کنسلٹنٹ تو فرشتہ ہے حضور

کنسلٹنٹ کو خوب لتاڑا، خوب ٹھٹھے کیے اور لطیفے باندھے گئے لیکن صاحبان، یہ کنسلٹنٹ جوں کا توں موجود ہے۔ کنسلٹنسی یا رائے لینا نہایت ضروری ہے، چاہے کوئی بھی معاملہ درپیش ہو، مشورہ ضرور کر لینا چاہیے۔
ہمارے ہاں یار لوگوں نے کنسلٹنسی کی اصطلاح کا خوب مذاق بنا دیا، جیسے ہمارے دفتر کو فنڈ فراہم کرنے والے ادارے کے ایک صاحب کی ہی مثال لے لیں۔ موصوف افسر ہیں اور ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ کنسلٹنٹس کے خوب رسیا ہیں، وجوہات دو ہیں۔ پہلی تو یہ جن معاملات میں ان کو کچھ سمجھ نہیں آتی جھٹ سے ایک عدد کنسلٹنٹ بلالینے میں عافیت جانتے ہیں۔ مقصد اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنا نہیں، بلکہ اپنی اور اپنی صوابدید پر بھرتی کیے گئے لوگوں کی ساکھ برقرار رکھنا ہوتی ہے۔ دوسری وجہ جو مجھے سمجھ آئی وہ یہ کہ جن جن قرابت داروں کو وہ کسی بھی طور بھرتی نہیں کروا سکتے ان کو کنسلٹنٹ کا رتبہ عطا فرما کرنوازنے کا اس سے بہتر طریقہ انھوں نے ابھی ایجاد نہیں کیا۔
ایسے ہی نااہل لوگ جب کنسلٹنٹ بن جائیں تو پھر لازمی ہے کہ یار دوست کسی نہ کسی طور اپنے دل کا بوجھ تو ہلکا کریں گے ہی، چاہے وہ لطیفے تخلیق کر کے ہی کیوں نہ ہو۔
آپ کچھ بھی کہہ لیں صاحب، لیکن اب کے میں اس خیال کا حامی ہوں کہ کنسلٹنٹ کو بدنام کیا گیا ہے۔ سوچ میں یہ تبدیلی اس عمل سے گذرنے کے بعد ہی آئی ہے۔ پہلے پہل تو ہم بھی کنسلٹنٹ کوایک پرزہ ہی سمجھتے تھے۔ لیکن ہوا یہ کہ کچھ معاملات پر ہمارے دفتر نے نہ جانے کیا سوچا کہ ہم سے مشورہ مانگ لیا، حالانکہ یقین جانیے اپنی گلی میں ہم سے کوئی دو کلو آلو لینے کے لیے بھی مشورہ لینا گوارہ نہیں کرتا۔ خیر مشورے عطا کرنا تو سب سے دلچسپ اور آسان کام ہے، سو ایک سے بڑھ کر ایک مشورہ عطا کیا، لیکن مشکل اس وقت منہ چڑانے لگی جب کہا گیا، "اب ان مشوروں کو ذرا عملی جامہ بھی پہنا دیجیے!"۔
اب یہاں سے ہی اصل قابلیت اور کنسلٹنٹ کا کام شروع ہوتا ہے، تخت یا تختے والی بات۔
ہمارے ہاں زیادہ یہی ہوتا ہے کہ جس شخص نے علم اور تجربے کی بنیاد پر مشورے دیے تھے اسے تو مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کیا جاتا ہے اور اپنوں کو نوازنا مقصود، نتیجہ پھر کنسلٹنٹ کے پیچھے لطیفوں کی تخلیق کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
میں نے تو ایسا بھی دیکھا ہے کہ اکثر جب مامے چاچے کا لڑکا کو کنسلٹنٹ کے عہدے پر "نصب" کیا جاتا ہے اور پھر جب ناکامی کا منہ دیکھ لے تو ستم یہ ہوتا ہے کہ سارا نزلہ اس شخص پر گرا دیا جاتا ہے جس نے وہ ترقیاتی منصوبہ پیش کیا تھا، حالانکہ اس غریب کو تو یہ پہلے ہی گردن سے پکڑ کر باہر پٹخ دیتے ہیں!۔
شکر ہے اللہ بزرگ و برتر کا، میرے معاملے میں ایسا نہیں ہوا، جو مشورے میں نے دیے وہی تقریباً انیس بیس کے فرق سے میرے ہی متھے لگا دیے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ افسروں کے چاچوں، ماموں اور بھتیجوں میں سے کم ہی ہوں گے جو "ڈنگر ڈاکٹر یا سلوتری" بننا پسند کرتے ہوں!۔

تبصرے

  1. باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن یہ ڈنگروں نے ڈاکٹری کب سے شروع کردی؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. یار جلدی جلدی لکھا کر
    اس تحریر میں جو سادگی کے ساتھ پُرکاری ہے
    تو بس لطف آگیا!

    جواب دیںحذف کریں
  3. جو مشورے دئے تھے ان کو عملی جامہ پہنایا بھی کہ نہیں؟
    یہ نا ہو ڈنگر ڈاکٹر سے لفظ ڈاکٹر کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے

    جواب دیںحذف کریں
  4. قبلہ ڈنگر ہیں کہ ڈاکٹر؟

    جواب دیںحذف کریں
  5. سرکار لگتا ہے کنسلٹی کا نشہ اترا نہیںغلطی سے کوئی ڈنگری انجیکشن جو کن از کن ایک ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے لگ گیا ہو یا گولی تو نہیں کھا لی ۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. یار یہ کامی کو کیسے پتہ ہے کہ ڈیڑھ فٹ کا انجکشن ہوتا ہے؟

    جواب دیںحذف کریں
  7. اچھا ہے جناب۔۔ جو فرمایا ہے اب اسے بجا لائیے۔۔ اس سے اچھی صورت حال کیا ہوسکتی ہے۔۔ یعنی آپ کنسلٹنسی کے مزے لینے لگے ہیں۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. خرم::: جناب من، اس کنسلٹینسی کا میرے ہاتھ لگ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ "ڈنگروں" نے ابھی ڈاکٹری نہیں شروع کی۔۔۔ :)
    جعفر::: مہربانی بھائی جان، یار فیس بک سے فرصت ملے تو بندہ کچھ لکھے ناں p:
    ڈفر::: بس پاء جی کچھ نہ پچھو، مشورہ دینا نہایت آسان اور فیر اگر او ای مشورہ گل پے جائے۔۔ آجکل نکو نک آیا ہوا ہوں، انشاء اللہ مہینے ڈیڑھ کا کام ہے، انشاءاللہ بہتر رہے گا۔ اب تک توٹھیک جا رہا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. بدتمیز::: کیا واقعی ایسا ہے؟
    کامران اصغر::: ڈیڑھ فٹ کا انجکشن، بھائی جی یہ تم کس جناتی دنیا میں بس رہے ہو۔ اب تک میری نظر میں تو سب سے بڑا انجکشن صرف ۶ انچ کا ہے، جس میں ۲۰ سی سی تک دوائی آتی ہے۔
    بدتمیز::: کامی ایک تجربہ کار اور سمجھدار شخص ہے، p:.
    راشد کامران صاحب::: بس صاحب، ایسا سمجھیے کہ جیسے یہ ڈیڑھ دو مہینے کھلی چھٹی ہے۔ اپنی مرضی اور اپنے علم کو آزمانے کا موقعہ ملا ہے تو خوب مزہ آرہا ہے۔ تین سالہ پروفیشنل زندگی میں پہلی بار ہے کہ پشاور یا اسلام آباد کی بنی پالیسی پر نہیں، بلکہ پیپل کی چھاؤں تلے، پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھ کر لوگوں کے مشورے، اپنے علم اور ضروریات کو مدنظر رکھ کربنائی گئی پالیسی پر عمل کر رہا ہوں۔ تو اس کا مزہ دوبالا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. عمر بھائی میں تو سمجھا تھا کہ کنسلٹنسی بہت آسان ہے مگر آپ کے مطابق تو یہ نوکری سے بھی زیادہ مشکل ہے...

    جواب دیںحذف کریں
  11. اسید::: نہیں آسان تو نہیں کہہ سکتے، لیکن نوکری نسبتاً آسان اس لیے ہوتی ہے کہ نپی تلی باتوں پر عمل کرتے ہیں آپ، جبکہ کنسلٹینسی میں تمام تر رائے تقریباً آپ کی اپنی ہوتی ہے۔ سو ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ خیرگھبرانے کی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنسلٹنسی مجھے پسند ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مقدمہ نسوار

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1

اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 03