اصول تجارت

انسان کے رہنے سہنے کے طور طریقے، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن شاید ہر دور میں تغیر کا شکار رہے ہیں، مگر ایک شے ایسی ہے جو کبھی نہ بدلی یا کم از کم مجھے وہ واحد ایک ہی شے ایسی نظر آئی؛ تجارت ایک سی رہی، بازار ایک سے تعمیر ہوئے، مول تول کا انداز وہی رہا اور بازار واحد مقام رہا جس کے اصول کبھی تبدیل نہ ہوئے۔ کہیں بھی چلے جائیے، مشہور و معروف شہروں اور کسی بھی چھوٹے گاؤں یا قصبے کا دورہ کر لیجیے، تاریخ کھنگال لیں یا پھر اپنے ذہن کو ہی تکلیف دے لیجیے، بازار کی روایت ہمیشہ ایک سی رہی ہے۔ خرید و فروخت کا انداز نہیں بدلا، تول مول کا گر ویسے کا ویسا رہا۔ تجارتی قافلوں کی جگہ ٹرانزٹ نے لے لی، دکانوں کا حلیہ بڑی بڑی مارکیٹوں میں ڈھل گیا۔۔۔۔ مگر صاحبو، چھوٹے سے چھوٹے تاجر اور بڑے سے بڑے اجارہ دار کا طریق وہی رہا۔ تاریخ نے کئی معاشی نظام وضع ہوتے دیکھے مگر بنیاد وہی رہی۔
بازار کو سمجھنا ہو تو اس کے حصوں پر غور کیجیے؛ پہلا دکاندار، دوسرا گاہک اور تیسری وہ اجناس جن پر یہ سب میلہ سجایا جاتا ہے، گاہک اور دکاندار کا رشتہ استوار رہتا ہے اور معاملات زندگی چلتے رہتے ہیں، بازار ہرے بھرے رہتے ہیں۔ صاحبان، میں اکثر سوچتا ہوں کہ بازار کے تین حصوں میں سب سے اہم جزو کیا ہے؟
مجھے بازار میں دو حصے ہمیں ہمیشہ ویسے کے ویسے ہی ملتے ہیں۔ اس جہاں پر وقت کا ایک ریلہ گزر گیا مگر دکاندار اور گاہک ویسے کے ویسے ہی رہے۔ نسلوں کی نسلیں پیدا ہوتی رہیں مگر میں جانتا ہوں کہ ہر نسل کا ہر انسان اپنی زندگی میں ایک شکل میں دکاندار جبکہ باقی کی تمام اشکال میں گاہک رہا۔ یہ صرف جنس تھی جس نے اپنی ہئیت، صورت اور قیمت بدلی۔ انسان ویسے کا ویسا رہا مگر جنس وہ نہ رہی۔ سامان تجارت ہر دور میں شکل تبدیل کرتا رہا ۔ ہر بازار میں گاہک و دکاندار وہی رہے مگر اجناس تبدیل ہوتی رہیں، انسانی ترقی کے پاٹ میں پستی رہیں۔ یہ اجناس ہی ہیں جو بازار میں ایک انسان کو دوسرے انسان کو جوڑے رکھتی ہیں، کبھی ایک تو کبھی دوسری صورت میں۔ مادے کے ان بازاروں میں صرف دو ہی تعلق ہوتے ہیں، یا تو آپ گاہک ہیں ،نہیں تو پھر دکاندار۔
یہ عام فہم کی بات ہے، بازار کا کلیہ سب کو معلوم ہے مگر میں اکثر سوچتا ہوں کہ ان تین حصوں میں سب سے مضبوط حصہ کونسا ہے۔ گاہک، دکاندار اور جنس میں سب سے اہم جزو کون رہا؟
دکاندار اور گاہک جہاں ایک سے رہے، وہاں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ مجبوری میں ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ اپنی اپنی ضرورت اور ترجیحات کی شکل میں ان دونوں حصوں کے گلے میں ایک طوق ہے جو ان کو مجبوراً ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔ دونوں کے گلے میں ضرورت کا وہ ڈھول ہے جو انھیں بجانا ہی ہے، مگر جنس، جنس وہ حصہ ہے جو ان دونوں حصوں کی ضرورت، ترجیحات اور ہوس کو پوری کرتا دکھائی دیتا ہے۔
صاحبو، میں آج تک یا تو دکاندار یا گاہک بن کر ہی سوچتا رہا مگر کبھی جنس بن کر نہیں سوچا۔ اجناس پیدا ہوتی رہیں، دکانوں پر سجائی جاتی رہیں، بکتی رہیں اور پھر استعمال ہو کر معدوم ہوتی رہیں مگر کبھی اجناس کی شکل میں خود کو جاننے کی کوشش نہیں کی۔عقلی بنیادوں پر اگر جنس بن کر سوچوں تو ایک ہی طریقہ ہے اور وہ انسان کے بارے ایک اصطلاح کا سہارا ہے جسے "افرادی قوت" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انسان اس اصطلاح کی تعریف میں ایک جنس ہے، بازار میں بکتی ہوئی کئی اجناس میں سے ایک جنس۔ دنیا کے بازار میں یہ جنس کیسے پیدا ہوتی ہے؟، کیسے بازار تک پہنچتی ہے؟، کس صورت میں پہنچتی ہے؟، قیمت کون لگاتا ہے؟ اور خریدار اس جنس کو کیسے استعمال کرتا ہے؟ تمام سوالات کے جوابات ہم میں سے ہر ایک شخص کی جیب میں پڑا ہے۔۔۔۔ ہم میں سے ہر شخص، اپنے آپ کو بطور جنس جانتا ہے اور وہ ہر روز ہر لمحہ اس کی شکل میں بکتا بھی رہتا ہے۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کاروبار دنیا میں، اگر کوئی جنس تبدیل نہیں ہوئی تو وہ انسان ہے۔ انسان ہی ہمیشہ سے وہ جنس رہا جس کو ہر دور میں خریدا اور بیچا جاتا رہا، مادہ کی شکل میں دستیاب اجناس شاید معدوم ہوتی رہیں، ان اجناس کی بازاروں میں ضرورت وقت کے ساتھ بدلتی رہی مگر انسان، وہ جنس ہے جو تب بھی اور آج بھی ویسے کے ویسے ہی رہا، ویسے ہی پیدا ہوا، جنس کی شکل اختیار کی ، بازار تک پہنچا ، بکا ، استعمال ہوا اور پھر کسی دوسرے انسان کی شکل میں ویسے کی ویسے ہی جنس بن کر پھر بازار میں جا پہنچا۔
اس بازار میں, جبکہ میں جنس ہوں، اور ہر لمحہ یہاں, بطور جنس موجود ہوں، آسان الفاظ میں جیسے بیان کیا کہ میں افرادی قوت کی اصطلاح کی تعریف میں شامل ہوں مگر تہہ میں ہر جگہ ،میں بک رہا ہوں۔ میں اپنے پیشے کی شکل میں ایک جنس، جبکہ ہر طرح کے تعلقات کی شکل میں دوسری جنس کی صورت اختیار کیے بازار میں جھلمل رونق بڑھا رہا ہوں، گاہکوں کی نگاہوں کو خیرہ کر رہا ہوں اور اپنی خصوصیات کا واویلا مچا مچا کر لوگوں کو اپنی جانب مبزول کر رہا ہوں، اپنی خباثت دکھا کر گاہکوں کو میرے معیار پر شک میں مبتلا کرتا ہوں اور بعض اوقات، بحیثیت جنس، اپنی ضرورت کے لیے منت ترلے کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔
صاحبان، مجھے مادے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ مادے کی اجناس ایسی ہوتی ہیں جنھیں کوئی دوسرا پیدا کرتا ہے، بازار تک پہنچاتا ہے، قیمت لگاتا ہے اور پھر بیچ دیتا ہے۔ خریدنے والا، اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال میں لاتا ہے اور جب چاہتا ہے معدوم کر دیتا ہے۔
یہ تو طے ہے کہ میں بھی اجناس میں سے ایک جنس ہوں، مجھے تو خود میں بطور جنس دلچسپی ہے؛ میں اجناس میں وہ جنس ہوں جو پیدا ہوا، تربیت پائی مگر اس کے بعد کے تمام مرحلے یعنی معیار اور شکل، قیمت، بازار، طریق فروخت اور یہاں تک کہ خریدار کا تعین بھی میں نے خود کیا۔۔۔۔ کوشش رہی کہ خریدار مجھے استعمال بھی میری مرضی سے کرے اور معدوم بھی میں اپنی مرضی سے ہوں تو صاحبان، ایسی صورت میں تمام تر تجارت کے اصول دھڑام سے زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ دنیا کا بازار ایسا نہیں ہے، اصول معدوم ہو جائیں تو دنیا ہمیں کانٹوں کا بستر محسوس ہوتا ہے اور ہم ہر لمحہ جلتے ہیں، ہر لمحہ مرتے ہیں اور ہم خدا کی بنائی ہوئی جہنم کی آگ کو دنیا میں ہی پالیتے ہیں۔ صاحبان، انسان وہ جنس ہے جس کی پیداوار، خرید و فروخت اور استعمال و معدومیت کے کچھ اصول ہیں جیسے کہ باقی کے بازار میں مادے کی اجناس کی تجارت کے کچھ اصول ہیں۔ انسان کی تجارت کی شکل دوسری ہے، اس کا طریق زندگی ہے جو کہ دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق پر استوار ہے۔ جیسے گاہک اور دکاندار جنس کی دو قیمتیں لگاتے ہیں، ویسے ہی انسان کی بھی دو قیمتیں ہیں ایک وہ جو وہ خود طے کرتا ہے اور دوسری وہ جو طریق زندگی میں کوئی دوسرا انسان طے کرتا ہے۔ تول مول میں صاحبو تسلی ، برداشت اور حب رکھی جائے تو متفقہ قیمت طے ہو جاتی ہے ورنہ وہ ہنگامہ برپا رہتا ہے جو آج ہمیں ہر شعبہ زندگی میں، ہر رشتے میں اور ہر تعلق میں دکھائی دیتا ہے۔
بات تعلقات اور رشتوں میں جا نکلی تو صاحبو، میں سمجھتا ہوں کہ اس بازار میں انسان جب بحثیت جنس اپنی قیمت خود لگائے تو کچھ گڑ بڑ ہوتی ہے، باقی کی اجناس کی طرح اگر انسان بھی صرف اپنے معیار اور اپنی تربیت پر غور کرے تو قیمت خود بخود بڑھتی چلی جاتی ہے۔ انسان، ہمیشہ اپنی قیمت طے کرنے میں لگا رہا، کبھی جنس کے معیار پر غور نہ کیا۔ معیار نہ ہو اور قیمت کی توقع رکھے چلے جانا کیا گڑبڑ کرتا ہے، اس اصول کو مجھ سے زیادہ میرے فاضل قارئین بہتر سمجھتے ہیں۔

تبصرے

  1. میں خاموش ہوں یہ تحریر پڑھنے کے بعد بلکل خاموش ۔۔
    اگر تعریف کرنے کی کوشش کی تو
    چھوٹا منہ بڑی بات
    کے مصداق ہو گی
    البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ
    لکھاری کی عام معاملات کے بارے میں زہنی جدت پسندی نا قابل یقین حد تک ترقی یافتہ اور مہزب ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. عمر بھائی!

    جنس کے بارے تو عام طور پہ کہا جاتا ہے۔ انسان جو کرتا ہے اس کا پھل پاتا ہے۔ اب یہ کیا کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ یا اسے جو کرنا چاہئیے آیا کیا وہ کرتا ہے۔ یا جو نہیں کرنا چاہئیے کیا وہ اس باز رہتا ہے۔ یہ سب قواعد کون مقرر کرتا ہے۔ کسے اور کیونکر یہ حق حاصل ہے کہ وہ انسان پہ جنس کے حوالے سے یہ سارے قواعد نافذ کرے؟ آپ نے اس پہلو پہ روشنی نہیں ڈالی۔ آپکی تحریر لا جواب ہے مگر تشنگی برابر برقرار ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. گمنام25/4/11 09:56

    اکبرآلہ آبادی کا آدمی نامہ بھی لگا دیتے؟
    شاہد

    جواب دیںحذف کریں
  4. اکبرآلہ آبادی کا آدمی نامہ بھی لگا دیتے
    taseeh ker lijiey
    Aadmi nama akber ilah aabadi ka nahin "nazeer akber aabadi" ka hey

    جواب دیںحذف کریں
  5. Hazzor hum to bus itna kahay gay k jins, dukandar, gahak say kahi berh k hamari dilchaspi "mada" Mai hai

    جواب دیںحذف کریں
  6. اتنی مشکل تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ آپ ڈاکٹر ہیں یا اکنامسٹ ۔۔۔ میں فاضل نہیں فضول ہوں ۔۔ :پی
    اردو میں ہنسنا منہ چڑانا کتنا مشکل ہے مگر بلاگ اسپاٹ کے نخرے ۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. ویسے تو پوری پوسٹ بہت ہی اعلی ہے اور ان لایئنوں نے تو جیسے کوہ نور جیسا کام کیا

    میں سمجھتا ہوں کہ اس بازار میں انسان جب بحثیت جنس اپنی قیمت خود لگائے تو کچھ گڑ بڑ ہوتی ہے، باقی کی اجناس کی طرح اگر انسان بھی صرف اپنے معیار اور اپنی تربیت پر غور کرے تو قیمت خود بخود بڑھتی چلی جاتی ہے۔

    بہت اعلی لالے

    جواب دیںحذف کریں
  8. آپ نے بہت اچھا لکھا ہے اور درست لکھا ہے
    کوئی اصول کتنا ہی ہمہ گير ہو پھر بھی کچھ نہ کچھ باہر رہ جاتا ہے ۔ ميری بُری عادت ہے ہر وقت کسی نہ کسی قسم کی تحقيق ميں اپنے آپ کو پھنسائے رکھتا ہوں ۔ ميں کئی دہائيوں سے پرانے اور نئے دکانداروں اور گاہکوں سے سوالات پوچھتا آيا ہوں ۔ ميں اپنی اکٹھی کردہ معلومات کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ

    1 ۔ اس دور کی قساد بازاری کا ذمہ دار گاہک ہے ۔ ادھر افواہ اُڑتی ہے کہ فلاں چيز مہنگی ہو گئی يا فلاں بازار سے غائب ہو گئی تو اکثريت بلا ضرورت ذخيرہ اندوزی شروع کر ليتی ہے ۔ آج سے 4 دہائياں قبل ايسا نہيں ہوتا تھا ۔ ايسی خبر آنے کی صورت ميں گاہک خريدار بنتا ہی نہ تھا

    2 ۔ آج کا دکاندار دکاندار ہی نہيں ۔ آپ ايک دکان پر جا کر کوئی چيز مانگتے ہيں ۔ جواب ملتا ہے شارٹ ہے ۔ کچھ دن بعد پھر جاتے ہيں پھر وہ چيز نہيں ہے ۔ آپ دکاندار سے پوچھتے ہيں "آپ نے منگوائی تھی ؟" جواب ملتا ہے "نہيں ہم تو کچھ نہيں منگواتے لوگ خود ہی دے جاتے ہيں"۔ 4 دہائياں قبل ايسا نہ تھا ۔ آپ کسی چھوٹے سے دکاندار سے بھی 2 بار ايک ہی چيز مانگيں تو وہ اپنی کاپی ميں لکھ کر آپ سے کہتا تھا "کل نہيں تو پرسوں آپ کو ضرور مل جائے گی"

    3 ۔ آج کا گاہک بنتا بہت سمجھدار اور علم والا ہے مگر جانتا کچھ نہيں ۔ ميں نے ايک دکاندار سے پوچھا کہ "آپ نے معياری مال رکھنا کيوں بند کر ديا ہے ؟"جواب ديا "ايسے گاہک آٹے ميں نمک کے برابر بھی نہيں ہيں جو معيار پرکھ کر چيز خريدتے ہيں ۔ يہاں گاہک آتے ہيں معياری چيز اُنہيں دکھاتے ہيں ۔ جب قيمت بتاتے ہيں تو کہتے ہيں اسے ہيرے لگے ہيں جو اتنی مہنگی رے رہے ہو ۔ باقی جگہ اتنے کی ملتی ہے اور معياری چيز بکتی نہيں"۔ جب سے ہفتہ وار بازار شروع ہوا ہے ميں سبزی پھل وہيں سے ليتا ہوں ۔ کچھ سال قبل ميں سودا لينے گيا تو جس سے ميں ٹماٹر ليتا تھا ۔ اُس کے پاس ٹماٹر نہ ديکھ کر ميں نے کہا "ٹماٹر مہنگے ہيں اسلئے نہيں لائے؟" اس نے جواب ميں کہا "آپ جانتے ہيں ہم بہت پرانے دکاندار ہيں ۔ آج کل لوگوں کو پتہ نہيں کيا ہو گيا ہے ۔ ٹماٹر 30 روپے کلو تھے تو سارا دن آواز لگا لگا کر ميرا گلا بيٹھ جاتا پھر کہيں ميں فارغ ہوتا ۔ آج 80 روپے کلو تھے تو 2 گھنٹے ميں سارے ٹماٹر بِک گئے"

    جواب دیںحذف کریں
  9. گمنام20/9/11 15:40

    tajarat mae kbi munafa kbi nuqsan hota hae, laekin insaan ki tajarat mae insaan khud hamesha ghatae mae hi rehta hae.

    جواب دیںحذف کریں
  10. افرادی فوت کی قیمت کا تعین میں معیار اور تربیت کے علاوہ طلب اور رسد کے عموامل بھی اچھے خاصے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر بہت زیادہ معیاری افرادی قوت کسی خاص شعبے میں موجود ہے تو بھی معیار اچھا ہونے کے باوجود گاہک قیمت کم ہی لگاۓ گا۔

    اللہ آپکو جزاۓ خیر عطا فرماۓ! ماشا اللہ بہت اچھی تحریر ہے

    جواب دیںحذف کریں
  11. I think only in other objects the method of 2+2=4 but as human being we could not measure the values
    eihter in relationship or as working person.
    The loss or addition as human resourse can,t be measure.

    over all the peragraph is speachless. awsome.

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب