گدھا اور تھڑا
آخری بار جب اس بلاگ پر ہم نے کچھ تحریر کیا تھا تو بہار دم توڑ رہی تھی، اب تو جاڑا آنے کو ہے اور ہم تھلائے کے بیٹھے ہیں۔ پہلے گرمیاں اور پھر رمضان بھگتا چکے تو عید نے ہمیں بھگتانے کی ٹھان رکھی تھی۔ عید پر وہ مینہ برسا کہ خدا کی پناہ۔ ہم سوچیں کہ یوں جائیں تو بھیگیں گے اور توں بھیگنے جوگے بھی نہ رہیں۔ عید گویا فلسطینی محاصرین کے جیسے گھر میں نظر بند ہو کر گزارنا امر لازم ٹھہری تو خیال آیا کیوں نہ کچھ "تعمیری" کیا جاوے۔ یہ کیا ہر وقت کی فیس بک بک اور ٹوئٹر کی ٹر ٹر۔ پہلے تو سوچ رہے کہ اردو وکیپیڈیا کی طرف نکل جائیں تو کچھ تراجم بخش آئیں گے، پر وہاں تو اللہ معاف کرے آج کل ایک طرف لکھنوی اردو میں، لیجیے اور دیجیے چلتا ہے تو دوسری جانب جو کسر بچ رہتی ہے اسے فارسی اور عربی کی ثقیل اصطلاحات سے پُر کیا جاتا ہے۔ وہاں ہم اپنے واجبی سی اردو لیے کیا منہ چھپاتے پھرتے۔ پھر خیال اپنے بلاگ بابت یوں بھی آیا کہ، کیوں نہ اس کی نوک پلک سنوار دیں تو شاید ہمارے روز کے چونتیس وزیٹرز کی تعداد بڑھ کر پچاس تک جا پہنچے۔
ہمیں ہمیشہ سے یہ قلق رہا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں ہم نے اتنی محنت سے جو اپنی اردو کو جلا بخشی ہے اور نتیجتاً کوئی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ پوسٹیں لکھ ڈالیں ہیں، دنیا اس خزینہ سے کیوں محروم رخصت ہوتی رہے؟ یقین کیجیےکلیجہ منہ کو آتا ہے، تبھی خواہ مخواہ ہم یہاں اور وہاں بہانے بہانے سے اپنی بلاگ پوسٹوں کے ربط ڈال کر آتے رہے۔ نتیجہ وہ تو برآمد نہ ہوا جو ہم چاہتے تھے پر اتنا ضرور رہا کہ کچھ بامروت لوگ تو شرم کے مارے چپ بیٹھے سہتے رہے۔ بعض نے دبے لفظوں کچھ کہا بھی جسے ہم سن نہ سکے اور قرار واقعی، جو ہمارے جیسے لفنٹر تھے وہ منہ بھر کر کھلے عام (سبب بقول ان کے خباثت)، لعن طعن کرتے پائے گئے۔ ہم نے ان کے ہی منہ کی لاج رکھنے کو ایسا کرنا گو ترک تو نہ کیا مگر روش بدل دی۔ اب ہم بغیر کسی وجہ کے بھی اپنے بلاگی ربط گندگی کی طرح پھیلاتے ہیں۔
خدا گواہ ہے کہ ہم پھر بھی کچھ خوش نہیں ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ دنیا محروم رہنا چاہتی ہے۔ کسی بھی صورت ایسا ممکن نہ ہوا کہ لوگوں تک ہم اپنے وہ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ "شہ پارے" پہنچا پاتے۔ پہلے پہل تو لوگ ایک آدھ تحریر پڑھ بھی لیتے تھے مگر اب تو لوگوں کی ایسی منکر نظریں ہیں کہ بلاگی ربط دیکھتے ہی بدک جاتے ہیں۔ پڑھنا تو دور کی بات، "شئیر" یا "ری ٹویٹ" کرنا بھی برا جانتے ہیں۔ اور ہمارا بلاگ تو یوں بھی ایسے ہے کہ کوئی شئیر کرنے سے پہلے دس بار سوچے کہ غیر دانستہ کہیں کوئی گھر والا نہ پڑھ بیٹھے اور اگلے ہی دن انھیں کسی دماغی ماہر امراض کا منہ دیکھنا پڑے۔
یہ بڑی شرمندگی کی بات ہے کہ لوگ محروم چل بسیں، کم از کم لوگوں کے لیے تو ضرور ہی ہے۔ ہم تو شرمندگی کی منازل طے کر کے بے شرمی کی حد تک سعی کر گئے مگر مجال ہے کوئی پوسٹ دس سے زیادہ بار ری ٹویٹ ہو پاتی ہو؟ ایسی صورت میں یہ ضروری تھا کہ ہم اپنے بلاگ کی نوک پلک سنواریں کہ گرو کہتے ہیں بھاویں آپ مٹی بیچیں مگر جس کاغذ میں لپیٹ کر حوالے ہو وہ ضرور چمکدار ہونا چاہیے۔ گرو سے میری مرادخالصتا کاروباری ذہن کے بنیوں سے ہے۔ اب کے جو ٹھانی تو سوچا کہ ہم کچھ اخبار سا بنا کر پیش کریں تو شاید لوگ ہماری باتوں کو بھی روزنامہ جنگ کے ٹھٹھے باز کالم نگاروں کی بک بک کے جیسے نہ صرف پڑھیں بلکہ انھیں چوم چاٹ کر سارا دن دو ایک بار ری ٹویٹ کر کے اس پر ٹوئٹری ٹائم لائنز کو بھی گرماتے پھریں۔ امید پر دنیا قائم ہے، ورنہ ہمیں یقین ہے کہ ویسا نہ بھی ہو، کم از کم روزنامہ خبریں اور نوائے وقت جتنی اہمیت تو بخش ہی دیں گے کہ ویسی اخباروں کو روزانہ لاکھوں لوگ نائیوں کی دکانوں پر وقت اور مکھیاں، بیک وقت مارنے کو استعمال کرتے ہیں؟ اور کچھ نہیں تو شاید، شاید ہمیں زید حامد کے لطیفوں جتنی اہمیت تو مل ہی جائے گی جو سرخ ٹوپی پہنے سبز انقلاب لانے کی ٹھان کر بیٹھے ہیں۔
ہک ہا، یہ بڑا مشکل کام ہے۔ شہرت اور اعتماد ایک ساتھ کمانا اتنا آسان نہیں۔ ہمیں پاپڑ بیلنے پڑے اور کم از کم تین دن اور دو راتوں، چاند رات کو نکال کر ہمیں کڑی محنت سے گزرنا پڑا اور یوں ہم وہ بنانے میں کامیاب ہوئے جسے کوئی اور نہ سہی، ہم خود دن میں چوری چوری چار پانچ بار اپنی مشفق نظروں سے فیضیاب کرتے ہی ہیں۔ دل باغ باغ ہوتا ہے جب صفحہ اول پر کم از کم پچاس کے لگ بھگ بلاگی پوسٹوں اور عنوانات کے روابط کو یوں بکھرے پڑے دیکھتے ہیں کہ کوئی انھیں سینےسےلگائے تو کچھ چین نصیب ہو۔ جو روزانہ کے ہمارے بلاگ پر آنے والے چونتیس بھولے بھالے قاری، جن میں اکثر انٹرنیٹ پر خوفناک کہانیاں تلاش کرتے ہمارے بلاگ پر پہنچتے ہیں کے بارے ہمیں یقین ہے کہ وہ اس بکھرے خزانے میں خود کو پا کر دہشت کی حد تک ضرور خوفزدہ ہوتے ہوں گے۔ کہانیاں ایک طرف رہتی ہوں گی اور وہ کبھی یہاں اور کبھی وہاں، کبھی اس اور کبھی اُس ربط سے جان چھڑانے کی ضرور کوشش کرتے ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے جب وہ اس کوچہ سے رخصت ہوتے ہوں، تو کم از کم ان کی اپنی ایک خوفناک داستان ضرور بن چکی ہوتی ہو گی۔
جیسے تیسے ہم نے اپنی تمام تر آئی ٹی کی صلاحیتوں کو بروکار لا کر یہ اہتمام کیا تو سوچے اب کے وہ بھرمار ہو گی قارئین کی کہ شاید بلاگ سپاٹ نامی یہ مفت کی سروس گھٹنے ٹیک دے۔ شاید ہم وہ بن جائیں جو روزنامہ جنگ کی بکواس نہ بن پائی ہو اور ہمارے بلاگ سے اتنی مکھیاں ماری جائیں کہ ملک پاکستان کے نائی تا حیات ہمارے شکر گزار رہیں۔ مگر بے سود۔ ہم مطمئن بیٹھے تھے کہ ہمارے، اپنے تئیں خیرخواہ اور ہمارے حساب سے بدخواہ نے امیدوں کا گھڑا ہمارے سر یوں دانت کھولتے ہوئے پھوڑا کہ ہمارا دل چاہا ان کی بتیسی پھوڑ دیں۔ فرمانے لگے کہ، "میاں، یہ بلاگ کو پٹھان کی ہتھ گاڑی کے جیسے سنوارنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، کچھ لکھو گے تو بات بنے گی"۔ اور ہم ہکے بکے رہ گئے، عرض کی کہ "محترم، ہمارے سارے بلاگی خیالات تو رات دو بجے کے بعد ٹوئٹر کی ٹائم لائن پر بہہ نکلتے ہیں۔" تو انتہائی سنجیدگی سے ہمیں کسی حکیم سے رابطے کرنے کا مشورہ دے کر یہ جا، وہ گئے۔
بہرحال، بات اس بدخواہ کی درست تھی، بھاویں ہمیں ناگوار گزرے۔ آئی ٹی کی تمام تر مہارت، گو بوسیدہ ہی کیوں نہ ہو، استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک ہم کچھ لکھتے نہ رہا کریں۔ شرمندگی سی ہوتی ہے کہ اب ہم کیا لکھیں جسے لوگ شوق سے پڑھیں اور پھر ویسے بھی یہ کوئی ایسا اچھا تجربہ رہا نہیں۔ اب تو لوگوں کی تعریف بھی ہمیں سینے میں کھبتی ہوئی لگتی ہے کہ "سارکازم" کا وہ دور دورہ ہوا کہ نجانے کس لہجے میں کون کیا پھبتی کس رہا ہو۔ ہمیں یہ کم ہی سمجھ آتی ہے۔ بہرحال، کچھ لکھ رکھنے کی اس لیے ٹھان لی کہ ہمیں ایک لطیفہ اپنے بلاگ کی نوک پلک سنوارنے کی سعی اور کچھ نہ لکھنے کے طعنے پر یاد آیا۔ خوف لاحق ہوا کہ کل کلاں کہیں ہم بھی کسی ایسی ہی پھبتی کا کردار نہ بن جائیں۔
یہ اس دور کی بات ہے، جب فوجی بوٹوں کے سائے تلے مملکت پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو برائی کی طرح پھیلائے جانے کی سنجیدہ کوششیں جاری تھیں۔ گاؤں گاؤں انٹرنیٹ پہنچایا گیا اور ہر جیب میں موبائل لٹک رہا تب کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کرتا دھرتا ڈاکٹر عطا الرحمٰن بارے یہ پھبتی کسی گئی کہ وہ ایک وفد کو لادے، گاڑیوں کے ہوٹر بجاتے ایک دور دراز گاؤں پہنچے، یہاں حال ہی میں ایک کمیونٹی سینٹر کی تعمیر عمل میں لائی گئی تھی۔ باقی سہولیات کے ساتھ ایک پوش کمپیوٹر لیب پر خصوصی نظر کرم کی گئی تھی جہاں اس دور کے مطابق جدید ترین کمپیوٹرز نصب کر رکھے گئے اور مزید براں یہ کہ تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے والے آلات بھی نصب ہوئے۔ وفد کے گورے دور دراز گاؤں میں ایسی سہولیات دیکھ کر نہایت متاثر ہوئے، مگر کمپیوٹروں اور آلات کی غوں غاں نہ پا کر سوال داغ دیا کہ، "جناب، یہ کمپیوٹر سینٹر لوگوں کے استعمال میں کب تک لایا جا سکے گا؟" ڈاکٹر صاحب نے عرض گزار کی کہ، "ہم تو تیار ہیں، بس واپڈا والوں کے منت ترلے جاری ہیں۔ کھمبے الف کر دیے گئے ہیں۔ بس تاریں کھنچ جائیں تو بجلی بھی آ جائے گی اور پھر سمجھیں کمپیوٹر سینٹر چالو ہے"۔
صاحبو! پہلےکیطرح ہم پھرارادہ تازہ کیے دیتے ہیں مگر پھربھی یاد رہے، ہم مجبور ہیں۔ اپنے منت ترلے جاری ہیں، بس دماغی قبض سے کچھ افاقہ ہو تو عنقریب آپ ہمیں یہاں دھڑا دھڑ لکھتا ہوابھی پایا کریں گے۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو یوں دل کو تسلی دے لیجیے گا کہ، گدھا وہی ہے بس تھڑا تبدیل کرا بیٹھے ہیں۔
واہ واہ واہ۔
جواب دیںحذف کریںایسی پوسٹ مہینے میں ایک آدھ بھی لکھ مرلے تو رونقیں لگ جائیں گی۔
بہت ہی عمدہ لالے۔
بہت ہی اعلی۔
اور جناب لالہ شیلڈن صاحب یہ سارکیزم نہیں ہے۔ قسمے۔
جواب دیںحذف کریںاب ہم بچے بچونگڑے آپ کی کیا تعریف کریں :)
بس اتنا کہہ دیتے ہیں کہ کیا بات ہے جی،
اپنے ادھر بھی کچھ ایسا ہی احوال ہے، بہرحال ہم تو لکھتے ہی رہتے ہیں کچھ نہ کچھ کہ بلاگ تو اپنے باوا کا ہے، کوئی پڑھے نہ پڑھے، شئر کرے نہ کرے، سانوں کی۔ آپ وی لگے رہو،
جواب دیںحذف کریںگدھے کی ریں ریں اب کے بار سرون سے ہم آہنگ تھی۔ :ڈڈ
جواب دیںحذف کریںیہ :ڈڈ سارکاسٹک ہے۔ بتا دیا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
:ڈڈ
:ڈڈ
عمر بھائی!
جواب دیںحذف کریںآپ نے دل خوش کر دیا ہے۔ بلاگی بیماری عام ہے اور وباء کی طرح پھیلی وی ہے۔ دفنانے والا کوئی نہیں۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ کسی گھر میں چور گھس آیا ۔ گھر کسی شاعر کا تھا ۔ گھر میں بوسیدہ کتابوں اور اوراق کے سوا ہر شئے ندارد اور شومئی قسمت سے شاعر صاحب جاگ رہے تھے۔ چیخ پکار مچی اور چور پکڑا گیا۔ شاعر نے پوچھا پولیس کے حوالے کر دوں یا پھر میرا دیوان سنو گے تو پولیس تھانے نہیں پڑے گا۔ چور نے کہاں جناب اے تے گل ای کوئی نہیں۔ آپ پولیس تھانے کو بیچ میں نہ لائیں۔ اور دیوان سنا دیں۔
اگلے دن چور ہاتھ باند کر کھڑا ہوگیا اور گویا ہوا ۔ جناب بس اب آپ ایک مہربانی اور کریں کہ پولیس کو بلالیں کہ آپکی شاعری میرے بس کا روگ نہیں۔
ادھر ہر گھر میں یہ رولا ہے کہ بلاگ کو تو خوب زیب و زینت سے پالا جاتا ہے مگر ۔۔۔۔۔ بسا اے آرزو۔۔ پڑھنے والے ندارد۔ ۔ ۔ پھر کہتے ہیں
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
پوسٹ کی تعریف تو میری بس اور ٹرک سے باھر ھے
جواب دیںحذف کریںپر ٹویٹر اور فیس بکی چھوٹی امیوں کا پیچھا چھوڑے تو میں تجھے بتاؤں
لکھنے کو بہت کچھ ھے
ہگ ہگی لگائی رکھتے ھیں سوشل میڈیے پہ اور بدنام ھو قبض
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںآپ کے بلاگ کا نیا پہناوا خوبصورت ہےاور آپ کا کام قابل تعریف ہے۔
جواب دیںحذف کریںلیکن مجھے آپ یہ بتائیں یہ اتنی طویل تحریر آپ نے کیوں پڑھائی ہے؟؟ اپنےقارئین پر رحم کریں اور اگر تحریر کا موضوع اِدھر اُدھر کے خیالات ہیں تو تحریر 800 الفاظ سے زیادہ نہیں ہونے چاہیئے۔
خورشید صاحب، آپ گن کے ۸۰۰ لفظ پڑھ لیا کریں۔باقی چھوڑ دیا کریں
جواب دیںحذف کریںپورے بلاگ پوسٹ میں زبان ہی زبان ہے آپ خود دوسری دفعہ پڑھیں آپکو پتہ چل جائے گا آپ نے خود فرمایا تھا کہ بلاگ اپنے لئے لکھنا چاہیے ریٹینگ یا دوسروں کے لئے نہیں
جواب دیںحذف کریںطنزیہ انداز تحریر بھی ایک چڑیا کا نام ہوتا ہے۔
جواب دیںحذف کریںکمزور یاد داشت کی وجہ سے آپ کے بلاگ کی پرانی تھیم تو یاد نہیں البتہ نئی واقعی قابل تعریف ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بلاگ کی نوک پلک سنوار لینی چاہیے اس سے تازگی کا احساس رہتا ہے۔ البتہ کونٹینٹ از کنگ والی بات اپنی جگہ صد فی صد درست ہے۔
جواب دیںحذف کریںلالے آخیر ہی ہو گئی یہ تو ۔۔
جواب دیںحذف کریںتعریف بعید از الفاظ ہے
اب آپ کو کرنا یہ ہے کہ فیس بک کے لیے چھوٹا موٹا خچر ہائر کر لیں وہ ٹریفک کی روانی بحال کرواتا رہے گا
جواب دیںحذف کریںاز احمر
جواب دیںحذف کریںجناب عالی
آپ کم پڑھے جاتے ہیں، درست
، آپ کم ہی پڑھے جایں گے،
کیوں کہ آپ اپنے شب و روز پر نہیں لکھتے۔ متنازعہ معاملات پر نہیں لکھتے، حالات حاضرہ پر ہمیں باخبر نہیں رکھتے،
اپنے ساتھی بلاگرز کی تحریروں پر تحریر نہیں لکھتے، اپنے مذہبی معاملات کو اپنی حد تک محدود رکھتے ہیں ، ہمارے ایمان کا امتحان نہیں لیتے اور کچھ کاپی پیسٹ بھی نہیں کرتے، طبعزاد لکھتے ہیں-
آپ کے ساتھ مسلہ یہ ہے کہ آپ نے کیا لکھا ہے اسے سمجھنے کے لیے پوری تحریر پڑھنی پڑتی ہے محض نظر ڈال کر کام نہیں چلتا، اور درمیان کے فقروں پر ایسی نظر رکھنی پڑتی ہے جیسا کہ مچھلی کے کانٹے پر، نظر پھسلی نہیں، فقرہ چھوٹا نہیں اور نفس مضمون ہاتھ سے گیا نہیں-
جبکہ بعض بلاگز پر نظر ڈال کر سمجھ لینے کی سہولت نہ صرف میسر ہے بلکہ اکثر عنوان سے ہی کام چل جاتا ہے اور اب تو بعض ناموں سے ہی سمجھ آ جاتا ہے کہ " میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے بلاگ میں" کہ "نام ہی کافی ہے"-
اوپر سے جناب کی بے اعتنای ، آپ محض تحریر کے بل پر تشہیر چاہتے ہیں، نہ اپنے قاریین کے تبصروں پر خاص شکریہ ادا کرتے ہیں نہ دوسروں کی تحریروں پر تبصرہ کرتےہیں، بلواسطہ تشہیر بھی آخر کوی شے ہوتی ہے جناب-
اخبارات اور کتابوں کے قاریین میں تعداد کے لحاظ سے ایک نسبت ہے ، یہ نسبت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی-
اس قِِسم کی اگلی تحریر کب تک لِکھیں گے پلیز بتا دیں تاکہ میں اُلٹی گنتی کا بٹن دبا دوِں۔جناب بہت خوبصورت تحریر ہے۔
جواب دیںحذف کریںاتنے بھاری بھر کم الفاظ میں انشاء لکھنے کے بعد بھی اپنی اردو دانی پر شک
جواب دیںحذف کریںاگر مزید اردو میں لکھنے کا شوق ہے تو میرے ابا جی کی شاگردی میں آ جائیں
:)
فیس بک کی بکواسیات آپ ہمیں کرنے دیا کریں۔
جواب دیںحذف کریںاور جس کام کی آپ میں اعلی قابلیت پائی جاتی ہے ۔
اس سے ہمیں مستفید کیا کریں۔
مہینے میں دو پوسٹیں بھی اگر ہمیں پڑھنے کو مل جایا کریں تو
ہم آپ کے تہہ دل سے مشکور ہوں گے۔
بڑی پختۂ تحریر ہے بھائی،کمال کی خیال آرائی کی آپ نے۔
جواب دیںحذف کریںحضور یہ سیارہ پر مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کے درمیان اچانک آپ کی پوسٹ پر نظر پڑ گئی۔ بھئی تھیم عمدہ ہے خاص کر فون پر تو کمال کی ہے یعنی اندھیرے میں آنکھیں پھوڑے بغیر پوری پوسٹ پڑھ لی جائے۔ وہ انگریزی میں کیا کہتے ہیں نو پن انٹینڈڈ۔
جواب دیںحذف کریںباقی آپ لکھتے کمال ہیں اس میں دورائے نہیں۔
مجھے تحریر سے زیادہ تبصرے پڑھنے کا مزہ آیا ہے اور آپ کو؟؟؟
جواب دیںحذف کریں