محبت؟

محبت بھی جذبہ ہے جیسے کہ کوئی اور جذبہ ہو سکتا ہے۔ فرق اثبات کا ہے، یہ مثبت جذبہ ہے اور مثبت جذبات میں وہ جذبہ جس کی اتنی تشریح ہوئی ہے کہ کیا سے کیا ہو گیا۔ محبت؛ مہر، چاہ، میلان، الفت، رغبت، انسیت، شفقت اور پیار کا جذبہ ہے جو کسی کی محبوب سے وابستگی کی شدت سے ماپا جاتا ہے، حالانکہ میرا ماننا ہے کہ اسے ماپنے کا یہ کوئی درست طریقہ نہیں ہے۔
 صاحبو! مجھے محبت ہے۔ میرا دل محبت سے بھرپور ہے، یہ میرے دل کے مرکز سے امڈ امڈ کر بہتی ہے اور میرے وجود کو اپنی شیرینی سے تر رکھتی ہے۔ میں نے بارہا محبت کو محسوس کیا ہے، اس جذبے کو جتنا میں دل کی اتھاہ گہرائیوں میں محسوس کر پایا ہوں، غم کے سوا شاید کوئی دوسرا جذبہ نہیں جو ایسی جگہ بنا پایا ہو۔ میں محبت میں رہا ہوں، میں محبت سے دور نہیں ہوا۔ کبھی یوں یا پھر توں، میں محبت میں گرفتار رہا۔ میرے وجود میں یہ جذبہ موجزن رہا اور میرا ماننا ہے کہ محبت ہی تھی جس نے اتنا غم میرے اندر برپا کیا کہ اب مجھے محبت سے زیادہ غم کی مقدار واضع محسوس ہوتی ہے۔ یا شاید ایسا نہیں ہے۔ شاید میں نے غم پر بہت زیادہ توجہ مرکوز رکھی ہے اور اب مجھے اپنے وجود میں غم، محبت سے زیادہ دکھتا ہے۔ میں باقی کے جذبات کو اتنی دلجمعی سے کبھی برقرار نہیں پایا؛ جیسے میں کبھی زیادہ دیر تک نفرت نہیں کر سکتا، حسد میرا کچھ نہیں بگاڑتا، غصہ میں زیادہ جلدی نہیں مگر تھوک دیتا ہوں اور خوشی زیادہ دیر تک طاری نہیں رہنے دے پاتا۔
 صاحبو، میرا ماننا ہے کہ شدت جذبے کو مار دیتی ہے۔ زیادہ شدت سے برپا ہونے والے جذبے دیرپا نہیں ہوتے، وہ ماچس کی تیلی کی طرح بھڑک کر بجھ جاتے ہیں، اور ان کا کوئی بھروسہ بھی نہیں ہوتا۔ انتہائی خوشی، اور بے تحاشہ غم آپ کے دل کو غرق کر سکتا ہے۔ شدت کارآمد نہیں رہتی، زور اچھا نہیں ہوتا۔ بدھا کی نروان پانے کی پہلی کوشش شدت پر مبنی تھی، وہ دنوں تک بھوکا پیاسا ایک ہی جگہ جم کر بیٹھا رہا اور اس شدت سے کوشش کرتا رہا کہ وہ نروان، حقیقت کو پا جائے تو وہ غلط تھا۔ اس کو جلد ہی احساس ہو گیا جب اس کا جسم توانائی کی کمی سے سکڑنا شروع ہو گیا اور اس کی جلد ہڈیوں سے جا ملی اور پٹھے پتلے ہونا شروع ہو گئے۔ وہ قریب المرگ ہوا تو اس نے یہ کوشش ترک کی۔ صاحبو، بدھا جان گیا کہ شدت اس کو مار دے گی، اس کے نروان اس کو حقیقت نہیں دلا سکتی۔ وہ جان گیا کہ معتدل رہنا ضروری ہے، شدت کچھ نہیں دلاتی، بلکہ غرق کر دیتی ہے۔
میں نے آج تک دو جذبے انتہائی معتدل انداز میں اپنائے ہیں۔ پہلا محبت اور دوسرا غم۔ میں نے دونوں کو ٹپ ٹپ اپنے اندر برسایا ہے، ان کو شدید نہیں ہونے دیا۔ یہ دونوں جذبے ہر وقت میرے اندر موجزن رہتے ہیں، کبھی کبھار شدید ہوتے ضرور ہیں مگر جیسے کوئی خودکار طریقے سے میرا اندر انھیں حد میں لے آتا ہے۔ اور وہ ویسے ہی تھوڑا تھوڑا کر کے، ہلکے ہلکے برستے رہتے ہیں، میرے اندر کو معطر رکھتے ہیں۔
شدت سے برپا ہونے والے جذبے کبھی دیرپا نہیں رہے۔ میں خوش ہوتا ہوں تو ایسے کہ جیسے پھر یہ خوشی مجھے نہ ملے گی، غصہ جس دھاک سے اٹھتا ہے اس سے کہیں زیادہ جلدی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ نفرت میں زیادہ دیر کر نہیں سکتا کہ یہ اندر سے مجھے کاٹنا شروع کر دیتی ہے، میری نفی کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ایسے ہی تقریبا جذبے ایسے ہی برپا ہوتے ہیں اور جلد ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ لوگ مجھے اکثر ان جذبوں سے جانتے ہیں، جو شدید رہے۔ لوگ میری خوشی کے اچانک بہاؤ سے اخذ کر لیتے ہیں کہ نہ جانے میں کیسا ندیدہ ہوں کہ خوشی پر ایسے چہکتا ہوں۔۔ حالانکہ میرے مولا نے مجھے بہت خوشیاں دکھائیں، مگر یقین جانیے کہ شاید مجھے وہ خوشیاں یا خوشی کا زائقہ یاد ہو؟ نفرت سے لوگ اندازہ کرتے ہیں کہ کیسا بدنصیب ہوں میں، مگر یہ نہیں جانتے کہ نفرت کے لیے میرے اندر کوئی جگہ نہیں اور ایسے ہی دوسرے جذبے۔
صاحبو، لوگ میری محبت اور غم کے جذبوں کو کبھی جانچ نہیں پاتے۔ کیونکہ وہ خاموشی سے میرے اندر برپا رہتے ہیں۔ باقی کے جذبے خود کو شدت سے عیاں کر دیتے ہیں مگر، یہ دو جذبے ایسے نہیں ہیں۔ اور ان دو جذبوں میں سے بھی غم کو عیاں کرنے کو، میں نے کئی بلکہ کئی سے بھی زیادہ بلاگ پوسٹس لکھ کر اظہار کرنے کی کوشش کی ہے۔ دن بھر کے بلند ہوتے قہقہوں سے بیوقوف بننے والے اپنے اردگرد کے لوگوں کو میں لکھ لکھ کر بتاتا رہا کہ میرے اندر کیسا غم کا دریا بہتا ہے، مگر میں نے کبھی محبت پر نہیں لکھا اور نہ ہی کبھی اس کا اظہار کر پایا ہوں۔
صاحبو، آج کو میں محبت پر لکھنا چاہتا ہوں۔ میں محبت پر بات کرنا چاہتا ہوں اور میں اس کا اظہار کر گزرنا چاہتاہوں، جیسے میں غم بارے بتاتا رہا، ویسے ہی اپنے اندر خاموشی سے بہتی محبت سے باہر کی دنیا کو روشناس کروانا چاہتا ہوں کہ میری سرد مزاجی اور قنوطیت کو محبت سے ناآشنائی تعبیر کرتے ہیں۔ میرے محدود رہنے کو اور اس بارے گرم جوش نہ رہنے کو نہ جانے کیسے محروم سمجھتے ہیں۔
میں بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے محبت ہے۔ میں محبت کو جانتا ہوں، میں نے اسے برسوں سے اپنے وجود میں پالا ہے اور اسے جانتا ہے۔ میں محبت کو کیونکر نہ جانوں گا کہ میں نے آنکھ ہی ماں کی بے لوث محبت کی آغوش میں کھولی ہے۔ میں محبت کے بے لوث ہونے سے ناآشنا کیونکر رہوں گا؟ میں محبت کے ہمیشہ موجزن رہنے کو کیونکر جھٹلا سکتا ہوں جبکہ میں نے آج تک کا سفر اس کے سہارے کیا ہے۔
میں سب سے پہلے بتائے دوں کہ شاید میں سرد مزاج لگتا ہوں گا، مگر میرا وجود اندر سے محبت اور غم سے دہکتا ہے۔

حصہ دوئم: نامعلوم کی جانب

تبصرے

  1. بڑے بھائی ہارمونز کے زبردست اخراج کو محبت کا نام دینا کسی طور مناسب نہیں ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. Assalamoalykum
    agar aap ka apny bary main tajziya bilkul drust hay to aap aik bohat kumyab/rare insan hain mashaALLAH.
    jazbat main twazun owr e'tdal brqrar rakhna bohat mushkil kaam hay, owr aap aisa kar sakty hain mashaALLAH.owr manfi jazbat ko dil main jaga na dayna bhi bohat dushwar hay jo aap kr skty hain mashaALLAH.

    i am impressed!!

    Umme Arooba

    جواب دیںحذف کریں
  3. جب اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے فرما دیا کہ میانہ روی اختیار کرو تو یہی راستہ درست اور باقی سب غلط ۔ محبت بے لوث ہو تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں اور اس میں کسی حصول کی چمک ہو تو شیطان حملہ کنے سے نہیں چُوکتا

    جواب دیںحذف کریں
  4. شاندار نثر ہے۔
    سرد مزاجی کی صفائیاں پتہ نہیں کس کو دیں۔ مجھے تو ، توُ سردمزاج نہیں لگتا۔ ایسے ہی لگارہ محبت کو کھوجنے، اس بھید کا سرا ملے تو مجھے ضرور بتائیو۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. محبت، زبردست اظہار کیا آپ نے اپنی محبت کا،شکریہ اس اظہار محبت کا۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. بھائی صاحب جس کے لئے لکھا تھا اس نے بھی پڑھا یا نہیں؟
    ویسے اب آپ شادی کر لیں۔
    :)

    جواب دیںحذف کریں
  7. فیصل بھیا@ ل و لزز، یہ ہر مسئلے کا حل شادی ہی کیوں تجویز ہوتا ہے؟
    باقی احباب کا شکریہ۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. ہر مسئلے کا حل شادی اسلئے تجویز ہوتا ہے کہ نئے اور زیادہ بڑ؁ے مسائل میں پرانے مسئلے بھول جاتے ہیں۔
    ;)

    جواب دیںحذف کریں
  9. محبت(مظہر فرید فریدی)
    بتاؤ تو کبھی مجھ کو ،تمھیں مجھ سے محبت ہے،
    تمھیں میری ضرورت ہے
    محبت اورضرورت میں ،مگر اک فرق ہوتاہے
    ضرورت تو فقط اک عارضی شےہے
    ضرورت بڑھ بھی سکتی ہے
    ضرورت کم بھی ہوتی ہے
    محبت تو محبت ہے ،محبت ہوتی ہے یا پھرنہیں ہوتی
    محبت میں زیدوکم کا،کوئی خطرہ نہیں ہوتا
    محبت ہوبھی سکتی ہے،
    محبت اورنفرت میں کوئی دوری نہیں ہوتی
    محبت میں بھی شدت ہے،نفرت میں بھی شدت ہے
    یہ وہ جذبہ ہے جس کے آگے بند نہیں ہوتا
    محبت جب بھی ہوتی ہے ،اپنی تند فطرت میں
    کسی خارج تعلق کو ،خاطرمیں نہیں لاتی
    ضرورت کی ہر اک شے تودکانوں پر بھی ملتی ہے
    ضرورت کی اک قیمت ہے،جوقیمت دے ضرورت لے
    محبت بک نہیں سکتی،محبت جھک نہیں سکتی
    مگرایسابھی ہوتاہے کہ یہ مجبورہوتی ہے
    محبت میں مگراک باہمی تکریم ہوتی ہے
    دیکھو!سنو!ذراسی بات پر یونہی پریشاں بھی نہیں ہوتے
    محبت بکتے دیکھی ہے ،تم نے،بازاروں،چوراہوں پر!
    محبت بکتے دیکھی ہے!حسیں باغوں، عالی شاں مکانوں میں!
    ارے پگلی!محبت وہ نہیں ہوتی؟
    کسی بے حس ضرورت کی،بے جاں روح نیلام ہوتی ہے
    ضرورت بھی توزندگی کا اک لازم فریضہ ہے
    تمھیں معلوم کیا ؟کبھی تم نے، کسی ماہی کوکبھی بے آب دیکھاہے!
    جواپنی روح کابے گوروکفن لاشہ
    اپنے بدن کے بےجان کندھوں پر اٹھائے ،
    آوارہ پھرتی ہے
    محبت پھر بھی کرتی ہے
    ننھے پھولوں، مسکراتی تتلیوں کے پروں سے وہ
    محبت پھربھی کرتی ہے،
    اپنے جسم کے بوسیدہ،فرسودہ تقاضوں سے
    محبت پھربھی کرتی ہے،
    اپنے تسلسل کے آخری حوالوں سے
    محبت پھر بھی کرتی ہے،
    مگردعویٰ نہیں کرتی
    اسے اک آس ہوتی ہے
    محبت کوسمجھنے کی
    محبت اس کو کہتے ہیں،
    تمھیں اک فرق کرناہے
    اپنی اورمیری محبت کا
    اب اک فیصلہ کرلو
    فقط ہم سچ ہی بولیں گے
    بتاؤ توذراتم بھی!
    تمھیں مجھ سے محبت ہے،
    تمھیں میری ضرورت ہے!

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب