احمد:: اجی ہم نے تو ڈراوَنی ہی پڑھی تھی، کسی انگریزی لکھاری کی ہے، اب یہ مزاحیہ بن جائے تو کیا کہہ سکتے ہیں۔ شعیب صفدر جی:: بالکل ی ہتو اس سے بھی ڈراوَِِنی ہے
جناب ۔ اس کہانی کی بنیاد ہی غلط ہے ۔ جب پہلی بار دُنیا تباہ ہوئی تو سیّدنا نوح علیہ السلام اکیلے نہیں رہے تھے ۔ اُن کے ساتھ کچھ اور اللہ کو ماننے والے بھی تھے ۔ جب آخری بار تباہ ہو گی تو نہ صرف انسان بلکہ چرند ۔ پرند اور نباتات سب کچھ تباہ ہو جائے گا ۔
نسوار دلچسپ سوغات ہے، دسویں جماعت تک کے سائنس کے طالب علموں کے لیے یہ صرف مینڈکوں کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی اک دوائی ، جبکہ اسے کھانے والوں کے لیے فرحت اور شغل کا سامان۔ دنیا آج بھی مخمصے کا شکار ہے اور سمجھ نہیں پاتی کہ نسوار استعمال کرنے کو کیا نام دیا جائے؟ شراب نوش کی جاتی ہے، پان چبایا جاتا ہے اور بیڑی پی جاتی ہے مگر نسوار پر یہ الزام ہے کہ اسے کھایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نسوار کھائی ہی نہیں جا سکتی، اگر اسے کھائے جانے کی کوشش کی جائے تو کھانے والا شرطیہ اوندھے منہ اپنے معدے میں موجود سارا مواد واپس الٹ دے، اور پھیپھڑے صرف باہر کو ہوا پھینکیں۔۔۔ ایسا جانیے کہ اسے کھانے والے کا دل کھایا جاتا ہے۔ صاحبان کی معلومات کے لیے بتائے دیں اور رائے جانیں کہ نسوار استعمال کرنے کا عمل تین حصوں میں منقسم ہے؛ پہلے حصے میں جیب سے نسوار برآمد کر کے اس پر لپٹی "ربر بینڈ" اس احتیاط سے کھولی جائے کہ پلاسٹک کی گتھی کی شرررر ہوا میں بکھر جائے۔ دوسرے حصے میں پلاسٹک کی گتھی کے اوپر سے ہی خراماں خراماں ایک گولی تخلیق کی جائے اور تیسرے حصے ...
یہ داستان کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ محمدؐ کے انتقال کا وقت تھا ۔ اس قصے کی واقعی ابتداء اسی دن ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام انسان، حتی کہ پیغمبر بھی فانی ہوتے ہیں۔ اس بات سے ہر کوئی واقف تھا، یہاں تک کہ خود محمدؐ کو بھی اچھی طرح اندازہ تھا لیکن اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب نے ہی حقیقت سے آنکھیں چرا لی ہوں۔ لوگ آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ شاید، وائے شاید۔۔۔ اچھا، کیا محمدؐ خود بھی جانتے تھے کہ وہ بالآخر مر ہی جائیں گے؟ یقیناً، وہ جانتے تھے اور اس کا تذکرہ بارہا ملتا ہے۔ اسی طرح، ان کے ارد گرد لوگ بھی اچھی طرح واقف تھے لیکن پھر بھی، کوئی اس خیال کو تصور میں لانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا، انہیں کبھی اس حقیقت کی تلخی سوجھی ہی نہیں۔ یہی بات عجیب تر ہے۔ محمدؐ کی عمر تریسٹھ برس ہو چکی تھی اور اس زمانے میں، یہ اچھی خاصی طویل عمر شمار ہوا کرتی تھی۔ وہ جنگوں اور لڑائیوں میں کئی بار زخمی ہوئے، بالخصوص احد کی لڑائی میں تو انہیں کاری چوٹ آئی تھی۔ اسی طرح، ان کی زندگی پر کم از کم تین ایسے قاتلانہ حملے ہوئے، جن کی تفصیلات تواریخ میں عام مل جاتی ہیں۔ ...
عبد المطلب کے بعد محمد صلعم کی یتیمی، تاثیر میں تین گنا ہو گئی۔ صرف آٹھ سال کی عمر میں آپ صلعم ایک بار پھر کنبہ بنی ہاشم کے کئی گھرانوں میں بٹ کر رہ گئے ۔ بالآخر، آپ صلعم کی ذمہ داری ابو طالب کے کندھوں پر آن پڑی۔ عبد المطلب کی وفات کے بعد ابو طالب نے بنی ہاشم کے نئے سربراہ کے طور پر ترکے میں پورے کنبے کے اثاثہ جات اور اختیارات تو پا لیے مگر ساتھ اس کے، بھاری بھرکم ذمہ داری بھی ملی ۔ اپنے کنبے کی کفالت اور مفادات کا دفاع ابو طالب کے لیے بطور سربراہ اولین ترجیح ٹھہری۔ ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے یہ فرض ایک غیرت مند اور اصول پرست شخص کی طرح پوری ذمہ داری سے ادا کیا۔ بحیثیت سربراہ اور محمد صلعم کے سرپرست ہونے کے ناطے، آنے والے برسوں میں ابو طالب نہایت اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔ یاد رہے، 578ء میں بنی ہاشم کی سربراہی اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں آسان نہیں تھی۔ محدود اختیارات، قبیلہ قریش پر کمزور پڑتی ہوئی بنی ہاشم کی گرفت اور سکڑتی جائیداد کے ساتھ ایک بڑے کنبے کی کفالت جیسا مشکل فرض نبھانا، پھر مثال محمد صلعم کی صورت گھر میں ایک اضافی فرد کو جگہ دینے جی...
کافی مزاحیہ لکھتے ہیں
جواب دیںحذف کریںاُس نے پوچھا "کون"۔
جواب دیںحذف کریںباہر سے آواز آئی!! "تیرا باپ"۔۔
اور اُس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطرے نمودار ہو گئے!!!۔
ہا ہا ہا!
is se khofnak kahani aur koi nahin hosakti
جواب دیںحذف کریںاحمد:: اجی ہم نے تو ڈراوَنی ہی پڑھی تھی، کسی انگریزی لکھاری کی ہے، اب یہ مزاحیہ بن جائے تو کیا کہہ سکتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںشعیب صفدر جی:: بالکل ی ہتو اس سے بھی ڈراوَِِنی ہے
بلو بلا:: خوش آمدید جی، بات ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے حضرت عزرائیل ہی ہوں!!!۔ کہ چل بھیا تو کیا کرے گا ادھر اکیلا
جواب دیںحذف کریںنا کرو یار مجھے تو ڈر لگ رہا ہے
جواب دیںحذف کریںجناب ۔ اس کہانی کی بنیاد ہی غلط ہے ۔ جب پہلی بار دُنیا تباہ ہوئی تو سیّدنا نوح علیہ السلام اکیلے نہیں رہے تھے ۔ اُن کے ساتھ کچھ اور اللہ کو ماننے والے بھی تھے ۔ جب آخری بار تباہ ہو گی تو نہ صرف انسان بلکہ چرند ۔ پرند اور نباتات سب کچھ تباہ ہو جائے گا ۔
جواب دیںحذف کریںعبدالقدوس بھیا:: یہ کیا آپ ابھی سے ڈرنے لگے :)۔
جواب دیںحذف کریںاجمل بھوپال صاحب::: جی بجا فرمایا،۔ اب ان انگریز لکھاریوں کو کون سمجھائے
ہاہاہاہا
جواب دیںحذف کریںشعیب صفدر نے بڑی اچھی تفسیر بیان کی ہے اس کہانی کی
لکھنے تو میں کچھ اور آیا تھا پر اب کویی فاءدہ نہیں
ڈفر جی:::: لکھ ڈالیے، ہمیں بھی تو فیض یاب ہونے کا موقع دیں :)
جواب دیںحذف کریںاوہ ميرے خُدا اِتنی خوفناک کہانی
جواب دیںحذف کریں