قفس اداس ہے
کبھی آپ جیل گئے ہیں؟ یا آپ نے کبھی قید کا مزہ چکھا ہے؟ یا اور نہیں تو کبھی کرفیو میں کچھ دن اور راتیں تو گذاری ہی ہوں گی؟
اچھا اس بلاگ تک پہنچنے والوں میں سے باقیوں کا تو مجھے نہیں پتہ، میں نے بہرحال "نیم جیل" یعنی حوالات کا مزہ چکھا ہے، قید کو محسوس کرنے کا دلچسپ تجربہ بھی ہوا ہے اور کرفیو میں چند دن اور راتیں بھی گذار چکا ہوں۔ قفس کے یہ تجربات تمام ہوئے تو میں نے اپنے پالتو طوطے آزاد کر دیے تھے۔ میں جان چکا تھا کہ قید سے جو روح پر بن جاتی ہے، یہ نہایت سفاک تجربہ ہوتا ہے۔
جامعہ میں کیے ہنگاموں کے بعد کے واقعات دلچسپ ہیں۔ ہنگامے، منہ پھاڑ کے نعروں اور پھر وینسم کالج کی نویں جماعت کے معصوم مقتول کا غائبانہ جنازہ پڑھ لیا تو میں کافی تھک چکا تھا۔ تھکن سے بے حال اور پچھلی رات جامعہ کے ایک سیکورٹی گارڈ کے ہاتھوں معصوم کے قتل کے غم میں نڈھال جب ہم دوستوں نے کھانا زہر مار کیا تو نیند جو سولی پر بھی آ جاتی ہے، چارپائی پر بیٹھتے ہی آ گھیرا۔ شام کے وقت میرے دوست نے جب مجھےگریبان سے پکڑ کر جگایا تو ہڑبڑا اٹھا، اطلاع ملی کہ جی بس کوئی گھنٹے بھر میں پولیس دھاوا بولنے ہی والی ہے۔ ہاتھ پاؤں پھول گئے اور جب ہوش آیا تو کافی دیر ہو چکی تھی۔ باہر کو بھاگے تو پہلی بار پولیس کے ایک جوان کا تھپڑ اپنے کان کے نیچے رسید کروایا اور چپ چاپ پولیس کے "ڈالے" میں ٹھنس گئے۔ قید کا احساس پولیس کی گاڑی میں جستی چادر کے فرش پر بیٹھتے ہی ہو گیا تھا۔
خیر، قصہ مختصر، صحیح معنوں میں قید کا احساس تو ہمیں رات ایک بجے کے بعد ہی ہوا جب سب جانب خاموشی چھا گئی۔ آہنی دروازہ آپ پر مقفل ہے اور آپ کئی لوگوں کے بیچ ٹھنسے بیٹھے ہیں۔ باہر چاند کی روشنی میں ایک سنتری بادشاہ بندوق تھامے آپ کو تکے جا رہا ہو اور آپ مچھروں سے بھڑتے یہ سوچ رہے ہوں کہ ناجانے آنے والی صبح کیا پیغام لائے گی تو دنیا سمٹ کر اس حوالات کی چار دیواری میں بند ہو جاتی ہے۔ آپ کی سوچ پر پہرہ بیٹھ جاتا ہے اور آپ کی روح، قلیل سوچ کے عین بیچ آپ کے جسم کے اندر بھی گھٹن محسوس کرتی ہے۔ کسی اور کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، میرے لیے یہ نہایت تلخ تجربہ تھا۔
دوسرا حال کرفیو کا ہے، جو غالبا چار دن کے لیے، ڈیرہ شہر میں محرم کے دوران شیعہ سنی فساد کے پھوٹنے پر لگا تھا لیکن قفس میں ہونے کا احساس اور روح کو چبتھی روک مجھے اپنی جامعہ کے "سٹی کیمپس" کے ڈیڑھ ہزار کنال رقبے میںگھومتے ہوئے بھی محسوس ہوئی تھی۔ قفس کی سوچ، گھٹتی روح اور لمحہ بہ لمحہ پھرتے ہوئے دماغ نے ایسا مجبور کیا کہ دوسرے ہی دن جان پر بن آئی۔ رات گئے باہر سڑک پر گشت کرتی پولیس وین اور ایک بکتر بند گاڑی کے باوجود جامعہ کے کیمپس کا مقفل مرکزی دروازہ پھلانگا، سیٹیوں اور پولیس والوں کی غلیظ دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کراچی سے پشاور جانے والی ایک بس کے ساتھ لٹک کر منوں دھول پھانکتے ہوئے پو پھوٹنے سے پہلے پشاور کے بس اڈے میں جا پہنچا۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ میں نے بیوقوفی کی تھی جبکہ میرا خیال تھا کہ میں نے اپنا آپ آزاد کروا لیا تھا۔
ان دونوں حالات میں میری روح کی جو کیفیت تھی وہ بیان کرنے سے میں قاصر ہوں۔ بہرحال اس کا اتنا اثر ضرور ہوا کہ میں نے قفس سے چھوٹتے ہی سب سے پہلے اپنے "پالتو" پرندے آزاد کر دیے تھے۔ سچ کہوں تو وقت گذرنے پر شاید قفس کا اثر اب اپنی روح پر اتنا محسوس نہیں ہوتا جتنا کہ چوتھی جماعت میں سکول سے واپسی پر راستے میں کچہریوں کے پاس، ایک قتل کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ہوا تھا۔ آج بھی میں قاتل کی غصے میں شعلے اگلتی اور مقتول کی پتھرائی ہوئی آنکھیں اور فورا٘ سے پہلے جسم سے پہلے ابلتا سرخ سرخ خون بھلا نہیں پایا۔
اس سارے رونے دھونے کا مقصد یہ تھا کہ ابھی بیٹھے بیٹھے اچانک مجھے "طلعت حسین" کا خیال آیا۔ اس بھلے آدمی نے بھی شاید پہلی بار قید کا مزہ چکھا ہو گا اور اسے بھی اپنے سامنے قاتلوں کی خونخوار اور مقتولوں کی پتھرائی آنکھیں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو گا۔ آہ۔۔۔۔ اس کی روح کی حالت کیسی ہو گی؟ وہ کیا محسوس کرتا ہو گا؟ اسرائیلی سنتریوں کی تضحیک، بندوق کی چبھتی نالیں اور جس کوٹھڑی میں شاید وہ بند ہو، اس کی دیواریں اس سے کیا باتیں کرتی ہوں گی؟ مندرجہ بالا اپنے بیان کردہ واقعات کی روشنی میں مجھے سمجھنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔۔۔۔
اپنی سوچ کی بات کروں تو یہاں تک تو ٹھیک ہے، تھوڑا بہت میں ایسی کیفیت کو محسوس کر چکا ہوں۔ لیکن دو ایک باتیں ہیں جو مجھے تنگ کر رہی ہیں، شاید یہ بلاگ پڑھنے والے قارئین ان کا جواب جانتے ہوں؟
پہلی تو یہ کہ قید اور کرفیو کے دوران روح پر بن جانا ہر زندہ انسان کے لیے لازمی امر ہے، غزہ اور فلسطین کے مسلمان، کشمیر کے نہتے نوجوان اور دنیا بھر میں ایسے کئی مقامات جہاں لوگ سالہاسال سے قید ہیں، وہ کیسے جی رہے ہیں؟ میری تو روح جامد ہو گئی تھی صرف دو ایک راتوں میں اور تیسری رات کے لیے مجھ میں کم از کم ہمت باقی نہ تھی۔
دوسری بات جو اس سے بھی تلخ ہے، یہودیوں یا بنی اسرائیل کی تاریخ دیکھیں تو انھوں نے بحیثیت قوم بہت ہی مشکلات کا سامنا کیا۔ گو ان میں سے تقریبا مشکلات ان کی اپنی پیدا کردہ تھیں۔ ان مشکلات میں خدا کے قہر سے لے کر دوسری قوموں کا دباؤ، قید، غلامی اور عشروں تک بے سر وسامان رہنا شامل ہے۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اس قوم نے خود اپنی روح پر یہ سب کچھ سہا ہے، یہ کس جگرے کے ساتھ باقی کے انسانوں کے ساتھ ایسا کرسکتے ہیں؟ مجھ سے تو اپنے "پالتو" پرندے پنجرے میں نہ دیکھے گئے تھے۔
اچھا اس بلاگ تک پہنچنے والوں میں سے باقیوں کا تو مجھے نہیں پتہ، میں نے بہرحال "نیم جیل" یعنی حوالات کا مزہ چکھا ہے، قید کو محسوس کرنے کا دلچسپ تجربہ بھی ہوا ہے اور کرفیو میں چند دن اور راتیں بھی گذار چکا ہوں۔ قفس کے یہ تجربات تمام ہوئے تو میں نے اپنے پالتو طوطے آزاد کر دیے تھے۔ میں جان چکا تھا کہ قید سے جو روح پر بن جاتی ہے، یہ نہایت سفاک تجربہ ہوتا ہے۔
جامعہ میں کیے ہنگاموں کے بعد کے واقعات دلچسپ ہیں۔ ہنگامے، منہ پھاڑ کے نعروں اور پھر وینسم کالج کی نویں جماعت کے معصوم مقتول کا غائبانہ جنازہ پڑھ لیا تو میں کافی تھک چکا تھا۔ تھکن سے بے حال اور پچھلی رات جامعہ کے ایک سیکورٹی گارڈ کے ہاتھوں معصوم کے قتل کے غم میں نڈھال جب ہم دوستوں نے کھانا زہر مار کیا تو نیند جو سولی پر بھی آ جاتی ہے، چارپائی پر بیٹھتے ہی آ گھیرا۔ شام کے وقت میرے دوست نے جب مجھےگریبان سے پکڑ کر جگایا تو ہڑبڑا اٹھا، اطلاع ملی کہ جی بس کوئی گھنٹے بھر میں پولیس دھاوا بولنے ہی والی ہے۔ ہاتھ پاؤں پھول گئے اور جب ہوش آیا تو کافی دیر ہو چکی تھی۔ باہر کو بھاگے تو پہلی بار پولیس کے ایک جوان کا تھپڑ اپنے کان کے نیچے رسید کروایا اور چپ چاپ پولیس کے "ڈالے" میں ٹھنس گئے۔ قید کا احساس پولیس کی گاڑی میں جستی چادر کے فرش پر بیٹھتے ہی ہو گیا تھا۔
خیر، قصہ مختصر، صحیح معنوں میں قید کا احساس تو ہمیں رات ایک بجے کے بعد ہی ہوا جب سب جانب خاموشی چھا گئی۔ آہنی دروازہ آپ پر مقفل ہے اور آپ کئی لوگوں کے بیچ ٹھنسے بیٹھے ہیں۔ باہر چاند کی روشنی میں ایک سنتری بادشاہ بندوق تھامے آپ کو تکے جا رہا ہو اور آپ مچھروں سے بھڑتے یہ سوچ رہے ہوں کہ ناجانے آنے والی صبح کیا پیغام لائے گی تو دنیا سمٹ کر اس حوالات کی چار دیواری میں بند ہو جاتی ہے۔ آپ کی سوچ پر پہرہ بیٹھ جاتا ہے اور آپ کی روح، قلیل سوچ کے عین بیچ آپ کے جسم کے اندر بھی گھٹن محسوس کرتی ہے۔ کسی اور کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، میرے لیے یہ نہایت تلخ تجربہ تھا۔
دوسرا حال کرفیو کا ہے، جو غالبا چار دن کے لیے، ڈیرہ شہر میں محرم کے دوران شیعہ سنی فساد کے پھوٹنے پر لگا تھا لیکن قفس میں ہونے کا احساس اور روح کو چبتھی روک مجھے اپنی جامعہ کے "سٹی کیمپس" کے ڈیڑھ ہزار کنال رقبے میںگھومتے ہوئے بھی محسوس ہوئی تھی۔ قفس کی سوچ، گھٹتی روح اور لمحہ بہ لمحہ پھرتے ہوئے دماغ نے ایسا مجبور کیا کہ دوسرے ہی دن جان پر بن آئی۔ رات گئے باہر سڑک پر گشت کرتی پولیس وین اور ایک بکتر بند گاڑی کے باوجود جامعہ کے کیمپس کا مقفل مرکزی دروازہ پھلانگا، سیٹیوں اور پولیس والوں کی غلیظ دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کراچی سے پشاور جانے والی ایک بس کے ساتھ لٹک کر منوں دھول پھانکتے ہوئے پو پھوٹنے سے پہلے پشاور کے بس اڈے میں جا پہنچا۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ میں نے بیوقوفی کی تھی جبکہ میرا خیال تھا کہ میں نے اپنا آپ آزاد کروا لیا تھا۔
ان دونوں حالات میں میری روح کی جو کیفیت تھی وہ بیان کرنے سے میں قاصر ہوں۔ بہرحال اس کا اتنا اثر ضرور ہوا کہ میں نے قفس سے چھوٹتے ہی سب سے پہلے اپنے "پالتو" پرندے آزاد کر دیے تھے۔ سچ کہوں تو وقت گذرنے پر شاید قفس کا اثر اب اپنی روح پر اتنا محسوس نہیں ہوتا جتنا کہ چوتھی جماعت میں سکول سے واپسی پر راستے میں کچہریوں کے پاس، ایک قتل کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ہوا تھا۔ آج بھی میں قاتل کی غصے میں شعلے اگلتی اور مقتول کی پتھرائی ہوئی آنکھیں اور فورا٘ سے پہلے جسم سے پہلے ابلتا سرخ سرخ خون بھلا نہیں پایا۔
اس سارے رونے دھونے کا مقصد یہ تھا کہ ابھی بیٹھے بیٹھے اچانک مجھے "طلعت حسین" کا خیال آیا۔ اس بھلے آدمی نے بھی شاید پہلی بار قید کا مزہ چکھا ہو گا اور اسے بھی اپنے سامنے قاتلوں کی خونخوار اور مقتولوں کی پتھرائی آنکھیں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو گا۔ آہ۔۔۔۔ اس کی روح کی حالت کیسی ہو گی؟ وہ کیا محسوس کرتا ہو گا؟ اسرائیلی سنتریوں کی تضحیک، بندوق کی چبھتی نالیں اور جس کوٹھڑی میں شاید وہ بند ہو، اس کی دیواریں اس سے کیا باتیں کرتی ہوں گی؟ مندرجہ بالا اپنے بیان کردہ واقعات کی روشنی میں مجھے سمجھنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔۔۔۔
اپنی سوچ کی بات کروں تو یہاں تک تو ٹھیک ہے، تھوڑا بہت میں ایسی کیفیت کو محسوس کر چکا ہوں۔ لیکن دو ایک باتیں ہیں جو مجھے تنگ کر رہی ہیں، شاید یہ بلاگ پڑھنے والے قارئین ان کا جواب جانتے ہوں؟
پہلی تو یہ کہ قید اور کرفیو کے دوران روح پر بن جانا ہر زندہ انسان کے لیے لازمی امر ہے، غزہ اور فلسطین کے مسلمان، کشمیر کے نہتے نوجوان اور دنیا بھر میں ایسے کئی مقامات جہاں لوگ سالہاسال سے قید ہیں، وہ کیسے جی رہے ہیں؟ میری تو روح جامد ہو گئی تھی صرف دو ایک راتوں میں اور تیسری رات کے لیے مجھ میں کم از کم ہمت باقی نہ تھی۔
دوسری بات جو اس سے بھی تلخ ہے، یہودیوں یا بنی اسرائیل کی تاریخ دیکھیں تو انھوں نے بحیثیت قوم بہت ہی مشکلات کا سامنا کیا۔ گو ان میں سے تقریبا مشکلات ان کی اپنی پیدا کردہ تھیں۔ ان مشکلات میں خدا کے قہر سے لے کر دوسری قوموں کا دباؤ، قید، غلامی اور عشروں تک بے سر وسامان رہنا شامل ہے۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اس قوم نے خود اپنی روح پر یہ سب کچھ سہا ہے، یہ کس جگرے کے ساتھ باقی کے انسانوں کے ساتھ ایسا کرسکتے ہیں؟ مجھ سے تو اپنے "پالتو" پرندے پنجرے میں نہ دیکھے گئے تھے۔
یہ جگرا صرف یہودیوں کا ہی ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔
جواب دیںحذف کریںکہتے ہیں کہ ماں کی بددعا پیچھا نہیں چھوڑتی،بندے کو برباد کردیتی ہے، توہم پرستی کہہ لیں یا قدامت پرستی، میں اس پر یقین رکھتا ہوں، تو ماں سے ستر گنا زیادہ اپنی مخلوق سے محبت کرنے والے کی وعید سے کیسے چھٹکارا مل سکتا ہے؟
جواب دیںحذف کریںمجھے تو یہودیوں کی سنگدلی کی یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔۔۔
ضیاء الحسن خان،
جواب دیںحذف کریںیہ کبہی نہیں سمجہں گے۔۔
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
جواب دیںحذف کریںواقعی قیدتوقیدہی ہوتی ہے۔لیکن اسرائیلی ایسےہیں کہ ان کوکوئی تھوڑی سی تکلیف ہوتومارےدردکےچلائیں گےلیکن جب یہ دوسروں پرظلم کرتےہیں ان کوکچھ نظرنہیں آتا۔
والسلام
جاویداقبال
طلعت حسین بھی آپ ہی کی طرح ایک دناپنی داستان سنا رہا ہوگا
جواب دیںحذف کریںآپ پاکستان میں قید ہوں یا اسرائیل میں بات ایک ہی ہے
دونوں کا رویہ ہم سے ایک ساہوگا۔
میں نے کبھی کسی پولیس والے کو رحم کرتے نہیں دیکھا۔
کيا ياد کرا ديا آپ نے جناب ۔ دن نہيں مہينے گذارے ہيں کرفيوں ميں جس ميں باہر نکلنے کا مطلب بندوق کی گولی يا خنجر کا نشانہ بننا تھا اور ميری عمر اُس وقت 10 سال تھی
جواب دیںحذف کریںیار کیا کمال کا لکھتے ہو تم؟ خدا کی قسم اردو بلاگستان میں ایسا لکھنے والے بہت کم ہوں گے۔ خدا زور قلم میں اور اضافہ کرے۔
جواب دیںحذف کریںbahoot acha likha hai
جواب دیںحذف کریںابوشامل بھائی کی طرح میں بھی صرف تحریر پر ہی بات کروں گا مجھے تو آپ کی تحریر بہت پسند آئی اس وقت مجھے جعفر بھائی کی کہی ہوئی ایک بات یاد آ رہی ہے میں نے جعفر بھائی کو کہا تھا میں کامیڈین بننا چاہتا ہوں
جواب دیںحذف کریںتو جعفر بھائی نے کہا تھا کامیڈین نا بننا لوگ تمہارے دکھ کو بھی مذاق ہی سمجھے گے اور ہنس جائے گے
یہاں بھی یہی ہوا آپ کے ساتھ مجھے آپ کی تکلیف کا احساس نہیں ہوا کیونکہ میں اس کیفیت سے نہیں گزرا لیکن آپ کی تحریر مجھے بہت پسند آئی
جی جناب کیا بات ہے اس تحریر کی، اور کیا یاد دلا دیے ، وہ تو دن میں نے شوگر مل میں دوست کے پاس چھپ کر گزارے تھے ، میرے خیال میں قید سوچ کو کیا جاتا ہے ، آپ ایک دن گھر کے کمرے میں بند ہو کر گزار سکتے ہیں ، لیکن جیل میں نہیں ، کیونکہ جیل میں سوچ قید ہوتی ہے۔
جواب دیںحذف کریںیار اس پوسٹ سے دو باتیں پتا چلتی ہیں
جواب دیںحذف کریںکہ تو بڑا سینسی ٹیو بچہ ہے
اور بڑا چھا رائٹر
حوالات کے تجربے پہ کبھی تفصیلی بحث کریں گے
ابھی تو یہ دیکھ
http://www.wibiya.com/about
ویبیا بھی ایک اسرائلی کمپنی ہے
ڈاکٹر صاحب:: یہودیوں بارے پریشان نہیں ہوں، اپنے بارے پریشان ہونا تو بنتا ہی ہے ناں ;)
جواب دیںحذف کریںجعفر:: ہاں بھیے تیرے والی بات کافی وزنی ہے۔
ضیاء:: بلاگ پر خوش آمدید جناب، وہ نہ سمجھیں تو نہ سمجھیں، ہم کب سمجھیں گے؟
جاوید اقبال:: جی ایسا ہی ہے۔
شازل:: بلاگ پر خوش آمدید جناب، پولیس کا تو نہ ہی پوچھیں۔ اور قید بارے آپ کی رائے سے متفق ہوں
افتخار اجمل بھوپال:: اوہ۔۔۔ کیا کشمیر کی بات کر رہے ہیں آپ ؟
ابوشامل:: شکریہ جناب پسند کرنے کا۔ اور اردو بلاگستان میں اب تو جی بہت ہی کمال کمال لکھنے والے لوگ آ چکے ہیں۔
زین:: شکریہ جی :)
خرم:: تحریر پسند کرنے کا شکریہ جناب اور جہاں تک بات کیفیت کا احساس کرنے کا ہے تو جعفر ہی کہتا ہے کہ جس تن لاگے وہ تن جانے
شاہ جی:: شکریہ شاہ جی اس بلاگ پر تشریفنے کا :) اور یار شوگر مل کا مجھے خیال ہی نہیں آیا تھا وقت پر ورنہ میں بھی نکل جاتا۔ لیکن اچھا ہی ہوا، اگر میں نکل جاتا ٹائم پر تو ایسا دلچسپ تجربہ کیسے کر پاتا؟ :)
ڈفر:: سینسی ٹیو؟ ھاھاھا
اور تحریر پسندنے کا شکریہ۔۔۔۔ حوالات کے تجربے پر ضرور بات کریں گے لیکن کہاں؟ چیٹ پر؟ کیا آپ کا بھی کوئی ایسا تجربہ ہے کیا؟ D:
اور ٹول تو میں ابھی ہٹاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :(