جنوبی پنجاب میں۔۔۔ مولتانی ملتان

ملتان، جنوب کا گڑھ ہے۔ بہالپور بارے بھی یہی خیال  غالب ہے مگر بہالپور ایک ریاست کا مرکز تھا اورملتان اس پورے خطے کا مرکز ہے۔ یہ کراچی کے جیسا ہے، یہاں ہر کوئی آ کر آباد ہوا۔ سرائیکی یہاں کے پیدائشی جبکہ پنجابی، پٹھان، اردو بولنے والوں کے علاوہ یہاں پر کئی صوفیائے کرام بھی آ بسے۔  یہاں جو بس  نہ سکے، وہ  آبادیاں یہاں کی مقامی نہ تھیں، بلکہ وہ آس پاس کے شہروں کی وہ جواں عمر لڑکیاں تھیں، یہاں کے قحبہ خانوں سے دوسرے شہروں میں بھیج دی گئیں۔ ورنہ، میری رائے میں جو ملتان گیا وہاں  بسا یا نہیں، وہاں کا ضرور ہو کر رہ گیا۔
ملتان کی کئی سوغاتیں ہیں۔ ان میں سے دو معروف ترین آم اور گرمی ہیں۔ اولیائے کرام کے مزارات سے آمدنی، ظروف، قالین  اور کشیدہ کاریاں یہاں کی مزید پیداوار ہیں۔یہاں کے آم نہایت لذیذ جبکہ گرمی انتہائی شدید  ہوتی ہے۔ یہاں کے باسی اور باہر سے وارد ہونے والے تمام ہی لوگ ان دو سوغاتوں سے بھرپور فیض یاب ہوتے ہیں جبکہ باقی کی پیداواروں کا ایسا ہے کہ وہ کسی کے لیے   لذیذ جبکہ باقیوں کے لئے انتہائی شدید کوفت کا باعث ہیں۔
جب برصغیر میں اسلام وارد ہوا تو کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے ملتان تک کا علاقہ فتح کیا تھا۔ تب اولیائے کرام نے یہاں خوب ڈیرے جمائے اور ملتان چونکہ اسلامی فتوحات کے نکڑ پر واقع تھا، اسی کو آگے کی تبلیغ کا  مرکز بنایا۔ ملتان پورے برصغیر میں صوفیاء کے سفر کے دوران سرائے کی حیثیت سے مشہور ہوا۔ تب کے صوفیاء نے  یہاں سے برصغیر میں اسلام کی دولت پھیلائی، اور اب انھی صوفیاء کے مزارات مخدوموں کی جیبیں دولت سے بھر رہے ہیں۔
مخدوم فلاں صاحب اور مخدوم فلاں شاہ، یہاں کی ضمنی پیداوار گردانے جائیں کہ جنھوں نے یہاں کے علاقے اور لوگوں پر  حکمرانی  قائم کی ہے۔ یہاں کی آبادی کا وہ حصہ جو دیہاتوں میں مقیم ہے وہ مخدومین کی زمینوں پر مزارعین ہے اور وہ آبادی جو ان کی جاگیر سے باہر بستی ہے، انھیں اولیاء کے مریدین کے نام پر اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ یہاں کی سیاست شاہ جی سے شروع ہو کر گیلانی و قریشی پر ختم ہوتی ہے، ووٹ حقوق کے لیے نہیں بلکہ پیر صاحب کے لیے دیے جاتے ہیں۔ تو اب بتائیے، کیسی تبدیلی اور کہاں کا "انصاف"؟
جو مخدوم نہ تھے، صاحبو وہ سردار ہیں یا پھر نوابزادے۔ ان کا طریق واردات بھی مخدومین سے جدا نہیں ہے مگر  چونکہ ان کو اولیاء کا دست شفقت میسر نہیں، اس لیے انھیں تھوڑی سختی ، یعنی  اغوا،  ڈاکے، لوٹ اور قتل وغیرہ جیسے قبیح طریقوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ سردار اور نوابزادے اسی وجہ سے بدنام ہیں، ان کی  ذاتی جیلیں مشہور ہیں اور ظلم کے قصے عام ہیں۔ مگر مخدومین، اللہ اولیاء کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، کہ جن کے نام کی مہربانی سے یہ ان قباحتوں سے پاک ہیں۔
ملتان کا حلوہ بھی ایک پیداوار ہے۔ کوئی مجھ سے کہے تو صاحبو اس کا گلہ بجا ہو گا کہ سوہن حلوے کا ذکر کاہے کو پہلے نہ چھیڑا۔ سوہن حلوہ، یہاں کا مشہور ہے اور جس بازار میں یہ بکتا ہے وہاں  سوہن حلوہ خریدنے والوں کو کھوئے سے کھوا اچھلتا ہے۔ کئی اقسام کا حلوہ یہاں دستیاب ہے، جس کی شیرینی سے ہی یہاں کی مقامی آبادی اس تلخی کو ذائل کرتی ہے جو یہاں کے مخدومین، خوانین، سردار لوگ پھیلاتے ہیں۔  آم اور گرمی تو ارد گرد کے علاقوں میں بھی دستیاب رہتی ہے مگر حلوہ خاص ملتان شہر کی سوغات ہے۔ صاحبو، یہاں جو مخدوم نہیں اور جس کا خاندان نوابزادہ یا سردار بھی نہیں ، وہ حافظ ہے۔ قدم قدم پر آپ کو حافظ کے اصلی سوہن حلوے کے کھوکھے مل جائیں گے جن کے رجسٹرڈ نمبر ہی ان کی کوالٹی کا ثبوت ہیں۔ آخری بار جو حافظ کا اصلی حلوہ میں خرید لایا تھا اس کا رجسٹریشن نمبر تین سو ایک (۳۰۱) تھا، مگر چونکہ وہ بھی بیکار نکلا اس لیے اب میں صرف ریواڑی نامی غیر حافظ حلوے کا استعمال کرتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔  بس ایک غم سا  ہوتاہے کہ یہ ریواڑی کچھ غیر اسلامی سا نام ہے، وگرنہ ملتان میں تمام مصنوعات کسی نہ کسی صورت مذہبی تبرک کے ریپر میں لپیٹ کر فروخت کی جاتی ہیں؛ جیسے اللہ ہو فرائی مچھلی،  حافظ کا سوہن حلوہ، شمس تبریز ی تکے،  صحرائے مدینہ کے آم ہی آم اور  ہاشمی، قریشی اور گیلانی جیسے مخدوم سیاستدان وغیرہ وغیرہ۔

(جاری ہے)

تبصرے

  1. آپ نے بجا فرمایا کہ یہ مدینہ ت الاولیا ہے۔ تو پھر اس دفعہ میرے لیے سوہن حلوہ لا ہے ہیں آپ؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. ہائے ہائے دیار غیر میں وطن مالوف کا ذکر ظالم وہ تیر سینے میں مارا کہ ہائے ہا ئے

    جواب دیںحذف کریں
  3. صلہ عمر میں ولایت کے ان باسیوں کی فریادیں کون سنے گا؟

    جواب دیںحذف کریں
  4. مجھے تو ڈر کہ کہ کل گیلانی عدالت سے نکل کر اپ کو اس مضمون کے چکر میں اندر کروا دے گا فیر

    جواب دیںحذف کریں
  5. فرہنگ آصفیہ کے مطابق یہ سوہن نہیں سوہان حلوہ ہے
    اور ملتان کی گرمی کے ساتھ طوائفوں کے ذکر کی کیا نسبت ہے؟

    جواب دیںحذف کریں
  6. دس بارہ کلو تبرکاً
    ہاشمی ، گیلانی مخدوم ،سیاستدان بھی نوش فرمانے کا تجربہ کر لیتے۔
    تحریر کی تعریف کرنا گستاخی سمجھوں گا۔
    بہت اعلی

    جواب دیںحذف کریں
  7. فرہنگ آصفیہ کی رو سے اگر سوہن حلوہ میٹھا ہے تو سوہان روح کیسا ہے ؟۔
    ملتان کی چار چیزیں اگر مشہور ہیں تو پانچویں طوائف ہے ۔ قتیل شفائی اور اپنے میٹھے میٹھے وزیر ۔۔۔ جیسے بندوں کو عمر بھر نکیل ڈال کر رکھنے والی۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. اگلی قسط کا انتظار ہے

    جواب دیںحذف کریں
  9. ہا ہا بہت خوب ۔۔
    بہت خوب ۔۔ بڑی اعلی واٹ لگائی ہر چیز کی ۔۔
    اور یہ ریواڑی بھی تو ایک نہیں ۔ کونسا اصلی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  10. خوب تحریر ہے، پندرہ سال پہلے کا ملتان بھی کافی تاریخی منظر پیش کرتا تھا، اب کہتے ہیں کہ کافی ترقی کر گیا ہے اور کئی تاریخی عمارتیں گرا دی گئی ہیں..

    حافظ کے سوہن حلوے کی شہرت ہی ہے جو ہر کوئی اپنا جعلی حلوہ انہی کے نام سے بیچتا ہے، ویسے ان کی اصل دکان حسین آگاہی پر واقع ہے جو گھنٹہ گھر سے ذرا سا ہی آگے ہے.

    جواب دیںحذف کریں
  11. پہلی بات تو يہ کہ آپ ملتان کی ايک اہم پيداوار بھول گئے " ملتانی کھيس "۔ رہا سوہن حلوہ تو جب سے کراچی کے عبدالحنان اور ملتان کے حافظ راہی ملکِ عدم ہوئے سب جعلی مال بک رہا ہے ۔ حافظ کا سوہن حلوہ کے نام سے اسلام آباد ميں بھی ملتان سے حلوہ آتا ہے مگر بيکار ۔
    ايک تلخ بات ۔ جہاں اللہ کے بندوں کی وفات کے بعد اُن کی اولاد يا مجاوروں نے آستانے قائم کئے تو ساتھ طوائف گھر بھی بنے ۔ اللہ ان کو نيک ھدائت دے

    جواب دیںحذف کریں
  12. تحریر تو شاندار ہے۔
    آخری بار جب سوہن حلوا کھایا تھا تو وہ انتہائ کڑوا تھا:(

    جواب دیںحذف کریں
  13. بہت خوب چلو جی سوهن خلوه بھی هوگا
    لیکن
    یه اسلام کے دسٹری بیوٹرز کے متعلق پڑھ کر مزه آیا

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب