دو شخص ایک ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے، پہلے شخص نے پوچھا، "کیا آپ بھوتوں پر یقین رکھتے ہیں"، دوسرے شخص نے قدرے بیزاری سے کہا، "نہیں"، پہلا شخص غائب ہو گیا!۔
چُھری پیٹ چاک کرتی ہوئی ناف کے نیچے تک چلی گئی۔ اِزاربند کٹ گیا۔ چُھری مارنے والے کے منہ سے دفعتہً کلمہء تاّسف نکلا۔ ٰ ٰچ چ چ چ – مِشٹیک ہوگیاٰ ٰ۔ یہ منٹو کا ایک افسانہ ہے جو بی بی سی پر چھپا ہے۔
ارے منٹو تو روسیوں کا بھی باوا نکلا، کمال ہے، اور عبدالقدوس بھائی یہ سمجھنے نہیں محسوس کرنے کی چیز ہے، ہاہاہاہا، کبھی آپ کا یا میرا ازار بند کٹ جائے، واقعی کہیں گے کہ مشٹیک ہو گیا! ہی ہی ہی
نسوار دلچسپ سوغات ہے، دسویں جماعت تک کے سائنس کے طالب علموں کے لیے یہ صرف مینڈکوں کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی اک دوائی ، جبکہ اسے کھانے والوں کے لیے فرحت اور شغل کا سامان۔ دنیا آج بھی مخمصے کا شکار ہے اور سمجھ نہیں پاتی کہ نسوار استعمال کرنے کو کیا نام دیا جائے؟ شراب نوش کی جاتی ہے، پان چبایا جاتا ہے اور بیڑی پی جاتی ہے مگر نسوار پر یہ الزام ہے کہ اسے کھایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نسوار کھائی ہی نہیں جا سکتی، اگر اسے کھائے جانے کی کوشش کی جائے تو کھانے والا شرطیہ اوندھے منہ اپنے معدے میں موجود سارا مواد واپس الٹ دے، اور پھیپھڑے صرف باہر کو ہوا پھینکیں۔۔۔ ایسا جانیے کہ اسے کھانے والے کا دل کھایا جاتا ہے۔ صاحبان کی معلومات کے لیے بتائے دیں اور رائے جانیں کہ نسوار استعمال کرنے کا عمل تین حصوں میں منقسم ہے؛ پہلے حصے میں جیب سے نسوار برآمد کر کے اس پر لپٹی "ربر بینڈ" اس احتیاط سے کھولی جائے کہ پلاسٹک کی گتھی کی شرررر ہوا میں بکھر جائے۔ دوسرے حصے میں پلاسٹک کی گتھی کے اوپر سے ہی خراماں خراماں ایک گولی تخلیق کی جائے اور تیسرے حصے ...
یہ داستان کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ محمدؐ کے انتقال کا وقت تھا ۔ اس قصے کی واقعی ابتداء اسی دن ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام انسان، حتی کہ پیغمبر بھی فانی ہوتے ہیں۔ اس بات سے ہر کوئی واقف تھا، یہاں تک کہ خود محمدؐ کو بھی اچھی طرح اندازہ تھا لیکن اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب نے ہی حقیقت سے آنکھیں چرا لی ہوں۔ لوگ آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ شاید، وائے شاید۔۔۔ اچھا، کیا محمدؐ خود بھی جانتے تھے کہ وہ بالآخر مر ہی جائیں گے؟ یقیناً، وہ جانتے تھے اور اس کا تذکرہ بارہا ملتا ہے۔ اسی طرح، ان کے ارد گرد لوگ بھی اچھی طرح واقف تھے لیکن پھر بھی، کوئی اس خیال کو تصور میں لانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا، انہیں کبھی اس حقیقت کی تلخی سوجھی ہی نہیں۔ یہی بات عجیب تر ہے۔ محمدؐ کی عمر تریسٹھ برس ہو چکی تھی اور اس زمانے میں، یہ اچھی خاصی طویل عمر شمار ہوا کرتی تھی۔ وہ جنگوں اور لڑائیوں میں کئی بار زخمی ہوئے، بالخصوص احد کی لڑائی میں تو انہیں کاری چوٹ آئی تھی۔ اسی طرح، ان کی زندگی پر کم از کم تین ایسے قاتلانہ حملے ہوئے، جن کی تفصیلات تواریخ میں عام مل جاتی ہیں۔ ...
عبد المطلب کے بعد محمد صلعم کی یتیمی، تاثیر میں تین گنا ہو گئی۔ صرف آٹھ سال کی عمر میں آپ صلعم ایک بار پھر کنبہ بنی ہاشم کے کئی گھرانوں میں بٹ کر رہ گئے ۔ بالآخر، آپ صلعم کی ذمہ داری ابو طالب کے کندھوں پر آن پڑی۔ عبد المطلب کی وفات کے بعد ابو طالب نے بنی ہاشم کے نئے سربراہ کے طور پر ترکے میں پورے کنبے کے اثاثہ جات اور اختیارات تو پا لیے مگر ساتھ اس کے، بھاری بھرکم ذمہ داری بھی ملی ۔ اپنے کنبے کی کفالت اور مفادات کا دفاع ابو طالب کے لیے بطور سربراہ اولین ترجیح ٹھہری۔ ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے یہ فرض ایک غیرت مند اور اصول پرست شخص کی طرح پوری ذمہ داری سے ادا کیا۔ بحیثیت سربراہ اور محمد صلعم کے سرپرست ہونے کے ناطے، آنے والے برسوں میں ابو طالب نہایت اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔ یاد رہے، 578ء میں بنی ہاشم کی سربراہی اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں آسان نہیں تھی۔ محدود اختیارات، قبیلہ قریش پر کمزور پڑتی ہوئی بنی ہاشم کی گرفت اور سکڑتی جائیداد کے ساتھ ایک بڑے کنبے کی کفالت جیسا مشکل فرض نبھانا، پھر مثال محمد صلعم کی صورت گھر میں ایک اضافی فرد کو جگہ دینے جی...
واہ کیا کمال افسانہ ہے
جواب دیںحذف کریں:D
ہی ہی ہی ، روسیوں کا بھی جواب نہیں!۔
جواب دیںحذف کریںسوری
جواب دیںحذف کریںچُھری پیٹ چاک کرتی ہوئی ناف کے نیچے تک چلی گئی۔ اِزاربند کٹ گیا۔ چُھری مارنے والے کے منہ سے دفعتہً کلمہء تاّسف نکلا۔
ٰ ٰچ چ چ چ – مِشٹیک ہوگیاٰ ٰ۔
یہ منٹو کا ایک افسانہ ہے جو بی بی سی پر چھپا ہے۔
ساجد بھائی یہ منٹو کا افسانہ میری سمجھ میں نہیں آیا
جواب دیںحذف کریںارے منٹو تو روسیوں کا بھی باوا نکلا، کمال ہے، اور عبدالقدوس بھائی یہ سمجھنے نہیں محسوس کرنے کی چیز ہے، ہاہاہاہا، کبھی آپ کا یا میرا ازار بند کٹ جائے، واقعی کہیں گے کہ مشٹیک ہو گیا! ہی ہی ہی
جواب دیںحذف کریںاچھا اب سمجھ آئی :P
جواب دیںحذف کریںویسے یہ بڑا کمال کا افسانہ ہے، اس کا پس منظر آپ بی بی سی پر سعادت حسن منٹو بارے نشر شدہ تجزیہ ملاحظہ کر سکتے ہیں
جواب دیںحذف کریںmaine poocha kainaat ka sab se sacha insan kon hai wo bola hamara hukmaran aur siski laikar mar gaya.
جواب دیںحذف کریں