فیض کی ایک غزل

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
خاموش ہے میکدہ خم وساغر اداس ہے
تم کیا گئے روٹھ گئے دن بہار کے
فرصت گناہ ملی تو وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
بھولے سے وہ آج مسکرا تو دیے تھے فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے

تبصرے

  1. گمنام22/1/09 08:06

    بھائی بلاگ کا سٹائل تو بہت مارا ہے ;)

    جواب دیںحذف کریں
  2. کیا مطلب، مارا یا ماڑا،

    جواب دیںحذف کریں
  3. گمنام23/1/09 10:06

    مارا ہی ہونا چاہیے ہو گا
    ماڑا تو نہیں ہے

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05

قسط نمبر ۴: کشف المحجُوب