احمد:: اجی ہم نے تو ڈراوَنی ہی پڑھی تھی، کسی انگریزی لکھاری کی ہے، اب یہ مزاحیہ بن جائے تو کیا کہہ سکتے ہیں۔ شعیب صفدر جی:: بالکل ی ہتو اس سے بھی ڈراوَِِنی ہے
جناب ۔ اس کہانی کی بنیاد ہی غلط ہے ۔ جب پہلی بار دُنیا تباہ ہوئی تو سیّدنا نوح علیہ السلام اکیلے نہیں رہے تھے ۔ اُن کے ساتھ کچھ اور اللہ کو ماننے والے بھی تھے ۔ جب آخری بار تباہ ہو گی تو نہ صرف انسان بلکہ چرند ۔ پرند اور نباتات سب کچھ تباہ ہو جائے گا ۔
صلہ عمر پر نئی تھیم نصب کی گئی ہے، تمام قارئین سے گذارش ہے کہ اس بارے اپنی رائے کا اظہار کریں، نیز اگر کوئی مسئلہ دیکھیے تو وہ بھی بتائیں، اگر ساتھ ہی ممکنہ حل بھی تجویز کر دیں تو نوازش، کیونکہ اردوانے کے عمل میں جتنا میں سمجھ سکا ہوں اتنا کر دیا۔ یہ تھیم انگریزی سے اردو میں ڈھالی گئی ہے، جس کے لیے اردو محفل، جہانزیب صاحب کا شکر گذار ہوں۔ اس کے علاوہ بھی جناب یہ کارستانی ڈفر پاء کی بھی ہے کہ انھوں نے مہاجر خان کو میری جانب "موڑ" دیا اور ان کی تھیم اردوائی تو سوچا کیوں ناں بیک اپ میں پڑی ایک انگریزی تھیم اپنے لیے کیوں ناں اردواؤں، تو ان دو صاحبان کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ چند معلوم مسائل تھیم بارے:۔ ۔ یہ تھیم ابھی تک صرف فائر فاکس میں تجربہ کی گئی ہے، انٹرنیٹ ایکسپلورر یا کسی دوسرے براؤزر کا پتہ نہیں، جلد ہی ان میں بھی تجربہ کیا جائے گا۔ ۔ تبصرہ کرنے میں شاید دشواری درپیش ہو کیونکہ وہ پہلے والا کلیدی تختہ اب میسر نہیں ہے، موقع ملتے ہی اسے بھی نصب کرتا ہوں۔ ۔ اس تھیم کے رابطوں میں ابھی ربط فراہم کرنا باقی ہے۔ دل کھول کر اپنی رائے کا اظہار کریں، ایک بار یہ مکمل طور...
گل نواز عرصہ بارہ سال سے گومل یونیورسٹی کی ایک کینٹین چلا رہا ہے۔ آپ حضرات اسے "چھوٹا" سمجھ لیں کیونکہ اس کا "کئیریر" ادھر ہی سے شروع ہوا تھا، لیکن وہ اس کینٹین کا صحیح معنوں میں "ایم۔ڈی" تھا، اپنی محنت کے بل بوتے اس نے یہ عہدہ پایا تھا۔ حساب کتاب میں ایسا ماہر کہ مجھے شک پڑتا کہ شاید یونیورسٹی کے میتھیمیٹکس ڈیپارٹمنٹ کی بنیاد ان صاحب کے ہاتھوں رکھوائی گئی ہو۔ سالہاسال اسے حساب یاد رہتا۔ حساب نہ صرف وہ درست رکھتا بلکہ اس کا کمال تو یہ بھی تھا کہ وہ دوستانہ رویے کا حامل تھا۔ یونیورسٹی کالجوں کے لڑکے اکثر بے صبرے، اکھڑ اور نسبتاً غصیلے ہوتے ہیں، ان بھانت بھانت ذہنیتوں کو اس کمال سے خوش رکھتا کہ میں اکثر سوچتا کہ اس شخص کو ہماری یونیورسٹی کے نفسیات کے شعبے میں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے، لیکن افسوس اس بات کا تھا کہ گومل یونیورسٹی میں نفسیات کا شعبہ نہ تھا، ورنہ میں اپنا علاج تو کروا ہی لیتا!۔ تیسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ چائے بڑی مذیدار بناتا، مذیدار ایسے کہ جیسی آپ چاہیں، نہ کم نہ ذیادہ!۔ اس خصوصیت کا اثر یہ ہوا کہ اس کی کینٹین دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ اس...
اس بلاگ کے قارئین کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں اکثر تحریر اسی وقت چھپتی ہے کہ جب صاحب بلاگ کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہو، اوراگر کوئی تحریر غلطی سے دلچسپ موقع کی مناسبت سے ہو بھی تو اس پر بھی ماتم کا گماں ہوتا ہے۔ گو کہنے کو یہ صلہ عمر ہے، مگر قابل رحم حد تک یہاں صرف عمر کا تاریک صلہ ہی بیان کیا گیا۔ شازونادر ہی کوئی تحریر ایسی ہو جو میری زندگی کے دلچسپ اور مزیدار واقعات کا احاطہ کرتی ہو، حالانکہ یقین کیجیے، میری زندگی دلچسپ واقعات سے بھرپور رہی ہے۔ ایسی ہی حالت میں بہرجال میں پھر حاضر ہوں۔ کسی ڈینیل کارنیگی قسم کے ماہر نفسیات نے لکھا کہ غصہ، ذہنی دباؤ یا اسی قماش کی کسی بھی حالت میں بہترین حل یہ ہے کہ بندہ الٹی گنتی گنے۔ بدقسمتی سے ایسا کرنا میرے لیے انتہائی مشکل ہے، ایسے وقت میں الٹی کیا مجھے تو سیدھی گنتی بھی یاد نہیں رہتی۔ اس سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہے کہ دباؤ یا غصہ کی حالت میں مجھے اپنے اعصاب پر قابو نہیں رہتا۔ ہاں، خوف بہرحال واحد کیفیت ہے جو مجھے ایسی حالت میں بھی کسی انتہائی اقدام سے دور رکھتی ہے، اور غصہ میں بھی میں زیادہ تر بس اندر ہی اندر بھنبھ...
کافی مزاحیہ لکھتے ہیں
جواب دیںحذف کریںاُس نے پوچھا "کون"۔
جواب دیںحذف کریںباہر سے آواز آئی!! "تیرا باپ"۔۔
اور اُس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطرے نمودار ہو گئے!!!۔
ہا ہا ہا!
is se khofnak kahani aur koi nahin hosakti
جواب دیںحذف کریںاحمد:: اجی ہم نے تو ڈراوَنی ہی پڑھی تھی، کسی انگریزی لکھاری کی ہے، اب یہ مزاحیہ بن جائے تو کیا کہہ سکتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںشعیب صفدر جی:: بالکل ی ہتو اس سے بھی ڈراوَِِنی ہے
بلو بلا:: خوش آمدید جی، بات ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے حضرت عزرائیل ہی ہوں!!!۔ کہ چل بھیا تو کیا کرے گا ادھر اکیلا
جواب دیںحذف کریںنا کرو یار مجھے تو ڈر لگ رہا ہے
جواب دیںحذف کریںجناب ۔ اس کہانی کی بنیاد ہی غلط ہے ۔ جب پہلی بار دُنیا تباہ ہوئی تو سیّدنا نوح علیہ السلام اکیلے نہیں رہے تھے ۔ اُن کے ساتھ کچھ اور اللہ کو ماننے والے بھی تھے ۔ جب آخری بار تباہ ہو گی تو نہ صرف انسان بلکہ چرند ۔ پرند اور نباتات سب کچھ تباہ ہو جائے گا ۔
جواب دیںحذف کریںعبدالقدوس بھیا:: یہ کیا آپ ابھی سے ڈرنے لگے :)۔
جواب دیںحذف کریںاجمل بھوپال صاحب::: جی بجا فرمایا،۔ اب ان انگریز لکھاریوں کو کون سمجھائے
ہاہاہاہا
جواب دیںحذف کریںشعیب صفدر نے بڑی اچھی تفسیر بیان کی ہے اس کہانی کی
لکھنے تو میں کچھ اور آیا تھا پر اب کویی فاءدہ نہیں
ڈفر جی:::: لکھ ڈالیے، ہمیں بھی تو فیض یاب ہونے کا موقع دیں :)
جواب دیںحذف کریںاوہ ميرے خُدا اِتنی خوفناک کہانی
جواب دیںحذف کریں