خوف سے آلودہ

اس بلاگ کے قارئین کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں اکثر تحریر اسی وقت چھپتی ہے کہ جب صاحب بلاگ کسی  ذہنی دباؤ کا شکار ہو، اوراگر کوئی تحریر غلطی سے دلچسپ موقع کی مناسبت سے ہو بھی تو اس پر بھی ماتم کا گماں ہوتا ہے۔  گو کہنے کو یہ صلہ عمر ہے، مگر قابل رحم حد تک یہاں صرف عمر کا  تاریک صلہ ہی بیان کیا گیا۔ شازونادر ہی کوئی تحریر ایسی ہو جو میری زندگی کے دلچسپ اور مزیدار واقعات کا احاطہ کرتی ہو، حالانکہ یقین کیجیے، میری زندگی دلچسپ واقعات سے بھرپور رہی ہے۔  ایسی ہی حالت میں بہرجال میں پھر حاضر ہوں۔
کسی ڈینیل کارنیگی قسم کے ماہر نفسیات نے لکھا کہ غصہ، ذہنی دباؤ یا اسی قماش کی کسی  بھی حالت میں بہترین حل یہ ہے کہ بندہ الٹی گنتی گنے۔ بدقسمتی سے ایسا کرنا میرے لیے انتہائی مشکل ہے، ایسے وقت میں الٹی کیا مجھے تو سیدھی گنتی بھی یاد نہیں رہتی۔ اس سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہے کہ دباؤ یا غصہ کی حالت میں مجھے اپنے اعصاب پر قابو نہیں رہتا۔  ہاں، خوف بہرحال واحد کیفیت ہے جو مجھے ایسی حالت میں بھی کسی انتہائی اقدام سے دور رکھتی ہے، اور غصہ میں بھی میں زیادہ تر بس اندر ہی اندر بھنبھنا کر رہ جاتا ہوں۔
مدعا یہ تھا کہ لوگ شاید غصے یا ذہنی دباؤ میں گنتیاں گنتے ہوں، لیکن میں غصے کی حالت میں صرف غصہ کھاتا ہوں یا پھر مجبوراََ خوف کھاتا ہوں۔ مثلاََ کسی بھی شخص  پر غصہ ہے تو خدا کا خوف آڑے آ ہی جاتا ہے، ورنہ اگلے بندے کی عمر،  حیثیت، علم، زبان اور جسمانی قوت/شر کا خوف کہیں گیا نہیں۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ مجھے سب سے زیادہ خوف ان اشخاص سے آتا ہے جو ایک لمحے میں آپ کی عزت نفس تار تار کر دیں، اس میں ہر طاقتور، کمزور، عالم، جاہل، چھوٹے، بڑے، مرد، خواتین غرض ہر طرح کے افراد شامل ہیں۔
افسوسناک پہلو جو اس تحریر کا موجب بنا کہ پچھلے کچھ عرصہ (جامعہ سے فراغت کے بعد سے) میں نے غصہ بہت کھایا ہے، اور اس سے بھی زیادہ یہی کڑوا غصہ خوف کی مدد سے پیا ہے۔ اب خوف میری نس نس میں بھرچکا، اتنا خوف کہ بتانا محال۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ اب مجھے تقریباََ ہر انسان سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ بینکوں، ڈاکخانوں، سرکاری محکموں کے دفاتر، مساجد جیسے بے ضرر مقامات پر موجود انسانوں سے خوف ہے، تھانے، کچہری کی تو بات ہی مت کیجیے۔ کلرکوں کے بدتمیز رویے کا خوف اور اپنے دفتر میں موجود لوگوں کا خوف۔ یقین جانیے، میں اس خوف کے ہاتھوں اب اتنا سٹپٹا گیا ہوں کہ اب اپنے باس سے بھی بات کرتے ہچکچانے لگا ہوں۔
اب میری گذارش یہ ہے کہ ایسی کسی حالت کا کسی کو تجربہ رہا ہو، یا پھر کوئی ماہر نفسیات اس تحریر کو پڑھے تو مجھے ان صاحب/صاحبہ کی مدد درکار ہے۔

تبصرے

  1. عمر اگر آپ واقعی سنجیدہ ہو،،جو کہ مجھے لگتا نہیں، لیکن پھر بھی بفرض محال ایسا ہی ہو تو کبھی ایبٹ آباد کا چکر لگائیں اور خدمت کا موقع دیں. ایک بہت اچھے ماہر نفسیات سے آپ کی ملاقات کروا سکتا ہوں. اور اگر آپ خود ملنا چاہتے ہیں تو ان کا نام پتہ بھی آپ کو فراہم کر سکتا ہوں.

    جواب دیںحذف کریں
  2. کسی ماہرِ نفسيات کے پاس جانے سے قبل ميری يہ تحرير غور سے پڑھ ليجئے ۔ جب بھی کوئی ايسا معاملہ ہو کہ غصہ آنے کا احتمال ہو تو اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم پڑيں ۔ جب کوئی ايسا واقعہ ديکھيں يا سنيں جو آپ کو غلط لگے تو پہلا کلمہ پڑھيئے يا آيت الکرسی يا انا للہ و انا الہ راجعون يا کم از کم اللہ اکبر کہہ ديجئے ۔ بلکہ اچھے اور برے دونوں واقعات پر اللہ اکبر کہنے کی عادت بنا ليجئے

    جواب دیںحذف کریں
  3. یار اگر سچ کہو تو بالکل یہی کیفیت میری بھی ہے۔ مگر ایک چیز الٹ ہے۔ غصہ۔ جب تک مجھے غصہ نہیں آتا میں بےحد بزدل ہوں۔ سوچ سوچ کر وقت گزارتا رہتا ہوں۔ مگر غصہ آتے ساتھ ہی میں نتائج کی پرواہ کیے بغیر سر گھسا دیتا ہوں۔
    اگر بالکل سچ کہو تو اجمل انکل کی بات انسانوں کے لیے ہے۔ مگر اس کیفیت کا جو ذکر کیا اس وقت انسان سوچ سمجھ ہی کہاں سکتا ہے؟
    جو لوگ منٹ میں عزت بےعزتی کر دیں ان سے میں پہلے عاجزی پھر خاموشی اور آخر کار ان کی ناپسند حرکات کر کے کرتا ہوں۔ وجہ وہی کہ میری بس کہاں ہوتی ہے اور غصہ کہاں شروع ہوتا ہے۔ ہاں شدید غصہ میں کسی کے منہ لگنے سے حد درجہ بہتر ہے کہ بندہ ڈھیر سارا وقت لے جو کہ کئی دنوں تک ہونا چاہ$ے کہ بندہ ان کی دھلائی کیسے کرے۔
    اپنے غصے کہ اپنے ایڈوانٹیج کے ل$ے استعمال کرو غصہ بڑا مفید ہے اگر بندہ اس سے اپنے کام نکال سکے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. اگر تو غصہ ملکی حالات اور کرپشن کی وجہ سے ہے تو کچھ عرصہ ٹی وی چینلز دیکھنا بند کر دیں۔ اگر کوئی ذاتی وجہ ہے تو منیر صاحب کا مشورہ مان لیجیے۔
    والسلام

    جواب دیںحذف کریں
  5. اوپر والوں کی فضول تجاويز پر کان نہ دھريں سوائے اجمل انکل کے
    جب آپ کو کسی کی بدتميزی يا شرارت وغيرہ پر غصہ آئے تو سب سے پہلے اعوذ باللہ من اشيطان الرجيم پڑھيں يہ پڑھنے کے بعد يا تو آپ غائب ہو جائيں گے يا مد مقابل ، اگر شيطان غائب نہيں ہوتا تو دو طريقے ہيں نمٹنے کے
    ايک شيطان ايسا ہوتا ہے کہ اس سے آپ کا پالا صرف اسی وقت پڑا ہوتا ہے اگر تو آپ اور ايسا شيطان اکيلے ہيں تو حساب وہيں برابر کر ديں اگر ہجوم ميں ہيں تو صبر کر ليں آپ کچھ نہ بوليں دو چار روز بعد آپ نارمل ہو جائيں گے
    دوسرا وہ شيطان ہوتا ہے جس سے آپ کا آئندہ پالا پڑ سکتا ہے اس شيطان کو اسکی شيطانی کے بدلے وہاں پہنچا کر آئيں جہاں سے نکلا تھا
    اب رہی خوف کی بات تو اپنے آپ کو زبانی و جسمانی يا مالی طور پر بہتر بنائيں يہ چيزيں دشمن سے نمٹنے ميں اہم کردار ادا کرتی ہيں وہيں پھينٹی لگا ديں اور اگر نہيں لگا سکتے تو کرايے پر خدمات حاصل کی جا سکتی ہيں بندے پرووائيڈ کرنا ميرا کام ہے

    جواب دیںحذف کریں
  6. ڈرتے رہئے کہ ڈرنا اچھی بات ھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. پھپھے کٹنی :: یہ بندے کیا آپ کے سسرالی رشتہ دار ہیں؟
    :P

    جواب دیںحذف کریں
  8. کوئی نئی بات نہیں ہر شریف آدمی اسی طرح خوفزدہ ہوتا ہے،علاج یہ ہے کہ شروع میں شرافت دکھائیں جب بات حد سے گزرنے لگے تو جوابی کرروائی کریں ابتداء زبانی کلامی کریں،
    خدا خوفی اچھی چیز ہے مگر اللہ نے بھی جو جتنی زیادتی کرے اتنا بدلہ لینے کی اجازت دی ہے،
    اب روحانی علاج یہ ہے کہ اہم معاملات پر بولنے سے پہلے تین بار سورہ قدر پڑھ کر سینے پر پھونک لیں متواتر ایسا کرنے سے انشاء اللہ خود اعتمادی بحال ہوجائے گی اور ڈر اور خوف باہر نکل جائے گا!
    :)
    یہ سب جس سے آپ خوفزدہ ہیں اتنی جلدی بدلنے والا نہیں ہے سو اس کے ساتھ گزارا کرنے کی ہمت پیدا کیجیئے کہ اسی میں بقا ہے اور بہتری کی دعا کرتے رہیئے،اللہ معاملات میں آسانیاں پیدا فرمائیں،آمین

    جواب دیںحذف کریں
  9. پطرس بخاری ریڈیو پاکستان میں کام کرتے تھے۔ جی ہاں وہی والے جنہوں نے مضامین پطرس لکھی۔ اور ایک چھوٹی سی کتاب سے ایک سحر قائم کر ڈالا۔ آپ نے انکے مضامین، سویرے جو کل آنکھ میری کھلی، کتے اور میبل اور میں تو ضرور پڑھی ہوگی کہ ہمارے نصاب میں ہے۔
    ایک دفہ انہوں نے وہاں ایک چوکیدار کو ڈانٹ دیا۔ چوکیدار ان سے اتنا بد ظن ہوا کہ ہر اٹے جاتے سے انکی برائیاں کرنے لگا۔ کسی نے پطرس تک یہ اطلاع پہنچائ کہ وہ آپکی برائیاں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
    پطرس نے کہا کہ ہاں وہ صحیح کہتا ہے۔ نہ اسکے پاس نہ دولت ہے نہ شہرت اور نہ عزت ہے۔ میں اسے کیا نقصان پہنچا سکتا ہوں۔
    خوف کا تعلق بھی اس ان دکھے نقصان سے وابستہ ہے۔ کچھ کرنے سے پہلے سوچیں کیا نقصان ہوگا۔ گر آپ نقصآن بالکل برداشت نہیں کر سکتے تو معمولی چیزوں سے بھی ڈریں گے اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس ممکنہ نقصان میں سے یہ چیزیں آپ برداشت کر لیں گے اور یہ نہیں تو کچھ خوف نکل جائیں گے۔
    کبھی ناکام ہونا یا پریشان ہونا کوئ کامیابی نہیں۔ یہ سب چیزیں بھی انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ اسکے بغیر زندگی میں کچھ لطف نہیں رہتا۔غلاب نے کہا کہ نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا۔ ہر بات کو عزت نفس نہ سمجھا کریں۔ اس طرح تو بہت سارے انسانوں نے جو کام کئے وہ کبھی نہ کر پاتے۔ مثلاً گلیلیو اگر یہ سوچتا کہ میں جب اتنا مختلف نظریہ پیش کرونگا تو سب میرا کتنا مذاق اڑائیں گے۔ مجھے اتنی بے عزتی اٹھانی پڑے گی۔ مجھے قید ہو جائے گی، میرے ہم عصر مجحے جاہل کہیں گے۔ اس نے ایسا کچھ نہیں سوچا۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس نے اپنے تمام علم اور مشاہدے سے حاصل کی ہے اسکی صداقت ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. عمر میاں! اپنے باس سے تو میں بھی ڈرتا ہوں اور جو اپنے باس سے بھی نہ ڈرے اس کا یا تو کلہ مضبوط ہے یا پھر اسے نوکری کی کوئی ضرورت نہیں ۔
    رہی بات زمانے کی تو میرے بچپن میں میری والدہ مجھے بلا ضرورت گھر سے باہر جانے سے منع کیا کرتی تھی کیونکہ ان کے خیال میں زمانہ خراب تھا ۔ آج ہم بھی اپنے بچوں کو باہر نہیں نکلنے دیتے کیونکہ زمانہ خراب ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ میرے ابا جان کو بھی میرے دادا یہی نصیحت کرتے ہوں گے ۔ تو زمانہ تو ایسے ہی تھا اور شاید ایسے ہی رہے گا چنانچہ انہیں انسانوں میں رہنا ہے اور اپنا مقدر حاصل کرنا ہے ۔
    عنیقہ صاحبہ کا مشور صائب ہے کہ آخر لوگ آپ کا کیا چھین سکتے ہیں۔ گاندھی کا کہنا تھا کہ کوئی آدمی میری اجازت کے بغیر مجھے احساس کمتری میں مبتلا نہیں کر سکتا ۔

    جواب دیںحذف کریں
  11. عمر میاں اپنے باس سے تو میں بھی ڈرتا ہوں اور جو اپنے باس سے بھی نہ ڈرے اس کا یا تو کلہ مضبوط ہے یا پھر اسے نوکری کی کوئی ضرورت نہیں ۔
    رہی بات زمانے کی تو میرے بچپن میں میری والدہ مجھے بلا ضرورت گھر سے باہر جانے سے منع کیا کرتی تھی کیونکہ ان کے خیال میں زمانہ خراب تھا ۔ آج ہم بھی اپنے بچوں کو باہر نہیں نکلنے دیتے کیونکہ زمانہ خراب ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ میرے ابا جان کو بھی میرے دادا یہی نصیحت کرتے ہوں گے ۔ تو زمانہ تو ایسے ہی تھا اور شاید ایسے ہی رہے گا چنانچہ انہیں انسانوں میں رہنا ہے اور اپنا مقدر حاصل کرنا ہے ۔
    عنیقہ صاحبہ کا مشور صائب ہے کہ آخر لوگ آپ کا کیا چھین سکتے ہیں۔ گاندھی کا کہنا تھا کہ کوئی آدمی میری اجازت کے بغیر مجھے احساس کمتری میں مبتلا نہیں کر سکتا ۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب