈنڈیوں کے دونوں کناروں پر چونا ایسےپھیریے کہ ان پر پھرنے والا یہ سمجھے وہ ناک کی "سیدھ" میں پھر رہا ہے۔
اس کے علاوہ جہاں آپ کو اس روز کے لیے تعینات کیا گیا ہے، وہاں بت بن کر کھڑے رہیے اور جب بھی کوئی پاس سے گذرے، چٹاخ سے سیلوٹ "ٹھوک" دیں۔ سیلوٹ ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کا ہاتھ، آپ کا ماتھا ٹھونکے اور بوٹوں کی دھمک گذرنے والا کا دماغ شل کر جائے ۔ آپ کی بندوق فوجی افسر کو یاد دلائے کہ وہ "فرعون" ہے اور عام شخص کو یہ بندوق ایسے ڈرائے کہ جیسے موت۔ سیلوٹ کا نتیجہ کچھ ایسے برآمد ہونا چاہیے کہ گذرنے والا اپنے دفتر، کام متعلق پہنچتے پہچنتے کسی سدھ بدھ کا نہ رہے۔ میری ناقص رائے میں اکثر فوجی افسران کے دماغ کا سوچنے اورپھر درست انداز میں کام کرنے سے عاری ہونے کا یہی سبب ہے۔ بس ایسی ہی کچھ اور مصروفیات کے بعد یہ نچلی رینک کے اصحاب سوچتے ہوں گے کہ انھیں دن بھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ بھلا یہ کیسا دن تھا، امید ہے ان میں سے اکثر اپنی ان بیوقوفیوں پر ہنستے بھی ہوں۔
فوجی افسران بھی ایسا ہی کرتے ہیں لیکن ان کا حال تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ وہ سوچنے قابل تو تب ہی نہیں رہتے جب ایبٹ آباد کی فوجی اکیڈمی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب صبح صبح آٹھ دس چوندی چوندی سیلوٹوں کی دھمک ان کے دماغ تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد وہ جو بھی کرتے ہیں اپنے کام اور قوم کو چونا پھیرنے اورباقیوں کا دماغ ٹھوکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سمجھنے کے لیے کوئی بھی اچھی سی غیرجانبدار تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیجیے۔
مجھے شرمندگی ہے کہ اس لطیفے سے کئی دوستوں کی دل آزاری ہوئی ہو گی۔ مجھے اس کا بھی دکھ ہے کہ یہ حقیقت ہے اور مجھے سب سے زیادہ افسوس فوجیوں کے اس رویے کا اس دن ہوا تھا جب زلزلے کے تیسرے دن معمولی بات پر توتو میں میں ہوئی اور ایک لیفٹینیٹ نے کرنل کو مخاطب کیا اور میرے بھائی کی جانب اشارہ کرتے ہو کہا، " سر! اس کو اتنی تمیز نہیں کہ ایک فوجی افسر سے کیسے بات کی جاتی ہے؟" کرنل نے گردن کا سریا گھمایا تھا اور میرے بھائی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، "کرنل صاحب ! آپ کے جوانوں کو اتنی تمیز نہیں کہ سویلین سے کیسے بات کی جاتی ہے؟"۔ یہ واقعہ ایک خلا کو ظاہر کرتا ہے، یہ اس دیوار کو ظاہر کرتا ہے جو ہم کیڑے مکوڑے "سویلین" اور سیاست کے جرنیلوں نے اپنے فرعون "جوانوں" کے بیچ کھینچ رکھی ہے۔
جتنا افسوس مجھے تب ہوا تھا اس سے بڑھ کر مجھے خوشی کل ہوئی ہے۔ ایبٹ آباد کے فوجی ہسپتال میں فوجی جوانوں اور فوجی میڈیکل سٹاف کا رویہ نہایت قابل تحسین تھا۔ وہ نہایت مہذب انداز میں پیش آتے ہیں اور آپ کو حتی المکان سہولت فراہم کرتے ہیں اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اسی معاملے ایسا رویہ عوامی ہسپتالوں میں ناپید ہے۔ عوامی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا اکثریت رویہ درست ہوتا ہے لیکن باقی کے لوگ جیسے ڈسپنسر، نرسیں، قاصدین، خاکروب اور سیکورٹی کے افراد کچھ ایسا قابل تعریف رویہ روا نہیں رکھتے۔
سیاست کے جرنیل اور بندوق کی نال میں بندھے فوجی جوان بھی انسان ہیں، وہ بھی سوچتے ہیں لیکن کیا سوچتے ہیں؟ اس کا ثبوت ہماری تاریخ ہے۔ ہمارے اداروں کی دیواریں پھلانگتے فوجیوں کی وثق میں موجود تصاویر ہیں اور ایوان اقتدار میں بیٹھے رہے فرعون ہیں۔ ویسے ہمارے "سویلین" حکمران بھی کسی سے کم نہیں اور بس ایسے سمجھیے کہ اسی موقع پر بالا سطور میں بیان کیا گیا لطیفہ المیہ بن جاتا ہے جب میں سیاستدانوں کے قافلوں میں آگے پیچھے بندوق والوں کو دیکھتا ہوں۔ ان بندوقوں کی نالوں اور گاڑیوں کے ہوٹروں نے سیاستدانوں کے دماغوں کو بھی ایسے ہی بند کر رکھا ہے جیسے فوجی بوٹوں کی دھمک اور چونا پھیرنے کی عادت نے سیاست کے جرنیلوں کے دماغوں کا تیاپانچہ کر چھوڑا ہے۔
جاتے جاتے ایک اور لطیفہ بھی سنتے جائیے، جو مجھے ابھی ابھی موبائل پر موصول ہوا اور یہ تحریر آپ پڑھنے پر مجبور کیے گئے، "دنیا کے تقریبا ممالک کو فوج دستیاب ہوتی ہے۔ پاکستان کا حساب دوسرا ہے، یہاں کی فوج کو ایک ملک دستیاب ہے!”۔
ہاہااہا۔ اچھی ہے۔
جواب دیںحذف کریںواہ صاحب۔ اتنے دنوں کے بعد آمد ہوئی اور تحریر پر بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ بڑے ہوکر بہت بڑے آدمی بنیں گے۔
جواب دیںحذف کریںآپ نے ایک ایسے موضوع کو چھیٹرا ہے جسے ہم نظر انداز کرنے پر مجبور ہیں
جواب دیںحذف کریںلیکن اس کے علاوہ بھی تلخ حقیقتیں ہیں جنہیں ہم کریدنے سے جان بچاتے ہیں
ديکھتے سب ہيں برملا کہنے کی ہمت بہت کم ميں ہے جب اکثريت ميں يہ ہمت پيدا ہو گی تب سب ٹھيک ہو گا ورنہ ۔ ۔ ۔
جواب دیںحذف کریںاچھا لکھا ہے۔ دراصل بلاگنگ کی دنیا کو ایسی تحریریں چاہئیں جو ایک عام شخص اپنے ارد گرد دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے۔ یا پھر وہ جو دوسروں اور خود ہمیں بھی گروم کریں۔ وہ نہیں جو ادب کے شاہکار بنیں۔ انکے لئے بلاگنگ اچھا میڈیا نہیں ہے۔
جواب دیںحذف کریںآپکی اس تحریر کو دیکھ کر یہی یاد آیا۔ میں جب یونیورسٹی میں آنرز یا ماسٹرز کی طالبہ تھی ، تو ایک صاحب نے جو پنجاب سے تعلق رکھتا تھا اور اسکے رشتے دار آرمی میں تھے ایک دن طنزیہ کہا کہ یہ ہے آپکی یونیورسٹی، ذرا ان آرمی کے اداروں کو جا کر دیکھیں، جہاں سے ہم آئے ہیں وہاں کیسی سہولتیں موجود ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپکے اسکولوں اور کالجز کا ملنے والی مراعات کی وجہ سے میری یونیورسٹی کا یہ حال ہے۔
لیکن ایک بات جو مجھے لگتی ہے کہ اقتدار کے مسند پہ جب سویلین ہوتے ہیں تو وہ بھی یہی کرتے ہیں۔ یہ طرز عمل تو فیوڈل نظام کی نشانی ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ جو اہل اقتدار ہیں انکا اہل دفاع کے ساتھ معامل طاقت میں شرکت کا ہے۔ وہ طاقت کے اس اطۃار کو برا نہیں سمجھتے بلکہ یہ سب چیزیں اپنے لئے چاہتے ہیں۔ اس لئے سیاستدانوں کا پورا ٹبر ہر وقت انکے خلاف بولتا ہے لیکن جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو انکا ہر فرد اپنے جرائم کے لئے امیونٹی حاصل کر لیتا ہے۔
اس طرح سے ہمارے معاشرے میں بنیادی طور پہ دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو طاقت چاہتے ہیں اور ، اسکا پورا قبضہ اور اسکا دل دہلا دینے والا اظہار، چاہے وہ خواتین کو بر سر عام برہنہ کر کے بازار میں پھرانا ہو یا شعیب ملک کے ولیمے میں وزیر اعظم کے بیٹے کا ایک عام آدمی کو گھونسہ مارنا ہو۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو ایسے لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں اور انکی ہر نا انصافی پہ آنکھیں بند کر کے کہتے ہیں آپ نے کتنا زبردست کام کیا ہے، مبارک ہو۔ آپکی محنت کی تعریف نہ کرنا بخل ہوگا۔
تو یہ ایک سوچ کی طرز ہے جو ہمارے یہاں ہر جگہ جاری و ساری ہے۔
اچھا میں یہ بہت حیران ہوں کہ انڈیا میں ایک بھی مارشل لاء نہیں لگا آج تک اور سنتے ہیں کہ ہماری طرز کا فیوڈل نظام بھی نہیں ہے وہاں۔ ایسا کیسے؟ جبکہ 1947 تک اکٹھے ہی رہتے، سوچتے تھے۔ یہ بعد میں اتنا تفاوت کیونکر ممکن ہوا ؟
جواب دیںحذف کریںمیرا آج کے پروگرام میں سب سے پہلے تیرے بلاگ پر ایک خبرداری لگانے کا تھا کہ نئی تحریر کیوں نہیں لکھی اور اس پر تجھے کچھ سزائیں سنانے کا ارادہ بھی تھا، پر تو بڑا چلاک بندہ ہے، جو تحریر سے بھی ظاہر ہے، سیدھا سادھا بندے ایسی پیچ دار تحریر کیسے لکھ سکتا ہے جسے پڑھیں تو ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھ میں آنسو ہوں؟
جواب دیںحذف کریںزبردست، بہت عمدہ، اعلی سب لکھ سکتا ہوں، پر کم ہوں گے سارے لفظ۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
جواب دیںحذف کریںبہت جاندارتحریرہے۔واقعی آپ نےایک بہت اہم موضوع پرقلم اٹھایاہے۔ بات یہ ہے کہ افسروں کی ٹریننگ ہی اس طرح کی جاتی ہےکہ جیسےوہ افسرنہ کسی سلطنت کےبادشاہ ہوں۔ اورسپاہیوں کی ٹریننگ میںبھی یہ عمل کارفرماہےکہ ان کی ٹریننگ اس طرح کی جاتی ہے جیسےوہ اس بادشاہ کی رعایاہوں جس نےہرحال میں یس سرہی کہناہےچاہیےافسرکسطرح بھی کرے۔ اللہ تعالی ہم کوصحیح سوچ اورحوصلہ و ہمت عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
جواب دیںحذف کریںبہت جاندارتحریرہے۔واقعی آپ نےایک بہت اہم موضوع پرقلم اٹھایاہے۔ بات یہ ہے کہ افسروں کی ٹریننگ ہی اس طرح کی جاتی ہےکہ جیسےوہ افسرنہ کسی سلطنت کےبادشاہ ہوں۔ اورسپاہیوں کی ٹریننگ میںبھی یہ عمل کارفرماہےکہ ان کی ٹریننگ اس طرح کی جاتی ہے جیسےوہ اس بادشاہ کی رعایاہوں جس نےہرحال میں یس سرہی کہناہےچاہیےافسرکسطرح بھی کرے۔ اللہ تعالی ہم کوصحیح سوچ اورحوصلہ و ہمت عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
عمر آپ نے بہت اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔ میری ناقص رائے میں عنیقہ صاحبہ کا تبصرہ ایک متوازن تبصرہ ہے اور اس سلسلے میں کچھ مزید لکھنے کی ضرورت ہے ۔ میری کوشش ہو گی کہ آئندہ آنے والے دنوں میں فوجی لکھاریوں کی تحریر شدہ کتابوں سے ان کا نقطہ نظر بھی پیش کروں تاکہ ان کا موقف بھی ان اہم مسائل پر ہم سب جان سکیں
جواب دیںحذف کریںعمدہ تحریر ہے، فوج کے بارے میں پاکستان میں رہ کر سچ بتانا نا ممکن ہے. لیکن ایک بات طے ہے کہ جتنا عوام ان کو ٹیکس دیتی ہے اس کا صلہ یہ انکا ہی خون چوس کے لیتے ہیں. جس جنگ میں حصہ لیا شکست کھائی ( جی 65 سمیت) جس معاملے میں ھاتھ ڈالا اس کو ایسا الجھایا کہ ناسور بنا دیا ( بنگلہ دیش ، بلوچستان اور اب فاٹا ) اور انکی عیاشیاں ایسی کہ ملک صرف ان کے لئے فلاحی مملکت..
جواب دیںحذف کریںعارف کریم صاحب:: :)
جواب دیںحذف کریںراشد کامران:: جی بہت شکریہ جناب، بس ہم ہیں کہ جیسے ہیں ویسے ہی رہنے پر تلے ہیں۔۔۔ ;)
شازل:: بلاگ پر خوش آمدید جناب، جی یہ ان تمام اکثریتی تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ اسے نظرانداز کیوں کرتے ہیں، اس کا جواب فوجی بندوقوں کی نال ہی ہے اور کچھ نہیں، جس کے آگے پارلیمان، عدلیہ، صحافت وغیرہ سب وقت پڑنے پر سرنگوں ہو جاتی ہے۔
افتخار اجمل بھوپال صاحب:: جی یہ تو ہے، برملا کہنے سے ڈرنا ایک بات ہے اور جان بوجھ کر چپ رہنا دوسری۔۔۔ اور ہم عوام میں دونوں باتیں موجود ہیں۔
عنیقہ ناز:: دیکھیے اس طرح لکھنا میری مجبوری ہے۔۔۔ مجھے لکھنے کے لیے ایک ہی میڈیا دستیاب ہے اور وہ میرا بلاگ ہے۔۔ سادہ انداز میں لکھوں تو جی میری روزمرہ کی اردو اتنی اچھی نہیں ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جو میں لکھتا ہوں اس کو اپنی سمجھ کے مطابق بہترین اردو گردانتا ہوں اور وہ کیسی ہے یہ آپ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے؟
تو فوجیوں یا فوجیوں کے تعلق داروں سے ہم سب کے کچھ ناں کچھ ایسے ملتے جلتے ہی واقعات ہیں جو ہمیشہ تلخی پر مبنی ہوتے ہیں۔ کبھی کسی "سویلین" اور فوجی کے مابین میں نے ایسا پیش آیا واقعہ نہیں سنا جو نارمل ہو، جیسے ہمارے یا فوجیوں کے آپسی روزمرہ کے واقعات ہوتے ہیں۔
سویلین اہل اقتدار بالکل ایسے ہی ہوتے ہیں، وہ اقتدار میں ایسا ہی کرتے ہیں۔۔۔ دیکھیے اگر ایسا نہیں کرتے تو انھیں یا پھانسی چڑھا دیا جاتا ہے یا پھر ملک بدر۔۔ اس کے علاوہ یہ بات نہایت شرمناک ہوتی ہے کہ وہ فوجیوں کے اقتدار میں آتے ہی ان کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔ فیوڈل نظام بارے میری معلومات تو اتنی نہیں ہیں کیونکہ میرا مطالعہ اتنا وسیع نہیں ہے، لیکن شراکت اقتدار کا یہ طریقہ نہایت عجب ہے، اگر ایسا ہی ہونا ہے تو پھر جمہور، کیا معنی رکھتا ہے؟ تو یہ اس سے بھی تلخ ہے جو اس تحریر میں بیان ہوا۔
رویے بارے یہی ہے کہ مجھے یہ سمجھ بالکل نہیں آتی کہ رویہ تخلیق پانے کے انڈیکیٹر بڑے فرسودہ کیوں ہیں اور اس کا منبع کیا ہے؟ یہ سوچ کہاں سے پنپتی ہے اور اس کو ایسے پروان چڑھنے سے کیسے روکا جائے؟ تھوڑا یا بہت یہ ہر شخص میں رویہ موجود ہے، سیاستدان کیا، فوجی کیا اور عوام کیا!!۔
احمد عرفان شفقت:: یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ جناب۔۔۔ میرا علم بہت محدود ہے۔
جعفر:: بس دیکھ لے بھیے میری چھٹی حس نہایت تیز ہو گئی ہے ;). تحریر پسندنے کا شکریہ
جاوید اقبال صاحب:: ٹریننگ؟ چلیے فوجیوں کی ایسے ہی ہوتی ہو گی، گو مجھے ان کی ٹریننگ دیکھنے کا کبھی موقع نہیں ملا لیکن سیاستدانوں کی ایسی ٹریننگ کون کرتا ہے؟ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی ایسے رویے کا زمہ دار کون ہے اور کئی عام شہریوں کے ایسے رویے کا زمہ دار کون ہے؟ جن کا تذکرہ اس تحریر میں نہیں کیا گیا۔۔۔ تو بات دور تک جاتی ہے جس میں میرا، آپکا اور ہم سب کا گریبان بھی شامل تفشیش ہوتا ہے۔
ریاض شاہد صاحب:: جی بالکل عنیقہ صاحبہ نے نہایت جامع انداز میں اسے بیان کیا ہے اور بالکل اس پر مذید لکھنے کی گنجائش موجود ہے۔۔۔ کنکر پھینکا ہے، آپ سے یہ بھی التماس ہے کہ نہ صرف فوجیوں کا تقطہ نظر بلکہ سرکاری ملازمین اور کئی عام شہریوں کا بھی ایسا رویہ ہوتا ہے اس بارے بھی ضرور لکھیے۔ آپ کی تحریر کا انتظار رہے گا۔
فارغ:: بلاگ پر خوش آمدید جناب، جی وہ تو میں نے بیان کیا ہی ہے کہ ان کا دماغ فوجی سلوٹوں سے شل ہو جاتا ہے۔۔ ;). باقی یہ کہ دفاع ہماری مجبوری ہے اور اسی مجبوری کا فائدہ اٹھانا خوب جانتے ہیں سیاستدان بھی اور فوج بھی۔
مجھے آپکی تحرير سے تھوڑا اختلاف ہے خصوصا يہ کہ نچلے رينک کے فوجيوں کا دماغ سليوٹوں سے شل ہو جکا ہوتا ہے اور دوسری بات يہ کہ مارشل لاء ميں اپنی اور دوسرے ملکوں کی مثال آپ يہ بتائيں کہ کسی فوجی دور حکومت ميں حکومت کا عالمگير سکينڈل کبھی سامنے نہيں آتا جيسے ہی جمہوريت آتی ہے پاکستا ن عالمی چپمپئئن بن جاتا ہے کرپشن ميں حقيقت يہ ہے کہ ڈنڈے کے ذور پر ہی ملک چلتا ہے اور بہترين ڈنڈا مشرف کا تھا
جواب دیںحذف کریںاسماء پیرس:: نہیں، نہیں نچلی رینک کے جوانوں کا دماغ شل نہیں ہوتا، میں نے یہ کہا ہے کہ افسران کا دماغ نچلی رینک کے جوانوں کی سیلوٹوں سے شل ہو چکا ہوتا ہے۔
جواب دیںحذف کریںآپ کے تبصرے کے دوسرے حصے سے میں صرف یہ اخذ کر سکتا ہوں کہ آپ بھی اسی مخمصے کا شکار ہیں جس کا کچھ عرصہ پہلے تک میں شکار رہا ہوں۔
دیکھیے، یہ اتنا سادہ نہیں ہے، مارشل لاء میں مجھے بتائیے احتساب کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟ کون جانتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں کیا ہو رہا ہے؟ فیصلہ سازی کس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ درست ہے کہ وقتی طور پر آمریت نہایت مثبت نتائج دیتی ہے، جیسے کہ ہم ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ جی مشرف نے کنٹرول کیا ہوا تھا، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ وسیع تر تناظر میں یہ نہایت کشیدہ حالات کو جنم دیتا ہے، جیسے دیکھیےایوب خان کے جانے کے بعد حالات مشرقی پاکستان کے حالات ابھر کر سامنے آئے، ضیاء کے جانے کے بعد کے حالات افغانستان میں خانہ جنگی اور پاکستان میں کلاشنکوف و پوڈر کلچر اور اب مشرف کے کرتوتوں کو ہم دہشت گردی اور بم دھماکوں کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔
اچھا یہ بات درست ہے کہ جمہوریت آتے ہی پاکستان کرپشن کا عالمی چئیمپئین بن جاتا ہے۔ تو جی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جمہوریت میں آپ کا کوئی فیصلہ، حکومت کا کوئی فعل چھپا ہوا نہیں رہ سکتا۔ اپوزیشن چٹھہ کھول کر رکھ دیتی ہے، لوگوں کو بندوق کا ڈر نہیں ہوتا۔۔۔۔ آمریت میں یہ ممکن نہیں ہوتا۔۔۔ ڈنڈہ آمریت کی کرپشن کو باہر آنے ہی نہیں دیتا جی، ورنہ آپکا کیا خیال ہے کہ ہمارے ملک میں مشرف دور، ضیاء دور میں کرپشن ختم ہو گئی تھی؟
مشرف تو جی قلندر تھا
جواب دیںحذف کریںسوائے بوتل کے اس نے کوئی کرپشن نہیں کی
یا سمیرا ملک سے تھوڑا افئیر چلایا
یا اپنے سمدھیوں کو ایف ڈبلیو او کے ٹھیکے دیے
یا گندم برآمد کرکے درآمد کی
اور چند سو ملین ڈالر کمائے
اور تو کچھ نہیں کیا اس نے
mashaaAllah Umar very nice, I didn't know that you are such a good writer.
جواب دیںحذف کریںایک قابل فکر تفریق کی طرف اشارہ کیا اپ نے۔ ایسے ہو نہ ہو آپ کے بھائی کو داد دینی چاہیئے!۔
جواب دیںحذف کریںاعلٰی جنا ب !
جواب دیںحذف کریںابھی شیرینگ ٹُو فیس بک ،
aey haey keya kahen apke trhreer or haari fojj ka
جواب دیںحذف کریں