فیض کی ایک غزل
دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
خاموش ہے میکدہ خم وساغر اداس ہے
تم کیا گئے روٹھ گئے دن بہار کے
فرصت گناہ ملی تو وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
بھولے سے وہ آج مسکرا تو دیے تھے فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
خاموش ہے میکدہ خم وساغر اداس ہے
تم کیا گئے روٹھ گئے دن بہار کے
فرصت گناہ ملی تو وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
بھولے سے وہ آج مسکرا تو دیے تھے فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
بھائی بلاگ کا سٹائل تو بہت مارا ہے ;)
جواب دیںحذف کریںکیا مطلب، مارا یا ماڑا،
جواب دیںحذف کریںمارا ہی ہونا چاہیے ہو گا
جواب دیںحذف کریںماڑا تو نہیں ہے