احمد:: اجی ہم نے تو ڈراوَنی ہی پڑھی تھی، کسی انگریزی لکھاری کی ہے، اب یہ مزاحیہ بن جائے تو کیا کہہ سکتے ہیں۔ شعیب صفدر جی:: بالکل ی ہتو اس سے بھی ڈراوَِِنی ہے
جناب ۔ اس کہانی کی بنیاد ہی غلط ہے ۔ جب پہلی بار دُنیا تباہ ہوئی تو سیّدنا نوح علیہ السلام اکیلے نہیں رہے تھے ۔ اُن کے ساتھ کچھ اور اللہ کو ماننے والے بھی تھے ۔ جب آخری بار تباہ ہو گی تو نہ صرف انسان بلکہ چرند ۔ پرند اور نباتات سب کچھ تباہ ہو جائے گا ۔
بازیچہِ اطفال ہے دنیا میرے آگے! ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے ہوتا ہے نہاں گرد میں، صحرا میرے ہوتے گِھستا ہے جبیں خاک پہ، دریا میرے آگے! مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا، تیرے پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا، میرے آگے!! ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ میرے پیچھے ہے تو، کلیسا میرے آگے!!!! گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں ے تو دم ہے رہنے دو ساغر و مینا میرے آگے
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں، سو جاتے ہیں ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں آپ مجھے پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں دور تلک کوئی ستارہ ہے، نہ جگنو مرگ امید کے اب آثار نظر آتے ہیں حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر سب تیرے ہی طرفدار نظر آتے ہیں شاعر: ساغر صدیقی کاتب: عمر بنگش بنام: ٹی۔ٹی
کافی مزاحیہ لکھتے ہیں
جواب دیںحذف کریںاُس نے پوچھا "کون"۔
جواب دیںحذف کریںباہر سے آواز آئی!! "تیرا باپ"۔۔
اور اُس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطرے نمودار ہو گئے!!!۔
ہا ہا ہا!
is se khofnak kahani aur koi nahin hosakti
جواب دیںحذف کریںاحمد:: اجی ہم نے تو ڈراوَنی ہی پڑھی تھی، کسی انگریزی لکھاری کی ہے، اب یہ مزاحیہ بن جائے تو کیا کہہ سکتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںشعیب صفدر جی:: بالکل ی ہتو اس سے بھی ڈراوَِِنی ہے
بلو بلا:: خوش آمدید جی، بات ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے حضرت عزرائیل ہی ہوں!!!۔ کہ چل بھیا تو کیا کرے گا ادھر اکیلا
جواب دیںحذف کریںنا کرو یار مجھے تو ڈر لگ رہا ہے
جواب دیںحذف کریںجناب ۔ اس کہانی کی بنیاد ہی غلط ہے ۔ جب پہلی بار دُنیا تباہ ہوئی تو سیّدنا نوح علیہ السلام اکیلے نہیں رہے تھے ۔ اُن کے ساتھ کچھ اور اللہ کو ماننے والے بھی تھے ۔ جب آخری بار تباہ ہو گی تو نہ صرف انسان بلکہ چرند ۔ پرند اور نباتات سب کچھ تباہ ہو جائے گا ۔
جواب دیںحذف کریںعبدالقدوس بھیا:: یہ کیا آپ ابھی سے ڈرنے لگے :)۔
جواب دیںحذف کریںاجمل بھوپال صاحب::: جی بجا فرمایا،۔ اب ان انگریز لکھاریوں کو کون سمجھائے
ہاہاہاہا
جواب دیںحذف کریںشعیب صفدر نے بڑی اچھی تفسیر بیان کی ہے اس کہانی کی
لکھنے تو میں کچھ اور آیا تھا پر اب کویی فاءدہ نہیں
ڈفر جی:::: لکھ ڈالیے، ہمیں بھی تو فیض یاب ہونے کا موقع دیں :)
جواب دیںحذف کریںاوہ ميرے خُدا اِتنی خوفناک کہانی
جواب دیںحذف کریں