مکالمہ

صبح طلوع ہونے کا حال کیا سناؤں، دن ایسے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بوجھ اٹھائے ضعیف العمر آخری دن گن رہا ہو، دفتر جاتے ہوئے اکثر صبح مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب سکول جانا شروع نہیں کیا تھا۔ تب بالاکوٹ میں رہائش تھی اور ناشتہ کر کے؛ چائے، پراٹھے اور انڈے کی مہک سانس میں بسائے گھر کے سامنے کچے مکان کی منڈیر پر مٹی میں  آلتی پالتی مارے بیٹھ کر بالکل سامنے کے پہاڑ پر سورج کی کرنوں کو نیچے کی جانب سفر کرتے ہوئے دیکھا کرتے تھے۔ پیٹھ پیچھے برف کی تہہ در تہہ سے ہمیشہ سفید رہنے والے پہاڑوں کی جانب سے سورج جب طلوع ہوتا تو منہ کے سامنے گھنے جنگل والے پہاڑ پر دھوپ کی  سنہری چمک ظاہر ہوتی۔ یہ چمک آہستہ، آہستہ نیچے کی جانب سرکتی ہوئی صرف بیس منٹ کے دورانیہ میں سارے شہر کو اپنی پناہ میں لے لیتی۔زندگی حرکت میں آتی چلی جاتی اور   وہیں بیٹھے بیٹھے آہستہ آہستہ سردی کا احساس کم ہونا شروع ہوتا اور ایک ساتھ خنک ہوا اور سورج کی تپش  کا ایک انجانا سرور پورے وجود میں سرایت کر جاتا۔
صاحبو! اب بھی شاید دن ایسے ہی نکلتا ہے، سورج  آج بھی ویسے ہی حرارت پھیلاتا چلا جاتا ہے اور خنک ہوا آدمی کو سرور بھی بخشتی ہے، مگر افسوس کہ وہ حال اب باقی نہیں ہے۔  میں نے عرصہ تک  مانسہرہ میں صبح کو جاگ کر شہر پر سایہ کیے ہوئے ٹیلے پر جا کر وہی کیفیت طاری کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں سورج کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ بھی جاتا ہوں، اس کی کرنوں کو شہر پر پھیلتے ہوئے دیکھتا بھی ہوں اور خنک ہوا میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد ٹیس بھی اٹھاتی ہے مگر افسوس کبھی مجھے وہ حال محسوس نہ ہوا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ میں سب کچھ ملاحظہ کرتا ہوں مگر اس حال میں شامل نہیں ہو پاتا۔ میرا وجود تو وہیں ہوتا ہے مگر میرا ذہن کہیں اور بھٹکتا رہتا ہے۔
میں نے کسی سے پوچھا کہ صاحب یہ کیا حال ہے؟ میرا ذہن، میرے وجود کے ساتھ موجود نہیں رہتا، میرے جسم کا مادہ اسی دنیا میں ساکن رہتا ہے مگر میری بوجھل روح اور تھکن سے بھرپور ذہن کہیں اور پرواز کرتے  ہیں۔ جسم اور روح کا ملاپ نہیں ہو پاتا، جسم کسی  غلیظ پوٹلی کی طرح ایک ہی جگہ سڑتا رہتا ہے مگر روح کہیں اور بے چینی سے سوالوں کے جواب ڈھونڈتی پھرتی ہے۔
کہنے لگے، "بتاؤ تو زرا کہ تم ایسا کیوں محسوس کرتے ہو؟ کیا تم ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے؟"
میں نے   تردید کی خاطر وہی حالات دہرا دیے جو اوپر بیان کر چکا ہوں۔
کہنے لگے، "میاں، کبھی شام کا بھی تو حال بیان کرو؟ ان دنوں تمھاری شامیں کیسے بیتا کرتی تھیں؟"
شام کا ذکر آتے ہی، مجھ پرتھکن طاری ہو گئی۔ وہی تھکن جو آجکل ہر شام مجھ پر طاری رہتی ہے اور میں اس تھکن کے ہاتھوں گھنٹوں بے سدھ پڑا رہتا ہوں۔ سارا دن میرا جسم، میری  بوجھل روح کو اٹھائے پھرتا ہے۔ میں لوگوں سے ملتا ہوں، ان کے حالات سے واقف ہوتا ہوں تو رنجیدہ رہتا ہوں۔ ملکی حالات پر کڑھتا رہتا ہوں اور ہر دوسرے لمحے فیصلہ بدلتا ہوں۔ لوگوں میں کئی مجبور ہوتے ہیں جو مجھے رنجیدہ کرتے ہیں، کئی دلبرداشتہ ہیں جو مجھ پر مایوسی طاری کردیتے ہیں اور اکثر ایسے ملتے ہیں جو اپنے حال سے خوش نہیں رہتے۔ اس سے بھی زیادہ مجھے یہ خیال مزید تھکن کا احساس دلا گیا کہ آنے والے کل کی شام پھر کچھ ایسی ہی چال چلے گی۔
صاحب نے مجھے ٹوکا اور کہنے لگے، "ان شاموں کا ذکر کرو، جن دنوں کے صبحانے تمھارے لیے راحت کا سبب تھے۔"
شام پھر اسی منڈیر پر بیتا کرتی تھی، اب کے میری پیٹھ گھنے جنگل والے پہا ڑ کی جانب ہوا کرتی تھی اور منہ اپنے گھر کی جانب، جس کی اوٹ میں برف سے لدے ہوئے پہاڑ دکھا کرتے تھے۔ صبح کے برعکس، اب ایسا محسوس ہوتا کہ خنک ہوا کا زور بڑھ رہا ہےجبکہ سورج کی تپش آہستہ آہستہ گھٹ رہی ہے۔ تب، برف چمکتی تھی اور اس پر گرتی سنہری کرنیں جو رنگ بکھیرتی تھیں وہ روح کو تروتازہ کر دیتیں۔ پیٹھ پیچھے جنگل پر پڑنے والی کرنیں آہستہ آہستہ واپس اوپر کی جانب اٹھتیں، صبح کی بجائے شام کو دھوپ کا سفر زیادہ واضع ہوتا تھا اور میرے علاوہ مسجد کا موذن ان کرنوں کا مشاہدہ کیا کرتا کہ جیسے ہی آخری کرن اس جنگل کے پار اترتی اور برف کا سنہری پن گہرے خاکستر رنگ  میں زائل ہو جاتا تو وہ غروب آفتاب کا اعلان کر دیتا۔ شامیں تب اداس نہیں ہوا کرتی تھیں جیسے اب ہوتی ہیں۔ روح پر کچھ بوجھ نہ ہوتا تھا اور جسم کے سینے میں "قلب" اور "دل" ایک ساتھ دھڑکا کرتے تھے۔ ایسی بے یقینی طاری نہیں رہتی تھی جیسے اب واضع رہتی ہے۔
اس زمانے کو کھو دینے کا دکھ عیاں ہوتے ہی صاحب گویا ہوئے، "صاحبزادے، تم حال سے واقف نہیں ہو۔ تب تم حال میں زندہ رہتے تھے اب تم ماضی میں جیتے ہو اور مستقبل میں خواب دیکھتے ہو۔ تمھارا جسم حال میں پڑا گل سڑ رہا ہے جبکہ تمھاری روح ماضی و مستقبل کے بیچ کسی پینڈولم کی مانند محو  پرواز ہے۔ تمھاری آنکھیں تھکن کا شکار ہیں کہ وہ عرصہ سے ٹکٹکی باندھے روح کو یہاں اور وہاں محو گردش دیکھ رہی ہیں اور تمھارا "قلب" اس واسطے ضعف محسوس کرتا ہے کہ تمھارے جسم کا "دل" اس سے کوسوں دور صرف خلیوں کو زندہ رکھنے کے کام پر مامور ہے۔ تمھارا جسم اور تمھاری روح جب تک ایک ہی تعدد پر رواں نہیں ہوں گی، تمھیں چین میسر نہیں آئے گا"۔
(خود سے ایک مکالمہ)۔

تبصرے

  1. پہاڑ۔۔۔۔۔برفیلے پہاڑ۔۔چودہویں کے چاند کی چاندنی میں باوقار سیدھے کھڑے پہاڑ۔
    یاد ماضی ہمیشہ حسین ہوتی ہے،لیکن جب ماضی گذر جاتا ہے تو یہ حال مستقبل کے ماضی کیلئے یادیں بن جاتا ہے۔اس حال کو ایک ایک لمحہ کیسے گذارنا ہے اگر انسان کو یہ سمجھ آجائے تو ہمیشہ یادیں حسین ہی ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. باباجی کی تحریر کا سواد ہے اس میں

    جواب دیںحذف کریں
  3. مزہ آ گیا، عمر. بہت خوب. بہت اچھا لکھا.

    جواب دیںحذف کریں
  4. بہت زبردست عمر میاں، گو کہ یہ کیفیات یہاں بھی طاری ہوتی ہیں لیکن انہیں صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کا ہنر آپ کے پاسہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. عمر بھائی۔
    کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ۔۔۔ یا شاید کچھ اسی طرح شائر نے کہا تھا۔ بہر حال چلیں کسی بہانے آپ نے کچھ لکھا تو سہی ۔

    مکالمہ بھی خوب ہے۔مگر ایک بات جس سارے مکالمے میں زکر نہ تھا۔ کہ آپ نے جن صبحوں کا ذکر کیا ہے اور شاموں کی بات کی ہے۔ ماضی کی ان شاموں اور صبحوں کے لئیے اس "حال" اس کیفیت کو بلا واسطہ اور بلواسطہ وجود دینے والے شاید اب خود بے وجود ہوچکے ہیں۔ یعنی وہ پیارے جو جب تھے اور اب نہیں رہے۔ جو زمانے کی ہر گرد ہر آلائش سے (آلائش ذہنی بھی ہوسکتی ہے) سے بچانے کے لئیے آپکے گرد ایک نظر نہ آنے والا حصار قائم کئے رکھتے تھے۔ آج جب منظر وہی ہوتا ہے ، جگہیں وہی ہوتی ہیں مگر محسوسات وہ نہیں رہتے اور لاشعور اسکا تجزیہ کرنے میں آڑے رہتا ہے تو ہم پہ دلگرفتگی پیدا ہوتی ہے۔

    عمر بھائی ! دنیا جب سے دنیا ہے یہ وارادت اکثر بیشتر حساس لوگوں کے سال دوہرائی جارہی ہے۔ سمجھ رکھنے والوں کے لئیے اس میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ کہ دنیا کو ثبات نہیں اور دلوں کا تغیر اس بات کا بین ثبوت ہے۔

    آپکی تحریر خوب ہے۔ اس میں دلی بے چینی عیاں ہے

    جواب دیںحذف کریں
  6. کيا خوب تحرير لکھی ہے ۔ ميں پڑھتے پڑھتے بھول ہی گيا کہ ميں کہاں ہوں ميرا تخيّل کہاں ہے اور روح کا تو کچھ پتہ ہی نہ تھا کہ کہاں گھوم پھر رہی ہے ۔ ہوش آيا تو ميں کمپيوٹر اور مانيٹر کے سامنے کرسی پر بيٹھا تھا ۔ ميں نے سوچا "ميں کيا ہوں ؟" کاش مجھے سمجھ آ جائے کہ ميں کيا ہوں

    ميں نے بہت پہلے بھی آپ سے گذارش کی تھی کہ آپ کتاب لکھنا شروع کريں ۔ کسی نے کہا تھا "ہر روز عيد نيست کہ حلوہ خورد کسے"۔ اسی وجہ سے آپ بھی کبھی کبھی نظر اتے ہين پر ساتھ زبردست لذيذ حلوہ لاتے ہيں ۔ اللہ سدا خوش رکھے

    جواب دیںحذف کریں
  7. واہ لالے کمال کر دیا ..... بہت عرصے بعد ایسی تحریر پڑھی جس میں کسی ساتھی بلاگر کی واٹ نہیں لگائی گئی ... واقعی پڑھ کے مزہ آگیا

    جواب دیںحذف کریں
  8. سبحان اللہ۔ اور جو حل بتایا گیا دلی بے چینی کا وہ یقیناً درست ہے۔ آج کل ہمارے گھرمیں “کنگفو پینڈا“ کا کورس ہورہا ہے۔ نورالعین ہرروز کھانے کے بعد اس مووی کا کچھ حصہ دیکھنے کی فرمائش کرتی ہیں۔ اس کا ایک کردار، بوڑھا کچھوا پینڈا کو کہتا ہے "Yesterday is history, tomorrow is a mystery but today is a gift. That is why it is called present" زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنے کا شائد یہی نسخہ ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ عمر بھیا واہ بہت خوب تحریر لکھی ہے ماشاءاللہ۔ نہایت خوب منظر کشی ہے۔ لکھتے رہا کریں اور یہ آنکھ مچولی والا کھیل کم کھیلا ذرا کریں جناب :P

    جواب دیںحذف کریں
  10. عمر، آپکی تحریر پڑھ کر محسوس ہوا کہ ماضی میں لوٹ جانا اب بھی ممکن نہیں۔۔۔ احساس کی ہی تو ساری بات ہے۔۔۔ ہاں ہم آج اپنا کل واپس نہیں لا سکتے لیکن اپنے کل کو بہترین احساسات ضرور دے سکتے ہیں۔۔۔
    بہت عمدہ عکاسی ہے ماحول کی، ماضی کی سادگی کی اور آج کی بے جا مصروفیت کی۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  11. بہت خوبصورت یادیں ۔۔ اچھا لکھا ہے ۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  12. شاندار تحریر ہے.ہمیں تو اپنا گائوں یاد آگیا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  13. بہت اعلی جناب ۔۔انداز تحریر کے کیا ہی بات ہے
    تحریر کی حقیقی روح تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن تحریر کی گہرائی کے کیا کہنے ہیں۔۔
    البتہ اس تحریر سے تمھارے متعلق میرے زہن میں کچھ موجودہ سوالوں کے جواب مل گئے۔۔
    سب سے زیادہ خوشی اس بات کی کہ تم نے اپنے متعلق لکھا اور اپنا دل کا غبار نکال دیا جو بہت کم لوگ کرتے ہیں بلاگ پہ۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  14. میں تو بس سوچ کر ہی رہ گئ کہ کبھی ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں ایسا حسین منظر تو بس سوچا ہی جا سکتا ہے یا ابھی ابھی میری بہن مُجھے ویب کیم سے ہونے والی برفباری دِکھا رہی ہے اور ساتھ ساتھ آپ کی رُوداد تو لگ رہا ہے جیسے سب اپنے سامنے ہوتا دیکھ رہی ہُوں یعنی ،،،،
    two in one

    جواب دیںحذف کریں
  15. آپ تمام احباب کا بہت شکریہ۔۔۔
    :)

    جواب دیںحذف کریں
  16. ہمم، یہ تو آپ نے پہیلی سی سامنے رکھ دی ہے۔ وہ بھی بچپن سے پچپن تک کی۔ اس سے میری مراد یہ نہیں کہ آپ پچپن کے ہو گئے ہیں۔ بلکہ بچپن کو عمر کے کسی بھی حصے سے ملایا نہیں جا سکتا۔
    بچپن روح اور جسم کے ایک ساتھ رہنے کا نام ہے۔ اور جیسے جیسے ہم شعور حاصل کرتے جاتے ہیں ایسا بہت کم ہو پاتا ہے کہ یہ دونوں یکجا رہیں۔ بعض لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ یہ یکجائ پھر حاصل کر لیتے ہیں لیکن کچھ عرصے کی جدائ انہیں بھی حاصل ہوتی ہے۔ بعض ساری عمر یہ فاصلہ بڑھاتے رہتے ہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ کیا ہو رہا ہے۔
    چلیں تو آپ ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جو پیچھے پلٹ کر دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اگر یہ یقین آ گیا کہ پیچھے دیکھ نے سے پتھر کے نہیں ہوتے تو یقین رکھیں کہ آگے کا سفر روحانی طور پہ بہتر رہے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  17. عنیقہ ناز@ بہت بہت شکریہ
    :)

    جواب دیںحذف کریں
  18. گمنام31/1/12 23:38

    masha Allah, boht khoob likha..

    جواب دیںحذف کریں
  19. میرے خیال میں انسان جب اس دنیا آتا ہے تو فطری طور پر سلیم ہوتا ہے ۔ اس کی ذات سلامتی اور سکون کا امتزاج ہوتی ہے۔ وہ قلب کا بندہ ہوتا۔ اپنے ہم عمروں میں شامل ہو کر قلقاریاں مارتا ہے ۔کسی سے لڑ جھگر کر دو منٹ کے بعد بھول جاتا ہے۔ ہر کھلونا ایک نئی دنیا ہوتی ہے اور ہر نئی چیز کا تعارف اس پر حیرت کا ایک نیا جہاں وا کرتا ہے۔
    لیکن بڑا ہونے ہوتے وہ وہ اپنے ارد گرد معاشرے میں تضادات بھی دیکھتا ہے ۔ ان سب تضادات کی اصل وجہ تو اسے معلوم نہیں ہوتی لیکن وہ کچھ چاہتے اور کچھ اپنی نارضامندی سے معاشرے میں ایڈجسمنٹ کی خاطر ہوشیاری سیکھ لیتا ہے ، اداکاری سیکھ لیتا ہے ، قدم قدم پر اپنی ذات کے چھوٹے حصے دان کرتا چلا جاتا ہے ، کچھ بڑا نام پانے کے لئے ، کچھ معاش کے لئے اور کچھ مجبوری کے عالم میں ۔
    معاشرہ جو سکرپٹ اسے پکڑاتا ہے وہ اپنے ملے ہوئے کردار کے مطابق ناچنا شروع کر دیتا ہے ، ناچتا رہتا ہے اور ناچتا چلا جاتا ہے ۔ لیکن اس کے وجود کے اندر ہی اندر اپنے سیلف سے دور ہونے کا دکھ بڑھتا جاتا ہے ۔ جیسے وہ کیا کہا ہے کسی نے کہ اندروں اندری وگدا رہندا پانی درد حیاتی دا ۔ ایک وقت آتا ہے یہ اندر ہی اندر بہنے والا پانی اس اداکاری کو چیلنج کرنا شروع ہوجاتا ہے ۔ اس کی انا کی عمارت کی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے ۔ اسے افسردہ رہنے پر مجبور کرتا ہے ۔ وہ اپنے آپ سے ملنے کی تمنا تو رکھتا ہے لیکن اس کی ذات پر لگے ہووئے بڑے بڑے بورڈ جن پر ڈاکٹر صاحب ، قلمکار ، ڈائریکٹر فلاں کمپنی ، صاحب بلاگ وغیرہ لکھا ہوتا ہے اسے اپنے آپ سے ملنے نہیں دیتے ۔ وہ اپنے ان بورڈز کو ہٹانے کی ہمت بھی نہیں رکھتا خوفزدہ ہوتا کیونکہ اس نے بڑی محنت سے یہ بورڈ خرید کر لگائے ہوتے ہیں ۔
    پیغمبر ، ولی اور نیک انسان ہمیں اپنے آپ سے ملواتے ہیں ۔ ہماری تار کائنات ایک عظیم قوت سے جوڑتے کی کوشش کرتے ہیں جو کہتی ہے کہ لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون ، ہمارے دوستوں تو نہ تو ماضی کا حزن ہوتا ہے اور آنے والے زمانے کا خوف ۔ بے شک ہم نے اپنی یاد میں دل کا سکون رکھ دیا ہے ۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مقدمہ نسوار

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین - یتیم - 5